شاعری خرابی سے بہتر ہے


Tasneefپچھلے دنوں نورالعین ساحرہ سے اسکائپ پر بات ہورہی تھی، انہوں نے یونہی مذاق میں کہا کہ جس کو دیکھو شاعری کررہا ہے، فیس بک پر اینڈی بینڈی تصویروں کے ساتھ اپنے اشعار بھی جڑ دیتا ہے۔ان کی بات بھی صحیح ہے ، ایک اندازے کے مطابق کئی کروڑ شاعر، جن میں تک بند، بے وقت کے مراثی اور خراب ترین مشاعرہ باز بھی شامل ہیں، اپنی زندگی کے بہترین دن ناڑے میں گرہ لگاتے گزار رہے ہیں۔خلیل جبران نے ایک دفعہ مشرق کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے یہاں تو دہقان بھی شاعر ہوتا ہے۔یہ بات سچ بھی ہے، ہندوستان کی دھرتی، جسے میں اکھنڈ بھارت بھی کہوں تو کوئی برائی نہیں، جس میں اس وقت کے اہم ممالک ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور افغانستان کا بھی شمار ہوتا ہے، اسی طرح کی موزونیت سے بھری پڑی ہے، ہمارے یہاں فلموں میں گانے ہوتے ہیں، مرنے پر مرثیے کہے جاتے ہیں، ہنسنے کے لیے ہم نے ہاسیہ کویتا کو فروغ دیا ہے ، الغرض جینے کے جتنے رنگ اور جتنے بہانے ہیں، ان سب میں ہم لفظوں کو موزوں کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ایسا اس لیے ہے کیونکہ موسیقی ہماری روح میں ہے، اور یہ کوئی ایسی خراب بات نہیں۔یہ جو تبلیغی کٹھ ملاﺅں نے موسیقی کے خلاف ایسا شور مچا رکھا ہے، یہ صرف اس بات کا ڈر ہے کہ موسیقی انسان کے اندر قدرت سے محبت کی جرات پیدا کرتی ہے، موسیقی ہی عشق کے جنون تک لے جاتی ہے، راستوں کی صعوبتوں کو منزل سے بہتر گردانتی ہے، اس لیے اگر یہ کہا جائے کہ ہمارے لوک گیت ہوں، ہماری مترنم و منظوم کتھائیں ہوں، ہمارے ملہار ہوں یا ہماری قوالیاں، یہ سب ہمارے اندر اس عشق اور اس سرور کو انگیخت کرتے رہنے کی بڑی صلاحیت رکھتی ہیں۔شاعری ہو یا موسیقی ، انسان کو منکسر بناتی ہے، اس کا رشتہ زمین کے ساتھ جوڑتی ہے، آسمان کے ساتھ نہیں، اس کے اندر نرم روی پیدا کرتی ہے،شاعری بھید بھاﺅ مٹاتی ہے اور موسیقی تو اس سے افضل ہے کہ وہ تو لفظ اور زبان کا سلسلہ بھی منقطع کردیتی ہے، وہ کہیں کی بھی ہو، کیسی بھی ہو، سفر کرکے اپنے اصل روپ میں لوگوں تک خوشی کا پیغام پہنچا سکتی ہے۔شاعری دراصل موسیقی کی ہی ایک صورت ہے، ہم لفظوں کو ایک موزوں صدا میں ڈھالتے ہیں، کبھی ان میں گہرے معنی پیدا ہوتے ہیں، کبھی ہلکے، کبھی کبھی تو کوئی خاص معنی ہی نہیں ہوتے، بس شعر اچھے لگتے ہیں، جیسے موسیقی اچھی لگتی ہے، مانا کہ اس دوڑ نے ہمارے اندر ایک عجیب طرح کی شہرت کی ہوس پیدا کردی ہے اور مادہ پرست دنیا میں ہر کوئی شاعری اور موسیقی سے ایک زبردستی کا فنکارانہ رشتہ جوڑ کر خود کو اہم تسلیم کروانا چاہتا ہے، مگر پھر بھی یہ دوڑ اتنی بھیانک نہیں، جتنی کہ مذہبی سخت گیری اور موسیقی یا شاعری کو برا سمجھنے کے رجحان سے پیدا ہونے والی دنیا ہوا کرتی ہے۔

ہم لوگوں نے دراصل فن کاری کا تصور بہت غلط قائم کرلیا ہے، کوئی بھی اچھی چیز تخلیق کرلینے کا نام ہی فنکاری نہیں ہے، فن دراصل اس اچھی چیز کی دریافت کا نام بھی ہے، پرندے نغمے گاتے ہیں تو جھرنوں کی آواز سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں، ڈوبتے اور ابھرتے ہوئے سورج کا لطف بھی لیتے ہیں، ہواﺅں میں تیرتے بھی ہیں، دھوپ میں اٹکھیلیاں بھی کرتے ہیں، برساتوں، گرمیوں اور سردیوں کو اپنے اندر جذب کرتے ہیں۔ ہم نے قدرت سے اپنا رشتہ منقطع کیا اور ذہن سے لے کر دل تک ، روح سے لے کر جسم تک ہر چیز کو صرف اور صرف انسانی ترقی کے سہارے چھوڑ دیا ، ذہن کی معراج ایک ایسا فلسفہ قرار پائی ، جس میں جنت تھی، دوزخ تھی، اچھے برے کرموں کو ناپنے کا پیمانہ تھا، ایک خدا تھا، فرشتے تھے، حوریں تھیں۔دل کا پیمانہ عروج یوں چھلکایا گیا کہ حسن کو چمکانے، نکھارنے، تراشنے کی مصنوعی کوششیں کرکے ہم اسے دیکھنے لگے، آپس میں تعریفیں کرکے خوش ہونے لگے۔اور ان سب باتوں کا حاصل یہ کہ نہ ہم قدرت سے فائدہ حاصل کرسکے(جس کا ایک حصہ ہم خود تھے)، نہ فن کے اصل تصور کوقائم کرسکے، ہم نے غور نہیں کیا کہ جو ہم حاصل کررہے ہیں، اس کی کتنی بڑی قیمت چکا رہے ہیں۔ہم نے زندگی کے دریاﺅں میں انسان کو آزاد نہیں چھوڑا،بلکہ اسے تعریف کا بھوکا ، اسٹیٹس کا محتاج، فیشن زدہ اور ایک بھولا ہوا بے وقوف راہی بنادیا۔

بہرحال ان سب باتوں سے مراد یہ ہے کہ ان تمام غلطیوں کے باوجود شاعری کا فطری ذوق ہم سب لوگوں میں ہے، بس ہونا یہ چاہیے کہ ہم اسے لکھنے کو ہی فن نہ سمجھیں، بلکہ اس کی بہترین اور جدید صورتوں کو ڈھونڈنے کا بھی فن سیکھیں، نہیں ہے تو حاصل کریں، دریافت کریں، عام کریں۔تاکہ لوگوں تک فن کی یہ نئی روش پہنچے۔پرانے زمانوں میں بہت سے لوگ صرف اچھے شعر کے پارکھ کے طور پر مشہور تھے، جن میں ایک اہم نام نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ کا ہے۔شاعری کرنے والا ہو یا پسند کرنے والا، تعصب سے بچتا ہے، اس میں برداشت کا مادہ پیدا ہوتا ہے، اس کا رشتہ براہ راست انسانیت سے جڑتا ہے، وہ اچھا شعر کہے یا برا، اس کے اندر لوگوں میں یگانگت اور خلوص کا جذبہ پیدا کرنے کی ایک معصومانہ کوشش جنم لیتی ہے، حالانکہ اب مشاعرے بازوں نے اس نظریے کی بھی تردید کرنی شروع کردی ہے اور عوام کو یہی لوگ مذہب، مسلک، وطن کے نام پر اوندھی سیدھی پٹیاں پڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔پھر بھی شاعری کو سننے اور پڑھنے والا ایک بڑا طبقہ ایسا ہے، جو تعصب سے بچتا ہے اور چاہتا ہے کہ پوری دنیا سرحدوں کی پابندی سے نکل کر ، انسانی ذہن کی بھرپور آزادیوں کا منظر دیکھے اور جانے کہ تخیل کی رنگینی اور لفظ کی کاریگری سے لوگ ایک دوسرے کے نزدیک آسکتے ہیں، ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہیں، ان کے دکھوں کو کم کرنے کے اپنے سے جتن کرسکتے ہیں۔اس لیے سماجی سطح پر شاعری کی یہ فطرت خراب شاعروں کو بھی اچھے خوابوں سے جوڑتی ہے۔اور پھر اگر اس پران لوگوں میں کچھ ڈھنگ کے سوچنے والے بھی نکل آئیں تو یہ منظر بدل بھی سکتا ہے۔شاعری کتنی بھی خراب کیوں نہ ہو، انسان کے آزادی اظہار کی روشن دلیل ہے، اس لیے اس کا یہ پہلا منصب اسے تشدد،جبر اور سخت گیری سے الگ کرتا ہے ، اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ جب ہمارے گلی کوچوں میں ہر شخص ٹوٹا پھوٹا ہی سہی، شاعر ہوجائے تو شاید قومی فخر اور مذہبی تعصب جیسی بے کار چیزیں ہمارے درمیان سے ختم ہوسکیں۔ہاں، انفرادی کمینگیوں کا کوئی علاج شاعری کے پاس نہیں اور نہ ہی ہونا چاہیے۔


Comments

FB Login Required - comments