بستی کا آخری آدمی


zahid hassanیہ بستی لاہور ہے جو انتظار حسین کی کہانیوں، ان کے ناولوں میں لاہور کا بھیس بدل بدل کر آتی رہی ہے۔ لاہور، ایک تہذیبی ، ایک ثقافتی بیانیہ بن کر ہمارے سامنے متشکل ہوا۔ جس نے بیان کیا اسے ہم سب پڑھنے، سننے والے انتظار حسین کے نام سے جانتے پہچانتے ہیں۔ لاہور کے گلی کوچوں کا احوال بیان کرتے کرتے بالآخر انتظار صاحب ایک تنگ و تاریک، نامعلوم منزلوں کی جانب بڑھتی چلی جانے والی گلی میں داخل ہو گئے۔ کیا وہ ’ شہر افسوس‘ کی سمت کوچ کر گئے یا وہ جس شہر سے رخصت ہوئے اسے ’شہر افسوس‘ کی علامت قرار دیا جائے۔ لیکن مسئلہ بیچ میں یہ آن پڑا ہے کہ انتظار صاحب جو ’علامتوں کے زوال‘ کی حقیقت بیان کر رہے تھے۔ ابھی ابھی محفل سے اٹھ کر چلے گئے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ وہ جس آخری بزم سے اٹھ کر گئے۔ اس میں ’داستان‘ داستان گو اور سننے والے بھی وہ آپ ہی تھے۔ اس میں ان کے ساتھ کوئی شریک گفتگو نہ تھا۔ سمے تو ’دن‘ ہی کا تھا کہ ’دن‘ اور ’داستان‘ کا انتظار صاحب کے ساتھ گہرا تعلق تھا۔

ان کی شروع کی محفلیں پاک ٹی ہاﺅس میں جما کرتیں۔ 2006ءمیں جب لاہور کا یہ تہذیبی استعارہ، حقیقتاً بحران کا شکار ہوا تو انتظار صاحب اپنی ساری منڈلی کے ساتھ اٹھ کر نیرنگ آرٹ گیلری جیل روڈ پر نشستیں جمانے لگے۔ پھر مہینے میں ایک بار ایرج مبارک کے حلقہ ارباب فنون لطیفہ کے منعقدہ اجلاس میں کاسمو پولیٹن کلب ضرور آتے۔ ساتھ میں زاہد ڈار، اکرام اللہ، مسعود اشعر اور گل نار ہوا کرتیں۔ میں نے 3 فروری کو خواجگان مرکز، لاہور میں انتظار حسین کی نماز جنازہ میں ایک اداس ترین انسان کو دیکھا۔ یہ زاہد ڈار تھے۔ انتظار صاحب کے ساتھ ساٹھ برس سے اوپر کا دوستانہ تعلق۔ ناصر کاظمی، سہیل احمد خاں اور مظفر علی سید کے ساتھ پاک ٹی ہاﺅس میں پلر سے ملحق مرکزی میز پر بیٹھنے والوں کی اس منڈلی کا ایک کردار احمد مشتاق دور امریکا میں بیٹھا ہے۔ اس موجودہ صور ت حال پر اس کا کوئی بیان ابھی سامنے نہیں آیا۔ یقینا اس صورت حال پر احمد مشتاق شعری اظہار کریں گے جو ان کے اس مشہور زمانہ شعر کا الٹ ہی ہو گا۔

یار سب جمع ہوئے رات کی تاریکی میں
کوئی رو کر تو کوئی بال بنا کر آیا

یہ 1987-88ءکے اریب قریب کا زمانہ ہو گا جب میں پاک ٹی ہاﺅس میں اس منڈلی کے گردا گرد منڈلاتے منڈلاتے ایک روز انتظار صاحب کا پیچھا کرنے کی ٹھان کر گھر سے نکلا۔ وہ روزنامہ ’مشرق‘ سے نکلے۔ ٹہلتے ٹہلتے کوپر روڈ اور پنجاب اسمبلی سے چیئرنگ کراس پہنچے، الفلاح بلڈنگ کے سامنے سے گزرتے ہوئے پاک ٹی ہاﺅس کی جانب بڑھنے لگے۔ میں نے ان کے ساتھ ملنے کے لیے تیز قدم بڑھائے۔ سانس درست کی۔ لرزتی آواز میں پوچھا۔

261f63d855481e8f-e3578’آپ انتظار صاحب ہیں ناں؟‘

”جی۔ آپ؟ کہیے‘؟”

’میں آپ کا بہت بڑا مداح ہوں۔ آ پ کو پڑھتا رہتا ہوں۔

تو ان آخری دنوں میں کیا پڑھا ہے۔ آگے سمندر ہے۔ شاید پڑھ رہے ہو گے….؟

’جی نہیں !‘

’آخری آدمی‘ پڑھا ہو گا؟‘

’اسے پڑھنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں!‘

’گلی کوچے اور شہر افسوس میں سے کیا پڑھا ہے؟‘

’یہ کیا ہے؟‘

’بستی‘…. انہوں نے رک کر مجھے بغور دیکھتے ہوئے پوچھا۔

سب سے پہلے ’بستی‘ ہی کے بارے میں پڑھنے کا سوچا ہے۔

’بھئی عجیب مداح ہو تم، کتاب کوئی پڑھ نہیں رکھی!‘

وہ یہ کہتے ہوئے تیز قدم چل دیے۔ میں بائیں کو مسجد شہدا سے ہوتے ہوئے صفاں والا چوک، مزنگ اڈا اور اے جی آفس سے ہوتے ہوئے پاک ٹی ہاﺅس چلا آیا۔ جہاں انہوں نے ایک بار پھر مجھے بغور دیکھا لیکن کچھ بولے نہیں۔ نہ ہی ٹی ہاﺅس کے اس مرکزی میز پر جمی منڈلی، کو اپنے ساتھ ہونے والی اس واردات کے بارے میں کچھ بتایا۔ میرا بھرم بھی رہ گیا۔ پھر 2005 ءآیا۔ میں حلقہ ارباب ذوق کا سیکرٹری منتخب ہوا تو اور بہت سی خاص تقاریب کے ساتھ ساتھ سعادت حسن منٹو اور ناصر کاظمی کے لیے بھی تقاریب رکھیں۔ یہ دونوں ’چوپال‘ ناصر باغ میں ہوئیں۔ دونوں کی صدارت انتظار حسین نے کی۔ سعادت حسن منٹو کے حوالے سے تقریب میں ایک ہی مقالہ تھا۔ آصف فرخی کا۔ گرم اتوار کی اس سہ پہر میں آصف فرخی کے ساتھ جیل روڈ پر واقع انتظار صاحب کے گھر پہنچا تو مجھے عجیب اداسی اور تنہائی کا احساس ہوا۔ انتظار صاحب کی زوجہ وفات پا چکی تھیں اور وہ اس بھرے پرے گھر میں اکیلے رہ رہے تھے۔ انہوں نے ہمیں ’شربت بزوری‘ پلایا اور اس کے فوائد پر بھی سیر حاصل گفتگو کی پھر اپنی گاڑی میں بٹھا کر ہمیں ناصر باغ تک لے چلے۔ خوب تقریب برپا ہوئی اور خوب انتظار صاحب نے باتیں کیں۔ پھر میں نے جب ’کہانی گھر‘ کا پہلا شمارہ ’اپندر ناتھ اشک‘ کے حوالے سے نکالا تو اس پر ایکسپریس میں خوب کالم باندھا جو میرے لیے اکسیر ثابت ہوا۔اب جبکہ میں نے ٹک کر اور خوب جم کر انتظار حسین کا سارا کام پڑھ رکھا ہے۔ جی چاہتا ہے کہ ان سے ان کی کہانیوں، ناولوں، مضامین اور تراجم پر کرداروں، موضوعات حتیٰ کہ اسلوب اور تکنیک پر بات چیت کی جائے۔ لیکن شرط تو یہ ہے کہ ایک بار پھر سے وہ ’مشرق‘ سے نکل کر کوپر روڈ اور پنجاب اسمبلی سے ہوتے ہوئے چیئرنگ کراس پر خراماں خراماں ذرا چل کر آئیں تو سہی!


Comments

FB Login Required - comments