کمیونسٹ تو اچھے ہوتے ہیں


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3\"

کمیونزم تو بہت اچھا ہوتا ہے۔ دنیا کے باقی تمام نظام اس کے مقابلے میں ہیچ ہیں۔ اسی وجہ سے دنیا کے 195 ملکوں میں سے پورے پانچ کمیونسٹ ہیں، گو کہ ان میں سے چین، ویت نام اور لاؤس وغیرہ بس نام کے ہی کمیونسٹ ہیں، ورنہ ان کی معیشت میں اب ملٹی نیشنل کھلاڑی کھل کھیل رہے ہیں۔ تو کہہ سکتے ہیں کہ دنیا میں صرف دو جنتیں باقی بچی ہیں اور باقی ساری دنیا بدحال پھر رہی ہے۔ شمالی کوریا، اور کیوبا جانے کے لئے ساری دنیا بے تاب ہوئی جاتی ہے مگر یہ ممالک باہر کے سرمایہ دار اور شیطان صفت شرپسند باشندوں کو اپنی جنت میں داخل ہونے سے روکتے ہیں۔ بلکہ ان کی احتیاط کا یہ عالم ہے کہ اپنے شہریوں کو بھی باہر جانے کی اجازت دینے سے گھبراتے ہیں۔ کیوبا میں تو اس کے شہریوں کو ملک سے باہر جانے کے لئے باقاعدہ ویزا لینا پڑتا ہے، اور شمالی کوریا تو وہ بھی نہیں دیتا ہے۔

قریب سو سال ہوئے ہیں جب دنیا کے نقشے پر پہلی کمیونسٹ ریاست ابھری۔ سوویت یونین کے دل میں انسانیت کی فلاح کا جذبہ موجزن تھا اور انسانیت کی بھلائی کی خاطر اس نے آدھے یورپ اور بیشتر وسطی ایشیا پر قبضہ کر کے ان ممالک کو بندوق کی نال پر کمیونسٹ جنت میں شامل کیا۔ سرمایہ داروں کے ایجنٹ یہ گمراہ کن پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ کمیونزم کے دور میں صرف تین لیڈروں، سٹالن، ماؤ زے تنگ اور پول پاٹ نے ہی روس، چین اور کمبوڈیا میں کم از کم دو کروڑ سے لے کر سات کروڑ عام شہری تک قتل کر دیے تھے۔ صرف سٹالن کے دور میں ہی سات لاکھ کے قریب انقلاب دشمن شہریوں کو سر میں گولی مار کر رحم دلی کا ثبوت دیا گیا۔ جو لوگ کمیونزم کے مخالف تھے ان کو گولاگ میں بھیج دیا گیا کہ ہم تم سے کوئی تعرض نہیں کرتے ہیں، تم بس وہیں جاؤ، کام کرو، کھاؤ پیو اور عیش کرو۔ یہ غیر کمیونسٹ عناصر ان گولاگوں میں پہنچے تو کمیونسٹ حکومت کو بدنام کرنے کے لئے سرمایہ دار ممالک کے اشاروں پر بھوک، جبری مشقت اور بیماری کا بہانہ کر کے لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں فوت ہو گئے۔

\"china-great-leap-forward\"مشہور فرانسیسی تاریخ دان سٹیفن کرٹائس کی مرتب کردہ ’دا بلیک بک آف کمیونزم‘ کے مطابق تو کمیونسٹ حکومتی پالیسیوں اور براہ راست احکامات کے نتیجے میں ساڑھے آٹھ سے دس کروڑ افراد کو براہ راست یا بالواسطہ قتل کیا گیا۔ ہماری رائے میں یہ تو محض سرمایہ داروں کا پروپیگنڈا ہے۔ کمیونسٹ حکومتیں بھلا کیوں لوگوں کو مارتیں؟ یہ لوگ تو مفت میں مزدوری کرتے تھے، مفت کے مزدور کو کون ذی شعور حکمران مار سکتا ہے؟

ویسے بھی دنیا کی آبادی جس رفتار سے بڑھ رہی ہے، تو اس کو دیکھتے ہوئے ان حکومتوں کو جو حل سمجھ آیا وہ انہوں نے انسانیت کی فلاح کی خاطر اختیار کر لیا۔ چین میں بھی تو پچاس ساٹھ سال تک ایک خاندان ایک بچہ کی پالیسی رہی تھی۔ دوسرا بچہ پیدا ہونے پر اس کے سر میں موت کا انجکشن لگا کر آبادی کو کنٹرول کیا جاتا تھا۔ ایسا نہ کیا جاتا تو اندازہ کریں کہ چین کی آبادی کتنی زیادہ ہوتی؟ کمیونزم تو کمیونسٹ ریاستوں کے لئے بہت اچھا رہا اور دنیا کی آبادی بھی کنٹرول میں رہی۔

\"ussr-latvian-bread-line\"

کمیونسٹ ریاستوں میں کھانے پینے اور سہولتوں کی فراوانی ہوتی تھی۔ ہر دو چار ہفتے بعد ایسا ہوتا کہ عوام کو خبر ملتی کہ فلاں جگہ آج تازہ انڈے یا سبزی گوشت وغیرہ آیا ہے، تو کئی کئی گھنٹے لائن میں کھڑے ہو کر اسے پانے کی کوشش کرتے تھے۔ اس طرح کئی گھنٹے تک ان کو اپنے مسائل اور دکھ درد میں دوسرے شہریوں کو شریک کرنے کا موقع مل جاتا تھا۔ اس طرح معاشرہ مضبوط ہوتا ہے اور ہر فرد دوسرے کے حال سے باخبر رہتا ہے۔ ان ممالک میں بنائی گئی اشیا کو پانے کے لئے دنیا ترستی تھی۔ ان کی کوشش ہوتی تھی کہ کسی طرح روس اور چین کے بنے ہوئے ٹی وی اور گاڑیاں وغیرہ ان کو مل جائیں۔ کمیونسٹ فیکٹریوں میں اس بات کا خیال رکھا جاتا تھا کہ ہر شہری نئی چیزیں استعمال کر سکے، اس لئے ان اشیا کی کوالٹی جاپانی یا یورپی اشیا سے آدھی بھی نہیں ہوتی تھی تاکہ ان کا مالک جلدی جلدی نئے ماڈل خریدتا رہے اور گھر میں ازکار رفتہ اشیا دیکھ کر احساس کمتری کا شکار مت ہو۔

کمیونسٹ حکومتیں اپنے شہریوں کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ آپ نے الف لیلہ وغیرہ پڑھی ہو تو آپ کو علم ہو گا کہ نیک بادشاہ راتوں کو حلیہ بدل کر شہر میں پھرا کرتے تھے تاکہ رعایا کا حال جان سکیں۔ کمیونسٹ حکومتیں اس کی بجائے ایسا بندوبست کرتی تھیں کہ ہر شہری کے گرد ہر وقت ریاست کے دو چار مخبر موجود رہا کرتے تھے جو کہ اس کے حال سے ریاست کو باخبر رکھتے تھے۔ کوئی شہری کھانے پینے یا بولنے کی تنگی کے بارے میں رتی برابر بھی ناخوشی کا اظہار کرتا تھا تو پوری ریاستی حرکت میں آ جاتی تھی اور اس کو گولاگ میں بھیج کر اسے احساس دلاتی تھی کہ وہ کتنی اچھی زندگی بسر کر رہا تھا۔

\"berlin-wall\"

کمیونسٹ ریاستوں کے شہری اتنے خوش تھے ان کا دل کرتا تھا کہ ساری دنیا کو جا جا کر بتائیں کہ وہ جنت میں رہ رہے ہیں۔ اسی لئے وہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر بھی غیر کمیونسٹ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ کبھی ویت نام سے کشتیوں میں بیٹھ کر امریکہ جانے پر تلے ہوتے تھے، کبھی روس سے یورپ پہنچنے کے لئے جان جوکھوں میں ڈالتے تھے، تو کبھی دیوار برلن کو پار کر کے مغربی جرمنی میں داخل ہونے کی کوشش کرتے تھے تاکہ سرمایہ دار ملکوں کے عوام کو بتا سکیں کہ وہ جنت ارضی میں رہتے ہیں۔ کمیونسٹ ملکوں کی حکومتیں اپنے شہریوں پر بہت سختی کرتی تھیں کہ اپنی خوشحالی کا حال دوسرے ملکوں کو نہ بتائیں، ورنہ دنیا بھر کے لوگ اپنے اپنے ملک چھوڑ کر کمیونسٹ ملکوں کو ہجرت کر گئے تو کیا ہو گا۔

دنیا بھر میں مذہب کی وجہ سے ہونے والے فسادات اور نفرت کو دیکھتے ہوئے کمیونسٹ حکومتوں کی یہ عمومی پالیسی رہی ہے کہ عوام اس قابل نہیں ہیں کہ وہ مذہب پر چل سکیں۔ اس لئے ان کی حفاظت کے پیش نظر کمیونسٹ حکومتوں میں ہر قسم کے مذہب پر پابندی لگا کر کمیونسٹ ریاست کے بانی کی کتاب کو ہی الہامی کتاب کا درجہ دے کر پڑھایا جاتا تھا۔ اس وجہ سے کمیونسٹ ملکوں میں کبھی بھِی مذہب کے نام پر فساد نہیں ہوا۔ ہاں کچھ لوگ کمیونسٹ راہنما کی کتاب سے روگردانی کے الزام میں ضرور مارے جاتے تھے۔

\"kim-jong-un\"

آج بھی آپ دیکھیں تو شمالی کوریا سے بہتر کوئی ملک روئے ارض پر دکھائی نہیں دے گا۔ اربوں لوگ وہاں جانے کے لئے اس کے سفارت خانوں پر طویل لائنوں میں کھڑے ہوتے ہیں مگر وہ کسی کو ویزا دینے کے روادار نہیں ہیں۔ بلکہ شمالی کوریا تو اپنے شہریوں کو بھی ملک سے باہر جانے نہیں دیتا ہے کہ ان کو دیکھ کر باقی دنیا کے عوام خواہ مخواہ شدید احساس کمتری میں مبتلا ہو جائیں گے۔ جبکہ امریکہ اور یورپ وغیرہ کا تو شخص رخ ہی نہیں کرنا چاہتا ہے۔

انسانی فطرت ہے کہ کوئی اپنے حال سے خوش نہیں ہوتا ہے۔ بنی اسرائیل پر بھی من و سلوی نازل ہوئے مگر وہ ناشکرے ہو کر روکھی سوکھی دال روٹی کی چاہ میں دیوانے ہو گئے۔ انسانی شعور نے ترقی کی تو ایسی ہی دیوانگی کمیونسٹ ملکوں کے عوام پر بھی طاری ہوئی۔ اسی وجہ سے تقریباً سب کمیونسٹ ملکوں کے عوام نے کمیونسٹ من و سلوی کی بجائے سرمایہ داروں کی روکھی سوکھی دال روٹی کھانے کو ترجیح دی اور جمہوریت اور سرمایہ دارانہ نظام اختیار کیا۔ اب وہ اپنے فیصلے پر خوب پچھتا رہے ہیں کہ کاش وہ کئی برس پہلے ہی یہ کر لیتے۔

\"great-leap-forward-china-famine\"

آپ نے ابن انشا اور دوسرے وقائع نگاروں کے حالات میں پڑھا ہو گا کہ چین روس وغیرہ میں کوئی موٹا شخص ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا تھا بلکہ سب ہی دبلے پتلے تھے۔ موٹر کار پر صرف سرکاری حکام یا اعلی پارٹی اہلکار ہی سفر کرتے تھے، عام چینیوں کو صحت بنانے کی خاطر پیدل چلنے یا سائیکل چلانے کی اجازت دی جاتی تھی۔ اب چین میں سرمایہ دارانہ نظام آیا ہے تو اپنے ساتھ اپنی ساری برائیاں بھی لے آیا ہے۔ اب چینی خوب موٹے تازے ہو چکے ہیں کیونکہ ان میں سے بیشتر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور ائیر کنڈیشنروں جیسے سامان تعیش میں پڑ کر اپنی صحت سے غافل ہو چکے ہیں۔ پھر بھی یہ سرمایہ دار ایجنٹ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کمیونزم اچھا نہیں ہے۔

اس مضمون سے آپ پر واضح ہو گیا ہو گا کہ کمیونسٹ تو اچھے ہوتے ہیں۔ اب ہم آپ کو اپنے سپانسر کے پاس لے جائیں گے جو آپ کو اس بات پر قائل کرے گا کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 667 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar