مسلمانو ! آپ کا شکریہ


\"mujahidامریکی صدر باراک اوباما کل رات جب بالٹی مور کی ایک مسجد میں مسلمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بات کا آغاز کر رہے تھے تو وہ امریکہ کے علاوہ پوری دنیا کو یہ پیغام دے رہے تھے کہ کوئی ملک اس وقت تک ترقی کا خواب نہیں دیکھ سکتا جب تک وہ اپنی سب اقلیتوں اور ہر قسم کا عقیدہ رکھنے والوں کا احترام نہ کرے اور انہیں تحفظ فراہم نہ کرے۔ اپنے دور صدارت میں صدر باراک اوباما نے کل رات پہلی بار کسی مسجد کا دورہ کیا تھا۔ اس رویہ پر مسلمان لیڈروں کی طرف سے تشویش کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے کیونکہ 2001 میں 9/11 کے دہشت گرد حملوں کے بعد سابق صدر بش نے مسلمان ملکوں میں جنگجوئی کی جو پالیسی اختیار کی تھی، اوباما نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اسے تبدیل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ 2008 میں صدر بننے کے بعد انہوں نے اسلامی دنیا کے ساتھ تعلقات استوار کرنے اور پل تعمیر کرنے کی بات کی تھی۔ قاہرہ سے دنیا کے مسلمانوں سے خطاب ان کی اسی حکمت عملی کی کڑی تھی۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ میں صدر کے عہدے پر فائز کوئی بھی شخص عام طور سے مذہبی عبادت گاہوں کا دورہ نہیں کرتا۔ صدر باراک اوباما نے گزشتہ برس ہی ایک یہودی سینا گوگ کا دورہ کیا تھا۔
اگرچہ دنیا کے اہم ترین ملک کے صدر کی طرف سے ایک مسجد کے دورہ کی علامتی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے لیکن باراک اوباما نے اس موقع پر عقیدہ اور ریاست اور سیاستدانوں اور شہریوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے جو اصول واضح کئے ہیں، ان پر عملدرآمد یورپ اور امریکہ میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف پھیلنے والی نفرت کے ماحول میں بے حد ضروری ہے۔ اسی صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے صدر باراک اوباما نے اس موقع پر مسلمانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ میں آج اپنی تقریر کا آغاز ایسے دو لفظوں سے کرنا چاہتا ہوں جو آپ عام طور سے نہیں سنتے۔ میں آپ کو تھینک یو (آپ کا شکریہ) کہنا چاہتا ہوں۔ آپ کا شکریہ کہ اپنی کمیونٹی ، ہمسایوں اور اس ملک کی تعمیر کے لئے خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان امریکی خاندان کا حصہ ہیں۔ اگر انہیں تکلیف پہنچے گی تو پورا معاشرہ اس کی دکھن محسوس کرے گا۔ انہوں نے اس رویہ کو مسترد کیا کہ مسلمانوں کو عقیدہ یا حب الوطنی میں سے ایک چیز کا انتخاب کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو امریکہ یا ملسمان میں سے ایک چیز چننے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ مسلمان ہیں اور امریکن بھی ہیں۔ ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ اس موقع پر انہوں نے امریکہ کے لئے مسلمانوں کی خدمات کا ذکر کیا اور واضح کیا کہ مسلمان بھی اتنے ہی حب الوطن ہیں جتنا کسی دوسرے عقیدے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہو سکتے ہیں۔
صدر باراک اوباما نے واضح کیا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے والوں کے لئے امریکہ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لئے بغیر انہوں نے کہا کہ مسلمان امریکہ کی قابل احترام اور حب الوطن اقلیت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے بارے میں غلط تاثرات پیدا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اکثر امریکن براہ راست کسی مسلمان کو نہیں جانتے۔ اس لئے جب کسی دہشت گرد حملہ کے بعد منفی رپورٹنگ کی جاتی ہے ، یا ٹیلی ویڑن پر پروگرام دکھائے جاتے ہیں یا فلموں میں ان کا مسخ شد کردار سامنے آتا ہے تو عام لوگ ان کی بنیاد پر مسلمانوں کے بارے میں منفی رائے قائم کر لیتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ فلموں اور ڈراموں میں مسلمانوں کے مثبت کرداروں کو متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔ صدر اوباما نے اس سے پہلے گزشتہ ماہ اسٹیٹ آف یونین خطاب میں بھی مسلمان دشمنی پر مبنی رویہ کو مسترد کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ : ”جب سیاست دان مسلمانوں کی توہین کرتے ہیں، جب مساجد پر حملے ہوتے ہیں یا کسی مسلمان بچے کو اسکول میں برے الفاظ سے پکارا جاتا ہے تو یہ طرز عمل ہمارے معاشرے کو محفوظ بنانے میں کوئی کردار ادا نہیں کرتا۔ یہ غلط رویہ ہے۔ یہ دنیا کی نظروں میں ہمارے وقار میں کمی کا سبب بنتا ہے۔ ہم ایک ملک کے طور پر اپنے مقام سے گرنے لگتے ہیں۔“
کل رات بالٹی مور مسجد میں دورہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر باراک اوباما نے بین العقیدہ تعلقات کے حوالے سے بعض بنیادی باتیں واضح کی ہیں۔ انہوں نے قرار دیا کہ:
1۔ ایک مذہب یا عقیدہ پر حملہ کا مطلب ہے کہ سب عقائد اور اس کے ماننے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
2۔ لوگوں کو اور خاص طور سے سیاستدانوں کو صرف پروپیگنڈا کی بنیاد پر رائے قائم کرنے اور اس کا پرچار کرنے کی بجائے اسلام اور مسلمانوں کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اس طرح غلط فہمیوں اور گمراہ کن رائے کا تدارک ہو سکے گا۔
3۔ کسی ملک کا شہری ہونا یا کسی عقیدہ پر قائم رہنا ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ کوئی بھی شخص مسلمان اور امریکن ہو سکتا ہے۔ ان میں تضاد تلاش کرنے والے مسلمانوں یا امریکہ کے دوست نہیں ہو سکتے۔
4۔ اسلام کو دہشت گردی کا سبب قرار دینا غلط ہے۔ یہ رائے قائم کرنے کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم دولت اسلامیہ IS جیسے دہشت گرد گروہوں کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں۔ یہ گروہ اسلام کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہوئے اس کی بگڑی ہوئی شکل سامنے لاتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ اسلام کی اس تشریح کو قبول کرتے ہوئے ہم ان لوگوں کو تسلیم کر لیں۔ ایسا طرز عمل اختیار کر کے دراصل ہم دہشت گردوں کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس جائیں گے۔
5۔ امریکہ کی اسلام سے کوئی جنگ نہیں ہے۔ لیکن مسلمانوں کا بھی فرض ہے کہ وہ دنیا بھر میں آزادءمذہب اور وسیع المشربی کے لئے کام کریں۔ انہیں انتہا پسندی کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہئے۔ یورپ میں مسلمانوں کی طرف سے یہودیوں پر حملے ناقابل قبول ہیں۔ اسی طرح اسلامی ملکوں کو بھی سب عقائد کے احترام اور تحفظ کے لئے اقدام کرنا چاہئے۔
امریکی صدر کی یہ باتیں سادہ اور عام فہم ہیں۔ اس وقت یورپ اور امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب کی جو فضا پیدا کی جا رہی ہے، اس میں ایک اہم عالمی لیڈر کی طرف سے دہشت گردی اور عقیدہ کو علیحدہ رکھتے ہوئے مسلمانوں کی قدر و منزلت کی بات کرنے سے مسلمان اقلیت کی حوصلہ افزائی ہو گی اور ان کی صفوں میں انتشار پیدا کرنے والے اور نوجوانوں کو انتہا پسندی کی طرف مائل کرنے والے عناصر پسپا ہوں گے۔ یورپی لیڈروں کو بھی امریکی صدر کی باتوں سے سبق سیکھتے ہوئے اپنے ملکوں میں پناہ گزینوں کے مباحث کو مشکل اور مسلمان دشمن نعرہ بنانے کی بجائے افہام و تفہیم اور احترام کی فضا قائم کرنے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ کے مقابلے میں یورپ میں شام سے آنے والے پناہ گزینوں کی بڑی تعداد پہنچی ہے جس کی وجہ سے تمام یورپی حکومتیں وسائل کی قلت اور قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ اس صورتحال سے پیدا ہونے والے مباحث میں اسلام اور مسلمانوں کو براہ راست سے دہشت گردی کا سبب قرار دینے کا مقبول نعرہ عام ہو رہا ہے۔ بہت سے پاپولسٹ سیاسی لیڈر بھی اس صورتحال کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کرتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کو براہ راست یا بلاواسطہ مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ سویڈن سے لے کر جرمنی اور فرانس تک پناہ گزینوں کے مراکز پر حملے کئے جا رہے ہیں اور انتہا پسند نوجوانوں کے گروہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے لگے ہیں۔ اس طرح صرف پناہ گزینوں کے لئے ہی مشکلات پیدا نہیں ہوئیں بلکہ براعظم یورپ میں کئی دہائیوں سے آباد مسلمان آبادیاں بھی عدم تحفظ کا شکار ہو رہی ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں ان حالات میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب میں اضافہ کے بارے میں متنبہ کرتی رہی ہیں۔ کونسل آف امریکن اسلامک ریلیشنز کے ترجمان ابراہیم ہوپر نے بتایا ہے کہ نومبر میں پیرس اور دسمبر میں سان برنارڈینو حملہ کے بعد نفرت کی جو لہر ابھری ہے اس نے امریکی مسلمانوں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے لیڈر اس فضا سے فائدہ اٹھا کر صورتحال کو خراب کر رہے ہیں۔ یہ حالات صرف امریکہ تک محدود نہیں ہیں۔ یورپ کے بیشتر ملکوں میں آباد مسلمان بھی ان حالات میں سہمے ہوئے ہیں۔ یہ نفرت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا خوف، ایک ہی معاشرے میں آباد لوگوں کے درمیان فاصلہ اور دوری پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ جس کے بطن سے تصادم اور انتشار پیدا ہونا لازمی ہے۔ اس خطرہ سے بچنے کے لئے سیاسی لیڈروں ، سماجی کارکنوں اور مسلمان نمائندوں کو یکساں طور سے ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے منفی الزام تراشی کو ترک کرنے کی ضرورت ہے تا کہ مواصلت بہتر ہو سکے اور احترام اور مقبولیت کا چلن فروغ پائے۔
دوسری طرف دنیا اب اس قدر محدود ہو چکی ہے کہ ایک جگہ رونما ہونے والے واقعہ کو دور دراز علاقوں میں بھی محسوس کیا جاتا ہے اور اس کے بارے میں ردعمل سامنے آتا ہے۔ جس طرح امریکہ یا یورپ میں مسلمانوں کے ساتھ برتے جانے والے تعصب اور منفی سلوک کے بارے میں پاکستان اور دوسرے مسلمان ملکوں میں رنج اور غصہ پیدا ہوتا ہے، اسی طرح جب پاکستان میں اقلیتی گروہوں کو ظلم و زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے یا انہیں انصاف فراہم نہیں ہوتا اور یہ سلوگن عام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اقلیتوں کو اکثریتی عقیدہ کے اصولوں کو مانتے ہوئے زندگی بسر کرنا ہو گی، تو اس سے مسلمان ملکوں کے بارے میں منفی رویہ استوار ہونے میں مدد ملتی ہے۔ اس کا براہ راست نشانہ ان مسلمانوں کو بننا پڑتا ہے جو ان ملکوں میں آباد ہیں۔ ان سماجی رویوں کے علاوہ مذہبی انتہا پسندی کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ بیانات یا دہشت گردی کے واقعات کی حجت اور دلیل لانے کا رجحان بھی عالمی مصالحانہ ماحول کے لئے نقصان دہ اور مہلک ہے۔
آج امریکہ اور دنیا کے مسلمان صدر باراک اوباما کی باتیں سن کر راحت محسوس کر رہے ہیں۔ لیکن پاکستان جیسے ملک میں اقلیتوں کے حقوق کے لئے کھڑے ہونے والے سیاستدان ناپید ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے چند ماہ قبل ہندو?ں کی ایک تقریب میں شریک ہو کر ان کے حقوق کے تحفظ اور لبرل پاکستان کی بات کی تھی۔ لیکن ملک کے انتہا پسند مذہبی ٹولے کی طرف سے انہیں اب تک تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس مخصوص مگر قلیل گروہ کی بلیک میلنگ کا ہی نتیجہ ہے کہ سیاسی لیڈر اس قسم کا واضح موقف اختیار کرنے سے بچتے ہیں۔ اسلام کو فساد ، نفرت ، انتقام اور ظلم و جبر کا عقیدہ ثابت کرنے کی براہ راست یا بالواسطہ کوشش کرنے والے عناصر کو مسترد کیا جائے۔ یہ کام محض چند روشن خیال تحریروں یا سول حقوق کی جدوجہد کرنے والے کارکن نہیں کر سکتے۔ اس مقصد کے لئے ملک کے تمام سیاسی لیڈروں اور مذہبی گروہوں کو بیک زبان کام کرنا ہو گا۔ تب ہی امریکہ میں بیٹھا ہوا کوئی عیسائی یا یہودی یہ تسلیم کرے گا کہ مسلمان بھی دوسرے عقائد کو وہی مساوی حقوق دیتے ہیں جن کا تقاضہ بطور اقلیت وہ ان کے ملک میں رہتے ہوئےکرتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 622 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali