متاعِ غیب کی فصلِ زیاں


\"\"غلام حسین ساجد کو شکوہ ہے کہ ”میں نے کئی نظم نگاروں سے زیادہ نظمیں لکھی اور شائع کی ہوں گی مگر اب تک غزلوں کے چھ شعر مجموعے شائع کرنے کی وجہ سے ایک آدھ ناقد کے سوا کسی اور نے میری نظموں کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا۔“ یہ شکایت بے جا بھی نہیں ہے۔ غزل اور تغزل، دونوں ہمارے مزاج پر ایسے حاوی ہیں کہ شعر فہمی کا مرغِ قبلہ نما ہر پھر کر ایک ہی طرف اشارہ کرتا رہتا ہے۔ بعض اوقات تعجب ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے۔ نظموں کے مجموعے پر اظہارِ خیال آسان ہونا چاہیے کیوں کہ کسی بھی مجموعے میں بالعموم سو ڈیڑھ سو سے زیادہ نظمیں موجود نہیں ہوتیں اور ابتدائی طور پر ان کا غور سے جائزہ لینے کے لیے بہت وقت درکار نہیں۔ اس کے برعکس غزل کا ہر شعر بجائے خود ایک نہایت گٹھی ہوئی نظم ہوتا ہے اور اگر غزلوں کے کسی مجموعے میں ہزار ڈیڑھ ہزار شعر ہوں تو ہزار ڈیڑھ ہزار نظموں سے قرینِ صحت معانی اور افتادِ طبع کا سراغ لگانا کارے دارد ہے۔ اس پر یہ مشکل مستزاد ہے کہ غزل میں ایک ہی مضمون کو ہزار رنگ سے باندھا گیا ہے اور باندھا جا سکتا ہے۔ اس لحاظ سے کسی غزل گو پر صحیح رائے دینا مشکل اور نظم گو پر آسان ہو سکتا ہے۔ لیکن ہماری بہت سی تنقید الٹی چال ہی چلتی ہے۔

اس مجموعے کے لیے منتخب کی گئی نظموں کا دورانیہ چالیس برسوں پر محیط ہے۔ بقول غلام حسین ساجد ”یہ نظمیں تو میرے لیے کھُل کر\"\" سانس لینے کا وسیلہ تھیں اور ہیں۔“ یہ بات دل کو لگتی ہے کہ غزل بہرحال روایتوں کے بوجھ اور بندشوں کے جبر سے کلی طور پر آزاد نہیں ہوسکتی۔ اگر نظم کی طرف سلیقے سے توجہ دی جائے تو ایک طرح کی کشادگی کا احساس ضرور ہوتا ہے۔

غلام حسین ساجد کی غزلیں پڑھتے ہوے اکثر محسوس ہوا کہ وہ بہت سہولت کہی گئی ہیں اور شاعر کو اپنا مافی الضمیر ادا کرنے پر قدرت ہے۔ سہولت کی یہی کیفیت نظموں میں بھی موجود ہے جو بڑی روانی سے اپنی ہئیت کو وجود میں لاتی اور اپنا راستہ تلاش کرتی معلوم ہوتی ہیں۔ آمد کی اس سیمیا کو تخلیق کرتے وقت شاعر کو کن کن سخت مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اس کا قاری کو اندازہ نہیں ہو سکتا۔ اس کے سامنے تو سانچے میں ڈھلا ہوا ایک منظوم بیانیہ ہوتا ہے۔ ییٹس نے خوب کہا ہے کہ ”ایک مصرعے کو مکمل کرنے میں ہمیں شاید گھنٹوں لگیں لیکن یہ (پڑھنے والے کو) لمحے بھر کی آمد محسوس نہ ہو تو سمجھو کہ ہمارا یہ سارا اُدھیڑنا اور بُننا رائیگاں گیا۔“

اس مجموعے میں، خواہ اس میں شامل نظموں میں سے بعض کا تعلق1974 سے ہو اور بعض کا 2010 سے، مرورِ ایام کی کوئی چھاپ نہیں، کوئی باسی پن نہیں۔

لفظیات میں بھی تنوع ہے۔ جو لفظ یا ترکیبیں تغزل میں عام ہیں انھیں خوامخوہ باہر نہیں دھکیلا گیا ہے اور نہ اس طرح کے زبان و بیان کو اپنایا گیا ہے جو سراسر سپاٹ ہو۔ جو ترکیب یا لفظ ہے، نظم کے سیاق و سباق میں، ٹھیک اپنی جگہ پر ہے اور بامعنی ہے۔

جیسا کہ اس عہد میں خاص طور پر متوقع ہے (اور شاید حساس افراد کے لیے زندگی کرنا ہمیشہ ہی اذیت ناک تجربہ ثابت ہوا ہے) ایک حزنیہ کیفیت ان نظموں کے رگ و پے میں جاری و ساری ہے۔ جس دنیا میں ہم سانس لیتے آئے ہیں اس میں دکھ درد کا غلبہ سدا ہی رہا ہے لیکن پہلے جو خوف تھے وہ وجود کی سطح پر کسی حد تک سمجھ میں آجا تے تھے یا سمجھنے سمجھانے کا مغالطہ پیدا کرتے تھے۔ اب ہم نے دنیا کو اس طرح بدل دیا ہے کہ وحشت ناکی، بے معنویت اور تنہا یا پیچھے رہ جانے کے احساس نے ہیبت ناک شکلیں اختیار کر لی ہیں۔ غلام حسین ساجد کی نظموں سے یہ سب کیفیتیں چھلکتی ہیں۔ تیزی سے الٹ پلٹ ہوتی دنیا میں جینے کا قرینہ کیا ہو، چیزوں کا دیکھنے، سمجھنے اور یاد رکھنے کی رفتار کو کس طرح بڑھایا یا گھٹایا جائے، ان سب آزمائشوں اور آفتوں سے کیسے نباہ کیا جائے–یہ سب معاملے، کہیں کم کہیں زیادہ، کہیں شدت سے کہیں سہج سے، کہیں نمایاں ہو کر، کہیں زیریں رو بن کر، ان نظموں میں سمائے ہوے ہیں۔ جو حزنیہ کیفیت ہے وہ محض غنائی یا شعری نہیں۔ اس میں گہری فکر مندی بھی گھُلی ہوئی ہے اور غالباً غنائیت اور تفکر کا یہ غیر مانوس امتزاج ان نظموں کو انفرادیت عطا کرتا ہے۔

اس مجموعے میں سب سے پُرکشش حصہ نظموں کا وہ سلسلہ ہے جو بحر سے آزاد ہے اور جس میں ہر نظم ”جب میں بہت چھوٹا تھا“ سے شروع ہوتی ہے۔ بعض نثری نظم کہنے والے سمجھتے ہیں کہ جملے کی تنسیق (نحوی ترکیب) کو بگاڑنے سے نظم لکھنے کا حق ادا ہو جاتا ہے۔ مثلاً وہ لکھیں گے: ”آیا میں شام کی طرف یاد کے گل دستے اٹھائے بھُلانے کے لیے سب وسوسے اپنے“۔ غلام حسین ساجد نے اس طرح کی حماقت نہیں کی اور نہ اس سے یہ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس نے مصرعوں میں تنسیق کا پورا خیال رکھا ہے اور بیانیہ پُرمایہ اور تہ دار ہے۔ عمر کے ابتدائی دور پر پلٹ کر نظر ڈالنا بازیافت کا ایسا عمل ہے جس میں جوانی اور اُدھیڑ پن کا سارا تجربہ شامل ہو چکا ہے۔ معصومیت کو کھو دینے کے بعد اس کو از سر نو، کسی بدلے ہوے زاویے سے، دریافت کرنے کی کوشش نشاط اور حزن سے بے نیاز ہے۔ ویسے بھی ہم معصومیت کو غلط معنی پہناتے رہتے ہیں۔ بچوں کو ظلم اور دکھ کی کوئی خاص سمجھ نہیں ہوتی اور وہ ایک عجیب وضع کی انانیت کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ وقفے وقفے سے جال پھینکتی حیرانی ہمیشہ ان کے اردگرد منڈلاتی رہتی ہے۔ شاعر نے ان نظموں میں سادہ لوحی پر مبنی معصومیت کے ایسے بے تکے تصورات سے بہت آگے کی بات کی ہے۔ وہ ان گئے گزرے برسوں کو سکون اور صبر سے دیکھنے پر قادر ہو چکا ہے۔ اردو میں لکھی جانے والی نثری نظموں میں یہ سلسلہ منفرد رنگ کا حامل ہے۔

بر سبیل تذکرہ یہ کہنے میں مضائقہ نہیں کہ غلام حسین ساجد نے چند اچھے افسانے بھی لکھے ہیں جن میں نثر کی نفاست اور تخیل کی کارفرمائی دونوں ہی متاثر کُن ہیں۔ یہ معلوم نہیں کہ اس نے افسانے جیسی اہم صنف سے اتنا کم اعتنا کیوں کیا۔ افسوس اس لیے زیادہ ہوتا ہے کہ اچھی نثر لکھنے والے روز بروز کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نیند میں چلتے ہوے از غلام حسین ساجد

ناشر: سانجھ پبلی کیشنز، لاہور۔

ص232؛ 400 روپیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں