میں فکری و نظریاتی بد دیانت ہوں!


\"\"فیصل آباد میں نانی ایک ہسپتال میں داخل تھیں ۔ ان کو ٹی بی کا مرض لاحق تھا۔ لاغر تھیں بستر سے اٹھنے کی سکت کم رہ گئی تھی۔ میں ایک مل میں بارہ گھنٹے کی مزدوری کرتا تھا اور مشکل سے وقت نکال کر نانی کو ملنے چلا جاتا۔ نانی مصر تھیں کہ مجھے ٹی بی وارڈ میں ان سے ملنے نہیں آنا چاہئے۔ میں اس سچ سے واقف ہونے کے باوجود کہ ٹی بی مجھے بھی ہو سکتی ہے ملنے جاتا تھا۔ یہاں مجھے دوسوالوں کی تلاش رہی۔ ایک یہ کہ ٹی بی کی اس حقیقت سے واقف ہونے کے باوجود کہ مجھے بھی لگ سکتی ہے میں نے کبھی ایک ثانیے کے لیے بھی یہ کیوں نہ سوچا کہ ملنے نہ جاؤں۔ دوسرا سوال یہ کہ جب میں ہسپتال جاتا تو نانی وارڈ کی کھڑکیوں میں دور سے کھڑی نظر آتی۔ وہ مشکل سے گھسٹ گھسٹ کر میرے آنے سے آدھا گھنٹہ پہلے کھڑکی پر کیوں کھڑی ہو جاتی تھی؟ اور جب میں ہسپتال سے نکلتا تو دور تک چلتے ہوئے جب پیچھے نگاہ کرتا تووہ کھڑی دیکھ رہی ہوتی تھیں۔ میرے وارڈ سے نکلنے کے فورا بعد وہ ہمت مجتمع کر کے کیوں کھڑکی تک گھسٹتی ہوئی چلی آتی تھی؟ صرف مجھے جاتا ہوا دیکھنے کے لیے ؟ صرف چند ثانیوں کے ایک منظر کے لیے وہ اگلے کچھ گھنٹے سانس درست کرنے کی تگ و دو میں لگا دیتیں؟ یہ کیسا سودا تھا؟ کیا ہم دونوں فکری بددیانت تھے؟

سردیوں کی دھوپ تھی۔ ابو دادی کے پاؤں کے ناخن تراش رہے تھے۔ ناخن کاٹنے کے دوران غلطی سے بلیڈ گوشت پر لگ گیا۔ دادی نے ایک دم پاؤں پر ہاتھ رکھ لیا اور انگوٹھا چھپا لیا۔ کہنے لگیں بس بس سب ہو گئے ۔ ابو نے پریشان ہو کر کہا کہیں بلیڈ تو نہیں لگ گیا۔ دادی نے ہنس کر کہا نہیں نہیں۔ اتنے میں ابو کا فون آ گیا وہ فون سننے گئے تو میں نے دیکھا کہ خون کے قطرے چارپائی سے نیچے ٹپک رہے تھے۔ میں بھاگ کر پاس گیا دادی نے ہاتھ کھولا تو خون آلود تھا۔ بلیڈ \"\"  بری طرح لگا تھا۔ دادی نے کپڑے سے کس کر پٹی باندھی اور پاؤں کے اوپر ایک کپڑا رکھ کر بیٹھ گئیں کہ مبادا ابو فون سن کر باہر نکلیں تو ان کی نظر پٹی پر نہ پڑے۔ یہ سب کچھ دادی نے بہت سرعت سے کیا۔میں نے دادی سے پوچھا کہ اتنی بری طرح بلیڈ لگا تھا تو تکلیف تو ہوئی ہو گی لیکن آپ نے چہرے پر ذرا سا تاثر نہیں آنے دیا ۔ بلکہ جب ابو نے پوچھا بھی تو آپ ہنس رہیں تھیں۔ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ دادی کا جواب مجھے یاد ہے جس کا مفہوم کچھ یو ں تھاکہ تکلیف زخم کی بھی تھی اور ایک متوقع تکلیف یہ بھی ہو سکتی تھی کہ تمھارا ابو جب خون ٹپکتے ہوئے دیکھتا تو خوفزدہ ہو جاتا ۔ دوسری تکلیف میرے لیے قابل برداشت نہیں تھی۔ دوسری تکلیف کے مقابلے میں پہلی کوئی وقعت نہیں رکھتی؟ مجھے پھر ایک سوال کا سامنا تھاکہ دادی کو بلیڈ لگا ۔۔اسے تکلیف ہوئی ۔۔خون بہا۔۔یہ سب سچ تھا۔ دادی نے یہ سچ کیوں چھپایا؟ کیا دادی فکری بددیانتی کی مرتکب ہوئی؟

\”ایک دن جیو کے ساتھ\” دیکھ رہا تھا۔ جنید جمشید بیٹھے تھے۔ ساتھ ہی ان کی والدہ اور والد تشریف رکھتے تھے۔ والدہ انتہائی معصومیت سے کہہ رہی تھیں کہ جب یہ پاپ سٹار تھے تو ان کے شو دیکھنے دبئی تک جاتی تھی ۔ اب یہ مذہب کی جانب راغب ہوئے ہیں تو بھی ان کے پیچھے پیچھے چلتی ہوں۔ سوال ہے کیا جنید جمشید کی والدہ صاحبہ نظریاتی بد دیانتی کا شکار ہیں؟

نظریات کیا ہیں؟ کیا ہر نظریہ یہ دعویٰ نہیں کرتا ہے کہ وہ انسان کے معیار زندگی کو بہتر بنانا چاہتا ہے۔ کیا ہر نظریہ \"\"چاہے وہ دایاں ہو یا بایاں۔۔ دعویٰ نہیں کرتا کہ اس کی سوچ اور عمل کا مرکز حضرت انسان کے سوا کچھ نہیں؟ اگر میں اندراوتی کے کسی جنگل میں گھوم رہا ہوں اور وہاں کسی پیاری سی ہندو دادی کو مندر میں بت کے سامنے خلوص کے ساتھ ماتھا ٹیکتا دیکھوں اور اس کی آنکھوں میں آنسو رواں ہوں تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟ فورا اس کے نظریات کی تصحیح کرنے کے عمل میں مشغول ہو جانا چاہیئے یا۔۔ اس سے دعا کروانی چاہیے۔ اس سے رشتہ استوار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اور کہیں بعد میں کہ جب محبت کا رشتہ استوار ہوئے وقت گزر جائے اور میں دیکھوں کہ ہندو دادی کے نظریات اس کے معیار زندگی کو متاثر کر رہے ہیں تو شاید شاید میں بڑے طریقے سے بڑی محبت سے ان کو بہتر نظریات کی تعلیم دینے کی کوشش کروں۔ لیکن یہ سب بھی اس صورت میں کہ یقین ہو کہ دوسرے والے نظریات سے ان کی زندگی میں بہتری کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ یہ پیچیدہ معاملہ ہے۔ سادہ ہر گز نہیں ہے۔ مجھے فیصلہ کرنا ہو گا کہ میرے لیے یہ تلک لگائے حسین دادی اہم ہے یا میرا نظریہ؟ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ دادی نے جو نظریہ اب تک پال رکھا ہے دوسرے نظریے سے تبدیلی اس کے لیے تکلیف دہ ثابت ہوگی۔ اس کے معیار زندگی کو کسی صورت بہتر نہ کر سکے گی۔ تو ایسی صورت میں کیا اہم ہو گا؟ دادی یا نظریہ؟ محبت کی چوکھٹ پر جواب لینے جائیں گے تو محبت کے دربار میں آپ کے نظریے کو جوتیاں پڑے گی۔ آپ کو جاہل کے خطاب سے نوازا جائے گا۔

سچ کیا ہے؟ کیا والدین اپنی اولاد کے حوالے سے ایسی سچائیوں سے واقف نہیں ہو جاتے جو بیان کیے جائیں تو زندگی \"\"میں رشتوں کے بکھرنے کا خطرہ دو چند ہو جائے۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ اولاد اپنے والد یا والدہ کے حوالے سے کچھ ایسے ننگے سچ سے واقف ہو جائے جو بیان کیے جائیں تو ہمیشہ کے لیے رشتے میں ایک ایسی دراڑ آ جائے جو کبھی ختم نہ ہو سکے۔ کیا میاں بیوی کے رشتے میں بھی ایسے سچ نہیں آ جاتے کہ فیصلہ کرنے کا دوراہا آ جاتا ہے کہ اب سچ بول کر سچ کا علم بلند رکھا جائے یا مصلحت سے کام لے کر اس رشتے اور اس رشتے سے متعلقہ بہت سارے اور رشتوں کو بکھرنے سے بچا یا جائے۔ کیا ایسے سچ سے جب ہم واقف ہوتے بھی ہیں تو کیا مکمل واقف ہوتے ہیں یا صرف شہ سرخی سے ہی واقف ہوتے ہیں۔ متن سے واقفیت بہت تفصیل طلب ہوتی ہے۔ متن میں اس سچ سے متعلقہ ملزم کی ذہنی کیفیت جذباتی کیفیتٌ مجبوریاں اور اس وقت کے حالات ایسی دقت آمیز تفصیلات ہیں جن سے مکمل واقف ہونا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جاتا ہے۔ علت و معلول کی زنجیر کی پیمائش کیا مذاق ہے؟

ہم نے اس موضوع پر نہ جانے کیوں بہت کم بحث کی ہے کہ جہاں جھوٹ نے اس دنیا میں تباہ کاریاں کی ہیں وہاں سچ کا کردار بھی کم اہم نہیں ہے۔ دنیا میں \’سچ\’ نے بڑا لہو بہایا ہے۔ بڑی خونریزی کی ہے۔ ایک طرف کسی کا سچ اس کا مذہب تھا تو اس نے خون کی ندیاں بہا دیں۔ دوسری طرف پینٹا گون اپنے سچ کے لیے القاعدہ کی جھوٹی ویڈیوز بنوانے کے لیے پانچ سو ملین ڈالر مختص کر دیتا ہے۔

بائیں بازو کے انتہا پسندوں کو دیکھتا ہوں تو لگتا ہے اتفاقا ان کے ہاتھ سائنس و عقل کی کچھ باتیں لگ گئیں ہیں۔ گر یہ \"\"اتفاق نہ ہوا ہوتا تو یہ بہت شدت پسند قسم کے مولوی اور پنڈت ہوتے۔ مذہبی شدت پسندوں کو دیکھتا ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے ان کے دماغ میں خوف کی دیوار کو توڑ کر سائنس و عقل کی باتیں رکھ دی جائیں تو یہ انتہا پسند ملحد بن جائیں۔

ہم تجسس سے بھرپور محبت سے نچڑتے انسان کیوں نہیں بن سکتے؟

ہم \’سب کچھ جاننے\’ یا حتمی سچ جاننے کے زعم سے باہر کیوں نہیں آ سکتے؟

ہم رائے دینے والے لہجے اور فیصلہ کن لہجے میں کب فرق جان سکیں گے؟

ہم کب زندگی کے اس خوبصورت تجربے کا حیران کن قرار دیتے ہوئے تجسس اور جوابات کی جستجو میں رہنے کو ترجیح دیں گے۔

زمین پر زندگی کا امکان کیا تھا؟ زندگی میں حیرت انگیز نظم کا امکان کیا تھا؟

یوکریوٹ خلیے کا امکان کیا تھا؟ ابتدائی پروٹین مالیکیول یا بنیادی امینو ایسڈ کا امکان کیا تھا؟

\"\"زندگی تو بہت پیچیدہ ہے جب صرف ایک ابتدائی خلیے کا ریاضیاتی امکان نکالنے بیٹھتے ہیں تو ایک ایسا ہندسہ سامنے آتا ہے جو اس پوری کائنات کے تمام ایٹمز کے ہندسے پر مشتمل ہے۔ ہاں زندگی کا اتفاق ممکن ہے۔ پہلے خلیے کا امکان ممکن ہے۔ لیکن امکان اتنا ہی جتنا چار ارب سکے ہوا میں اچھالے جائیں اور امید رکھی جائے کہ سب سکوں پر ہیڈ آئے گا۔

امید پھر بھی رکھی جا سکتی ہے لیکن اس کے لیے زمیں کوساڑھے چار ارب سال نہیں۔۔ کھربوں، کھربوں، کھربوں، کھربوں، کھربوں، کھربوں، کھربوں کھربوں اور کھربوں سال درکار ہوں گے۔

کائنات کا نظم تو بہت دور کی بات ہے ۔۔ تاش کے دس پتوں کو ہوا میں اچھالیں اور ریاضیاتی امکان تلاش کریں کہ کیا امکان ہے کہ تاش کے دس پتے نمبر کے حساب سے ترتیب سے گریں گے۔ امکان موجود ہے اگر ڈھائی لاکھ دفعہ ہوا میں اچھالیں تو ایک دفعہ امکان ہو سکتا ہے کہ تاش کے پتے نمبر وار نیچے گریں۔

سب سے حیرت انگیز دماغ ہے جس کے ہم دروازے پر کھڑے ہیں (گو ہزاروں کتابیں دروازے تک ہی لکھ چکے ہیں) ۔ دماغ سے متعلقہ اہم تریں سوالوں کے جوابات کے نزدیک بھی نہیں پہنچے۔

ہاتھ جوڑ کر گذارش ہے چاہے آپ کا جس سچ سے بھی تعلق ہے، اس کی تشہیر اور اس کو نافذ کرنے کے لیے طنز کے نشتر رکھ دیں۔ انسانوں کے سر کاٹنا بند کریں۔ اپنی انا کی تسکین کے لیے نظریات کی بہانہ بازی بند کریں۔ ایسے سچ سے پرہیز کریں جس کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہ ہو۔

مصلحت ایک انتہا پر منافقت کے سوا کچھ نہیں۔ لیکن انسان کی بہتری اور احترام کو ملحوظ خاطر نہ رکھنے والا سچ بھی اتنا ہی قابل مذمت ہے۔

اربوں تغیرات کی موجودگی میں اعتدال عملا ناممکن ہے ۔لیکن زندگی میں اعتدال کے پاس پاس رہنا مشکل سہی ناممکن نہیں!

ہمیں سچ کی تباہ کاریوں سے پناہ مانگنی چاہیے!


میری فکری و نظریاتی بد دیانتی کے نفسیاتی پہلو (1)۔

Comments

FB Login Required - comments

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 97 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

4 thoughts on “میں فکری و نظریاتی بد دیانت ہوں!

  • 21-12-2016 at 12:30 am
    Permalink

    اس خیال انگیز تحریر کے لئے مبارکباد بھی اور شکریہ بھی۔

    • 21-12-2016 at 1:18 am
      Permalink

      سی ایم نعیم صاحب ۔۔ سر آپ کا بہت بہت شکریہ

  • 28-12-2016 at 12:32 pm
    Permalink

    پیارے وقار ملک، مجھے سچ میں بالکل سمجھ نہیں آرہی کہ میں کن الفاظ میں آپ کا شکریہ ادا کروں کہ آپ نے مجھے پڑھنے کو ایسی تحریر دی جسے دل کی دوات میں قلم ڈبو کر ہی لکھا جاسکتا ہے۔ بہت شکریہ اور بہت مبارک ایک خوبصورت تحریر کیلءے۔
    محمد عاطف علیم

  • 29-12-2016 at 10:53 pm
    Permalink

    عاطف بھائی بہت بہت شکریہ

Comments are closed.