چکوال میں احمدیہ عبادت گاہ پر حملے کی تازہ صورت حال: ایک احمدی صدمہ سے جاں بحق


چناب نگر میں جماعت احمدیہ کے متعلقہ ذمہ داران کی طرف سے ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ آج 12دسمبر کو عید میلاد النبیﷺ \"img-20161212-wa0081\"کے بابرکت موقع پر ضلع چکوال کے گاﺅں دوالمیال میں ایک متشدد ہجوم نے جماعت احمدیہ کی عبادت گاہ پر حملہ کر دیا ۔اس حملے کے دوران ہجوم نے عبادت گاہ پر قبضہ کرنے کے لئے شدید فائرنگ کی اور پتھراﺅ کیا جس کے نتیجہ میں عبادت گاہ میں موجود ایک احمدی ملک خالد جاوید صدمہ سے ہارٹ اٹیک میں وفات پا گئے ۔تفصیلات کے مطابق چکوال میں مخالفین کی طرف سے خاص مہم کے تحت عوام الناس کو احمدی احباب کے مکمل بائیکاٹ کے لیے نہ صرف اُکسایا جا رہا تھا۔ بلکہ باقاعدہ میٹنگ کرکے اس مہم میں شامل نہ ہونے والوں کے نکاح اور جنازہ نہ پڑھنے کی دھمکی دی جا رہی تھی ۔

۔آج 12ربیع الاول کے موقع پر دوالمیال ضلع چکوال میں مخالفین کی طرف سے ایک جلوس نکالا گیا جس میں 1000 سے زائد افراد شامل تھے۔اس جلوس نے صبح تقریباً 11:00 بجے احمدیہ بیت الذکر پر حملہ کر دیا۔ حملہ آوروں نے پتھراﺅ اور فائرنگ کی۔ پولیس نے اندر موجود احمدیوں کو وہاں سے نکالا۔ اس کے بعد مشتعل جلوس پولیس کو ہٹاتے ہوئے دار الذکر میں داخل ہوگیا اور وہاں موجود سامان اکٹھا کرکے آگ \"img-20161212-wa0079\"لگا دی بعد میں پولیس نے دارالذکر سے مخالفین کو باہر نکال دیا۔ حالات پر قابو پانے کے لئے فوج اور رینجرزکو طلب کر لیا گیا۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین نے کہا ہے کہ جماعت احمدیہ کی عبادت گاہ پر حملہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ انتظامیہ کو قبل از وقت تحریری طور پر یہ اطلاع مقامی جماعت احمدیہ کے عہدیداران کی طرف سے پہنچا دی گئی تھی کہ علاقے میں احمدیوں کے جان ومال کو خطرہ ہے اور معاندین عبادت گاہ پر حملے کا ارادہ رکھتے ہیں۔لیکن خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے گئے۔آج سارا دن متشدد ہجوم علاقے میں دندناتا رہا ۔ترجمان نے کہا کہ حکومت کو اپنا فرض پہچانتے ہوئے عدم تحفظ کا شکاراحمدیوں کو تحفظ فراہم کرنا چاہئے جو بطور پاکستانی شہری ہمارا حق ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

4 thoughts on “چکوال میں احمدیہ عبادت گاہ پر حملے کی تازہ صورت حال: ایک احمدی صدمہ سے جاں بحق

  • 13/12/2016 at 9:49 am
    Permalink

    مفصل رپورٹ انگریزی کے اکسپرس ٹریبون میں ملےگی۔ حکام کو ہر طرح مطلع کردیا گیا تھا۔ فتنہ انگیزوں کو پہلے سے بند کیا جاسکتا تھا۔ سیاسی لیڈر اب بھی انسانی ہمدردی کا اظہار کر سکتے ہیں۔ لیکن ان سے امید رکھنا لا حاصل ہے۔

  • 13/12/2016 at 10:28 am
    Permalink

    An extremely sad event. Pakistani mullah has once again proved that they are the real cancer responsible for descent of this great country into depths of chaos. Their Islam is limited to looting, robbing, forceful seizing property, brainwashing the young minds into criminal minds and dancing on streets. Whatever they have done in the name of Allah and his Holiest Prophet (PBUH), will call Allah’s wrath only and not blessings. Shame

  • 13/12/2016 at 7:39 pm
    Permalink

    دوسرے فریق کا موقف بھی پیش کردیا جاتا تو بہتر تھا۔ تاکہ حقیقت حال واضح طور سے سمجھنا ممکن ھوتا۔ کیونکہ یہ ضروری نہیں ھے کے اقلیت ھی سے زیادتی کی گئی ھو۔ یہ امکان بھی تو ھوسکتا ھے کہ اکثریت اس معاملے میں حق پر ھو۔

  • 13/12/2016 at 8:38 pm
    Permalink

    یہ کونسا حق پر ہونا ہے کہ کسی بھی عبادت گاہ کو جلایا جائے؟

Comments are closed.