تبلیغی جماعت اور ….اسلام پھر خطرے میں


mujahid aliپاکستان میں سیکولر ازم ، لبرل ازم اور مذہب پسندی کی بحث اس قدر شدت اختیار کر چکی ہے کہ اب شعبہ زندگی کے ہر معاملہ کو اسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ بار بار گزارش کی گئی ہے کہ سیکولر ہونے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ اسے لادینیت یا اسلام یا کسی بھی عقیدہ کی ضد قرار دیا جائے۔ لیکن ملک میں مذہبی گروہوں نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران جو غیر ضروری قوت و اختیار حاصل کیا ہے، اسے برقرار رکھنے کے لئے یہ عناصر اور ان کا ساتھ دینے والے میڈیا کے ترجمان اس بات پر بضد ہیں کہ کسی بھی شہری کو بہرصورت اسلام یا سیکولر میں سے ایک ”نظریہ“ کو چننا ہو گا۔ اسی لئے دھڑلے سے سیکولر رویہ اور طرز عمل کو لادینیت قرار دے کر ملک کے ان پڑھ اور ضعیف العقیدہ لوگوں کو گمراہ کرنے کا سامان کیا جاتا ہے۔ اس میں مزید رنگ آمیزی کے لئے سیکولر عقائد کا تعلق مغرب اور امریکی استعمار سے جوڑتے ہوئے یہ واضح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ دراصل یہ قوتیں پاکستان اور مسلمان ملکوں کو مسلسل غلام بنائے رکھنے کے لئے ’لادینیت ‘ کو عام کرنا چاہتی ہیں تا کہ مسلمان اسلام سے دور اور تباہی کے نزدیک ہو جائیں۔ ایسے میں وہ خود اس تباہی کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے جو مذہب کے نام پر دہشت گردی کے ذریعے دنیا پر مسلط کی گئی ہے اور پاکستان بھی جس کے نشانے پر ہے۔

یوں تو تحریک طالبان ہو یا کسی دوسری صورت میں جبہ و دستار کے نگہبان ہوں ، انہیں جب بھی مغرب یا امریکہ کی طرف سے التفات کی نظر سے دیکھا جائے، وہ اپنی ساری مذہب متانت و سنجیدگی سمیت کشاں کشاں کھچے چلے جاتے ہیں۔ وہ امریکی سفیر ہو، کوئی وزیر ہو یا کسی قسم کا کوئی عہدیدار، یہ سارے علما و فضلا، اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے ان سے ملنے اور معاملات کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ پیش نظر صرف یہ ہوتا ہے کہ اس میں متعلقہ دیندار کے اپنے ادارے کو کیا فوائد حاصل ہوں گے اور وہ خود اس قسم کے مراسم سے کون سا سیاسی مفاد حاصل کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشہور زمانہ وکی لیکس کے ذریعے سامنے آنے والی خفیہ دستاویزات میں مولانا فضل الرحمن کی یہ خواہش بھی طشت ازبام ہو چکی ہے کہ وہ ملک کے وزیراعظم بننے کے لئے امریکہ کی امداد و تعاون حاصل کرنا چاہتے تھے۔ تا کہ ایک مرتبہ اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد وہ امریکی ضرورت اور تقاضے کے مطابق ملک سے مذہبی شدت پسندی کا خاتمہ کر سکیں اور اسلام کے نام پر اسلام سے دشمنی کرنے والوں کو نکیل ڈال سکیں۔ تاہم آج اس موضوع پر گفتگو مطلوب نہیں ہے۔ بلکہ یہ تمہید اس خبر کے حوالے سے باندھنا پڑی کہ ملک کے خود دار مذہبی طبقوں کو پنجاب کی یونیورسٹیوں اور درس گاہوں میں تبلیغی جماعتوں کی سرگرمیوں پر پابندی لگنے سے اسلام پھر سے خطرے میں نظر آنے لگا ہے۔ ملک کے مرد و زن جانتے ہیں کہ جب اسلام خطرے میں کا نعرہ بلند ہوتا ہے تو اس کا کیا مقصد ہوتا ہے اور کون سے عناصر کس طریقے سے اس ایک نعرے کی آڑ میں لوگوں کو گمراہ اور خوں ریزی کو عام کرتے رہے ہیں۔

اسے حادثہ کہیں، مجبوری کہیں یا بعض عناصر کی دم پر پاﺅں رکھنے کی کوشش، خبر ہے کہ حکومت پنجاب نے تبلیغی جماعت کو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جا کر طالب علموں پر رجوع دین کے لئے کام کرنے سے منع کیا ہے۔ اگرچہ یہ بھی ابھی تک واضح نہیں کہ اس پابندی کا پس منظر کیا ہے اور تبلیغی جماعت کے وفود جنہیں وہ خود ’جماعت‘ کہتے ہیں درسگاہوں میں کیا کارنامہ سرانجام دیتے رہے ہیں، جس کی بنا پر مجبور ہو کر اس پابندی کا اعلان کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ بھی اہم سوال ہے کہ تبلیغی جماعت کے علاوہ ملک کے تعلیمی اداروں میں مصروف عمل دیگر مذہبی سیاسی تنظیموں پر کیوں پابندی عائد نہیں کی گئی اور انہیں کیوں بدستور طالب علموں کے نام پر سیاست کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ تاہم اس سے پہلے یہ پوچھنا ضروری ہے کہ تبلیغی جماعت کو کس کی اجازت سے تعلیمی اداروں میں داخل ہو کر طالب علموں کی علمی سرگرمیوں پر اثر انداز ہونے کی اجازت دی جاتی رہی ہے۔ اسی پر اکتفا نہیں ہے بلکہ …. اب یہ بھی پتہ چل رہا ہے کہ تبلیغی جماعتیں مختلف اسٹوڈنٹس ہاسٹلز میں قیام بھی کرتی رہی ہیں۔ اس قیام کا مقصد بجائے اس کے کیا ہو سکتا ہے کہ طالب علموں پر یہ واضح کیا جائے کہ وہ جس تعلیم کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں، اس سے ان کی نجات ممکن نہیں ہے۔ اگر وہ مرنے کے بعد سرخرو ہونا چاہتے ہیں تو اس پیغام پر غور کریں جو تبلیغی جماعت اپنے ہمراہ لے کر آتی ہے۔

بظاہر غیر منظم اور غیر سیاسی تبلیغی جماعت اس وقت دنیا کے 200 سے زائد ملکوں میں مراکز قائم کر چکی ہے۔ اس کے ماننے والوں کی تعداد بعض اندازوں کے مطابق ڈیڑھ کروڑ سے بھی زیادہ ہے۔ بنگلہ دیش اور پاکستان اس کے اہم مراکز ہیں تاہم یہ امریکہ ، برطانیہ ، فرانس اور دیگر یورپی ملکوں کے علاوہ بیشتر ایشیائی اور افریقی ملکوں میں سرگرم ہے۔ مختلف ملکوں کے بااثر اور طاقتور لوگ اس تحریک سے متاثر ہیں۔ اسی طرح یہ خود کو غیر سیاسی قرار دینے کے باوجود سیاسی مفادات حاصل کرنے سے گریز نہیں کرتی۔ جس طرح 2011 میں پنجاب کے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی نے جب رائے ونڈ مسجد کی تعمیر کے لئے 75 کنال سرکاری ارضی الاٹ کی تو اس سے کسی بنیادی اسلامی تعلیمات کو کوئی گزند نہیں پہنچی۔ تبلیغی جماعت اہم اور ضروری معاملات پر رائے ظاہر کرنے سے گریز کرتی ہے کیونکہ اس کا مو¿قف ہے کہ یہ صرف انسان کی اصلاح اور ایمان کی مضبوطی پر توجہ دیتے ہیں۔ اس طرح ہر شخص کو خود اپنی برائی سے جہاد کرنے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ لیکن عملی طور پر’غیر سیاسی‘ ہونے کا فیصلہ دراصل اہم ترین حکمت عملی ثابت ہو¿ا ہے۔ اس کی بنیاد پر اسے معاشرتی ، سیاسی اور تجارتی حلقوں میں وسیع اثر و رسوخ حاصل ہو سکا ہے۔ یورپ اور امریکہ نے بھی اس تحریک کی غیر سیاسی نوعیت کی وجہ سے ہی اسے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی تھی۔ لیکن اب تبلیغی جماعت کے غیر سیاسی چلن کے سیاسی ثمرات کئی حوالوں سے سامنے آ رہے ہیں۔ متعدد دہشت گردوں نے انتہا پسندی کا بنیادی سبق تبلیغی دوروں میں ہی حاصل کیا تھا۔ یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ یہ جماعت دنیا سے گریز اور آخرت پر تکیہ کرنے کا جو سبق عام کرتی ہے وہ درحقیقت یہ اصول ذہن نشین کرواتا ہے کہ اصل مقصد، حیات بعد از موت ہے۔ اس زندگی کا سوائے اس کے کوئی مقصد نہیں ہے کہ اسے مرنے کے بعد جنت حاصل کرنے اور بہشت میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے کی کوشش پر صرف کیا جائے۔

اس طرح عملی طور پر یہ جماعت ترک دنیا کی تبلیغ کرتی ہے لیکن دنیا چھوڑنے کا یہ پیغام چونکہ مرنے کے بعد بہتر زندگی حاصل کرنے کی کاوش سے جوڑا جاتا ہے، اس لئے جو لوگ خود کش حملوں یا بم دھماکوں کے ذریعے جنت کا شارٹ کٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں، انہیں بھی یہ پیغام حقیقت سے قریب دکھائی دیتا ہے۔ اس لئے انتہا پسندوں اور تبلیغی گروہوں کے درمیان تعلق ایک فطری امر ہے۔ زندگی ، دنیا اور اس کے لوازمات، خاندان، معاشرہ اور اس کے ڈھانچے سے فرار پر آمادہ کر کے اگرچہ تبلیغی جماعت بعض لوگوں کو ضرور عبادت اور ذکر الٰہی پر آمادہ کرتی ہو گی لیکن ترک دنیا کے اصول کو عام کرنے کے بعد اس جماعت کے سربراہوں کے پاس ایسا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ وہ ان لوگوں کو کنٹرول کر سکیں جو جنت کے مزے لوٹنے کی جلدی میں ہوتے ہیں۔

خاص طور سے جب مولوی طارق جمیل جیسا مبلغ بھی تبلیغی جماعت کی صف میں سر فہرست ہو جو لذت آمیز طریقے سے حوروں کے بناﺅ سنگھار ، جنسی تلذذ اور دیگرمحاسن پر روشنی ڈالتے نہیں تھکتا۔ تبلیغی جماعت کی تعلیمات میں دنیا میں بامقصد زندگی گزارنے کا پہلو نظر انداز کیا گیا ہے۔ اس طرح اس جماعت کو اللہ کا پیغام پہنچانے والوں کے طور پر شناخت حاصل ہوئی۔ لیکن ترک دنیا اسلام کا مقصد نہیں ہے۔ ایک با مقصد زندگی گزارنے اور دنیا کو خود اپنے لئے اور دیگر ہم نفسوں کے لئے، رہنے کے قابل بنانا بھی اہم ترین اسلامی تعلیمات میں شامل ہیں۔ بدنصیبی کی بات ہے کہ ان تعلیمات کو یا تو تبلیغی جماعت جیسے گروہ ترک دنیا پر آمادہ کرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں یا وہ لوگ جو نام نہاد سیاسی اسلام کا علم بلند کر کے کسی بھی دوسرے عقیدے پر عمل کرنے والے ہر شخص کو مارنے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔ دنیا میں مذہبی دہشت گردی کے موجودہ رجحانات کو مکمل طور سے سمجھنے کے لئے بظاہر ان دو مختلف میلانات کا …. جن میں سے ایک پرامن طریقے سے دنیا چھوڑ کر اللہ سے لو لگانے کی بات کرتا ہے اور دوسرا بارود سے دنیا کو تباہ کر کے اللہ کو حاصل کرنے کے درپے ہے …. تجزیہ کرنا اور ان کے مماثلات تلاش کرنا بے حد ضروری ہے۔

مولانا محمد الیاس کاندھلوی نے 1927 میں دہلی کے گرد و نواح میں میواتی آبادیوں میں اسلام کی تعلیم و تربیت کا آغاز کیا تھا۔ میواتی وہ لوگ تھے جو کسی زمانے میں اسلام قبول کر چکے تھے مگر اس کی بنیادی تعلیمات اور عبادات کے طریقہ سے آگاہ نہیں تھے۔ البتہ اس پیغام کو گزشتہ چار دہائیوں کے دوران نابلد لوگوں کو بنیادی مسائل بتانے کے طریقہ سے مسلمانوں کو عقیدہ کے نام پر حلیہ ، رویہ اور چال چلن بدلنے کی تحریک بنا دیا گیا ہے۔ ایسے میں یہ کہنا غلط ہے کہ تبلیغی جماعت غیر سیاسی ہے۔ اب یہ اس کا سیاسی سلوگن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تبلیغی جماعتوں کا ہدف صرف مسلمان ہوتے ہیں، وہ کسی غیر مسلم آبادی میں تبلیغی مشن شروع کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 411 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

6 thoughts on “تبلیغی جماعت اور ….اسلام پھر خطرے میں

  • 04-02-2016 at 9:48 am
    Permalink

    کیا زبردست حساب کا کلیہ لگایا ہے محترم لکھاری نے کہ کیونکہ تبلیغی جماعت لوگوں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ جنت میں جانے کی کوشش کریں اس میں موجود حوروں کو پانے کے لئے عمل کریں لہذا خود کش حملہ آور بھی چونکہ جنت میں جانے کی ہی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو ان کی ذمہ داری بھی تبلیغی جماعت پہ آتی ہے۔ بھائی شروع آپ نے سیکولر ازم اور لادینیت کے فرق سے کیا اور تان آپ کی وہیں ٹوٹی کہ یہ مزہب کے نام لیوا اس ملک میں آزاد کیوں ہیں۔ ایسی تحاریر ہی سیکولر ازم کے منہ سے نقاب ہٹاتی ہیں اس لئے آپ کی اس تحریر کا شکریہ۔

    • 16-02-2016 at 10:24 pm
      Permalink

      ھماری بد قسمتی کے آج کل ھر گاما ، ماجھا انٹرنیٹ پے بیٹھ کے ، چند سطور لکھ کے اپنے آپ کو دانشور سمجھنا شورع کر دیتے ھیں۔ آپ کی اتنی لمبی بیکار قسم کی تقریر پڑھی، آپ سے گزارش ھے کہ کبھی تبلیغ والوں کے ساتھ تین دن لگایں پھر آپکا لکھنا بنتا بھی ھے۔
      ناچ نجانے، آنگن ٹیڑھا۔

  • 05-02-2016 at 7:18 pm
    Permalink

    بہت ہی عمدگئ سے تبلیغی جماعت کا چہرہ بے نقاب کیا ہے،لیکن ابھی ان کا اصل چہرہ بے بقاب ہونا باقی ہے ،کہ یہ گماعت کس طرح اصل میں اسلام اور پاکستان دشمن ہے،،

  • 07-02-2016 at 6:42 pm
    Permalink

    اپ کی تحریر پڑھ کر بہت آفسوس ہوا۔ سفیراللہ

  • 08-04-2016 at 3:50 pm
    Permalink

    محترم سید مجاہد علی صاحب

    آپ کا جذبہ شاید پرخلوص ہو لیکن آپ نے مضمون تحریر کرنے میں بظاہر غیر معمولی عجلت کا مظاہرہ فرمایا ہے۔ مضمون کئی باتیں حقائق کے بالکل برخلاف ہیں۔

    “خاص طور سے جب مولوی طارق جمیل جیسا مبلغ بھی تبلیغی جماعت کی صف میں سر فہرست ہو”

    محترم سید مجاہد علی صاحب! مولانا طارق جمیل صاحب صف میں کافی پیچھے ہیں۔ سر فہرست نہیں۔

    “2011 میں پنجاب کے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی”

    محترم مجاہد صاحب! پرویز الٰہی صاحب 2011 میں پنجاب کے وزیراعلیٰ نہیں تھے۔

    “تبلیغی جماعت کی تعلیمات میں دنیا میں بامقصد زندگی گزارنے کا پہلو نظر انداز کیا گیا ہے۔”

    گستاخی معاف مجاہد صاحب! آپ کے بیانیے میں کھلا تضاد ہے۔ ایک طرف آپ نے فرمایا ہے
    “اسے معاشرتی ، سیاسی اور تجارتی حلقوں میں وسیع اثر و رسوخ حاصل ہو سکا ہے۔” تو گویا تبلیغی جماعت کی تعلیمات میں دنیا میں بامقصد زندگی گزارنے کا پہلو نظر انداز کرنے کے باوجود معاشرتی ، سیاسی اور تجارتی حلقوں کے افراد، انہی دنیاوی مشاغل میں مصروف ہیں ، جو تبلیغ کی محنت میں لگنے سے پہلے کر رہے تھے۔

  • 20-04-2016 at 5:27 pm
    Permalink

    تبلیغی جماعت گزشتہ 89 سال سے کام کررہی ہے مگر یہ بات گزشتہ چند سال سے زیر بحث ہے کہ اس جماعت کا موجودہ مزہبی دہشتگردی سے تعلق ہے، نیز جو تعلق یہاں بیان کیا گیا ہے وہ دلیل کے اعتبار سے اتنا ہی کمزور اور مجہول ہے جتنا کہ یہ کہا جائے کہ میڈیا جرائم کی خبریں دے دے کر جرائم میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے

Comments are closed.