ہوائی جہاز کے کپتان کی غلطی


\"\"\”مے ڈے، مے ڈے\” یہ وہ منحوس الفاظ ہیں جو کسی نے جب بھی ادا کیے اس کا مطلب یہی ہوتا تھا کہ یہ \” سلام آخر \” ہے۔ لیکن جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔

15 جنوری 2009 کے دن کپتان چیزلی سالنبرجر (جنہیں عرف عام میں سلی ( sully) کے نام سے پکارا جاتا ہے) کو یہی الفاظ دہرانا پڑے۔ یو ایس ایئر ویز کی پرواز نمبر 1549 نے اب نیویارک سے ٹیک آف کیا ہی تھا کہ پرندوں کا ایک غول جہاز سے آ ٹکرایا اور اس کے دونوں انجن تباہ کر گیا۔ اس وقت جہاز صرف دو ہزار آٹھ سو فٹ بلندی پر تھا۔ انجن اگر فیل بھی ہو جائیں تو جہاز گلائیڈ کر سکتا ہے اور کسی قریبی ہوائی اڈے پر اتر سکتا ہے۔ لیکن یہاں سوال بلندی کا تھا۔ جہاز اتنی بلندی پر نہ تھا کہ اسے واپس لا گارڈیا ایئر پورٹ نیویارک پر اتارا جا سکے۔

یہاں کپتان کا چالیس سال اور بیس ہزار گھنٹے کا تجربہ کام آیا۔ پینتیس سیکنڈ کے اندر کپتان سلی نے یہ فیصلہ کر لیا کہ اسے یہ جہاز دریائے ہڈسن میں اتارنا ہے۔ ایئر کنٹرول ٹاور نے تمام پروازوں کو لاگارڈیا ائیرپورٹ پر اڑان سے روک دیا اور کپتان کے کہنے پر ساتھ ہی نیو جرسی کے ایک ایئر پورٹ کا رن وے بھی خالی کروا لیا لیکن یہ بے سود تھا۔ کپتان نے ٹاور سے کہا وہ واپس نہیں آ سکتا کیونکہ دونون انجن طاقت کھو چکے ہیں۔ اور پھر ٹاور سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ مسافروں نے ایک اعلان سنا۔ دس از یور کیپٹن، بریس فور امپیکٹ (کپتان کی طرف سے اعلان، شدید جھٹکے کے لیئے تیار رہیں)۔ ایک زوردار دھماکے کی آواز کے ساتھ جہاز پانی پر اتر گیا۔ جیسے ہی جہاز رکا، کپتان نے کاکپٹ سے باہر آ کر \”ایویکیویٹ\” کی کمانڈ خود دی۔ یعنی فوری طور سے جہاز سے باہر نکلنے کا حکم دیا۔ ایک مرتبہ پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ ہنگامی حالات میں جہاز سے نکلنے کے لیئے صرف نوے سیکنڈ ہوتے ہیں۔ خدا کا شکر ہے پڑھے لکھے لوگ تھے، سب کے سب نکل آئے۔ خوش قسمت تھے، ترقی یافتہ ملک تھا کہ بیس منٹ کے اندر سب کو مدد پہنچ گئی۔ کپتان سلی کو مسیحا، ہیرو اور ایسے بیسیوں القابات سے نوازا گیا۔ ایک سو پچپن لوگ اس جہاز میں تھے۔ سب کے سب بچ گئے۔

اسی بارے میں: ۔  موت، ناسٹلجیا اور بے معنی باتیں

لیکن کچھ لوگوں سے ایسے معجزات اور کامیابیاں کہاں ہضم ہوتی ہیں۔ تان آ کر ٹوٹی انکوائری بورڈ پر۔ سوال کیا گیا کہ آپ جہاز واپس کیوں \"\"نہیں لے کر آئے۔ کپتان نے جواب دیا کہ اگر واپس لانے کی کوشش کرتا تو شہر کے بیچ جہاز تباہ ہو جاتا۔ ایک سو پچپن تو مرتے ہی ساتھ میں سینکڑوں اور بھی جانیں جاتیں۔ نہیں مانے، کہنے لگے آپ نے پورا پروسیجر فالو نہیں کیا۔ آپ کی صورتحال ہم نے کمپیوٹر سمیولیشن میں ڈالی اور اس نے ٹھیک سے جہاز کو واپس لاگارڈیا پہنچا دیا۔ سمیولیشن وہ سافٹ وئیر ہے جس میں مصنوعی طور پر تمام صورتحال کی ریڈنگز اور تفصیلات ڈال کر نتائج نکالے جاتے ہیں کہ جہاز کے لیے کسی بھی ایمرجنسی صورت حال میں بہترین حل کیا ہو سکتا ہے۔

تو وہ لوگ نہیں مانے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر جہاز کا کپتان کریش کے بعد بچ جاتا ہے تو اس غریب کی اتنی انکوائری کی جاتی ہے کہ وہ سوچتا ہے اس سے اچھا تھا کہ مر ہی جاتا۔ خیر کپتان سلی کے کہنے پر جب اس سمیولیشن میں پینتیس سیکنڈ کی تاخیر ڈالی گئی جو کہ وہ وقت تھا جو یہ فیصلہ کرنے کے لیئے درکار تھا کہ واپس جایا جائے یا دریا میں جہاز اتار لیا جائے تو نتیجہ کپتان کے حق میں آ گیا (یعنی سافٹ وئیر کو کہا گیا کہ انہی حالات میں یہ فیصلہ پینتیس سیکنڈ بعد کرو تو اس نے بھی وہی نتیجہ پیش کیا کہ جہاز دریا میں اتار لو۔)

کمپیوٹر ٹیکنالوجی کتنی بھی ترقی کر جائے ہیومن فیکٹر کی اہمیت اپنی جگہ موجود رہتی ہے۔ اگر کپتان بروقت فیصلہ نہ کرتا اور بیان کردہ قواعد کی لمبی لسٹ کھول کر بیٹھ جاتا تو ہر سال اس کریش کی برسی منائی جا رہی ہوتی۔ کپتان سلی خوش قسمت ہے۔ وہ کریش میں زندہ بچ گیا اور انکوائری میں بھی سرخرو ہوا۔ مر جاتا تو ہمارے یہاں کی روایات کے عین مطابق قصوروار ٹھہرتا۔

اسی بارے میں: ۔  اسموگ کی آفت اور پنجاب حکومت کی اداکاری

کون سی روایت؟ وہی کہ کپتان کی غلطی تھی اور بس! خود بھی گیا اور دوسروں کو بھی لے ڈوبا۔ ایئر بلیو کا کریش ہو، بھوجا کا یا پی آئی اے\"\" کا، کپتان کو قصوروار قرار دے کر اکثر اصل حقائق چھپا لیئے جاتے ہیں۔

چترال کریش ایک المناک حادثہ ہے۔ کپتان صالح یار جنجوعہ کے ساتھ کچھ فلائیٹس کرنے کا اتفاق ہوا۔ نہایت بااخلاق آدمی تھے۔ بارہ ہزار گھنٹوں کا تجربہ کم نہیں ہوتا۔ مکمل یقین ہے کہ ان کی طرف سے ذرہ برابر بھی کوئی اونچ نیچ نہیں ہوئی ہو گی۔ کاش، خدا کرتا وہ سب کو بچا لیتے۔ ایک جہاز کے پرواز کرنے سے پہلے بہت سے ڈیپارٹمنٹ کام کر رہے ہوتے ہیں جن میں کیٹرنگ، سیفٹی، کارگو اور انجنیئرنگ وغیرہ شامل ہیں۔ ہر ایک کی اپنی اپنی بیان کردہ حدود ہوتی ہیں۔ ان سب سے بھی غلطی ہو سکتی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ کپتان غلطی نہیں کر سکتا، انسان ہے، خطا کا پتلا ہے۔ کچھ بھی متوقع ہے۔ اور ایوی ایشن ایمرجنسی چیز ہی ایسی ہے کہ انسان حواس باختہ ہو جاتا ہے۔ مگر سب کچھ نظر انداز کر کے پائیلٹ کو قصوروار قرار دے دینا ناانصافی ہے۔

دوسرے ملکوں میں تو کریش انویسٹیگیشن رپورٹس کچھ عرصہ میں آ جاتی ہیں مگر ہمارے یہاں یہ رواج نہیں ہے۔ فوکر کریش پر محترم انیق ناجی صاحب نے ایک پروگرام \” بند فائل\” کے نام سے کیا تھا لیکن میری یاداشت کے مطابق اس کے باوجود حقائق سے پردہ نہیں اٹھ سکا۔

کپتان سلی جہاز کو واپس نہ لے کر جا سکا، خدا کرتا کہ صالح واپس لے جا سکتا۔ اور پھر انکوائری ہوتی۔ پورے ایوی ایشن بورڈ کے سامنے کپتان صالح، کپتان سلی کی طرح سرخرو ہوتے اور ناقدین کے منہ پر وہ چائنا والا سب سے بڑا تالا لگ جاتا جو فٹ سے کپتان پر الزام تھوپ کر دوسروں کی کوتاہییاں چھپا جاتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

خاور جمال

خاور جمال پیشے کے اعتبار سے فضائی میزبان ہیں اور اپنی ائیر لائن کے بارے میں کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتے، کوئی بات کرے تو لڑنے بھڑنے پر تیار ہو جاتے ہیں

khawar-jamal has 23 posts and counting.See all posts by khawar-jamal