ذکر الطاف حسین کی نعت پارٹی کا….


602679_536287386390775_785780264_n (1)وہ بھی کیا زمانہ تھا جب الطاف حسین سفید کرتا پاجامہ پہنے سر پر لٹھے کی ترچھی ٹوپی سجائے لکھنؤ کے بانکوں کے انداز میں جماعت اسلامی کے جلسوں میں سٹیج پر لہک لہک کر دس پندرہ روپے کے عوض نعتیں پڑھا کرتے تھے۔ ایوب خان کے دور کے آخری دنوں میں موصوف کا یہ دھندہ انتہائی عروج پر تھا۔چار پانچ سرمئی داڑھیوں والے بے روزگار قسم کے مولوی بھی اس بینڈ کا حصہ تھے۔ جماعت اسلامی کے جلسوں میں نعتیں پڑھنے کا یہ مطلب ہر گز نہ لیا جائے کہ وہ باقاعدہ جماعت میں شامل ہو گئے تھے۔ ان کو تو صرف معاوضہ سے غرض ہوتی تھی۔ کون جلسہ کر رہا ہے؟ اس سے ان کو کوئی سروکار نہیں ہوتا تھا۔ نعت خوانی کا ان کو بچپن سے شوق تھا۔ لڑکپن میں ہی اس زمانے کے بڑے بڑے نعت خوان ان کی نعت خوانی کے معترف تھے۔

بارہا ایسا ہوا کہ ایک ہی دن میں مختلف نظریات رکھنے والی کئی پارٹیاں انہیں بھگتا لیتی تھیں۔ ایک بار شیر شاہ کالونی میں سر ہارون فیملی کے زیر اہتمام ہونے والے کنونشن لیگ کے ایک جلسہ میں مجھے اپنے ایک کزن امیر حسین کے ساتھ جانے کا اتفاق ہوا۔ (اس فیملی سے الطاف حسین کے نعتیہ بینڈ کو باقاعدگی سے ماہوار وظیفہ ملتا تھا، جب کہ اس طرح کے جلسوں میں شرکت پر ان کو اچھی خاصی بخشیش بھی مل جاتی تھی ) مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس جلسہ میں الطاف بھائی نے نعت کے علاوہ ایوب خان کی مدح سرائی میں ایک عدد نظم بھی سنائی تھی۔جلسہ ختم ہوتے ہی لیگی کارکن سٹیج ہٹانے کے لئے آ گے بڑھے ہی تھے کہ اچانک الطاف بھائی کے تین چار پیٹی بند کسی کونے سے جنات کی طرح نمودار ہوئے اور سٹیج پر چڑھ کر انھوں نے اعلان کیا کہ سٹیج کو جوں کا توں رہنے دیا جائے۔ معلوم ہوا کہ الطاف صاحب نے اسی دن دو تین گھنٹے بعد نیپ کے ایک اور جلسہ کے لئے سٹیج کی ایڈوانس بکنگ کرا دی تھی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ اس جلسہ میں شیخ ایاز اور اجمل خٹک نے بھی شرکت کی تھی۔

اس طرح بھینس کالونی میں پروفیسر غفور احمد کے ایک جلسہ میں اس وقت منتظمین کو مضحکہ خیز صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جب نعت سنانے کے بعد الطاف بھائی جمعیت کے کارکنوں سے معاوضہ کی ادایگی پر الجھ پڑے۔ ان کا اصرار تھا کہ جلسہ اس وقت تک شروع نہیں ہو گا جب تک ان کو معاوضہ ادا نہیں کیا جائے گا۔ (یہ بالی وڈ کی کسی ایسی فلم کا سین لگ رہا تھا جس میں ولن اچانک کہیں سے نمودار ہو کر اعلان کر دیتا ہے کہ “یہ شادی نہں ہو سکتی”)

جمیت کے کارکن ان کو نرمی سے سمجھاتے رہے۔ ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ موصوف اس دن کچھ اور ہی واردات کے ارادہ سے جلسہ میں شریک ہوئے تھے۔ جمعیت کے کارکنو ں نے بھی الطاف بھائی کی ہٹ دھرمی کو اپنی انا کا مسلہ بنا دیا۔ اصل بات یہ تھی کہ الطاف صاحب کنونشن لیگ والوں سے ایڈوانس پیسے لے کر جلسہ کو درہم برہم کرانے کی ٹھان کر آئے تھے۔ جب تلخ کلامی گالی گلوچ سے ہوتے ہوئے ہاتھا پائی تک پہنچ گئی تو پھر وہی ہوا جو جمعیت والے ایسے موقعوں پر کیا کرتے ہیں۔ تین چار کارکنوں نے ان کو ڈنڈہ ڈولی بنا کر آٹے کی بوری کی طرح نیچے پٹخ کر ان کے ساتھیوں کی پٹائی شروع کر دی۔ اس کے بعد کچھ ایسا گھمسان کا رن پڑا کہ اللہ دے اور بندہ لے۔ اس افرا تفری میں پولیس کی ایک ٹولی کہیں سے نمودار ہوئی اور اس نے اندھا دھند لاٹھی چارج شروع کر دیا۔ کسی ستم ظریف نے جلسہ گاہ میں کھڑی موٹی بیروں سے لدی ہوئی ایک ریڑھی الٹ دی۔ لوگ زمین پر لڑھکنے والی بیروں پر ٹوٹ پڑے۔ یہ لیس دار بیریاں جن لوگوں کے پیروں تلے آتی رہیں وہ ا ن پر سے پھسل پھسل کر بیروں کے ساتھ ساتھ زمین پر لڑھکتے رہے…. جلسہ درہم برہم ہو گیا تھا اور الطاف بھائی سینہ پھلائے کپڑے جھاڑ رہے تھے…. گھر آ کر امیرحسین نے مجھے بتایا کہ یہ ان کی کارستانی تھی۔ میرے استفسار پر اس نے وضاحت کرتے ہوے کہا کہ ان کے ایک دوست اس الیکشن میں پروفیسر صاحب کے مد مقابل امیدوار تھے اور ان کی درخواست پر پولیس کے اہل کاروں کو کنونشن لیگ کی قیادت نے وہاں جلسہ کو درہم برہم کرنے کے لئے بھیجا تھا۔ ان واقعات کی تصدیق اس وقت کے لوگوں سے کی جا سکتی ہے۔

آج کل الطاف بھائی عمران فاروق کیس کی وجہ سے کچھ مشکلات کا شکار ہیں لیکن مجھے قوی امید ہے کہ وہ جلد یا بدیر اپنی مشکلات پر قابو پا لیں گے کیوں کہ اس طرح کی مشکلات سے نمٹنے کا وہ وسیع تجربہ رکھتے ہیں….


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “ذکر الطاف حسین کی نعت پارٹی کا….

  • 04-02-2016 at 8:37 pm
    Permalink

    آپ نےاس بات کاتزکرہ نہیں کیا کہ جنرل ضیا کس طرح فوجی حضرات کو اس کے جلسوں میں بھیجاکرتاتھا اورپھر
    الطاف حُسین کی درخواست پر گرفتاری اور رھایٔی عمل میں لایٔی جاتی تھی ،اس خوش قسمت انسان کو نہ صرف
    زرایٔع بلاغ کی سہولیات میّسر تھیں بلکہ ۵سٹار ھوٹل کی سہُولیات بھی میَسر تھیں، نجانے انہیں ھردور میں سہولت
    کاروں کی خدمات کیوں حاصل رہتی ھیں
    ریاض خان ھزاروی

  • 05-02-2016 at 10:57 pm
    Permalink

    کچھ جان کی امان پاؤں تو عرض کروں. لیڈر آسمان سے نہیں اترتے وہ عوام کا حصہ ہوتے ہیں وہ عوام کےساتھ ہی بڑے ہوتے ہیں- اگرآپ لوگوں کوپرانی غلطیوں پر ہی جانچتے رہیں گےتولوگ کیسے بدلیں گے – اردو سپیکنگ کلچر میں نعت نوحہ مذہب کانہیں آرٹ کا حصہ تھا اورآرٹ سے پیسے کمانا مجبوری ہوتی ہے خوشی نہیں – کم از کم اس وقت بھی جمیت سے ہی لڑ رہے تھے- دنیا کی لبرل فورسز اسوقت اپس میں لڑنے کےبجاۓ قدامت پسندی سےلڑیں تواچھا ہو گا – الطاف حسسیں کومفادپرست موقع پرست شاطر چالاک لالچی کہنے سے یقینا ہمارے دل کو کافی تسلی ہوگی کہ ہم نےاپنا سچ کہہ دیا اور الطاف حسسین کونقصان بھیپہنچے گا جوسب بہت اچھا ہے مگر فائدہ کس کو ہوگا کہیں ہمارے دشمن کوتو نہیں اسی لئے دشمن کی پہچان ضروری ہے- ویسے آپ بہتر سمجھتے ہیں –

Comments are closed.