مردانہ منافقت میں گم ہوجانے والی عورت


farnood alamکھانے کو اچھے پکوان اور پہننے کو بہتر سلوان مہیا کرکے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ عورت کا حقوق ادا کردیاگیا ہے۔ حقیقت سے مگر اس کا کوئی تعلق نہیں۔ جہاں خواتین کے ساتھ زندگی کی ضروریات میں بھی امتیاز برتا جاتا ہو، اسے ہم حق تلفی کی اضافی صورت تو کہہ سکتے ہیں، بنیادی صورت نہیں کہہ سکتے۔
معاملہ اور ہے۔ مساوات کی بنیاد یہ ہے کہ عورت کو اسی طرح سوچنے اور کہنے کی آزادی میسر ہو جس طرح کہ ایک مرد کو میسر رہتی ہے۔ اجتماعی شعور نے اب تک عورت کی شاپنگ کا حق تسلیم کیا ہے۔ دو قدم اگر کوئی آگے بڑھا ہے تو اس نے عورت کی پڑھائی لکھائی کا حق تسلیم کرلیا ہے۔ بنیا دی حق جو اسے بطور انسان قدرت نے دیا ہے، اس پہ طرح طرح کی بندشیں آج بھی عائد ہیں۔ کسی بندش کی بنیاد مذہب سے اٹھائی گئی تو کسی کا خمیر روایت کے دلدل سے اٹھایا گیا ہے۔ حد یہ ہے کہ عورتوں کے جس حق کی بات ہم اپنی تقریروں اور تحریروں میں کرتے ہیں، اسی حق کی بات ہم اپنے گھر کی عورتوں سے سن لیں تو ہتھے سے اکھڑ جاتے ہیں۔ ہتھے سے نہ بھی اکھڑیں تو فشارِ خون قابو سے ضرور باہر ہوجاتا ہے۔ نہیں سمجھے؟ چلئے جملہ الٹا کئے دیتے ہیں۔ ہم اپنے گھروں میں عورتوں کا جو حق مسلسل دبا رہے ہوتے ہیں، اسی حق کیلئے ہم چوک چوراہوں پہ ماتم کناں رہتے ہیں۔
ایک بات تو ذرا بتلائیں۔!!
وہ سچائی کہ جسے ہم ضمیر کا سینہ چاک کرنے سے نہیں روک سکے ہیں، اس سچائی پہ ہم نے کیا سوچ کر گھر کے دروازے بند کر رکھے ہیں۔ اس تلخ سوال کو ایک اور پہلو سے ظاہر کروں؟
چلیں سنیئے۔!!
بہت چھوٹی سی بات ہے مگر کبھی سوچیئے گا کہ سماجی ذرائع ابلاغ پہ دوسرے گھروں کی خواتین کو والہانہ خوش آمدید کہنے والی ہستیوں نے فیس بک ہی کو اپنے گھر کی عورتوں کیلئے شجرِ ممنوعہ کیوں قرار دے رکھا ہے؟ پھر جنہیں رشتے ہی فیس بک پہ میسر آئے ہیں انہوں نے شادیوں کے بعد سماجی ذرائع ابلاغ کی سر گرمیوں پہ پابندیاں کیوں عائد کردی ہیں؟ اس نفسیاتی خوف وہراس پہ کبھی غور کیا ہے؟ یہ سوال کہیں بھی رکھ دیجئے اکثریت کا جواب ماحول کو الزام دیتا سنائی دے گا۔ کیا یہی سچ ہے؟ اگر یہی سچ ہے تو پھر کچھ وقت نکال کر ہمیں ضمیر کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ لینا چاہیے۔ دیکھتے دم یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ جن حالات کو ہم خرابیِ ماحول کا نام دے رہے ہیں کیا انہی حالات سے ہم نے یہ رشتے دریافت نہیں کئے؟ ماحول پہ تو چلو بات ہوتی رہے گی مگر ان رشتوں پہ کیا کہئے گا جو رشتے ہمیں اسی ماحول نے عطا کیئے ہیں۔ کس قدر حسین تضاد ہے کہ جہاں سے میں نے بچے کے لئے ماں دریافت کی، مجھے خوف ہے کہ میری بیٹی وہیں سے میرے لیئے داماد نہ ڈھونڈ لائے۔ ایک اور پہلو پہ جاﺅں؟ چلئے، جاتے ہیں۔ سماجی ذرائع ابلاغ سے باہر آجایئے۔ سماج میں کھڑے ہوکر دیکھ لیجیئے کہ جو بچیوں کی تعلیم یا تعلیم کے بعد غمِ روزگار پالنے پہ حرف گیر ہیں انہی کو اپنی بچیوں کے علاج کے لئے خاتون معالج کی تلاش ہے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ان رویوں نے سماج کا توازن بگاڑ رکھا ہے۔ میرے سوالات اگر غلط ہیں تو آپ ہی غور کر کے بتلا دیجئے کہ خواتین کو جعلی ناموں سے اکاو¿نٹ بنانے پہ کس چیز نے مجبور کررکھا ہے۔ سوچیئے، مزید سوچئے مگر بہرِ خدا خارج میں اسباب تلاش کرنے کے بجائے اپنے ہی من میں ڈوب کر غلطی کا سراغ لگایئے۔
سچ یہ ہے کہ ہم نہیں چاہتے ہماری فکر اور عمل میں پائے جانے والا تضاد گھر کی عورتوں پہ آشکارہو۔ انجان دنیا کو وعظ و پند کے دام میں پھانسنا کوئی مشکل نہیں۔ یہ گھر کی عورتیں ہوتی ہیں جن کے لئے مردوں کی اوجھل حقیقتیں بھی ایک واضح بیانیہ ہوتی ہیں۔ اسی لیئے مناسب رہتا ہے کہ خواتین کو سات پردوں میں لپیٹ کر کسی محفوظ مقام پہ منجمد کردیا جائے۔ دم گھٹنے پہ خواتین مزاحمت کریں تو انہیں بتایا جائے کہ آپ پر یہ جبر اس لئے روا رکھا جا رہا ہے کہ آپ کی ذات ایک انمول ہیرا ہے۔ ہیرے کو ہمیشہ کوئلے کے گودام میں کہیں دباکر رکھتے ہیں۔ عورت ذات کا بھی اب کیا کیجئے کہ پیار سے ماریے تو مرنے پہ بھی آمادہ ہو جاتی ہے۔ ہر بار آمادہ ہو جاتی ہے۔ قدرت کے کارخانے میں اپنی نوعیت کی یہ واحد مخلوق ہے۔ عجیب ہی مخلوق ہے۔
آمدم برسرمطلب!
یہ راگ جو میں نے چھیڑدیا ہے، قطعا بے جا نہیں ۔ ادھر دلی میں ایک لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیاہے۔ یہاں لاہور میں ایک لڑکی سیاسی رسوخ رکھنے والے نوجوانوں کے ہاتھوں زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد انصاف کے لئے دربدر ہے۔ دونوں واقعات میں ملوث ملزمان پکڑے جا چکے ہیں۔ دو نوں واقعات پہ دو سوال اٹھ رہے ہیں، دونوں کا جواب ملزم کے پڑھے لکھے طرفدار دے رہے ہیں۔ دلی کے جنسی درندوں پہ سوال اٹھا کہ:
’جنسی تشدد تو خیر اپنی جگہ مگر لڑکی کو قتل کیوں کردیا‘….
دانش کے دستیاب ذروں کو جوڑ کر جو جواب بن پایا ہے وہ کچھ یوں ہے
’لڑکی اگر مسلسل شور نہ مچاتی اور ضرورت سے زیادہ مزاحمت نہ کرتی تو وہ کیوں ماری جاتی۔ آج زندہ ہوتی۔‘
لاہور کے جنسی درندوں پہ سوال آیا تو کسی بھی تحقیق سے پہلے جواب دینے کے لئے معروف وزیر آگے آئے۔ فرمایا
’لڑکی کا پیشہ ہی یہی ہے، اسے سنجیدہ نہ لیا جائے‘۔
دلِ ہنگامہ پرور جو اب جائے تو کدھر جائے۔ میڈیکل رپورٹس اگرچہ وزیر بے تدبیر کی بات کو جھٹلا چکی ہیں، مگر فرض کر لینے میں کیا حرج ہے کہ یہ زیادتی ایک طوائف کے ساتھ ہوئی ہے۔ فرض کرلیا۔ اب بتلایئے کہ بات کہاں سے شروع کی جائے؟ یہاں سے بات کا آغاز کیا جائے کہ زندگی کی کون سے تجربات ایک لڑکی کو کوٹھے کا راستہ دکھاتے ہیں؟ کیا اس سوال سے آغاز کیا جائے کہ تن اور برتن بیچنے پر مجبور خاتون کو ملنے والی اذیتوں میں کتنا حصہ ریاست کا اور کتنا حصہ سماج کا ہوتاہے؟ یا پھر ان روایتی سوالوں کا تعاقب کیا جائے جنہیں سن کر ایک لڑکی کیلئے دفتر کے استقبالیہ پہ بیٹھنا تو مشکل اور کوٹھے پہ بیٹھنا آسان ہو جاتا ہے؟ انترہ جہاں سے بھی اٹھایئے، تان تو اسی سوال پہ آکر ٹوٹے گی کہ کیا جسم فروش خاتون کے سر میں دماغ اور سینے میں دل نہیں ہوتا؟ کیا وہ جذبات و احساسات سے عاری کوئی وجود ہے؟ کیا علم کا کوئی کلیہ اسے انسانیت سے خارج کوئی وجود مانتا ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے…. اور ظاہر ہے کہ نہیں ہے تو کسی مرد کو صرف اس لیئے اس وجود کو بھنبھوڑ دینے کا حق دیا جا سکتا ہے کہ اس کے وجود نے جسم فروشی کا پیشہ اختیار کر رکھا ہے؟ اس علانیہ جواز پہ سماج کے اعلی دماغوں کی خاموشی چہ معنی دارد؟ دانش کدوں میں کھلبلی کیوں نہ مچ گئی؟ پھر وہی تضاد؟ مرد اس لئے پوتر ٹھہرا کہ اس کی جنسی صلاحیتیں خریدی نہیں جاتیں؟ عورت اس لیئے مردود ٹھہری کہ اس کی رعنائیوں کا معاوضہ دیا جاتا ہے؟ بستر کی سلوٹیں تو دو انسانوں کی عشوہ طرازیوں کی گواہی دیتی ہیں، مگر یہ کیا تماشہ ہے کہ ایک وجود تو اس میں قابل ھقارت ٹھہرا اور دوسرا وجود بخت آور؟
یہ سوالات اربابِ ایمان و عقائد سے نہیں ہیں۔ ان کا تو خیر ذکر ہی کیا۔ یہ سوالات ہیں ان خداوندانِ تقدیسِ مشرق سے جو خواتین کے حقوق پہ چیخ چلا کر ہلکان ہوئے جا تے ہیں، مگر نسوانیت کی رسوائیوں لا ذکر آنے پر وہ چونچ پروں میں دبا لیتے ہیں۔ سوال ہے اس پڑھے لکھے معاشرے سے ہزار تبدیلیوں کے بعد بھی جس نے عورت کے ساتھ صرف لیٹنے کے آداب سیکھے ہیں، عورت کے ساتھ کھڑا کب ہو گا؟ وہ عورت نہیں جس کے عورت ہونے کی گواہی چار مردوں سے لینی پڑتی ہے۔ وہ عورت جس کے عورت ہونے کے لئے اس کا عورت ہونا ہی کافی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “مردانہ منافقت میں گم ہوجانے والی عورت

  • 27-01-2016 at 2:42 pm
    Permalink

    True and painful.

Comments are closed.