دو فرشتوں کی کہانی


کہتے ہیں کہ ایک نہایت ہی نیک انسان نے خواب میں دیکھا کہ آسمانوں پر محکمہ پیغام رسانی میں کام کرنے والا ایک فرشتہ نہایت \"adnanمصروف ہوا کرتا تھا۔ اس کے پاس دم بھر کا وقت نہیں ہوتا تھا کہ سکون سے کچھ دیر بیٹھ سکے۔ سامان لادے زمین سے آسمان پر جاتا، اور وزن وہاں اتار کر پھر ساتھ ہی زمین کا رخ کرتا اور وہاں سے ایک اور بڑی سی گٹھڑی اٹھا کر پھر آسمان کا رخ کرتا۔ اوپر
پہنچتا ہی تھا کہ اسے پتہ چلتا کہ نیچے زمین پر ایک اور گٹھڑی اس کی منتظر ہے۔

وہ دیکھتا کہ ایک دوسرا فرشتہ وہیں آرام سے اپنی میز کرسی پر سارا دن بیٹھا رہتا تھا۔ سارا دن کوئی کام نہ کاج۔ بس فراغت ہی فراغت
تھی۔

اسے دوسرے فرشتے پر نہایت رشک آیا۔ ایک دن وہ زمین پر اپنا تین ہزارواں چکر لگا کر آسمان پر سامان اتار چکا، تو اس دوسرے فرشتے کے پاس رکا، اور اس سے بات چیت کرنے لگا۔

اپنا تعارف کرا کر بولا کہ میری ڈیوٹی پیغام رسانی کی لگی ہے۔ زمین سے لوگوں کی وہ دعائیں لا کر اوپر پہنچاتا ہوں جن میں لوگ خدا سے اپنی ضروریات اور خواہشات بیان کرتے ہیں۔ ایک پھیرے میں ساری خواہشات لاد کر پل بھر سے بھی قبل میں اوپر آسمان پر پہنچاتا ہوں تو ساتھ ہی نیچے زمین پر اتنی ہی اور تیار ہوتی ہیں۔ پل بھر کی فرصت نہیں ہے۔ لیکن بھائی صاحب، آپ کی ڈیوٹی کیا لگی ہوئی ہے؟ آپ تو سارا دن بہت سکون سے گزارتے ہیں؟

دوسرا کہنے لگا کہ ڈیوٹی تو میری بھی پیغام رسانی ہی کی لگی ہوئی ہے، لیکن میرے ذمے وہ پیغامات ہیں\"bundles\" جن میں لوگ خدا سے ملنے والی نعمتوں کا ذکر و شکر کرتے ہیں۔ کبھی کبھار زمین کا چکر لگانا پڑ جاتا ہے، ورنہ سارا دن فارغ ہی گزرتا ہے۔ انسان ناشکرا ہے، اپنے پاس موجود نعمتوں کا ذکر و شکر شاذ ہی کرتا ہے۔

بس یہی کہانی ہے ہم سب کی۔ ہم زندگی میں مثبت چیزوں کو نہیں دیکھیں گے تو منفیت ہمیں لے ڈوبے گی۔ ہر شخص ہمیں برا لگے گا۔ ہر قوم سے ہمیں نفرت ہو گی۔ جو اپنے پاس ہے، اس پر ہم مطمئین اور شکرگزار رہیں گے اور بہتری کی کوشش کرنے پر توجہ دیں گے، تو نہ ہمیں ہر کامیاب شخص ایک مجرم نظر آئے گا، اور نہ ہی یہ محسوس ہو گا کہ ساری دنیا ہمارے خلاف سازش کر رہی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 631 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar