جنگ اور جھنگ میں سب جائز ….


wisi 2 babaسپریم کورٹ نے شیخ اکرم کی قومی اسمبلی کی نشست بحال کر دی ہے مولانا لدھیانوی اب ایم این اے نہیں رہے۔

الیکشن ٹریبیونل نے ایک عجیب الخلقت فیصلے کے نتیجے میں اہل سنت و الجماعت (سپاہ صحابہ) کے سربراہ مولانا احمد لدھیانوی کو جھنگ سے منتخب ایم این اے قرار دے دیا تھا۔ قانونی حلقے اس فیصلے کو حیران کن قرار دیتے رہ گئے۔ الیکشن ٹریبونل نے مولانا لدھیانوی کی درخواست پر منتخب ممبر قومی اسمبلی شیخ اکرم کو نا اہل قرار دیا۔ نااہل کرنے کی صورت میں ری الیکشن کی بجائے دوسرے نمبر پر آنے والے مولانا لدھیانوی کو کامیاب قرار دے کر قانونی حلقوں کو حیران پریشان کر دیا گیا تھا۔

نااہل قرار پانے والے ایم این اے شیخ اکرم جھنگ کے سابقہ ضلع ناظم بھی رہے۔ وہ جھنگ سے سابقہ ایم این اے شیخ وقاص اکرم کے والد ہیں۔ اسی فیملی سے تعلق رکھنے والے شیخ اقبال بھی جھنگ سے ممبر منتخب ہوتے رہے ہیں۔ سپاہ صحابہ کے دوسرے امیر ایثار الحق قاسمی شیخ اقبال کے مد مقابل تھے جب وہ پولنگ کے دن ایک لڑائ میں مارے گئیے۔ شیخ وقاص اکرم پہلی بار تب ایم این اے بنے جب سپاہ صحابہ کے تیسرے امیر مولانا اعظم طارق ایک قاتلانہ حملے میں مارے گئیے۔

مولانا اعظم طارق منتخب ایم این اے تھے۔ ان کے مرنے پر ضمنی الیکشن ہوا تو شیخ وقاص اکرم نے اس الیکشن میں مولانا اعظم طارق کے بھائی مولانا عالم طارق کو شکست دی۔ مولانا عالم طارق شکست کھانے کے بعد زیادہ عرصہ منظر عام پر نہ رہ سکے اور سعودیہ چلے گئے۔ سپاہ صحابہ کا کوئی سابق لیڈر قدرتی موت نہیں مرا سب ہی قاتلانہ حملوں میں مارے گئی۔ اعظم طارق کے مارے جانے کے بعد سپاہ صحابہ کا کوئی فائر برانڈ لیڈر منظر عام پر نہیں تھا۔ شدید مخالفت بحث مباحثے اور جوڑ توڑ کے بعد مولانا احمد لدھیانوی کو سپاہ صحابہ کا نیا امیر بنا لیا گیا۔

مولانا لدھیانوی کا امیر بننا سپاہ صحابہ سے متعلق لوگوں کے لئے بھی حیران کن تھا۔ اس شدت پسند جماعت کے نچلے درجے کے عہدے دار بھی پولیس کو مستقل طور پر مطلوب رہتے ہیں اور زیادہ عرصہ جیلوں میں ہی گزارتے ہیں۔ مولانا لدھیانوی پولیس کو کبھی مطلوب نہیں رہے تھے اور تب بھی آزاد پھرا کرتے تھے جب باقی قائدین جیل میں ہوتے۔ اس وجہ سے انکو اپنی جماعت میں اسٹیبلشمنٹ کا آدمی سمجھا جاتا ہے۔ ان پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ وہ محرم کے دنوں میں ہمیشہ پارٹی موقف کی ترجمانی کی بجائے سرکاری موقف تسلیم کر کے آ جاتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں جب پاکستان دہشت گردی کی بدترین لہر کا شکار رہا۔ مسلم لیگ نون نے پنجاب میں اپنی پاور بیس کو محفوظ کرنے کے لئے سپاہ صحابہ کے عسکری ونگ لشکر جھنگوی کے بانی ملک اسحق کے ساتھ ڈیل کر لی۔ ملک اسحق کو عدالتی ریلیف دلوا کر رہا کر دیا گیا۔ اس ڈیل پر مسلم لیگ نون میڈیا میں تنقید کا نشانہ بنتی رہی لیکن پنجاب میں دہشت گردی کی کارروائیاں بالکل ختم ہو گئییں۔

الیکشن سے پہلے مسلم لیگ نون نے سپاہ صحابہ سے ایک سیاسی سمجھوتہ کیا اور اس پارٹی سے ہمدردی رکھنے والوں کو مسلم لیگ کی طرف سے امیدوار بنا کر جتوایا گیا۔ میڈیا خاص طور پر عالمی دارالحکومتوں میں اس شدت پسند گروپ کے ساتھ سیاسی ڈیل کے منفی اثرات کو دیکھتے ہوئے شیخ وقاص اکرم کو نون لیگ میں شامل کر کے مولانا لدھیانوی کے خلاف امیدوار بنا دیا گیا۔ شیخ وقاص اکرم ایک رٹ پٹیشن کے ذریعے نا اہل ہوئے تو ان کے والد کو پارٹی ٹکٹ دیکر میدان میں اتار دیا گیا جو الیکشن جیت گئے۔

شیخ اکرم کے الیکشن جیت جانے پر سپاہ صحابہ نے مولانا لدھیانوی کی قیادت میں جھنگ میں دھرنا دیا۔ ہزاروں لوگوں کا بہت ناراض مجمع تین دن تک جھنگ میں سڑکوں پر بیٹھا رہا۔ مولانا لدھیانوی جنہیں انکی نرم پالیسی کی وجہ سے اپنی ہی پارٹی میں ناپسند کیا جاتا ہے، نے حالات کے خرابی کی طرف جانے کو محسوس کرتے ہوئے دھرنا ختم کر دیا۔ مولانا لدھیانوی کے اس احتجاج کو اچانک ختم کرنے کو بھی انکی پارٹی میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا۔ ان پر اسٹیبلشمنٹ کا نمائندہ ہونے کے الزامات زیادہ شدت سے دہرائے گئے۔

لشکر جھنگوی کے بانی ملک اسحق نے رہائ کے بعد مولانا لدھیانوی کو بالکل مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔ ملک اسحق خود جھنگ سے الیکشن لڑنے کے لئے میدان میں آ گئے تھے۔ انہوں نے مولانا لدھیانوی پر مالی خرد برد کے الزامات بھی عاید کئے۔ ملک اسحق کی جارحانہ مہم کو لشکر جھنگوی کے عسکری ونگ کی مکمل حمائت حاصل تھی۔ اس معاملے کو شدت اختیار کرتے دیکھ کر سعودی کوششوں سے دونوں گروپوں کی صلح کروائی گئی جس کے لئے سعودیہ سے علما کا وفد پاکستان آیا۔ مولانا لدھیانوی کو سیاسی چہرے کے طور پر برقرار رکھنے کا فیصلہ ہوا جبکہ ملک اسحق کو تمام مالی امور کا نگران اور تنظیم کا غیر اعلان شدہ قائد تسلیم کر لیا گیا۔

حکومت اور ٹی ٹی پی کے مذاکرات شروع ہوئے تو لشکر جھنگوی نے ملک اسحق کی قیادت میں حکومت کو مکمل سپورٹ کیا۔ مولانا سمیع الحق جو سیاسی طور مولانا فضل الرحمن کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہیں، مولانا فضل الرحمن کو مستقل چڑانے کے لئے سپاہ صحابہ کی سپورٹ کرتے ہیں۔ سپاہ صحابہ کا عسکری ونگ لشکر جھنگوی مولانا سمیع الحق کو پھر بھی اتنا پسند نہیں کرتا لیکن مولانا سمیع الحق، مولانا لدھیانوی کے مستقل حمائتی ہیں۔

مولانا سمیع الحق طالبان کے ساتھ مذاکرات کے دوران حکومت سے مسلسل کہتے رہے کہ لشکر جھنگوی بھی حکومت کی حمایت کرتا رہا ہے لیکن اس کے سیاسی قائد کو حکومت نے دھاندلی سے ہرایا ہے۔ مولانا لدھیانوی کو قومی اسبملی کی سیٹ دلوانے کا مطالبہ بالاخر ٹی ٹی پی کی طرف سے بھی کر دیا گیا۔ حکومت نے قیدیوں کی رہائ کے مطالبے پر اتنی گرمجوشی نہیں دکھائی البتہ مولانا لدھیانوی کو بیک چینل سے ممبر اسمبلی بنانے کا انتظام کر لیا۔

لشکر جھنگوی کے قائد ملک اسحق جب مولانا لدھیانوی سے قیادت حاصل کرنے کی لڑائ لڑ رہے تھے تو حکومت نے خاموشی سے مولانا لدھیانوی کو اسمبلی پہنچا کر مولانا لدھیانوی کو طاقت کا ٹیکا لگا دیا۔ شدت پسندوں کے ساتھ نپٹنے کی حکومتی حکمت عملی سے آگاہ ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ سیاسی لوگ اپنی چالوں سے شدت پسندوں کو تقسیم در تقسیم کرنے کی حیران کن صلاحیت رکھتے ہیں ۔ حکومت کو یہ معلوم ہوا کہ ان دنوں ملا عمر نے مولانا لدھیانوی کو ایک خط لکھا ہے جو طالبان کے پیغام رسانی کے طریقہ کار کے مطابق چمڑے میں سی کر بھیجا گیا تھا۔ اس خط میں ملا عمر نے مولانا لدھیانوی کو شدت پسندوں کے ایک مالی تنازعے میں ثالث مقرر کیا تھا۔

یہ مالی تنازعہ اپنی جگہ نہایت دلچسپ تھا کہ ایک افغان کمانڈر سے ایک پاکستانی لمبی رقم لے کر چھلاوہ ہو گیا تھا خیر۔

ملا عمر کے اس خط نے مولانا لدھیانوی کو شدت پسند حلقوں بشمول لشکر جھنگوی میں اچانک بہت قابل قبول بنا دیا ہے۔ حکومت نے اس صورتحال میں ایسا انتظام کیا کہ مولانا لدھیانوی کو سیاسی طور پر نواز بھی دیا اور انہیں ممبر قومی اسمبلی بھی بنا دیا۔ مولانا لدھیانوی کی اس کامیابی نے انہیں مضبوط بنایا اور سرکاری اندازوں کے عین مطابق لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ میں تقسیم بڑھ گئی۔

ملک اسحق لشکر جھنگوی کے اہم بانی ارکان سمیت مارے جا چکے ہیں سرکار کو اب ضرورت ہی نہ رہی کہ وہ لڑائے تقسیم کرے اور نہ مولانا لدھیانوی کی سیاسی ضرورت برقرار رہی ایسے میں خبر آئی کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے عجیب و غریب فیصلے کو سابق پوزیشن پر بحال کر دیا ہے۔

شدت پسندوں کو جب بھی سیاست سے ڈیل کیا گیا تو انہیں لگاتار پسپائی کا سامنا کرنا پڑا کہ سیاست بہرحال بندوں سے ڈیل کرنے کے اس علم کا نام ہے جس کا ڈسا پانی نہیں مانگتا بلکہ خود پانی ہوجاتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

8 thoughts on “جنگ اور جھنگ میں سب جائز ….

  • 04-02-2016 at 7:39 pm
    Permalink

    صاحب تحریر کے علم میں جو باتیں ھیں اتنا تو شاید خود لدھیانوی صاحب بھی نا جانتے ھوں اپنے بارے میں ۔ پتہ نھیں غیب سے کسی نے وصی بابا کو یہ سب باتیں بتائیں ھیں۔موصوف کو یہ علم نھیں کہ لدھیانوی صاحب کبھی ایم این اے نھیں بنے ٹربیونل کا فیصلہ آیا اور شیخ وقاص سپریم کورٹ سے اسٹے آرڈر لے آیا ۔اور وہ بدستو ممبر رھا اور اسمبلی اجلاسوں میں شریک ھوتا رھا ۔

    • 04-02-2016 at 11:05 pm
      Permalink

      شیخ وقاص نہیں اس کا والد شیخ اکرم. وقاص نے الیکشن نہیں لڑا تھا

  • 04-02-2016 at 9:27 pm
    Permalink

    بہت عمدہ ۔ کافی دنوں بعد ایک باخبر بندے نے خبری کالم لکھا ہے ۔

    • 04-02-2016 at 9:36 pm
      Permalink

      اس پورے کالم میں سوائے جھوٹ اور افسانہ نگاری کے کچھ بھی نہیں۔

  • 04-02-2016 at 9:35 pm
    Permalink

    وصی بابا کو ایک عرصہ تک باخبر ہی سمجھتا تھا،جیسے عامر خاکوانی سمجھتے ہیں پتہ مگر آج چلاکہ وہ انتہائی بے خبرے کالم نگار ہیں۔

  • 05-02-2016 at 8:11 am
    Permalink

    بھینس کا منہ، میں جھنگ سے ہوں، ووٹ بھی شیخ گروپ کو دیتا ہوں، مولوی پسند بھی نہیں، لیکن اس میں ‘فحش’ قسم کی غلطیاں ہیں، مطلب یہ کہنا کہ لدھیانوی اسمبلی میں پہنچ گیا اب شیخ اکرم صاحب کو دوبارہ بحال کیا گیا، حالانکہ ایک دن فیصلہ آیا، اگلے دن مولویوں نے مٹھائی بانٹی اور تیسرے شیخ اکرم نے اس پر اسٹے لے لیا اور دوبارہ شروع کردی- باقی یہاں لشکری جھنگوی کو سپاہ کا ناراض شدت پسند گروہ مانا جاتا ہے، سپاہ کے معاملات میں ان کی کوئی بات نہیں مانی جاتی- باقی یہ خط وط والے قصے کا نہیں معلوم- البتہ یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی پے در پے غلطیوں کے بعد سپاہ کی وسعت میں اضافہ ہوا ہے، اس میں لدھیانوی کے نرم چہرے کا بھی تعلق ہے کہ دیوبندی انہیں اپنا سیاسی نمائندہ سمجھ رہے ہیں- حالیہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج بھی اس بات کے عکاس ہیں

  • 05-02-2016 at 11:34 am
    Permalink

    ان صاحب نے حقایق کو اپنی سیاسی یا مزہبی تعلق کی بنیاد پر انتہا درجہ میں توڑ و مروڑ کر پیش کیا ہے اور قیسات و اخباری و عوامی افواہوں کو بنیاد بنا کر اپنا سارا مقدمہ پیش کردیا ہے حالانکہ اکیڈمک و علمی دنیا میں ان باتوں کی کوی ویلیو نہی ہوتی،،حیرت ہے اتنے اعلی فورم پر ان جیسے سطحی لوگ بحی قلم کی حرمت سے کھیلنے بیٹھے ہیں۔۔۔

    • 05-02-2016 at 1:18 pm
      Permalink

      قلم کی حریت بارے آپ کی حساسیت قابل داد ہے ۔ آپ غلطیوں کی نشاندہی کر دیتے باقی فیصلہ ریڈر پر چھوڑیں ۔

Comments are closed.