کرنل (ر) نادر علی کی 1971ء کے بارے میں یاد داشتیں (حصہ دوم)


چھ جون کو میں چٹاگانگ کے شمال میں بلونیہ پہنچا۔ یہاں زمین کی ایک تکون اٹھارہ میل تک انڈین بارڈر کے اندر چلی گئی ہے۔ یہاں ایسٹ پاکستان رجمنٹ کے باغی فوجیوں نے مورچہ لگا رکھا تھا۔ پاکستان فوج نے حملہ کیا تو آس پاس کے پہاڑوں سے انڈین آرٹلری نے ہمارے پچیس تیس فوجی مار ڈالے۔

جب مجھے بلایا گیا تو بلونیہ پر تین بٹالین کے ساتھ حملے کا منصوبہ تھا۔ میں نے کہا آپ مجھے رات ہی کو بھیج دیں تاکہ میں تاریکی کا فائدہ اٹھا سکوں۔ رات کو ہم ادھر ادھر فائرکرتے رہے، ہم پر بھی فائر ہوا۔ اس افراتفری میں باغی فوجی بھاگ نکلے۔ صبح جب ہماری فوج کا حملہ ہوا تو سارا علاقہ خالی تھا اور میں اپنے چالیس فوجیوں کے ساتھ ایک خراش بھی لگے بغیر واپس آ گیا۔

میرا کمانڈنگ افسر یہ ایکشن کرنے سے انکار کر چکا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ جہاں اتنے بندے مرے ہیں وہاں اور بندے بھیجنا خود کشی کے مترادف ہے۔ لیکن مجھے یقین تھا کہ اگر میں دشمن کے پیچھے پہنچ جاوؤں تو وہ لوگ اپنے ہی عقب میں تو فائر نہیں کریں گے۔ میرا منصوبہ تھا کہ ان کے بیچ پہنچ کر کنفیوزن پھیلاؤں اور راتوں رات واپس نکل آؤں۔ میرا ایکشن کامیاب ہوا اور میرے سی او کو ایکشن سے انکار کرنے پر معطل کر دیا گیا۔ میں ہیرو بن گیا۔ مجھے اطلاع دی گئی کہ آج سے میں بٹالین کمانڈ کروں گا۔

یہ بہت بڑی بات تھی کہ ایک میجر بٹالین کمانڈ کر رہا ہے۔ اب میں براہ راست نیازی صاحب سے آرڈر لیتا اور روز ڈھاکا میں جرنیلوں سے ملاقات کرتا تھا۔ زیادہ آپریشن میرے علاقے میں ہوئے اور میں اکثر جنرل قاضی کے ساتھ ہوائی جہاز میں سفر کرتا۔ ایک نوجوان میجر ہوتے ہوئے مجھے بہت زیادہ اہمیت مل رہی تھی۔

بین الاقوامی سرحد ایک لکیر ہی تو ہے؟

کسی نے مشورہ دیا کہ انڈین بارڈر کے پار آپریشن کروائے جائیں تو میں نے سویلین رضا کار بھیجنا شروع کر دیئے۔ آپ اسے کارنامہ سمجھیں یا بیوقوفی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پوری جنگ میں صرف میں نے ہی بارڈر پار ایکشن منظم کیے۔ یہ بڑا آسان کام تھا۔ آپ دو تین بندوں سے کہتے تھے ادھر جا کر اس طرح ریلوے لائن پر چارج لگا دو اور سوئچ کھینچ کر واپس آ جاؤ۔ باقی کام خود ہی ہو جائے گا۔

میں ایک دن سلہٹ گیا۔ وہاں قریب ہی بارڈر کے اس طرف کشن گنج کی ریلوے لائن گزرتی ہے۔ میں نے دو تین رضاکار تیار کیے جنہوں نے

دھوتیاں پہن رکھی تھیں۔ ان کو بتایا کہ ٹرین کے پہیوں میں بیس فٹ کا فاصلہ ہوتا ہے، اگر پٹڑی پر دو چارج اتنے وقفے سے لگائے جائیں، تو پہیہ گزرنے سے 20 فٹ کا ٹکڑا اڑ جائے گا اور انجن پٹڑی سے اتر جائے گا۔ میں ان کو یہ سبق پڑھا کر ڈھاکا آ گیا۔ رات کو گیارہ بجے بی بی سی پر خبریں سنیں کہ پاکستانی کمانڈوز نے کشن گنج میں ایکشن کیا ہے جس میں 56 بندے ہلاک ہو گئے ۔

رات کو مجھے گورنر ہاؤس بلایا گیا کہ تم نے تو کمال کر دیا ہے، انڈین سرحد کے اندر اتنی بڑی سبوتاژ کی ہے۔ ہمارے مخالف تو اپنی خبریں لگواتے رہتے ہیں اور ہم کچھ کرتے ہی نہیں۔ اس کے بعد میجر صدیق سالک کو میری ساتھ اٹیچ کر دیا گیا تاکہ ہماری کارروائیوں کی رپورٹ اخبار میں چھپے اور لوگوں کے حوصلے برقرار رہیں۔ اس سلسلے نے میرا نشہ اور بڑھا دیا۔ اب میں روزانہ بریفنگ دیتا تھا۔ اس کے علاوہ کسی کو مشرقی پاکستان کی جغرافیائی، موسمی یا علاقائی معلومات درکار ہوتیں تو میں ان کو بھی مشورہ دیتا۔

میں ہفتے میں کم از کم دو دفعہ بنگال میں کہیں نہ کہیں جاتا تھا۔ اپریل یا مئی میں سنت ہرنام جگہ پر گیا۔ اطلاع تھی کہ یہاں بنگالیوں نے ریلوے کالونی پر حملہ کر کے تمام بہاریوں کو قتل کر دیا ہے۔ اب اس طرح کا واقعہ ہو تو کوئی آثار تو نظر آئیں لیکن مجھے تو کوئی نام و نشان تک نظر نہیں آیا۔ سو یہ بھی تھا کہ رپورٹیں مل رہی تھیں لیکن میں نے اپنی آنکھوں سے کچھ نہیں دیکھا تھا۔ ایک طرح سے یہ بھی احمقوں کی جنت میں رہنا تھا۔

ہندو ختم کر دو، مسئلہ ختم ہو جائے گا

ہرروز صبح میرا کمانڈنگ افسر بریفنگ لینے ہیڈکوارٹر جاتا تھا، میں سیکنڈ ان کمانڈ تھا۔ وہ بریفنگ لے کر آتا کہ ہم نے فلاں جگہ فورس بھیجنی ہے، وہاں بہت مزاحمت ہو رہی ہے۔ 18 اپریل کو میرا پہلا ایکشن طے ہوا فرید پور میں۔ جانے سے پہلے کمانڈنگ افسر نے ہدایات دیں کہ تم جاؤ اور ایک دفعہ ان کو ’تاؤنی چڑھاؤ۔ اس کے لہجے سے مجھے لگا کہ وہ چاہ رہا ہے کہ میں جا کر بندے ماروں۔ میں نے کہا سر ”تاؤنی“ کس طرح چڑھاؤں؟ اگر کسی نے مجھ پر حملہ کیا تو میں جوابی گولی چلاؤں گا، لیکن ایسے ہی بلا وجہ بندوں کو مارنا مجھ سے نہیں ہو گا۔

بریفنگ افسر بولا ’سنو نادر، ہم نے اس مسئلے کی جڑ ڈھونڈ لی ہے اور وہ ہے ہندو‘ ۔ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہندوﺅں کو مارا جائے۔ ہندو ختم کر دیے گئے تو یہ پرابلم ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔

میں نے کہا ’سر، میں کسی نہتے سویلین کو نہیں مارو ں گا چاہے وہ ہندو ہو، سکھ ہو یا عیسائی۔ سب لوگ ملک کے برابر شہری ہیں۔ ‘

اس نے کہا ’بات سنو، تم مغربی پاکستان سے آئے ہو، میں تمہارے خیالات سمجھتا ہوں لیکن حقیقت اس طرح نہیں۔ ان لوگوں نے ہماری چھاؤنیوں کو گھیرا ڈالا، ہمارا پانی بند کیا۔ اس مسئلے کو ختم کرنے کے لیے ہمیں سختی کرنا ہوگی۔ ڈنڈا چلانا ہو گا۔ فیصلہ ہوا ہے کہ ہم ہندوﺅں کو ماریں گے۔ میں نے کہا ’سر، مجھ سے ایسی کوئی توقع نہ رکھیں۔ مجھے جہاں کہیں گے، چلا جاؤں گا، جہاں پھینکیں گے، بیٹھ جاؤں گا لیکن مجھ سے ظلم نہیں ہو گا۔ ‘

ہندوؤں کو مارنے کے دور رس نتائج برآمد ہوئے۔ کچھ مارے گئے، کچھ کے گھر لوٹے گئے لیکن تقریبا ایک کروڑ ہندو ہجرت کر کے انڈیا چلے گئے اور انہی کی بنیاد پر انڈیا کوعالمی سطح پر بنگلہ دیش کا مقدمہ بنانے کا موقع مل گیا۔ حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ میں بھی لکھا ہے کہ ہندوؤں کو مارنے کی سرکاری پالیسی بنائی گئی تھی۔ یہ فیصلہ کس سطح پر ہوا، اس بارے میں کچھ پتہ نہیں۔

90 کی دہائی میں حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ آنے سے پہلے کی بات ہے، میں نے ایک جرنیل سے کہا کہ ہندوؤں کو مارنے کا فیصلہ بہت غلط تھا۔ تو وہ کہنے لگا کہ ایسا تو کوئی آرڈر نہیں دیا گیا۔ میں نے کہا سر آپ معائنے کے لیے بنگال آئے تھے۔ میں بھی وہاں کھڑا تھا۔ آپ نے فوجیوں سے ہاتھ ملاتے ہوئے ایک سپاہی سے پوچھا تھا ’کتنا ہندو مارا ہے؟‘ یہ مجھ گناہ گار نے خود سنا ہے۔ لیکن وہ نہیں مانا۔

جب 90 لاکھ ہندو بھاگ کر گئے تو وہ بڑی بڑی گاڑیاں دریا کے اس پار ہی لاوارث چھوڑ گئے۔ میں پرانی ٹیوٹا چلاتا تھا۔ ہم فیری سائیڈ سے کوئی چار پانچ میل دور شہر جا رہے تھے۔ میرے ڈرائیور نے کہا سر آپ کمانڈو ہیں، کوئی مرسیڈیز وغیرہ لے لیں۔ میں نے کہا نہیں میرے لیے یہی گاڑی ٹھیک ہے۔ ایک دفعہ سڑک پر میرے ڈرائیور نے ایک غریب آدمی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ’سر وہ ہندو جا رہا ہے‘۔ جیسے مجھے شکار کے لیے نایاب پرندہ دکھا رہا ہو۔

فوج میں تربیتی مشقوں کے دوران مورچوں میں چند فوجی بہروپیے ہندوﺅں اور سکھوں کا میک اپ کر کے بٹھا دئیے جاتے ہیں۔ پاکستانی فوجی اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہوئے ان مورچوں پر دھاوا بولتے ہیں تو یہ اداکار ست سری اکال اور ہائے رام چلاتے ہوئے اپنی دھوتیاں چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔ ایک دفعہ ایک جرنیل نے غلطی سے کہہ دیا کہ یہ روایت اب بند کر دینی چاہیے کیونکہ ہم نے دو جنگوں میں دیکھ لیا ہے کہ ہندو بھی اتنا ہی اچھا لڑتے ہیں جیسا ہم۔ اس جرنیل کی ترقی روک دی گئی۔

ایک دفعہ ایک بریگیڈیئر نے مجھ سے کہا کہ ہندوﺅں سے ہاتھ نہیں ملانا چاہیے۔ ان سے تو بو آتی ہے۔ میں نے کہا کہ نہانا تو ان کی عبادت کا حصہ ہے، وہ تو شاید ہم سے بھی زیادہ نہاتے ہیں۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تم کبھی کسی ہندو سے ملے ہو تو بولا ’نہیں‘۔

(تحریر و تدوین: وجاہت مسعود)


پہلا حصہ
دوسرا حصہ
 تیسرا حصہ
image_pdfimage_printPrint Nastaliq

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

One thought on “کرنل (ر) نادر علی کی 1971ء کے بارے میں یاد داشتیں (حصہ دوم)

Comments are closed.