میری فکری و نظریاتی بد دیانتی کے نفسیاتی پہلو (1)۔


علم نفسیات کی ایک بہت بڑی خوبی ہے کہ اسے اس بات سے غرض ذرا کم ہی ہوتی ہے کہ عقیدے کی صورت میں آپ نے کیا خرافات پال رکھی ہیں۔ نفیسات کے طالبعلم ہونے کے حیثیت سے میری دلچسپی اس بات میں زیادہ ہو گی کہ مریض کے عقیدے کو کس طور اسی کے مرض کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کروں۔ اگر کسی جگہ زلزلہ یا قدرتی آفت آ جائے تو پوسٹ ٹرامک یا حادثے کے بعد ذہنی صدمے دباؤ یا مرگی کے علاج کے لیے ماہرین نفسیات مقامی ثقافت عقیدے روایات وغیرہ کا مطالعہ کریں گے اور دیکھیں گے کہ کیسے ان کو استعما ل کرتے ہوئے مریض کو نارمل کیا جا سکتا ہے۔ یہاں ایک بہت ہی دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہ طریقہ کار نفسیات کے مدرسے ہیومنزم سے ہی وابستہ نہیں ہے بلکہ نفسیات کے تمام مکاتب فکر اس طریقہ کار کو استعمال کرتے ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو وجہ کس قدر سادہ ہے۔ وجہ ’انسان اہم ہے‘ میں پوشیدہ ہے۔ ہیومونزم کا مکتبہ فکر تو اس معاملے میں بہت دور تک نکل جاتا ہے۔

اگر کوئی عقید ہ سماج میں انتشار پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہو تو اس کے لیے نفسیات کا علم مختلف حل دے گا۔ علم نفسیات کبھی بھی آپ کو کسی کے عقیدے پر مشتعل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ اس کے لیے وہ ادارہ سازی پر زور دے گا۔ عام آدمی جب اپنے نظریے کو صحیح سمجھتے ہوئے دوسرے کے نظریے کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے تو وہ کسی طور دوسرے کی عمر کے ساتھ منسلک ذہنی حدود ‘ ماحولیاتی مجبوریوں اور پرورش کے دوران ثقافتی جبر کو بروئے خاطر نہیں لاتا۔

گو کہ اس موضوع پر کافی عرصہ پہلے ایک مضمون لکھا جا چکا ہے لیکن موضوع کی مناسبت پھر ایسی نکل آئی ہے کہ باتیں دہرانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ہمیں بی ایف سکنر، پائیوو اور البرٹ بیندورا کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے ہمیں انسان کے سیکھنے کی میکانیت سے روشناس کروایا۔ ہمیں نیورو بائیولوجی اور نیورو سائیکالوجی کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے ہمیں انسان کی طبعی ذہنی حدود سے روشناس کرایا۔ ہمیں انسان کی بڑھوتری میں پیش آنے والے مسائل کے حوالے سے اور محبت کی اہمیت سے روشناس کروانے کے حوالے سے ہیری ہیرلو اور جان بولبی کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔

بارہ سال کی عمر تک آپ جو بچے کو سکھاتے ہیں بہت اہم ہوتا ہے۔ یہ وہ دور ہوتا ہے جب دماغ آپ کی بقا کے لیے ضروری ڈیٹا اکھٹا کر رہا ہوتا ہے۔ اس انتہائی حساس دور میں جہاں سانپ کے حوالے سے خوف پر مبنی ایک سکیما بنتا ہے وہاں وہ تمام خیالات جو غیر مرئی اور مافوق الفطرت کے حوالے سے ٹھونسے جاتے ہیں وہ بھی اپنی جگہ مضبوط بنا دیتے ہیں۔ گویا یہ ان خیالات کا حصہ بن جاتے ہیں جو بقا کے معاملات سے جڑے ہیں۔ نیورانز کے مابین سیکڑوں رابطہ کار راستے (Synapses)ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر رابطہ متحرک رہے۔ متحرک رابطے اس بات پر انحصار کرتے ہیں کہ آپ بچے کے دماغ میں کیا ٹھونس رہے ہیں اور ٹھونستے ہوئے کتنا دباؤ ڈال رہے ہیں اور اس عمل کو کتنی دفعہ دہرا رہے۔ کم از کم اس پیراگراف میں ہم اس نتیجے پر اتفاق کر تے ہیں کہ غیر مرئی خوف وغیرہ چاہے وہ مذہب کا ہو یا ثقافتی خرافات ہوں بچے کے دماغ میں ایک ایسی جگہ قیام کر لیتے ہیں جو انسان کی بقا کے حوالے سے انتہائی حساس ہیں۔

ہم تکنیکی اصطلاحات کو کم سے کم استعمال کرتے ہوئے آسان زبان میں بات کرتے ہیں۔ بقا کی میکانیت بہت دلچسپ اور کمال ہے۔ آپ کا اعصابی نظام موقع مناسبت کے حساب سے جسم پر دو طرح سے اثر انداز ہوتا ہے۔ فائٹ اینڈ فلائٹ یعنی لڑو یا بھاگ جاؤ۔ اور ریسٹ اینڈ ڈائجسٹ یعنی آرام کرو اور ہضم کرو۔

ہم فرض کرتے ہیں کہ ہم ریسٹ اینڈ ڈائجسٹ کی حالت میں ہیں۔ راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔ معدے کو خون رواں ہے۔ بلڈ پریشر نارمل ہے۔ دل کی دھڑکن پر سکون ہے۔ اچانک ہماری نگاہ ایک سانپ پر پڑتی ہے۔ سانپ کی تصویر کا بالائی اعلیٰ دماغ تک پہنچے کا ایک طویل دلچسپ راستہ ہے لیکن اس کو منہا کرتے ہوئے سانپ پر دماغ کے ردعمل کی بات کرتے ہیں۔ ریسٹ اینڈ ڈائجسٹ سے سوئچ کرنا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ آپ کو لڑنا ہے یا بھاگنا ہے اور یہ کام فوری کرنے ہیں۔ لیکن اگر یہ کام آپ فوری کریں گے تو آپ کو دل کا دورہ پڑ سکتا ہے اور ہزار پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس لیے اس سے پہلے کہ آپ لڑیں یا بھاگیں چند ثانیوں میں دماغ آپ کا بلڈ پریشر بڑھا دیتا ہے۔ معدے اور دوسری جگہوں کو خون کی رسد وقتی طور پر روک لیتا ہے، دل کی دھڑکن کو سو سے تجاوز کر دیتا ہے۔ پسینے کے مسام کھول دیتا ہے۔ آپ کے جسم کا درجہ حرارت بڑھا دیتا ہے اور اگر فوری درجہ حرارت نہ بڑھ رہا ہو تو کپکپکی اور تھرتھراہٹ جاری کر دیتا ہے جسے ہم خوف سے کپکپانا کہتے ہیں، اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ آپ کے پٹھوں میں حرکت سے حرارت پیدا ہو۔ آپ کی یاداشت کو وقتی طور پر ماؤف کیا جاتا ہے تاکہ اس بقا کی جنگ میں آپ کو پیچیدہ فلسفیانہ گھتی نہ سلجھانے بیٹھ جائیں۔ اس کی انتہائی شکل یہ ہے کہ اس صورت حال میں آپ کو اپنا نام یاد نہیں رہتا۔ چلیے اب آپ بھاگنے یا لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ دماغ نے آپ کے جسم کو چند ثانیوں میں اس قابل بنا دیا ہے کہ آپ کسی قسم کی فور ی مشقت کر سکتے ہیں۔

یہ تو تھا سانپ اور اس سے نتھی خوف کا خیال جو بچپن میں مختلف روایات کہانیوں کی شکل میں آپ کے دماغ میں ڈالا گیا تھا۔ زندگی میں جب بھی آپ کو سانپ نظر آئے گا آپ کا دماغ خود کار طریقے سے یہی ردعمل دے گا۔ کیا ہم اس ردعمل سے جان چھڑا سکتے ہیں؟ اس کے جواب سے پہلے ایک اور اہم بات بھی دیکھ لیں۔ یہ اتنی اہم ہے کہ پورے مضمون کا مقصد ہے۔

بچپن میں مذہب کا خوف بھی اپنے لیے دماغ میں راستے (سنیپسز) مختص کر لیتا ہے۔ جب آپ کسی کے عقیدے کو چھیڑتے ہیں۔ اس کے ان بنیادی خیالات کو چھیڑتے ہیں جو مبنی بر خوف بچپن میں ٹھونسے گئے تھے تو دماغ کا ردعمل وہی ہوتا ہے جو سانپ کے دیکھنے پر ہوا تھا۔ شدت میں فرق ہو سکتا ہے لیکن دماغ بطور ایک حیاتیاتی آلہ سانپ اور کسی پختہ مذہبی خیال کے برخلاف چلنے سے مہلک خطرے میں پڑ جاںے میں کوئی فرق نہیں دیکھتا ہے۔ ان دونوں میں اسے ایک ہی قدر مشترک نظر آتی ہے کہ بقا خطرے میں ہے۔ تو جب بھی آپ کسی کے بنیادی نظریے یا عقیدے کو چھیڑیں گے جس کا تعلق اس کے بچپن سے ہے تو اس کے اندر فوری فائٹ اینڈ فلائٹ ردعمل پیدا ہوگا۔ آپ نے اوپر فائٹ اینڈ فلائٹ ردعمل کی علامتیں نوٹ کی۔ ان میں ایک اہم علامت کارٹیکس کا متاثر ہونا بھی ہے۔ وقتی یادداشت اور عقل کو ماؤف کرنا دراصل دماغ کی یہ کوشش ہے کہ ایک نکتے پر ارتکاز ہو۔ اور وہ نکتہ اپنے آپ کو بچانا اپنی زندگی کو بچانا ہے۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ جب آپ کسی کے مقدس بنیادی نظریات کو چھیڑ دیں تو مخاطب کے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ پسینے پھوٹ پڑتے ہیں۔ کپکپاہٹ طاری ہو جاتی ہے۔ یاداشت اور عقل وقتی طور پر کم ترین سطح پر چلی جاتی ہے۔ دلیل ہے نہیں۔ دماغ معاملے کو زندگی کے خطرے کے طور پر لے رہا ہے تو ایک وقت آتا ہے جب مخاطب ہاتھ چلائے گا یا گالیاں نکالے گا۔ کیا آپ کو ذرا سا بھی ترس نہیں آتا۔ کیا آپ کو اپنا نظریہ اتنا عزیز ہے کہ آپ ایک معذور آدمی پہ زبردستی تھوپنا چاہتے ہیں۔ جی ہاں معذور۔ وہ مکمل طور پر معذور ہے۔ یہاں علم نفسیات اس کو رحم کی حالت میں دیکھے گا۔ عام آدمی اس کو اپنی بقا کی جنگ کے طور لے گا۔ جنگ کا نتیجہ آپ سمجھ سکتے ہیں۔

اب کیسی مضحکہ خیز صورتحال ہے کہ ایک طرف تو آپ کسی کے اندر اپنا نظریہ ٹھونسنا چاہتے ہیں لیکن کیفیت ایسی پیدا کر دیتے ہیں کہ فائٹ اینڈ فلائٹ ریسپانس پیدا ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں کہ جب یاداشت اور عقل کا معاملہ شدید متاثر ہے آپ کیسے کوئی دلیل یا عقل کی بات دوسرے کے دماغ میں ٹھونس سکتے ہیں۔

ایک بہتر مثبت نتیجے کے لیے مجھے فکری اور نظریاتی حوالے سے بد دیانت ہونا پڑے گا۔

لیکن آخر پر وہی سوال۔ کیا ہم سانپ کے خوف سے باہر نکل سکتے ہیں یا کسی کو نکال سکتے ہیں اور دماغ کے سانپ کو دیکھنے کے بعد فائٹ اینڈ فلائٹ ریسپانس سے جان چھڑا سکتے ہیں؟

یہاں پھر محبت اس معاملے کو حل کرتی ہے۔ کلاسیکل کنڈیشنگ کام آتی ہے۔ لیکن یہ سب کچھ کسی طور آسان نہیں ہے۔ بہت وقت طلب اور صبر آزما کام ہے۔ اس حوالے سے ایک مضمون کچھ عرصہ قبل لکھا تھا اس کو دوبارہ نقل کردیتا ہوں۔

دماغ خوف کو بطور ایک پروڈکٹ کیسے لیتا ہے؟ دماغ اور جسم میں کیا تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں؟


دوسرا حصہ


Comments

FB Login Required - comments

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 77 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *