گورنر سندھ – گو ہاتھ کو جنبش نہیں۔۔۔


زبیر حسن
\"\"سابق چیف جسٹس پاکستان سعید الزماں صدیقی کو گورنر سندھ بنانے کا اعلان ہوا تو میڈیا ان کے گھر پہنچ گیا، جب وہ کیمروں کے سامنے آئے تو سب کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔ یہ تو سب کو پتا تھا کہ ان کی عمر کافی ہو چکی ہے لیکن ان کی ظاہری صحت کے بارے میں زیادہ تر لوگ لاعلم تھے۔ بغیر بولے ان کی سانس پھول رہی تھی، ہاتھوں میں لرزہ اور ہونٹ خشک تھے، صاف نظر آرہا تھا کہ جسم بڑھاپے کے سخت شکنجے میں قید ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف واقعی بادشاہ ہیں، جسے چاہیں نواز دیں لیکن کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اسلام آباد میں بیٹھی ن لیگ کی قیادت کو شاید خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ جسے وہ گورنر سندھ بنا رہے ہیں وہ اب 80 سال کے ضعیف و نزار اور صاحب فراش ہیں۔ یہ درست ہے کہ گورنر کا عہدہ محض علامتی ہوتا ہے لیکن پھر بھی تھوڑی بہت ذمے داریاں تو نبھانی ہی پڑتی ہیں۔ گورنر کئی اہم سرکاری تقریبات میں شریک ہوتا ہے، غیر ملکی وفود سے ملاقاتیں کرتا ہے، صوبائی معاملات کے حوالے سے وفاق کو مشورے دیتا ہے، صوبوں اور وفاق میں رابطہ کار کا کام انجام دیتا ہے، کچھ نہیں تو تقسیم اسناد کے لیے یونیورسٹیوں کا رخ تو کرنا ہی پڑتا ہے۔ جناب سعید الزماں صدیقی کی صحت کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ ان کے لیے یہ روایتی ذمے داریاں انجام دینا بھی آسان ہوگا۔
بلاشبہ جناب سعید الزماں صدیقی تمام سیاسی اور سماجی حلقوں میں انتہائی قابل احترام شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں، خاص طور پر ان کی عزت و تکریم اور قدر و منزلت میں اور اضافہ ہو گیا تھا جب انہوں نے ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے اپنے استعفے میں لکھا تھا کہ ’’میری رائے میں پی سی او کے تحت حلف اٹھانا آئین سے انحراف ہوگا۔ اس سے جمہوریت اور عدلیہ کی آزادی کی نفی ہوگی۔ ‘‘ ان کے یہ الفاظ پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ جناب سعید الزماں صدیقی کی جرات و بہادری کو آج تک سراہا جاتا ہے اور ہمیشہ سراہا جاتا رہے گا۔ انہوں نے ثابت کیا تھا کہ زندہ ضمیر لوگ محض عہدوں کے لیے نہیں جیتے، انہیں اپنے اصول اور آدرش سرکاری مناصب اور عہدوں سے کہیں زیادہ عزیز ہوتے ہیں۔ اپنے اس فیصلے سے سعید الزماں صدیقی ظالم و جابر حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق کا استعارہ اور قابل تقلید مثال بن گئے تھے لیکن آج کہنا پڑے گا کہ گورنر سندھ کی کرسی پر بیٹھ کر ان کا تشخص شاید کچھ ماند پڑ گیا ہے۔ گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر سیاست کے چھینٹے بلاواسطہ یا بالواسطہ ان کے دامن پر پڑیں گے، اگرچہ جناب سعید الزماں صدیقی کے لیے اس منصب پر فائز ہونا قانونی اعتبار سے غلط نہیں لیکن ایسا شخص جس نے اک عمر انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر گزاری اس کے ہر کام میں ’’انصاف کا تقاضا‘‘ اولین ترجیح ہوتی ہے۔ اس کی سوچ انصاف سے شروع ہوکر انصاف پر ختم ہو تی ہے، اس کا کھانا پینا، سونا جاگنا، اٹھنا بیٹھنا اور زندگی کے ہر مصدر کا مرکز ہی ’’انٖصاف‘‘ ہوتا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا اس عمرمیں وہ اپنے عہدے سے انصاف کر پائیں گے؟ کیا وفاق کو ان سے کم یا زیادہ جو بھی توقعات ہیں پوری ہو سکیں گی؟کیا ایک کمزور اور لاغر جسم اس کا متحمل ہو سکتا ہے؟

یہ بات یقیناً وہ خود بہتر طور پر جانتے تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس عہدے کو اپنے لیے سعادت سمجھا، جس پر سنجیدہ سیاسی اور سماجی حلقے حیران بھی ہیں اور پریشان بھی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر وزیراعظم نواز شریف نے ان سے دوستی نبھائی تھی تو جناب سعید الزماں صدیقی کو بھی چاہیے تھا کہ اس پیشکش کا جواب زیادہ معقولانہ دیتے۔ اگر وہ یہ کہہ دیتے کہ ان کی صحت اور عمر یہ ذمے داری احسن طریقے سے پوری کرنے کی اجازت نہیں دے گی تو شاید یہ زیادہ حقیقت پسندانہ اقدام ہوتا۔ اس سے وزیراعظم کا دل بھی رہ جاتا اور انہیں اپنے فیصلے پر نظرثانی کا موقع بھی مل جاتا، سب سے بڑھ کر وزیراعظم اور قوم کی نظر میں جناب سعید الزماں صدیقی کی قدر و منزلت اور احترام اور بڑھ جاتا۔ سیانے کہتے ہیں جب کوئی دوست آپ کو مدد کے لیے اپنا کندھا پیش کرے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ اس پر اتنا بوجھ ڈال دیں کہ کندھا ہی اتر جائے۔ بڑی پیشکش کرنے والا تو بہادر ہوتا ہی ہے لیکن اسے شکریے کے ساتھ واپس لوٹانے والا اس سے بھی زیادہ بہادر سمجھا جاتا ہے، جناب سعید الزماں صدیقی کے بارے میں یہی تاثر تھاکہ سرکاری عہدے ان کے لیے کبھی اہم نہیں رہے لیکن گورنرشپ سنبھالنے کے بعد ان کے بارے میں رائے بدل رہی ہے۔ لوگ ان سے متعلق طرح طرح کے تبصرے کر رہے ہیں، خاص طور پر سوشل میڈیا پر ان کی عمر اور بزرگی کو قائم علی شاہ کی طرح تفریحی رنگ دیا جارہا ہے۔ ایک ایسا شخص جس پر پاکستان کی جمہوریت اور عدلیہ کو ہمیشہ فخر رہا ہو اس کا یہ تشخص برقرار رہنا چاہیے تھا لیکن نہ جانے ہماری مٹی میں ایسا کیا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہوں، ڈاکٹر محبوب الحق ہوں یا پھر ڈاکٹر عبدالسلام جیسی نابغہ روزگار شخصیات، متنازع ہوئے بغیر ہم سے رہا نہیں جاتا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ جناب سعید الزماں صدیقی کو لوگ بے ضرر گورنر سندھ کی بجائے ہمیشہ ایک بے باک، بہادر اور نڈر جج کے طور پر یاد رکھتے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں