فلم \”مالک\” ناکام ہو گئی۔۔۔ عاشر عظیم اب سیکورٹی کمپنی کھولیں


میں پاکستان کا شہری، پاکستان کا مالک ہوں اور بڑے غرور اور مان سے اپنے ملک پہ ملکیت کا یہ دعویٰ کرنے والے کو اپنی اڑھائی گھنٹے \"\"کی فلم کا وقت بھی نصیب نہ ہوا۔ جو قابض ہیں۔بے نامیوں کے سہارے جو زندہ ہیں۔اس ملک کی ملکیت میں بھی بے نامی سے باز نہیں آتے۔ان کے منشور نما کاغذوں اور فریبی تقریروں میں پاکستان کے اصل مالک تو عوام ہی ہیں مگر اس بے نامی کے در پردہ منصب ملکیت پہ براجمان یہ وہی ایک مخصوص طبقہ ہے جنہوں نے عاشر عظیم کو اس گناہ عظیم کا ویسا ہی سبق سکھایا ہے جیسا اپنی ہی ہتھیائی ہوئی زمین پر ملکیتی دعویٰ کرنے واے کو قبضہ مافیا سکھاتا ہے۔ یہ صرف ایک فلم نہیں تھی۔کسی نے اصل مالک کو جگانے کی کوشش کی تھی اور سوئی قوم کے آرام میں دخل اندازی کرنے والے کا سر کچلنا ضروری تھا ورنہ ہر کوئی اپنا حصّہ مانگ سکتا تھا۔ حق کو آواز مل سکتی تھی۔حقیقت جبر کا پردہ چاک کر سکتی تھی۔ عوام جاگ سکتی تھی اس لئے اس چنگاری کو دبانا ضروری تھا ۔ یہ بتانا ضروری تھا کہ شریفوں، زرداریوں اور زبردستی کے بھٹوؤں کے ہوتے ہوئے کسی کی کیا مجال کہ اس ملک کے ایک انچ کی ملکیت کا خواب بھی دیکھے۔ اس خواب کی آنکھوں پہ پٹّی باندھنا ضروری تھا اس لئے مالک نہ چل سکی۔

بھدّے اور مکروہ چہروں والے آئینوں سے ڈرتے ہیں۔ یہ پانی بھی آنکھیں بند کر کے پیتے ہیں تا کہ عکس سے نظریں نہ چار ہو سکیں۔ مالک بھی ایک آئینہ ہے۔ جس میں نظام کی غلاظتوں کو بڑی بری طرح بے نقاب کیا گیا ہے۔ سیاست دانوں، وڈیروں اور قانون کے رکھوالوں کے مکروہ چہروں سے شرافت کے میک اپ کو چھیل کے اتارا گیا ہے۔ اس پہ پابندی لگانے والے وہی ہو سکتے تھے جنہیں آئینوں سے گھبراہٹ \"\"ہوتی ہے۔ جو اپنی اصلی شکلوں  سے منہ چھپاتے پھرتے ہیں۔ جو اپنی  ذات میں اس درجہ کوڑھ زدہ ہیں کہ خود پہ ایک نظر ڈالنے کی بھی ہمّت نہیں رکھتے۔ ایوان اقتدار تک رسائی کے لئے غنڈہ گردی، قتل و غارت سے لے کے دلالی تک  کے سبھی رستوں کی نشاندہی کی گئ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے کسی نے ان کے وسیع و عریض ڈرائنگ رومز کے بھاری پردوں کو ہلکا سا سرکا کے کے اندر کے مناظر کی ایک جھلک پیش کی ہو جس میں نرم و نازک قالینوں پہ نیم عریاں جسم قائد کی شبیہ  کے پاسدار نوٹوں کو اپنے تھرکتے قدموں تلے کچلتے ہوئے محو رقص ہیں۔یا ان کے جہازی سائز  بیڈ رومز کے اندر کا یک ہلکا سا خاکہ پیش کیا ہو جس میں کسی غریب کی بیٹی اپنی اکلوتی جاگیر عزت کی ہاتھ جوڑ جوڑ کے بھیک مانگ رہی ہو  مگر شیطانیت کے چیلے کسی بھوکے بھیڑئیے کی طرح اس کے جسم کو ہوس کے نوکیلے دانتوں سے چیرپھاڑ رہے ہیں۔ ان ’عزت داروں‘ کو اپنی عزت پہ اٹھتی انگلیاں دکھ رہی تھیں اس لئے انہوں نے پابندی لگوائی اور حیرت کی بات ہے کہ  جب تک اس پہ پابندی نہیں لگی منصفوں نے کوئی چھٹی نہیں کی۔  کیوں کہ ان اڑھائی گھنٹوں کو روکنا زیادہ ضروری تھا ورنہ آسمان ٹوٹ پڑتا ، دہائیوں کی کرپشن جیسے حقیر مسئلے پہ فیصلوں کو تو اگلے منصف کی آمد تک ٹالنے سے قیامت کبھی نہ  آتی اور وہ سچے تھے۔ دیکھ لیا ہم نے قیامت تو دور کی بات ، پتا تک نہیں ہلا۔ ملک چل رہا ہے۔ انصاف رخصت پہ ہے۔

اسی بارے میں: ۔  مارلن برانڈو: مردانہ جنسی کشش کے استعارے سے گاڈ فادر تک

فلم مالک کی اتنی جلدی  انٹرنیٹ پہ دستیابی نے ایک حقیقت واضح کر دی کہ ہمارے نظام انصاف میں عام آدمی کے لئے امید سے مایوسی تک\"\" کا دورانیہ انتہائی قلیل ہے۔ فلم بنیادی طور پہ ایک کاروباری پس منظر کے تحت ہی بنائی گئی ہو گی مگر حکومتی پابندی نے اسے ایک مقصد بنا دیا کہ جس کے حصول کے لئے شاید عاشر عظیم کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ بچا کہ وہ کاروبار کو آگ لگا کے یہ یقینی بنائے کہ ہر خاص و عام کی آنکھ اس نیم چڑھی سچائی کو دیکھ سکے اور انہیں علم ہو کہ ان کلف لگے سفید کپڑوں میں ملبوس نام نہاد رہنماؤں کے کالی چادروں میں لپٹے کردار کتنے بھیانک اور گندگی میں لتھڑے ہوئے ہیں۔ بھارت میں اس موضوع پہ جانے کتنی فلمیں بن چکیں مگر انہیں کبھی پابندی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ہمارے رہنما یا تو بھارتیوں سے بھی بدتر کردار کے مالک ہیں یا پھر ان میں اتنا حوصلہ نہیں کہ یہ روز مختلف تقاریب میں بانچھیں کھلا کھلا کے فوٹو سیشن کروانے والے اپنے اصل چہروں کی تقریب رونمائی میں شامل ہونے کی ہمّت جتا پائیں۔

مالک میں ایک تیسرے نظام کی طرف اشارہ ہے۔ ایسا نظام جس میں مظلوم با اختیار ہے۔ اس نظام کو کوئی نام نہیں دیا گیا۔ ہم اسے عوامی نظام کہہ سکتے ہیں کیوں کہ ملک پاکستان میں عوام سے بڑا مظلوم کوئی ہے ہی نہیں۔ اور معصوم بھی اس قدر  ہیں کہ اپنے ظالموں کا انتخاب بھی خود ہی کرتے ہیں۔ اس تیسرے نظام میں انصاف کی بنیاد پہ فیصلے بر وقت ہوتے ہیں۔ یہ انقلابی نظام ہے۔ بغاوت بھی کہا جا سکتا ہے۔ بغاوت مایوسی کی آخری منزل ہے۔ امید کی موت پہ بغاوت کا جنم ہوتا ہے۔ آگ کے طوفان میں جب اہل مکاں کسی سائل پہ رونے، گڑگڑانے، منتوں اور التجاؤں کے باوجود پناہ کے لئے دروازہ نہیں کھولتے تو اپنی جان کی تمنّا اسے ایک دروازہ توڑنے پہ مجبورکرتی ہے۔ بغاوت التجاؤں کی سسکیوں میں سانس لیتی ہے۔ بھوکا پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے جب چوری کرے تو  قصوروار حکمران ہوتے ہیں بھوکا نہیں۔ جب انصاف طاقتور کی جیب کا رومال بن جائے، ظالم کے ہاتھ مظلوم کے گریبان سے ہوتے ہوئے اس کی عزت تک پہنچ جائیں، جب حق کی آواز کو جرم کی قبولیت سمجھا جانے لگ جائے تو پھر اس عوامی نظام کے ہاتھ اٹھتے ہیں تب جس کے گلے کو لگتا ہے کہ خدا کی پہنچ سے بھی باہر ہے اسے یہی نظام اسی کے گلے میں دو سوراخ کر کے زمین کا بوجھ ہلکا کر دیتا ہے۔

ہم جمہوریت اور آمریت کی چکی میں پسے ہوئے لوگ ہیں۔ یہ والی بال کے کسی میچ کی دو ٹیموں کی طرح ہیں۔میچ ہو رہا ہے اور ہم اسے \"\"کبھی گردن دائیں تو کبھی بائیں گھما کے دیکھ رہے ہیں۔ تماشہ جاری ہے۔ کبھی ایک ٹیم جیت کا انعام لے جاتی ہے تو کبھی دوسری ۔ عوام کے حصے میں فقط نعرے رہ جاتے ہیں یا پھر بریانی کی پلیٹ کا وہ بھولا ہوا ذائقہ جس کے بدلے ووٹ دئیے تھے۔آمریت ہو یا جمہوریت ہمیشہ فائدہ ایک مخصوص طبقہ ہی اٹھا تا ہے۔ بھوک ننگ، افلاس، بے روزگاری، دربدری، ہمیشہ عوام کی جھولی میں ڈالی گئی۔ جمہوریت کی مرغی کے رکھوالے اس امید پہ زندہ ہیں۔ کہ کبھی نہ کبھی تو سونے کا انڈہ دے گی۔ آمریت سے آس لگا کےرکھنے والے اسی مرغی سے دو سونے کے انڈوں کے طلب گار ہیں۔ ان دونوں آگ کی بھٹیوں کا ایندھن وہ عام آدمی بنتا ہے کہ جسے ان کا اتنا ہی فرق پتا ہے کہ جتنا وہ اپنی ایک ہی رنگ و نسل کی دو کالی بھینسوں میں کر سکتا ہے۔ اسے فقط غرض یہ ہوتی ہے کہ دودھ کون زیادہ دیتی ہے ۔ جب دونوں سوکھ جائیں تو ان کی اہمیت صرف قصائی کے ریٹ جتنی رہ جاتی ہے۔ آمروں کی نسلیں بھی سنور گئیں اور جمہوریت کے علمبرداروں کی بھی۔ نہ سنور سکی تو صرف عوام۔ جسے ڈر کے پنجرے میں قید کر کے رکھا گیا ہے۔تیز سانس نہ لو جمہوریت کو خطرہ ہے۔ اونچی آواز میں بات نہ کرو جمہوریت ڈی ریل ہو جائے گی۔ کرپشن کا حساب کیا تو جمہوریت روٹھ جائے گی۔  انصاف کی بات نہ کرو جمہوریت ناراض ہو جائے گی۔حقوق مت مانگو ورنہ آمر آجائے گا اور جب آمر آ جاتا ہے تو یہ سبھی جمہوری طوطے اس کے پنجرے میں اپنے اپنے حصے کا دانہ چگ رہے ہوتے ہیں۔اتنی نازک تو کانچ کی چوڑیاں نہیں ہوتیں جتنی  نازک ہمیں جمہوریت نصیب ہوئی ہے۔اصل میں جمہوریت ان لٹیروں کا سیف ہاؤس ہے کہ جس کی چھت تلے یہ خود کو احتساب سے محفوظ سمجھتے \"\"ہیں۔ ورنہ انہیں یہ اختیار کس نے دیا کہ خود بیٹھ کے فیصلے کریں کہ جمہوریت کی خاطر زرداری اور شریفوں  کے سات خون معاف ۔ لوٹی دولت معاف، ملک سے غداری معاف۔ عام مجرم کو پھانسی کے بعد رہائی کا فیصلہ سنایا جاتا ہے مگر ان  کو جمہوریت کی نزاکت کے پیش نظر معافیاں گھروں میں بیٹھے مل جاتی ہیں اور ہم ان کی دھول اڑاتی گاڑیوں کے پیچھے پاگلوں کی طرح بھاگنے ولے ان سے اتنا پوچھنے کی جرأت نہیں رکھتے کہ ہماری ہوئی چوری پہ ایک دوسرے کو بخشنے کا حق آپ کو کس نے دیا۔ سعد رفیق کہتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی سلیٹ صاف نہیں، جواب میں خورشید شاہ فرماتے ہیں کہ ن لیگ کا سارا بلیک بورڈ ہی گندہ ہے۔ پارلیمنٹ کے فلور پہ گندے پن کے ایسے واضح اقرار کے بعد کیا یہ کرسیوں کے قابل ہیں۔ انہیں تو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہئے۔ مگر اس ملک کے کسی بھی ادارے میں شاید کوئی ایسا غیرت مند بچا ہی نہیں جو ان کے سامنے آواز تو کیا پلکیں اٹھانے کی بھی جرأت کر سکے۔ سب خاموش ہیں۔ جمہوریت سب کو ان کی اوقات کے مطابق حصہ پہنچا رہی ہے۔ جمہور مرتے رہیں گے اور ان کی لاشوں کے عوض  جمہوریت نسل در نسل ، جنم پہ جنم لیتی رہے گی۔

اسی بارے میں: ۔  پھولوں کا شہر پشاور پھر سے پھولوں کا شہر بن رہا ہے

عاشر عظیم نے اس موضوع کا انتخاب کر کے فقط اپنی فلم پہ پاپندی نہیں لگوائی بلکہ مجھے یقین ہے کہ اگر کل کلاں کو وہ واقعی ایک سیکیورٹی کمپنی کھولنے کا ارادہ  کر لیں تو یہ حکومت انہیں کبھی اجازت نہیں دے گی کیوں کہ وہ دیکھ چکے ہیں کہ جب ملک کےاصل مالک اپنے حق کے لئے اٹھتے ہیں تو غاصبوں اور قابضوں کا کیا حشر ہوتا ہے مگر میں پاکستان کا شہری ، پاکستان کا مالک اس تیسرے اور عوامی نظام کی ضرورت کو تسلیم کرتا ہوں اور کھلے دل سے اس کی تائید کرتا ہوں۔۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

تصور حسین خیال کی دیگر تحریریں
تصور حسین خیال کی دیگر تحریریں