سبط حسن، شاکر علی اور انتظار حسین کی نستعلیق باتیں


کسی نظریے سے جذباتی وابستگی کے باوجود مخالف نقطۂ نظرکے حامل کسی شخص سے دوستی اور اس کے اعتراضات پر شائستگی سے جواب دینے کی ہمارے یہاں جو روایت موجود رہی،اسے لگتا ہے اب گھن لگ چکا ہے۔ بات بات پر آپے سے باہر ہونا، اگلے کی بات سنے سمجھے بغیر اسے ملامت کرنا ہمارا وتیرہ بن چکا ہے۔ اس تیرہ وتار ماحول میں سبط حسن کی بہت یاد آتی ہے جن کی شخصیت رواداری کی اجلی علامت ہے۔وہ فکری مخالف کے اعتراض پر طیش میں آنے کے بجائے مہذب لہجے میں جواب دیتے۔ دوسرے ان کی خوبی یہ تھی کہ جس تحریک سے وابستہ رہے، اس کی غلطیاں اور اپنی کوتاہیاں ماننے میں انھیں عار نہ تھی۔ سبط حسن کے مستحسن رویے، ان کا اسلوب زندگی تھا اورکسی سے ڈھکے چھپے نہیں لیکن ہم یہاں انھیں ممتاز ادیب انتظار حسین کے ساتھ، ان کے باہمی ربط ضبط کی مناسبت سے روشن کریں گے۔ دونوں ہستیاں فکری اعتبار سے مختلف روشوں پر چلتی رہیں، اس لیے باہم اختلاف کے پہلو بھی نکلتے رہے مگر دونوں کے بیچ احترام کا رشتہ برقرار رہا کیونکہ مکالمہ ہوتا رہا، نفرت تو اس وقت پنپتی ہے جب آپ دوسرے کا نقطۂ نظر سننے ہی سے انکار کر دیں، ماننا نہ ماننا بعد کی بات ہے۔ سبط حسن کو انتظار حسین کی تحریر سے اختلاف ہوتا تو وہ بذریعہ خط اپنا مطمح نظر بیان کرتے، جسے انتظار حسین اپنے کالم میں من وعن شائع کرتے جبکہ اس سے ان کے موقف کا رد ہوتا۔ یہ ان کی کشادہ دلی تھی کیونکہ چاہتے تو سبط حسن کے خطوط نظرانداز کر دیتے، پر وہ انھیں ریکارڈ پر لائے۔

انتظار حسین نے سبط حسن کو پہلی دفعہ اس وقت دیکھا، جب وہ پاکستان کے ابتدائی برسوں میں ”امروز“ میں سب ایڈیٹر تھے۔ چراغ حسن حسرت ایڈیٹراورحمید ہاشمی نیوزایڈیٹر۔ انتظارحسین نے ہمیں انٹرویو میں بتایا تھا:

”امروزمیں لیٹ نائٹ ایک ڈیڑھ بجے کاپی جاتی تھی۔ ایک روز یہ ہوا کہ ساڑھے بارہ کے قریب ایک صاحب ہیٹ لگائے نمودار ہوئے، عینک لگی ہے، جاڑوں کا موسم۔ میرے بالکل برابر بیٹھ گئے۔ نیوزایڈیٹر اور ان کے سامنے مجھ سمیت تین سب ایڈیٹر بیٹھے تھے۔ مہمان کے لیے چائے آئی۔ کوئی بات نہیں ہوئی۔ تھوڑی دیر بعد وہ حمید ہاشمی کے ساتھ چلے گئے۔ کاپی جڑنے کے وقت حمید ہاشمی واپس آ گئے۔ جب باقی لوگ ادھر ادھر ہوگئے تو مجھ سے حمید ہاشمی نے پوچھا کہ پہچانا وہ کون صاحب تھے؟ میں نے کہا، مجھے کیا پتا۔ کہنے لگے، سبطے بھائی۔ میں نے کہا آپ تعارف ہی کرا دیتے۔ کہنے لگے، باؤلے ہوئے ہو، وہ انڈر گراؤنڈ ہیں۔ “

سبط حسن کے جگری دوست اورممتاز مصور شاکر علی سے انتظار حسین کے قریبی مراسم تھے۔ ان کے گھر بھی ان کا جانا رہتا۔ وہاں ایک دفعہ شاعر زاہد ڈار نے سبط حسن کے بارے میں کچھ کہہ دیا تو شاکر علی کو تاؤ آ گیا اور انھوں نے اپنے دوست کے ناقد کو خوب جھاڑا۔ زاہد ڈار نے ہمیں بتایا کہ انھوں نے سبط حسن کو ڈرائنگ روم انقلابی کہا تھا جس پر شاکر علی بھڑک اٹھے۔ سبط حسن نے ایک مرتبہ شاکرعلی سے پوچھا یہ زاہد ڈار کیا کرتے ہیں؟  ان کے علم میں جب یہ آیا کہ موصوف کچھ بھی نہیں کرتے تواس سے ان کی شخصیت کا کچھ اچھا تاثر ان کے ذہن پر مرتب نہ ہوا۔ سبط حسن، کام، کام، کام کے فلسفے پریقین رکھنے والے،اس لیے زاہد ڈارانھیں کیسے بھا سکتے تھے؟ انتظار حسین کا معاملہ مگر مختلف ہے۔ ان کی زاہد ڈار کے بارے میں رائے ہے:

”۔۔۔اس کے لیے حیات ذوق جمود کے سوا کچھ اور نہیں۔ علامہ اقبال کے فلسفہ عمل کی مکمل نفی۔ عمل تو ہم آپ سب کر رہے ہیں۔ ہم سب ہی زندگی کی دوڑ میں شامل ہیں۔ ہانپ رہے ہیں مگر دوڑ رہے ہیں۔ ہمارے بیچ بس ایک زاہد ڈار ہے کہ مٹھس بیٹھا ہے۔ زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد۔ اس تہذیبی ناداری کے زمانے میں یہ ایک دم غنیمت ہے۔ اچھے زمانوں میں ہماری تہذیب ایسے کرداروں سے مالا مال ہوا کرتی تھی۔۔۔۔وہ دیوانہ آدمی نہ سہی۔ فالتو آدمی تو بہرصورت ہے۔ اور اس کم بخت زمانے میں جس کا وظیفہ ہے، کام، کام، کام، اور پیسہ پیسہ پیسہ، ہمارے بیچ ایک فالتو آدمی کا موجود ہونا بہت غنیمت ہے۔ “

انتظار حسین نے لاہور سے متعلق اپنی یادداشتوں ”چراغوں کا دھواں “ میں لکھا ہے کہ کس طرح اپنے دوست کی محبت میں شاکر علی نے ایک دفعہ محرم میں اپنے یہاں مجلس کا اہتمام کیا۔

”شاکر صاحب کو سبط حسن سے واقعی بہت لگاؤ تھا۔ بہت پکی دوستی تھی۔ ایسی پکی کہ ایک مرتبہ ان کی خاطر وہ اچھے خاصے مولائی بن گئے تھے۔ وہ عاشور کی دوپہرتھی۔ میں، ناصر (کاظمی) اور (احمد) مشتاق ٹی ہاؤس میں بیٹھے تھے۔ انیس کی ایک جلد ہمارے بیچ رکھی تھی۔ مظفرکی فراہم کردہ۔ اس جلد کو مشتاق نے ان تاریخوں میں کس خضوع خشوع سے پڑھا تھا۔ اچانک شاکر صاحب وارد ہوئے۔ نہ دعا نہ سلام ” اٹھو اٹھو یار، ہمارے گھرچلو مجلس کرنی ہے۔ “

”مجلس “ہم تینوں نے شاکر صاحب کو تعجب سے دیکھا۔

”ہاں یار، سبطے میرے گھر بیٹھا ہے۔ کہتا ہے آج عاشور کا دن ہے۔ کچھ ماتم مرثیہ ہونا چاہیے۔ یارتم لوگوں کو کوئی مرثیہ ورثیہ یاد ہے۔ کوئی سوز، کوئی نوحہ۔ “

مشتاق بولا ”انیس جو موجود ہے۔ “

شاکرصاحب نے انیس کی جلد کو دیکھا، ”بس بس کام بن گیا۔ اٹھو، چلو جلدی سے۔ “

سو ہم شاکر صاحب کے یہاں پہنچے۔ سبط حسن وہاں سچی مچی محرمی صورت لیے بیٹھے تھے۔ مراثی انیس کی جلد اس وقت انھیں بہت بڑی نعمت نظر آئی۔ کس رقت بھری کیفیت میں انھوں نے سوز خوانی شروع کی۔ بازو کے طور پر دائیں احمد مشتاق اور بائیں خورشید شاہد۔ بعد میں ایک گفتگو میں سبط صاحب نے مجھے بتایا کہ شروع عمرمیں انھوں نے بہت سوز خوانی کی ہے اور یہ کہ وہ بہت اچھے سوز خواں تھے۔ “

سبط حسن میں ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ انھوں نے زندگی کے کسی حصے میں کوئی ایسا کام کیا جو آگے چل کر انھیں غلط لگا تو عذرلنگ تراشنے اور مکرنے کے بجائے انھوں نے اپنی غلطی تسلیم کی۔ 1949ء میں ترقی پسندوں کی وہ کانفرنس جس میں رجعت پسند ادیبوں اور رسالوں کے بائیکاٹ کی قرارداد منظور ہوئی،اس کے بارے میں سبط حسن سے انتظار حسین نے انٹرویو میں استفسار کیا تو انھوں نے جواب دیا۔

” اس قرارداد کی پوری ذمہ داری میں قبول کرتا ہوں۔ میں نے اسے مرتب کیا تھا مگر کسی نے اس کی مخالفت نہیں کی تھی اور قاسمی صاحب تو اس زمانے میں انجمن کے جنرل سیکرٹری تھے۔ وہ کیسے بری الذمہ ہوسکتے ہیں۔ دیکھئے اس زمانے میں تو ہم شمشیربرہنہ تھے۔ انتہا پسند بنے ہوئے تھے اور انتہا پسندی نقصان تو پہنچاتی ہے۔ اب میں سمجھتا ہوں کہ وہ کام ہم نے غلط کیا تھا۔ آخر ہم انسان تھے۔ فرشتے تو نہیں تھے۔“

انتظار حسین نے ایک بار جب انھیں ہلٹن ہوٹل میں ٹھہرنے کا طعنہ دیا تو انھوں نے اس کا اثردل پرلیا اورخط میں اپنے عمل کی وضاحت پیش کی۔

انتظارحسین کے کالموں میں اپنے ذکر پرسبط حسن کو ایک دفعہ یہ شعر بے ساختہ یاد آ گیا۔

وہ دشمنی سے دیکھتے ہیں دیکھتے تو ہیں

میں شاد ہوں کہ ہوں تو کسی کی نگاہ میں

رضاعلی عابدی کی کتاب ”کتب خانے“ کے بارے میں یہ رپورٹ ہوا کہ سبط حسن نے ان کے کام کو قدرکی نگاہ سے نہیں دیکھا اور کہا ہے کہ ماضی کے متعلق اتنا تردد کیا ضروری ہے، اس وقت تو ہمیں ٹیکنالوجی کی کتابوں کی زیادہ ضرورت ہے۔ اس بیان کے رد میں انتظارحسین نے کالم لکھا،جس میں سبط حسن پر چوٹ تھی۔ سبط حسن نے خط میں اپنی صفائی پیش کی اور بتایا کہ رضا علی عابدی کی کتاب کے بارے میں ان سے منسوب باتیں غلط ہیں۔ ایک اور اعتراض کا جواب انھوں نے کچھ یوں دیا۔:

” مجھ کو نہیں معلوم تھا کہ اتنے بلند مرتبہ اور صاحب فہم و نظر ادیب ہونے کے باوصف آپ کانوں کے اتنے کچے ہیں کہ آپ نے اپنے دوست کی ہوائی باتوں پر اعتبار کرلیا اور ترقی پسند تحریک پر یہ فتویٰ صادر کرایا کہ وہ ماضی کو ”رطب ویابس کا پلندہ “تصورکرتی تھی اور ”پرانی علمی اور ادبی روایات، پرانی شاعری پرانی تاریخ سب کو ”بکواس“ سمجھتی تھی۔ اپنے ”دوست “سے میری طرف سے پوچھئے گا کہ بھلے آدمی آپ نے کس ترقی پسند ادیب کی تحریروں سے یہ نتائج اخذ کئے ہیں۔ کیا مجنوں گھورکھپوری، فراق، سجاد ظہیر، کرشن چندر، خواجہ احمد عباس، ممتاز حسین، احتشام حسین، مخدوم، سردار جعفری، صفدر میر، ظہیر کاشمیری، فارغ بخاری یا فیض احمد فیض نے کبھی ماضی کو رطب ویابس کا پلندہ کہا اور پرانی علمی اور ادبی روایت، پرانی شاعری پرانی تاریخ کو ”بکواس “سمجھا۔“

انتظار حسین کی تحریروں سے بعضے سبط حسن کی دل شکنی ہوئی، لیکن انتظارحسین سے تلطف میں کمی نہیں ہوئی:

”آپ جس خلوص اور محبت سے ہم فقیروں کو یاد کرتے ہیں اس کار گاہ سودو زیاں میں ہمارے حق میں وہی سب سے بڑی نعمت ہے۔ کراچی تشریف لائیں تو ہم کو نہ بھولیے گا۔“ ایک اور جگہ لکھا:

”آپ کے حسن تحریرِ کے ہم ہمیشہ سے معترف ہیں۔“

سبط حسن کی علمی شناخت کا ایک معتبر حوالہ ”لیل ونہار“ ہے، جس کے ایڈیٹر تو اور بھی لوگ رہے مگر اس پرچے نے جواعتبار ان کے دورمیں حاصل کیا، اس کی نظیر نہیں ملتی۔ انتظارحسین کو یہ پرچہ بہت پسند تھا۔ ٹھیٹ رجعت پسند ہونے کے باوجود ان کی تحریریں ”لیل ونہار“ میں شائع ہوتی رہیں۔

ان کے بقول:”لیل ونہار “بھی کیا خوب پرچہ تھا۔ اس معیار کا اور اس کینڈے کا ہفت روزہ اردو میں نہ اس سے پہلے نکلا تھا اور نہ اس کے بعد نکلا۔ اس سے پتا چلا کہ سبط صاحب واقعی کانٹے کے صحافی تھے۔ ہونا ہی تھا۔ آخر سید عبداللہ بریلوی اور قاضی عبدالغفار کی آنکھیں دیکھی تھیں۔ “

1970ئ میں ”لیل ونہار “کا ازسراجرا ہوا اور سبط حسن دوبارہ ایڈیٹر بنے تو انھوں نے انتظارحسین کو خط میں لکھا:

پہلے شمارے میں آپ کی تحریر بالکل لازمی اور ضروری ہے۔ امید ہے کہ آپ میری درخواست رد نہیں کریں گے۔ “

دل ودماغ تنگ نہ ہو تو رسالے میں مخالف نقطۂ نظر کے حامل لکھاریوں کی تحریر کے لیے جگہ نکل ہی آتی ہے۔ ترقی پسندوں سے محمد حسن عسکری کی جس زمانے میں ادبی یدھ جاری تھی، ان کے مضامین کی پاکستان ٹائمز میں اشاعت پرچیف ایڈیٹر فیض احمد فیض کو کوئی اعتراض نہ تھا۔ سبط حسن سے بھی حسن عسکری کے اچھے تعلقات تھے۔ اب بعض لوگ انتظار حسین کو ترقی پسند تحریک کے مخالف کے طور پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اوران کی ابتدائی دور کی تحریروں کو جواز بنا کر ہلکے پن پراتر آتے ہیں،اور یہ وہ حضرات ہیں جنھوں نے ترقی پسند تحریک کے لیے جوں تک نہیں ماری جبکہ ثقہ ترقی پسند احتشام حسین، سبط حسن، احمد ندیم قاسمی، علی سردار جعفری، صفدر میر، عارف عبدالمتین، احمد راہی اور حمید اختر، ان سب سے انتظارحسین کے نہ صرف اچھے مراسم رہے بلکہ ان کی شخصیت اور کام کے بارے میں مذکورہ حضرات نے اچھے خیالات کا اظہار بھی کیا۔ آخرمیں ”نوید فکر “کے بارے میں انتظارحسین کی وہ رائے جس سے سبط حسن کے افکارکی، ان کی نظر میں وقعت ظاہر ہوتی ہے:

” یہ کتاب ایسے زمانے میں شائع ہوئی جب یوں لگتا تھا کہ سوچنے کا عمل ہمارے یہاں موقوف ہو چکا ہے۔ بس ہم اپنی کٹ ملائیت میں مگن ہیں۔ ایسی فضا میں اس کتاب کی اشاعت سوچنے کے عمل کو پھر سے شروع کرنے کی کوشش نظر آتی ہے۔ اصل بات یہ نہیں کہ سبط حسن جو فکری تعبیریں کرتے ہیں اور جو تجزیئے پیش کرتے ہیں وہ کس حد تک صحیح ہیں۔ اس کا معاملہ یہ ہے کہ وہ ایک نظریے میں ایمان رکھتے ہیں اور اس کی مدد سے جو مسائل کا تجزیہ اور تعبیر کرتے ہیں اس سے قدم قدم پر اختلاف کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ ہمیں ذہنی اعتبار سے آرام سے نہیں بیٹھنے دیتے۔ وہ اتنی سنجیدگی سے سوچتے نظر آتے ہیں کہ اختلاف کی صورت میں ہم ان کی تعبیرو تجزیے کو یک قلم رد کرکے نہیں گزر سکتے۔ سوچنا پڑتا ہے،سوچنے کو جی چاہنے لگتاہے۔ ایک ایسے زمانے میں جب ہمارے معاشرے کا گزارہ خالی خولی نعروں پرہے اور جذباتی ردعمل پراور چبے چبائے خیالات کو دہرائے جانے پر،کسی مصنف کا اس طرح سوچنا اور لکھنا کہ وہ ہمیں سوچنے پرمجبور کرے، بہت غنیمت بات ہے۔ “


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔