ڈیورنڈ لائن کا قیدی – قید سے رہائی تک


\"faiz\"صحافت ایک پر خطر رستے پر سفر کرنے کا نام ہے جہاں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے دوران صحافی قید و بند سے لے کر موت جیسے انتہائی مرحلے تک بھی جاسکتے ہیں اور ایسی ہی ایک داستان اے آر وائی نیوز سے وابستہ فیض اللہ خان کی ہے جسے انہوں نے ’ڈیورنڈ لائن کا قیدی‘ کے عنوان سے کتابی شکل میں تحریر کیا ہے۔

فیض اللہ خان اپریل 2014 میں صحافتی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے پاک افغان سرحد عبور کر کے افغانستان چلے گئے تھے جہاں انہیں افغان انٹیلی جنس نے گرفتار کر لیا تھا۔ افغانستان کے مشرقی صوبے ننگر ہار کی عدالت نے فیض اللہ کو بغیر دستاویزات افغانستان آنے پر چار سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم اے آروائی نیوز ‘حکومتِ پاکستان‘ صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی مشترکہ کاوشوں کے سبب ان کی رہائی عمل میں آئی۔ ڈیورنڈ لائن کا قیدی اسی پر ابتلا دور کی یادداشتوں پر مبنی تحریر ہے۔

یہ کتاب فیض اللہ خان پر افغانستان میں قید دنوں کی آپ بیتی ہے اور اس کے ناشر زاہد علی خان ہیں۔ کتاب ایک ہزار کی تعداد میں شائع کی گئی ہے اور اس کی قیمت پاکستان کے صارفین کے لیے 550 روپے مختص کی گئی ہے۔

یہ کتاب 32 ابواب میں منقسم ہے اور اس کے صفحات کی کل تعداد 227 ہے۔ کتاب کی ابتدا میں عامر ہاشم خاکوانی نے اظہارِ خیال کیا ہے جب کہ اے ایچ خانزادہ نے اظہارِ یکجہتی کے عنوان سے مضمون تحریر کیا ہے۔

ڈیورنڈ لائن

 تقسیم ِ ہند سے قبل وائسرائے ہند نے والیٔ افغانستان امیر عبدالرحمن خان سے مراسلت کی اور ان کی دعوت پر ہندوستان کے وزیر برائے امور خارجہ ما ٹیمر ڈیورنڈ ستمبر 1893ء میں کابل گئے۔ نومبر 1893ء میں دونوں حکومتوں کے مابین 100 سال تک معاہدہ ہوا جس کے نتیجے میں سرحد کا تعین کر دیا گیا جو کہ ڈیورنڈ لائن یا خط ڈیورنڈ کے نام سے موسوم ہے۔

 معاہدے کے مطابق واخان کافرستان کا کچھ حصہ نورستان ‘ اسمار‘ موہمند لال پورہ اور وزیرستان کا کچھ علاقہ افغانستان کا حصہ قرار پایا اور افغانستان استانیہ ‘ چمن ‘ نوچغائی ‘ باقی ماندہ وزیرستان ‘ بلند خیل ‘ کرم ‘ باجوڑ ‘ سوات ‘ بونیر ‘ دیر‘ چلاس اور چترال پر اپنے دعوے سے 100 سال تک دستبردار ہوگیا تھا۔

کتاب کے بارے میں

ڈیورنڈ لائن کا قیدی نامی یہ کتاب معروف صحافی فیض اللہ خان کی یادداشتوں پر مبنی ہے جس میں وہ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ کے انٹرویو کے لیے افغانستان جانے اور پھر وہاں قید ہونے سے لے کر رہائی تک کی اپنی داستاں بیان کر رہے ہیں۔

فیض اللہ خان بنیادی طور پر صحافی ہیں اور سادہ زبان لکھنے کے عادی ہیں۔ ان کا یہی اندازِ تحریر کتاب میں بھی نظر آتا ہے۔ کتاب میں انہوں نے اپنی داستان انتہائی سادہ اور سلیس انداز میں بیان کی ہے اور ادبی اصطلاحوں اور تصنع کے بغیر کتاب عام قاری کے لیے انتہائی آسان فہم ہے۔

فیض اللہ نے کو شش کی ہےکہ ’ڈیورنڈ لائن کا قیدی ‘ میں خود پر بیتے جانے والے واقعات کو وہ من و عن ایسے ہی بیان کر دیں کہ جس طرح سے وہ ان پر بیتے‘ اور یقینی طور پر وہ اس میں کامیاب بھی رہے ہیں۔

بعض مقامات پر کچھ ایسے واقعات بھی بیان کیے گئے ہیں جو کہ شاید فیض اللہ کے لیے قید کے دوران انتہائی اہم ہوں گے لیکن ایک عام قاری کے لیے ان میں دلچسپی کا پہلو ڈھونڈنا مشکل ہوجاتا ہے تاہم کیونکہ یہ ایک خطرناک اور دشوار گزار دنوں کی داستان ہے تو تھوڑی ہی دیر بعد کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ آجاتا ہے جو قاری کی توجہ واپس اپنی جانب مبذول کرا لیتا ہے۔

فیض اللہ کی اس داستان میں بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ صحافی ہونے کے باوجود جانبداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ بالخصوص جب وہ افغانستان کے انٹیلی جنس سینٹر اور پھر جیل میں پالا پڑنے والے پاکستانی اور افغان اہلکاروں کے رویوں کا تقابل کرتے ہیں تو ان تکلیف دہ ایام کی تلخی ان کے لفظوں میں عود کر سامنے آجاتی ہے۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے لہجہ نرم اور افغانستان سے وابستہ افراد کے لیے نسبتاً سخت ہو جاتا ہے۔

کتاب میں بعض مقامات پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فیض اللہ خان طالبان کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور ان سے متعلق بیان کردہ واقعات میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔

ڈیورنڈ لائن کا قیدی اپنے موضوع کی نوعیت کے اعتبار سے انتہائی حساس کتاب ہے۔ فیض اللہ پاکستان سے تحریکِ طالبان پاکستان کی اعلیٰ قیادت کا انٹرویو کرنے نکلتے ہیں ‘جن کی تلاش میں ایک جانب تو پاکستانی افواج بھی ہیں تو امریکی اور افغان فورسز کے لیے بھی یہ گروہ کسی دردِ سر سے کم نہیں۔ ایسے میں واقعات کے بیان میں فیض اللہ خان کی جانب سے انتہائی احتیاط اختیار کی گئی ہے جو کہ اس کتاب کے مضمون کا تقاضا بھی ہے۔

کتاب کے مطالعے کے دوران یہ بات بھی ملحوظِ خاطر رکھنا بے حد ضروری ہے کہ یہ آپ بیتی تاریخ کے ایک ایسے دھارے سے منسلک \"\"ہےکہ جہاں یہ آپ بیتی سے بڑھ کر ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت اختیار کرلیتی ہے اور جب بھی افغانستان میں غیر ملکی قیدیوں کی تاریخ رقم کی جائے گی تو یہ کتاب بطور حوالہ کام آئے گی۔

فیض اللہ خان اپنی اس کاوش میں کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں اس کا اندازہ تو آپ کتاب پڑھ کرہی کرسکیں گے تاہم یہ بات طے ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی اس جنگ کی تاریخ میں یہ کتاب بطور اہم حوالہ ضرور کارگر ثابت ہوگی۔

فیض اللہ خان کے بارے میں

ڈیورنڈ لائن کے مصنف فیض اللہ خان نے جامعہ کراچی سے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں گرایجویشن کیا ہے‘ اس سے قبل اعلیٰ ثانوی تعلیم اسلامیہ کالج اور ثانوی تعلیم اقبالِ ملت اسکول سے حاصل کی۔

اے آروائی نیوز میں طویل عرصہ سے بحیثیت صحافی وابستہ ہیں اور پاک افغان سرحد پر جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلقہ امور پر مہارت رکھتے ہیں۔

اس سے قبل این این آئی سمیت ابلاغ کے کئی اداروں کے لیے اپنی صحافتی خدمات پیش کرچکے ہیں۔

اس سے قبل قومی کمیشن برائے ہیومن ڈیلوپمنٹ سے بحیثیت فیلڈ مینیجر وابستہ رہے ہیں اور انسانی ترقی کے لیے خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں متحرک العمل رہے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں