توقیر عباس کی دو نظمیں


\"\"پہلی نظم

(کہانی)

جنم جنم کے سناٹوں کی
لا کھ الوہی صبحوں سے تہذیب ہوئی
قربتیں جاگی
ہر شے محرم حال ہوئی
دل دل محفلیں مہکیں پھول کھلے
وقت کی رو سے ابھری
چک چک کرتی گردش اُبھری
جس کی اُڑتی گرد نے سب کچھ بدل دیا
ٹھاؤں گراؤں کے سلسلے پھیلے
کر کر کرتے ماضی ہوتے
پل پل آسمان کو چھوتی ہیکل
اینٹیں گارا پتھر
بھاری بھر کم ایواں
چاند کا پیکر چھونے والے
آنکھ میں خواب سجا کر
ان دیکھی دنیا کی تسخیر کو نکلے
آس پاس میں شور بڑھا کر
راہوں کو تاراج کیا
جن پر چلتے چلتے
تنہائی دِل کو چھولے
چہرہ چہرہ ایک نراسا
نرمل جذبے
ایک سیاہی آنکھوں آنکھوں
خود سے اجنبی گم صم
حیراں سایا
آتے دنوں کے اندیشے
آنکھوں میں ویرانی
حد نظر تک ایک ہجوم
دور دور تک تنہائی

دوسری نظم

(مسافت)

آخری بار نظر جب گھر پر ڈالی
تو ہر چیز آگے بڑھ کر
میرے گلے سے لگ کر رونے لگی تھی
میرا بچپن
میری آنکھ میں تیر کے ہچکیاں لینے لگا تھا
میں خاموشی سے
ان جانے سفر کو ذہن میں رکھ کر
پتھرائی آنکھوں سے
سب کچھ دیکھ رہا تھا
سارا منظر
آنکھ کے رستے من میں اُتر کر
مجھ کو روک رہا تھا، توڑ رہا تھا
لیکن ایک ان مول الوہی مسافت
مجھ کو ریزہ ریزہ جوڑ رہی تھی

 

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں