مسلسل کیچڑ اچھا لنے والے ایک ہجوم کو تفریح تو فراہم کر سکتے ہیں قوموں کی تعمیر نہیں کر سکتے:نوازشریف


\"\"

تربت: وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ قوم کی تعمیر ایک ویژن سے ہوتی ہے اور اس کے لئے سنجیدہ قیادت کی ضرورت ہوتی ہے ،جن کا کاروبار ہی مسلسل کیچڑ اچھالنا ہے وہ ایک ہجوم کو تفریح تو فراہم کر سکتے ہیں قوموں کی تعمیر نہیں کر سکتے. مجھے افسوس ہے کہ اس کاروبار میں ملوث لوگوں نے اپنا ہی چہرہ اور ہاتھ گندے نہیں کئے بلکہ معاشرے کے چہرے کو بھی گندا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کا حال یہ ہے کہ ایک سڑک کی تعمیر میں پوشیدہ امکانات کو نہیں دیکھ سکتے وہ سمجھتے ہیں کہ قوم کے نوجوانوں میں ہیجان پیدا کرنے سے اقتدار تک پہنچ جائیں گے۔ میں انہیں بتانا چاہتا ہوں حکومت نے اقتدار تک پہنچنے کا جو راستہ متعین کیا ہے اس پر چل کر ہی کوئی اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ راستہ عوامی خدمت، تعمیر اور سنجیدگی کا راستہ ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے عوام کرینگے کہ کون عوام کی خدمت کے راستے پر چل رہا ہے اور کون نوجوانوں کے جذبات سے کھیل رہا ہے، یہ فیصلہ 2018ءمیں ہو گا۔ 2018ءکا پاکستان 2016ءکے پاکستان سے بھی بہتر ہو گا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر ہوشاب سے آواران اور بیلہ تک اور پنجگور سے پروم بارڈر تک سڑکیں تعمیر کرنے کا اعلان بھی کیا۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم محمد نواز شریف نے تربت میں 448 کلو میٹر طویل سوراب، ہوشاب این 85 کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کیا۔اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاﷲ زہری، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبد المالک بلوچ،گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی و اصلاحات چوہدری احسن اقبال، وفاقی وزیر سیفران لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبد القادر بلوچ، کور کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض،ڈائریکٹر جنرل ایف ڈبلیو او لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل، چیئرمین این ایچ اے شاہد اشرف تارڑ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی تقریب میں موجود تھے ،وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ اس مرتبہ اپنے موجودہ حکومت میں جتنی مرتبہ بلوچستان آیا ہوں اتنی مرتبہ گزشتہ ادوار حکومت میں نہیں آیا اور نہ ہی بلوچستان میں منصوبوں کے افتتاح ہوئے جتنی مرتبہ اس دفعہ میں بلوچستان آیا ہوں کسی اور جگہ نہیں گیا۔آج یہاں آیا ہوں اس سے قبل گوادر ہوشاب کی سڑک کا افتتاح کر چکا ہوں کئی دفعہ گوادر بھی گیا ہوں اور کئی مرتبہ گوادر ابھی جانا ہے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا یہ حصہ ترقی کے جس دورسے گزر رہا ہے یہ مثالی ترقی ہے یہ نیا بلوچستان بن رہا ہے اگر نیا بلوچستان بن رہا ہے تو سمجھ لیں نیا پاکستان بن رہا ہے اس طرح پہلے بلوچستان کے صوبہ میں ترقی نہیں ہوئی اور نہ ہی اس کی مثال ملتی ہے یہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کا کچھ حصہ ہے اور کچھ ہم اپنے وسائل سے بنا رہے ہیں اس پر اربوں کھربوں روپے لگ رہے ہیں ابھی وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ یہ مہربانی کی جارہی ہے ان کا کہنا تھا کہ یہ بلوچستان کے عوام پر مہربانی نہیں یہ ان کا حق ہے اور حکومت کا فرض ہے جو ہم ادا کررہے ہیں یہ کوئی مہربانی اور احسان نہیں۔خنجراب جو کہ چین اور پاکستان کا بارڈر ہے وہاں سے گوادر تک لوگ آئیں گے ٹریفک آئے گی سامان آئے گا مال آئے گا جائے گا کس طرح اقتصادی سرگرمیاں ہوں گی اور علاقہ میںبےروزگاری کا خاتمہ ہوگا،غربت اور پسماندگی کا خاتمہ ہوگا۔ یہ صرف سڑک نہیں بلکہ گیم چینجر ہے اس سے اور بھی ترقی کے راستے کھلیں گے سکول آئے گا تعلیم آئے گی ،یونیورسٹیاں بنیں گی، سڑک بنے گی، ہسپتال قائم ہوں گے، لوگوں کو علاج معالجہ ملے گا، سڑک آئے گی، فیکٹریاں بنیں گی، کاشتکاری اور زراعت بہتر ہو گی، کھیتوں سے منڈیوں تک سڑکیں بنیں گی اور پاکستان خوشحال ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر نیا راستہ نئی منزل کا پتہ دیتا ہے۔ ایک نئی سڑک کے افتتاح سے امید کا نیا چراغ جل اٹھتا ہے۔ آج بلوچستان میں ایک نہیں امید کے ان گنت چراغ روشن ہو رہے ہیں۔ سوراب ہوشاب روڈ بھی ایک ایسا ہی چراغ ہے۔ تین سال قبل ہم نے جس ویژن کے ساتھ تعمیر پاکستان کے سفر کا آغاز کیا تھا۔ اس میں بلوچستان کی ترقی سرفہرست تھی اور اس کی کئی وجوہات تھیں. جن میں سب سے بڑی وجہ بلوچستان کی پسماندگی تھی ان کا کہنا تھا کہ میں تلخ داستان کو دہرانا نہیں چاہتا کہ کس طرح صوبہ کو ترقی سے محروم رکھا گیا۔ مجھے خوشی ہے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ بھی موجود ہیں اور موجودہ وزیراعلیٰ بھی موجود ہیں اور وہ خود اس بات کے گواہ ہیں کہ میرا ایک ایک لفظ ان کے جذبات کی بھی ترجمانی کر رہا ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم نے تاریخ کو بدلنا ہے۔ ہم نے بلوچستان کو بدلنا ہے۔ ترقی یہاں کے عوام کا اس طرح حق ہے جس طرح لاہور کراچی اور اسلام آباد جیسے شہروں میں بسنے والوں کا حق ہے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے صوبہ کو ان وسائل سے نوازا ہے جن سے نہ صرف یہ صوبہ بلکہ پورا پاکستان فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اس خطہ کی برکات سے چین اور وسطی ایشیا تک بسنے والے اربوں لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ کوادر کی تعمیر اور سی پیک نے اس سوچ کو حقیقت میں بدلنے کے امکانات پیدا کر دیئے ہیں۔ ہم نے آگے بڑھ کر امکانات کا دامن تھام لیا۔ آج خواب تعبیر میں ڈھل رہا ہے۔ امکان حقیقت بن چکا ہے۔ اس کی ایک گواہی سوراب، ہوشاب روڈ ہے۔ سڑک کی تعمیر سے گوادر بندرگاہ نیشنل ہائی وے کے ساتھ جڑ جائے گی۔ یہ گوادر سے افغانستان اور سینٹرل ایشیا تک سب سے کم راستہ ہو گا۔ یہ سڑک شمال اور جنوب کے درمیان رابطہ کا انتہائی موثر ذریعہ ہو گی۔ یہ سی پیک کی مغربی راہداری کا اہم حصہ ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے کوئٹہ سے گوادر تک پہنچنے میں دو دن لگتے تھے۔ اب فجر کے وقت کوئٹہ سے نکلیں اور دوپہر تک گوادر پہنچ سکتے ہیں۔ یہ کتنی بڑی تبدیلی ہے. اس کو نیا پاکستان کہتے ہیں یہ ہے نیا پاکستان، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ڈی جی ایف ڈبلیو او محمد افضل نے بتایا کہ ہم نے پانچ سال کے کام کو سوا دو سال میں مکمل کیا ہے۔ اس پر 22 ارب روپے رقم خرچ ہوئی۔ منصوبہ میں جتنے لوگ شہید ہوئے۔ ہم انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جو قربانیاں دی گئیں وہ تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں لکھی جائیں گی۔ انہوں نے پاکستان کے لئے قربانی دی۔ آج پاکستان کے کونے کونے میں تعمیر کا عمل ہے۔ نئی سڑکیں بن رہی ہیں۔ نئے پل تعمیر ہو رہے ہیں۔ پاکستان کا کوئی ایسا علاقہ نہیں جہاں کی سڑکوں پر یہ تختی نہ لگی ہو کہ اسے ہمارے دور میں تعمیر کیا گیا اور تعمیر کیا جا رہا ہے۔ میں اس توفیق پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ موقع ہم سے پہلے دوسرے لوگوں کو بھی ملا ہو گا مگر انہوں نے اسے گنوا دیا۔ کچھ کیا نہیں اور پاکستان کی ترقی کا نادر موقع کھو دیا۔ یہ کام وہی کرتا ہے جس کو اس کا ویژن ہوتا ہے ہمیں اس کا ویژن ہے سڑکیں ہی نہیں بنا رہے میٹرو بس بھی بن رہی ہے۔ بجلی کے کارخانے بھی لگ رہے ہیں، ریلوے بھی اپ گریڈ ہو رہی ہے اور پاکستان میں بجلی کی قلت بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سڑک مزدور کے لئے روزگار پیدا کرتی ہے، سڑک سے مریض اور ہسپتال کے درمیان فاصلہ سمٹ جاتا ہے۔ سڑک کی تعمیر سے سیمنٹ، سریے اور دوسری قسم کی کئی فیکٹریاں آباد ہوتی ہےں۔ بہت سے لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔ سطحی اور ویژن سے محروم لوگ کبھی ان امکانات کو نہیں دیکھ سکتے جو ایک سڑک کی تعمیر سے وابستہ ہوتے ہیں۔ سی پیک بھی ایک سڑک ہے لیکن دنیا جانتی ہے اس کے ساتھ کیسے کیسے امکانات وا بستہ ہیں۔ اس نے پاکستان کے دوست اور دشمن سب کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ دشمن نقصان پہنچانے کی کوشش میں ہے اور دوست اس سے خوش ہیں، پاکستان کے دوست اس کا حصہ ہیں یا حصہ بننے کے خواہشمند ہیں اور جن کے پاس ویژن ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ پاکستان کے لئے بہت بڑا منصوبہ ہے۔ وہ لوگ پاکستان کے عوام کو کیا دینگے کہ جن کا حال یہ ہے کہ ایک سڑک میں پوشیدہ امکانات کو نہیں دیکھ سکتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ قوم کے نوجوانوں میں ہیجان پیدا کرنے سے اقتدار تک پہنچ جائیں گے۔ میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ حکومت نے اقتدار تک پہنچنے کے لئے جو راستہ ترتیب دیا ہے۔ اس پر چل کر ہی کوئی اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ راستہ عوامی خدمت کا راستہ ہے۔ یہ تعمیر اور سنجیدگی کا راستہ ہے جو بھی اقتدار تک پہنچنا چاہتا ہے۔ یہی واحد راستہ ہے یہ فیصلہ اب آہین کے مطابق پاکستان کے عوام کرینگے کہ کون عوام کی خدمت کے راستہ پر چل رہا ہے اور کون نوجوانوں کے جذبات سے کھیل رہا ہے۔ یہ فیصلہ 2018ءمیں ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم کی تعمیر ایک ویژن سے ہوتی ہے۔ تعمیر کے لئے سنجیدہ قیادت کی ضرورت ہوتی ہے جن کا کاروبار ہی مسلسل کیچڑ اچھالنا ہو وہ ایک ہجوم کو تفریح تو فراہم کر سکتے ہیں قوموں کی تعمیر نہیں کر سکتے مجھے افسوس ہے کہ اس کاروبار میں ملوث لوگوں نے اپنا ہی چہرہ اور ہاتھ گندے نہیں بلکہ معاشرے کے چہرے کو بھی گندا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستانی شائستہ قوم ہیں، یہ روایت کو ماننے والے لوگ ہیں یہاں بڑوں کی عزت کی جاتی ہے اور چھوٹوں پر شفقت کی جاتی ہے۔ اس معاشرے میں رشتوں کا احترام ہے۔ اس میں دوسروں کو مخاطب کرنے کے آداب بھی ہیں، ہماری کچھ اقدار ہیں، ہماری ایک تہذیب اور روایت ہے۔ روایت کو برباد کرنے والے ایک نہیں کئی نسلوں کے مجرم ہوتے ہیں تاریخ انہیں ننگ اصناف کے نام سے یاد کرتی ہے۔ ہم نے پاکستان کو مادی طور پر ہی نہیں اخلاقی طور پر بھی ترقی یافتہ بنانا ہے۔ ہم نے اپنی نئی نسل کو بہتر روزگار اور ترقی کے مواقع ہی فراہم نہیں کرنے ان کے اخلاق کی بھی تعمیر کرنی ہے۔ قومیں صرف مادی قوت سے زندہ نہیں رہتیں۔ انہیں زندہ رہنے کے لئے اخلاقی قوت کی بھی ضرورت ہے۔ گذشتہ تین سال میں ہم نے اللہ کے فضل اور عوام کی مدد سے ایک نئے پاکستان کی مضبوط بنیادیں رکھیں جس آدمی کو اللہ تعالیٰ نے انصاف کی نظر دی ہے۔ وہ دیکھ سکتا ہے کہ 2016ءکا پاکستان 2013 کے پاکستان سے کتنا مختلف ہے اور 2018ءکا پاکستان 2016ءسے بھی بہت بہتر ہو گا توانائی کا بحران ختم ہو رہا ہے۔ بجلی آ رہی ہے اور بڑے بڑے دورانیہ کی لوڈشیڈنگ ختم ہو رہی ہے۔ دہشت گردی کی کمرٹوٹ رہی ہے۔ معیشت اپنے پا¶ں پر کھڑی ہو رہی ہے۔ عالمی برادری پاکستان کو روشن امکانات کی دنیا کے طور پر دیکھ رہی ہے اور ہم نے ترقی کا رخ تبدیل کر دیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کا رخ غیرترقی یافتہ علاقوں کی جانب ہے جیسے بلوچستان ہے اور بلوچستان ہماری ترجیح ہے۔ یہاں کے نوجوان آگے بڑھیں گے۔ روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ بنیادی ضروریات زندگی میسر ہوں گی۔ یہ نیا پاکستان ہے اور اسے ہم سب نے مل کر تعمیر کرنا ہے۔ مجھے عبدالمالک بلوچ نے آج کہا کہ ہوشاب سے آواران اور لسبیلہ تک سڑک مکمل کی جائے۔ میں نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت مل کر اس سڑک کو تعمیر کرینگے۔ عبدالمالک بلوچ کے حکم پر میں اور ثناءاللہ زہری اس سڑک کو تعمیر کرنے کا اعلان کرتے ہیں میں پی آئی اے حکام سے کہوں گا کہ وہ کراچی سے تربت تک سروس شروع کریں ان کا کہنا تھا کہ پنجگور سے لے کر پروم کے بارڈر تک 40 کلومیٹر کی سڑک کی تعمیر کا اعلان بھی کرتا ہوں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔