پی آئی اے نجکاری: تین سلگتے سوالات کے جواب


zeeshan hashimتین فروری 2016 کو خاکسار کا کالم ’پی آئی اے …. معیشت پر سیاست نہ چمکائی جائے‘ شائع ہوا اور اس پر ملا جلا ردعمل موصول ہوا – اس دوران کچھ اہم سوالات بھی اٹھائے گئے۔ کسی بھی فکر کا ناقدانہ جائزہ لینا اور اس پر سوالات اٹھانا مکالمہ کی ثقافت کا لازمی جزو ہیں – اگر بحث تعمیری ہو اور باہم مل کر صحیح جواب کی جستجو کی جائے تو ہمیشہ نتائج خوشگوار ہوتے ہیں ، اس سے سماج کے علم میں اضافہ ہوتا ہے ، اور ترقی و خوشحالی کے امکانات پرورش پاتے ہیں –

کالم کے ردعمل میں جو سوالات اٹھائے گئے ، آئیے ان میں تین کا جائزہ لیتے ہیں –

نجکاری سے ورکرز بے روزگار ہو جائیں گے؟ : یقینا یہ ایک حساس مسئلہ ہے – مگر ہمارا اصل المیہ یہ بھی ہے کہ ہم ہمدردی کے جذبات میں حقائق سے نگاہیں چرا لیتے ہیں – ذرا غور کیجیے آج پی آئی اے کا کل قرض تین سو ارب روپے سے زائد ہے اور ہر سال کا خسارہ بیس سے تیس ارب روپے ہے – مگر پی آئی اے کے کل ملازمین کی تعداد بقول لیبر یونینز چودہ سے سولہ ہزار ہے – ادارہ تین سو ارب روپے کے قرضوں کی سالانہ اقساط اور ہر سال کے مالی خسارہ کو ادا کرنے میں ناکام ہے – باوجود اس کے کہ دنیا میں تیل کی قیمتیں انتہائی حد تک گر چکی ہیں، یوں ایک جہاز کی پرواز پر کل اخراجات میں بھی کمی آئی ہے مگر اس کے باوجود ادارہ نقصان میں ہے – اب صرف چودہ سے سولہ ہزار کے عملہ کے لئے آپ بیس سے پچیس ارب سالانہ کے سرکاری نقصان کا دفاع کیسے کر سکتے ہیں ؟
اس کے دوسرے پہلوو¿ں پر بھی غور کیا جا سکتا ہے – (الف) ملازمین حکومت سے مطالبہ کر سکتے ہیں کہ انہیں روزگار میں تحفظ دیا جائے تو وہ نجکاری کی مخالفت نہیں کریں گے –

(ب) جب کسی سرکاری ملازم کو نجکاری کے دوران ریٹائر کیا جاتا ہے تو اسے تمام سرکاری مراعات کے ساتھ ریٹائر کیا جاتا ہے – کیا یہ مراعات کم اہمیت کی حامل ہیں ؟

(ج) پہلا بات تو یہ کہ تمام عملہ کو فارغ نہیں کیا جائے گا ، اگر کچھ لوگوں کو فارغ کر بھی دیا جاتا ہے تو کیا وہ باقی شہریوں کی طرح مارکیٹ میں نیا روزگار نہیں تلاش کر سکتے ؟ کیا ان میں اہلیت کی کمی ہے یا انہیں اٹھا کر افریقہ کے کسی بے آباد جزیرے پر پھینکا جا رہا ہے جہاں وہ بھوکے پیاسے مریں گے جیسا کہ دعوی کیا جارہا ہے – اس وقت ان تمام لوگوں کا تناسب دیکھا جائے جو صاحب روزگار ہیں تو اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ تقریبا نوے فیصد سے زائد پاکستانی شہریوں کو پرائیویٹ سیکٹر روزگار دے رہا ہے – ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان میں کاروباری فضا اور کاروبار کے مواقع میں بہتری لائی جائے تب جا کر ہماری ساری افرادی قوت روزگار حاصل کر سکتی ہے – محض چودہ سے سولہ ہزار کے عملہ کے لئے بیس سے بچیس ارب کا خسارہ برداشت کرنے والی حکومتیں دیوالیہ ہو جاتی ہیں – ضرورت اس بات کی ہے کہ افرادی قوت کے لئے طویل مدتی منصوبہ بندی کی جائے –

پبلک سیکٹر اور عوامی خدمت کے درمیان تعلق ؟ آئیے اس کا بھی جائزہ لیتے ہیں – ایک کاروباری ادارے میں عوامی خدمت کے دو پہلو ہوتے ہیں ؛ سروس کوالٹی اور قیمتیں۔ پی آئی اے کے جہاز میں آپ کو کیسی سروس کوالٹی ملتی ہے اس کا جواب صرف وہ دے سکتے ہیں جنہوں نے اس میں سفر کیا ہو- خاکسار گزشہ پانچ سال سے ان گنت غیر ملکی سفر کر چکا ہے – پی آئی اے کا انتخاب صرف دو بار کیا ؛ ایک بار پورے تین دن لیٹ ہوا – پتا چلا کہ ملتان سے عرب امارات کی فلائٹ کینسل ہو گئی ہے یا آپ کل لاہور سے سفر کر لیں ورنہ تین دن انتظار کریں – دوسری مرتبہ صبح دس بجے کی فلائٹ رات گیارہ بجے جا اڑی ، اور جب خاکسار ملتان پہنچا تو اس کا دماغ بھی اڑ چکا تھا – جب کہ پی آئی اے کے مقابلہ میں پاکستانی نجی فضائی کمپنیاں جیسے شاہین ایئر لائن ، اور ایئر بلیو زیادہ بہتر سروسز دیتی ہیں – یاد رہے کہ جہاز کے اندر اور باہر بہتر خدمات کی فراہمی حکومت کا نہیں بلکہ ادارے کے اس عملہ کا کام ہے جو آج کل ہڑتال پر ہے ۔ جہاں تک قیمتوں کا سوال ہے، آپ پاکستان میں پی آئی اے اور نجی فضائی کمپنیوں کے کرایوں کی شماریات اٹھا لیں آپ کو پی آئی اے کے کرایے شاہین ایئر لائن اور ایئر بلیو کے مقابلہ میں زیادہ ملیں گے – آپ اس بات سے اندازہ لگائیں کہ ’فلائی دبئی‘روزانہ کی بنیاد پر ملتان سے دو جہاز بھر کر جاتا ہے وہ بھی نسبتا سستے داموں -جبکہ پی آئی اے کی دبئی کے لئے ہفتہ بھر میں صرف دو پروازیں ہیں مگر قیمتیں ان سے بھی زیادہ – …

یہاں یہ بھی یاد رہے کہ پی آئے اے غریبوں کی سواری نہیں ہے ، اس پر صرف وہ لوگ سفر کرتے ہیں جو اسے افورڈ کر سکتے ہیں- اگر حج و عمرہ کی فلائٹ پر پی آئی اے کی اجارہ داری ختم کر دی جائے تو پاکستانی حجاج کو قیمتوں کی مد میں بہت زیادہ فائدہ ہو گا ، مگر اس سے حکومت کو یہ خطرہ ہے کہ پی آئی اے اپنی آدھی آمدن سے ہاتھ دھو بیٹھے گی –

نجکاری میں کیا اور کسے فائدہ ہے ؟ میرے وہ تمام دوست جو نجکاری اور ہمدردی کے جذبات کو باہم گوندھے بیٹھے ہیں ان کے گھر بھی اگر سفید ہاتھی باندھ دیئے جائیں اور ان سے کہا جائے کہ ہر صورت میں (چاہے اپنے بچوں کے پیٹ سے نوالہ نکال کر بھی) ان ہاتھیوں کو صحت مند رکھنا ہے ، تب وہ جانیں گے کہ محض چودہ سے سولہ ہزار کے سٹاف کے لئے قوم کے بیس سے پچیس ارب روپے کیا معنی رکھتے ہیں؟

ہم نے انیس سو اکہتر میں کاروباری اداروں کو نجی ملکیت سے قومی ملکیت میں لینا شروع کیا اور پھر انیس سو اسی میں واپسی کا سفر شروع ہوا- نجکاری کے عمل سے صارف کو زیادہ فائدہ ہوا ہے – مشرف کے دور میں پاکستان کا بنکنگ سیکٹر لبرلائز ہوا ۔ اب اس کی پیداواری صلاحیت اور صارفین کے لئے بہتر خدمات آپ کے سامنے ہیں -اسی ٹیلی کمیونیکشن سیکٹر کو ہی دیکھ لیں – جب صرف پی ٹی سی ایل تھا، ٹیلی مواصلات کی صورتحال آپ کے سامنے تھی – یہ سیکٹر اجارہ داری سے نکلا اور مارکیٹ آزاد ہوئی – اب موبائل فون تقریبا ہر فرد کے پاس ہیں، قیمتوں میں ایشیا کے سستے ترین کال ریٹس پاکستانی نجی ادارے مہیا کر رہے ہیں- انٹرنیٹ ڈیٹا پیکج کی صورتحال بھی آپ کے سامنے ہے جنہوں نے آپ کو پوری دنیا سے جوڑ دیا ہے- نجکاری کا عمل پاکستان میں بھی کارکردگی لایا ہے –

دیکھئے ، کاروباری اداروں کے لئے آپ دو متبادل آزما چکے ہیں ، صرف آپ نے نہیں پوری دنیا نے آزما لئے ہیں – جب ایک کاروباری ادارہ نجی ملکیت میں ہوتا ہے تو وہ نفع سے گورنمنٹ کو ریونیو دیتا ہے جسے گوورنمنٹ فلاح عامہ پر خرچ کرتی ہے ، اس سے روزگار میں مزید اضافہ ہوتا ہے (اس وقت ٹیلی نار، موبلنک ،یو فون ،وطین ، کیو موبائل ، سامسنگ ، آئی فون ، نوکیا اور باقی سارے نجی ادارے مجموعی طور پر نجکاری سے پہلے کی پی ٹی سی ایل سے کئی گنا زیادہ روزگار دے رہے ہیں ) ،صارفین کو سستی خدمات اور بہتر کوالٹی مل رہی ہے (آپ نجکاری سے پہلے کی پی ٹی سی ایل کے کالنگ ریٹ اور اب نجی اداروں کے مہیا کردہ ریٹ کا موازنہ کر لیں )- اور جب ادارہ سرکاری ملکیت میں ہوتا ہے اور اسے بیوروکریسی چلاتی ہے تو نتائج اس کے الٹ نکلتے ہیں –


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan

6 thoughts on “پی آئی اے نجکاری: تین سلگتے سوالات کے جواب

  • 05-02-2016 at 4:19 pm
    Permalink

    فی الوقت پی آئی اے کا سالانہ خسارہ تقریباً 30 ارب روپے ہے اور اب تک تقریباً 300 ارب روپے اس خسارے کی نذر ہو چکے ہیں۔ کارپوریٹ میڈیا، سیاسی اشرافیہ اور حکمران طبقے کے تجزیہ نگاروں کی طرف سے اس ادارے کے زوال اور مالی نقصان کی تمام تر ذمہ داری ریاستی حکام، منیجمنٹ اور سیاسی مداخلت کی بجائے محنت کشوں پر عائد کر دی جاتی ہے۔ کبھی ملازمین کی زیادہ تعداد تو کبھی ان کی تنخواہوں پر اعتراض کیا جاتا ہے۔آمدن کے مقابلے میں تمام ملازمین کی مجموعی اجرت پی آئی اے میں دوسری تقریباً تمام ایئر لائنز سے کم ہے۔ تمام سہولیات اور تنخواہیں ملا کر بھی ادارہ اپنی آمدن کا صرف 18 فیصد ملازمین کو دیتا ہے، اگر ملازمین کی تعداد دو گنا بھی کر دی جائے تو بھی یہ مالی خسارے کی وجہ نہیں ہو سکتی۔ دوسری طرف ادارے کے اعلیٰ حکام اور بیوروکریٹ ہیں جن کی مراعات اور تنخواہیں کروڑوں میں ہیں، کمیشن اور کرپشن کا مالی حجم اس سے کہیں زیادہ ہے، یہی پالیسی ساز پی آئی اے کے خسارے کے اصل ذمہ داران ہیں جو منافع بخش روٹس نجی ایئرلائنز کو فروخت کر چکے ہیں اور شعوری طورپر بدانتظامی کرتے ہیں ۔آج پی آئی اے میں درجنوں ’’ڈائریکٹر‘‘ اور ’’جی ایم‘‘ موجود ہیں جن کا کام ادارے کو لوٹنے، سیر اور عیاشی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ پی آئی اے کا ٹیکنیکل اور انجینئرنگ سٹاف دنیا میں اپنی مہارت اور تیز کارکردگی کی وجہ سے ممتاز حیثیت رکھتا ہے، ماضی میں پی آئی اے نے کئی ایسی ایئرلائنز کی تعمیر اور سٹاف کی ٹریننگ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جن کا شمار آج چوٹی کی ایئرلائنز میں کیا جاتا ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ پی آئی اے کے دنیا بھر میں موجود اثاثوں کی کل مالیت ایک ہزار ارب روپے سے زیادہ ہے جب کہ حکومت صرف 200 ارب روپے کی مالیت ظاہر کر رہی ہے۔ 26 فیصد شیئرز خرید کر منیجمنٹ حاصل کرنے والے سرمایہ دار پی آئی اے کو چلانے میں نہیں بلکہ ان اثاثوں کی لوٹ سیل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اسی قسم کی واردات پہلے PTCL میں بھی کی جاچکی ہے۔

    • 15-02-2016 at 9:31 pm
      Permalink

      Really? I thought pia”s financial statements are audited by globally reputed audit firms and it’s property values are verified by reputed survey firms. If what you say is correct regarding understatement of assets, then they must all be part of this conspiracy. Additionally if pia net assets are really worth 1000 billion rupee ie 10 billion dollars, it has to be one of biggest property holding firms in the whole of Asia. Bigger than even emaar. I suggest you recheck your facts via going through pia audited statements.

  • 05-02-2016 at 8:12 pm
    Permalink

    mugee pasha صاحب نے بہت مضبوط جوابات اور سولات کی طرف نشاندہی کی ہیں،اب جناب ذیشان صاھب کو اس کا جواب دینا چاہے

  • 05-02-2016 at 9:15 pm
    Permalink

    بہت اچھا لکھا ہے۔ ماشااللہ

  • 06-02-2016 at 12:27 am
    Permalink

    ”ہم نے انیس سو اکہتر میں کاروباری اداروں کی نجکاری شروع کی – اور انیس سو اسی میں واپسی کا سفر شروع کیا”.ان دو جملوں میں مصنف سے دو سہو ہوئے ہیں اور وہ نج کاری کی اصطلاح کو بالکل متضاد مفہوم میں برت گئے ہیں۔بچے کھچے پاکستان کے منتخب وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے 1972ء میں نجی ملکیت کی حامل صنعتوں ،کاروباری اور تعلیمی اداروں کو قومیانے (نیشنلائزیشن) کا آغاز کیا تھا۔اس کا ایک مقصد پرولتاری اور بورژاوی طبقات کے درمیان باہمی آویزشوں سے جنم لینے والے مسائل کا تدارک کرنا تھا۔1977ء تک یہ عمل جاری رہا۔پھر 1990ء میں پہیا الٹا گھوما۔کاروباری اور صنعتی طبقے سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم میاں نواز شریف کی حکومت نے قومیائی گئی بیشتر صنعتوں اور اداروں کو ان کے سابقہ مالکان واپس کیا یا نئے سرمایہ داروں/شراکت داروں کو مسابقتی عمل کے ذریعے دینے کا آغاز کیا۔بعض اداروں کا مکمل انتظام وانصرام نجی شعبے کے حوالے کیا گیا اور بعض کا جزوی۔ان کے دوسرے دور حکومت میں بھی یہی عمل جاری رہا کہ منڈی کی معیشت اور عالمی ساہو کاروں کا یہی تقاضا اور مطالبہ تھا۔

    • 06-02-2016 at 1:25 pm
      Permalink

      امتیاز صاحب یہ ٹائپنگ کی غلطی تھی …ٹھیک کر دی گئی ہے … نشاندہی کا شکریہ

Comments are closed.