چاند کو تالاب، مجھ کو خواب واپس کر دیا


چاند کو تالاب، مجھ کو خواب واپس کر دیا\"\"
دِن ڈھلے سورج نے سب اسباب واپس کر دیا

اِس طرح بچھڑا کہ اگلی رونقیں پھر آ گئیں
اُس نے میرا حلقۂ احباب واپس کر دیا

پھر بھٹکتا پھر رہا ہے کوئی برج دل کے پاس
کس کو اے چشم ستارہ یاب واپس کر دیا

میں نے آنکھوں کے کنارے بھی نہ تر ہونے دیئے
جس طرف سے آیا تھا سیلاب واپس کر دیا

جانے کس دیوار سے ٹکرا کے لوٹ آیا ہے گیند
جانے کس دیوار نے مہ تاب واپس کر دیا

پھر تو اس کی یاد بھی رکھی نہ میں نے اپنے پاس
جب کیا واپس تو کل اسباب واپس کر دیا

التجائیں کر کے مانگی تھی محبت کی کسک
بے دلی نے یوں غم نایاب واپس کر دیا

(عباس تابش)

 

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں