طالبان کے سفیر عبدالسلام ضعیف اپنی گرفتاری کی روداد بیان کرتے ہیں


\"\"

کیا عبدالسلام ضعیف اپنی گرفتاری کے وقت افغانستان کے سفیر کا عہدہ رکھتے تھے؟ کیا وہ پاکستان کی ریاست کے لئے خطرہ تھے؟ کیا وہ پاکستانی حکام اور فوجیوں کو قتل کرنے کا اعلان کرنے کے مرتکب ہوئے تھے؟ جانیے ملا عبدالسلام ضعیف کی کتاب، ’طالبان کے ساتھ میری زندگی‘ (My Life with the Taliban) سے۔ تلخیص و ترجمہ شدہ باب جو کہ 20 نومبر 2001 سے شروع ہوتا ہے جب کہ کابل اور دوسرے بڑے شہر طالبان کے ہاتھ سے نکل چکے تھے اور قندھار کی طرف امریکی پیش قدمی جاری تھی۔

میں 20 نومبر 2001 کو (قندھار سے) اسلام آباد واپس آیا تو مجھے پاکستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے ایک باقاعدہ خط دیا گیا۔ انہوں نے لکھا کہ ’وہ امارات اسلامیہ افغانستان کو اب تسلیم نہیں کرتے ہیں‘ مگر اس کے سفیر، یعنی مجھے ’پاکستان میں رہنے کی اجازت ہے جب تک کہ افغانستان میں ایمرجنسی کی صورت حال ختم نہیں ہو جاتی ہے‘۔ مجھے یاد ہے کہ انہوں نے فقرہ استعمال کیا تھا ’ایک معقول وقت تک‘۔ مجھے پاکستانی حکومت کی طرف سے سختی سے حکم دیا گیا کہ میڈیا سے بات نہ کروں۔ انٹیلی جنس والے ہر جگہ میرا سایہ بن کر ساتھ رہنے لگے۔ ایک موٹربائیک اور لینڈ کروزر ہر وقت میرے گھر کے سامنے کھڑے رہتے تھے اور جب میں باہر جاتا تو میرا تعاقب کرتے تھے۔ لیکن پھر بھی بہت سے لوگ مجھے ملنے آئے۔

میں پریشان تھا۔ میں نے سیاسی پناہ کے حصول کے لئے چار ممالک، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور پاکستان کے سفارت خانوں کو درخواست بھیجی لیکن کسی نے بھی مجھے جواب نہ دیا۔ میں نے برطانوی اور فرانسیسی سفیر سے بھی رابطہ کیا مگر انہوں نے بھی جواب دینے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین میں بھی خود کو رجسٹر کرانے گیا۔ انہوں نے مجھے کچھ کاغذات دیے جو کہ ایک مہینے تک کارآمد تھے اور مجھے کوئی بھِی مشکل پیش آنے کی صورت میں مدد کی یقین دہانی کرائی۔ ’ہم سب‘۔ اس صلاح کے باوجود، مجھے بخوبی علم تھا کہ مجھے گرفتاری سے کہیں بڑے خطرے کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ پاکستان کے لئے مجھے قتل کر کے کسی دوسرے پر الزام دھر دینا مجھے کسی کے سپرد کرنے سے زیادہ آسان ہو گا۔

یہ پاکستان میں روزمرہ کا معاملہ ہے، اور مجھے اس میں شبہ تھا کہ حکام مجھے ایک ہڈی کی طرح امریکیوں کی طرف اچھال دیں گے۔ میں کہیں اور بھی جا سکتا تھا مگر میری پاکستان میں موجودگی شمالی اتحاد کی جانب سے شمال میں قیدی بنائے جانے والے طالبان کے لئے مذاکرات کرنے کے لئے ضروری تھی۔

جب سے میں نے بین الاقوامی میڈیا اور پاکستان کے سامنے سات سو علما کے فتوے کا اعلان کیا تھا، میں مشرف کے پہلو میں ایک کانٹے کی طرح چبھنے لگا تھا۔ فتوے کا کچھ حصہ یہ تھا: ’جو بھی امریکیوں کی افغانستان پر حملے میں مدد کرتا ہے، یا مسلمانوں کے خلاف جنگ کرتا ہے، یا کسی بھی دوسری طرح مدد کرتا ہے، ایک گناہ کا ارتکاب کر رہا ہے۔ وہ مبوح الدم قرار پاتا ہے، یعنی ایسے شخص کو قتل کرنا غلط نہیں ہو گا‘۔

پریس کانفرنس میں ایک پاکستانی صحافی نے مجھ سے سوال کیا: ’پرویز مشرف پاکستان میں اہم ترین شخص ہیں اور انہوں نے امریکہ کو فوجی اڈے دیے ہیں اور خفیہ اداروں کو حکم دیا ہے کہ امریکیوں کی معلومات فراہم کر کے مدد کریں۔ کیا وہ اس شق کی زد میں آتے ہیں؟‘

’یہ عمومی فتوی ہے۔ یہ کسی خاص شخص کو نشانہ نہیں بناتا ہے اور نہ ہی کسی کو مستثنی قرار دیتا ہے‘۔ میں نے جواب دیا۔ میں نے مزید کہا کہ ’آپ شریعت کو کسی خاص شخص کی خواہشات کے مطابق تبدیل نہیں کر سکتے ہیں۔ لوگوں کو فتوے کے مطابق تبدیل ہونا چاہیے، اس کے الٹ نہیں ہونا چاہیے‘۔

مجھے احساس ہوا کہ اس اعلان کے بعد ہر گذرتا دن میرے لئے پرخطر ہوتا جا رہا ہے۔ (اس وقت تک قندھار پر امریکی قبضہ ہو چکا تھا اور طالبان قیادت نے راہ فرار اختیار کر لی تھی)۔

مجھے ہر لحظے اپنی گرفتاری کا خدشہ تھا لیکن میں جا نہیں سکتا تھا۔ اسی اثنا میں میں پاکستانی وازرت خارجہ سے اپنی سیاسی پناہ کی درخواست پر پیش رفت کے بارے جاننے کے لئے رابطہ کرتا رہا۔ ’ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔ پریشان مت ہوں۔ آپ کو کوئی پریشان نہیں کرے گا‘، وہ مجھے بتاتے تھے۔ شاید وہ پہلے ہی سے امریکیوں سے میری قیمت طے کرنے میں مصروف تھے۔

یہ نئے سال کا دوسرا دن تھا۔ پاکستان نے ابھی 2002 کی آمد کا جشن منایا تھا اور میں گھر میں اپنے خاندان کے ساتھ موجود تھا۔ اچانک میرا محافظ نمودار ہوا اور اس نے مجھے بتایا کہ پاکستانی افسران دروازے پر موجود ہیں اور مجھے ملنے کے خواہاں ہیں۔ یہ رات کے آٹھ بجے کا وقت تھا جو کہ میرے گھر پر میٹنگ کے لئے ایک غیر معمولی وقت تھا۔ میں چھوٹے مہمان خانے کی طرف گیا۔ کمرے میں تین افراد موجود تھے۔ انہوں نے خود کو متعارف کروایا۔ ایک گلزار نامی پشتون تھا جبکہ دوسرے دو اردو بول رہے تھے۔ تہنیتی کلمات کے تبادلے کے بعد ہم اکٹھے بیٹھ گئے اور میں نے ان کے اتنے رات گئے آنے کا مقصد بیان کرنے کا انتظار کرتے ہوئے انہیں چائے پیش کی۔ پشتون غصے میں لگ رہا تھا، اس کا چہرہ سیاہ اور ڈراؤنا تھا، اس کے لب سوجے ہوئے تھے، اور اس کی ناک اور پیٹ بڑا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے کہ اسے جہنم سے کھینچ کر لایا گیا ہو۔ اس نے میری یا میرے گھر کی عزت کا رتی برابر بھی خیال نہیں کیا اور گستاخی سے پیش آیا۔

اس نے کہا ’عزت مآب، اب آپ عزت مآب نہیں رہے۔ امریکہ ایک سپر پاور ہے، کیا آپ کو اس کا علم تھا؟ اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا ہے، نہ ہی اس سے مذاکرات کر سکتا ہے۔ امریکہ آپ سے سوالات پوچھنا چاہتا ہے اور ہم آپ کو اسے کے حوالے کرنے آئے ہیں‘۔

پاکستان خود کو کسی نقصان سے بچانا چاہتا تھا۔ میں نے جواب دیا کہ میں جانتا ہوں کہ امریکہ ایک سپر پاور ہے، دنیا کی واحد سپر پاور، لیکن دنیا کے بھی کچھ قواعد و ضوابط ہیں۔

میں نے کہا کہ ’ان قوانین کے تحت، خواہ وہ اسلامی ہوں یا نہ، آپ مجھے کیسے امریکہ کو دے سکتے ہیں؟ میں نے کسی ایسے آئین کے بارے میں نہیں سنا جو کہ آپ کو ایسا کرنے کا حق دیتا ہو۔ آپ مجھے اپنا ملک چھوڑنے کا حکم دے سکتے ہیں لیکن مجھے گرفتار نہیں کر سکتے ہیں‘۔

جہنم سے آنے والے شخص نے اچانک کہا ’نہ ہی اسلام اور نہ ہی کوئی دوسرا اصول یا قانون موجودہ صورت حال کے بارے میں بتاتا ہے۔ اس وقت صرف ہمارا مفاد اور پاکستان ہمارے لئے اہمیت رکھتے ہیں‘۔ اس وقت مجھے سمجھ آ گئی کہ گفتگو نے خرابی کا رخ اختیار کر لیا ہے۔ ’ہم سب‘۔ میں نے خود کو ٹھنڈا کیا اور انہیں کہا کہ وہ جو چاہے وہ کر سکتے ہیں۔ ’میں تمہارے رحم و کرم پر ہوں۔ میرے پاس یہاں کوئی پناہ نہیں ہے۔ روز قیامت خدا ہی فیصلہ کرے گا‘۔

انہوں نے مجھے آدھی رات تک گھر میں رہنے کا حکم دیا اور کہا کہ اس کے بعد مجھے پشاور منتقل کر دیا جائے گا۔ امریکی تحقیقات کر رہے ہیں جن کے بعد مجھے رہا کر دیا جائے گا اور میں گھر واپس لوٹ سکتا ہوں۔ اس وقت میرے پاس پاکستان کا دس ماہ کا ویزا تھا۔ میرے پاس ایک سرکاری خط تھا جو کہ پاکستانی حکومت اور وزارت خارجہ کو بھیجا گیا تھا جو کہ مجھے پاکستان میں امارت اسلامیہ افغانستان کے نمائندے کے طور پر شناخت دیتا تھا، جب تک کہ افغانستان کی مشکل صورت حال کا مسئلہ حل نہ ہو جائے۔

میری تمام دستاویزات کے باوجود، بین الاقوامی قانون کے تحت مجھے حاصل تحفظ کے باوجود، حتی کہ اقوام متحدہ کے خط کے باوجود جس میں لکھا تھا کہ ’حامل رقعہ ہذا کو اس کی نمائندگی کے رتبے کی وجہ سے کوئی نقصان نہیں پہنچایا جانا چاہیے‘، تین گاڑیاں آدھی رات کو میرے دروازے پر آن کھڑی ہوئیں۔ تمام سڑکیں بند کر دی گئی تھیں اور وہاں محافظ تعینات کر دیے گئے تھے۔ حتی کہ وہاں موجود صحافیوں کو بھی رسائی دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ مجھے ان سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی کہ لوگوں کو بتا سکوں کہ کیا ہو چکا ہے۔ انہوں نے مجھے گھر چھوڑنے کا حکم دے دیا۔ جب میں باغیچے سے نکل کر گلی تک جا رہا تھا تو میرے بچے رونے لگے۔

جب میں رات کی تاریکی میں گلی میں چل رہا تھا تو مجھے احساس ہوا کہ کوئی نہیں تھا جو کہ مجھے بچا سکتا۔ کوئی نہیں تھا جو کہ انہیں کچھ بھی کرنے سے روک پاتا۔

مجھے ان کی گاڑیوں میں سے ایک میں بٹھا دیا گیا۔ اس وقت بھی میں پاکستانی حکومت کا خود سے برتاؤ سمجھنے سے قاصر تھا۔ آخر میں ان کا ہم عقیدہ بھائی تھا، جس کا ان کے اس مذہبی جذبے پر کوئی اثر ہونا چاہیے تھا جس کے وہ پرچارک تھے۔

یہ میرے لئے ایک سخت احساس تھا، خاص طور پر اس وقت جب کہ مجھے لے جانے والے افراد قرآن پاک کا نام لینے کی جسارت کرتے تھے یا آپس میں تصور جہاد پر بات کرتے تھے۔ مجھے پچھلی سیٹ کے درمیان میں بٹھا دیا گیا۔ آئی ایس آئی کے افسر دکھائی دینے والے افراد میرے دائیں بائیں بیٹھ گئے۔ مجھے ان کے پاس ہتھیار دکھائی نہیں دیا لیکن ہماری گاڑی ایک تین کاروں کے قافلے کی شکل میں تھی تھے جو کہ پشاور کی طرف رواں تھا۔ دوسری گاڑیوں میں مسلح افراد موجود تھے۔ ڈرائیور نے کسی گلوکارہ کی ٹیپ لگا دی جو کہ سارا راستہ چلتی رہی۔ یہ بات واضح تھی کہ اس کا مقصد محض مجھے برانگیختہ کرنا تھا۔

پشاور کے راستے میں میں نے ان سے گاڑی روکنے کا کہا تاکہ میں فجر کی نماز ادا کر سکوں، مگر انہوں نے مجھے پشاور پہنچنے تک انتظار کرنے کا کہا۔ میں ان سے بار بار کہتا رہا مگر انہوں نے نماز کی پروا نہ کی اور میری درخواستوں کو نظرانداز کرتے رہے۔


طالبان کے سفیر عبدالسلام ضعیف اپنی گرفتاری کی روداد بیان کرتے ہیں 
گرفتاری کے وقت ملا عبدالسلام ضعیف سفیر نہیں تھے
جب ملا عبدالسلام ضعیف امریکیوں کو دیے گئے
 
image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 917 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar