حقیقی انقلاب اور ماما قادر کی دودھ پتی


zafar kakarمٹی کی خوشبو سے معطر لوک داستانیں سنانے میں ماما قادر یگانہ روزگار شخصیت ہیں۔ ماما اور لوک داستان کو بعض اوقات عقلی پیمانوں پر تولنا مشکل کام تو ہے لیکن لوک داستان ادب کی وہ صنف ہے جوعام آدمی کے ثقافتی اور تہذیبی شعور کی عکاس ہے۔ ادب لوک داستان کو کس مقام پر رکھتا ہے ؟ لوک داستان سے آگہی کے بغیر کیا تہذیب کے فکری تغیر کا سفر سمجھنا ممکن ہے یا ناممکن؟ اس ادبی خامہ فرسائی سے پرے تعین کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ لوک داستان تخیل کی جلا کا سبب ضرور ہے۔آتے ہیں ماما کی طرف مگرماما کی داستان سے پہلے شان نزول لازم ہے۔

عرض کی! ماما وزیراعظم صاحب نے بیان دیا ہے ’ قوم کی تعمیر کھیل تماشا نہیں ، حقیقی انقلاب لائیں گے‘۔

بولے! یارا ہمارا بات سنو۔ہم کو یاد پڑتا ہے ایک بار کوئٹہ کے میزان چوک میں اپنے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رحیم مندوخیل تقریر فرما رہے تھے۔قندھاری جماعت سامنے ایک قندھاری ( افغان مہاجر) بائیسکل پر قینچی حالت میں ہمہ تن گوش تھا۔ مندوخیل صاحب نے کہانی امیر کروڑ سے شروع کی اور میروائس، احمد شاہ ابدالی، امیر امان اللہ خان پر سے ہوتے ہوئے سردار داﺅد، جناب ڈیورنڈ تک پہنچ کر چیف کمشنر صوبے کا ذکر کیا اور تان انقلاب پر توڑ دی۔ قندھاری نے بائیسکل کی قینچی بھری اور چلتے چلتے بولا۔’ اگر نر کا بچہ ہے تو اپنی بات پر قائم رہو۔ اس انقلاب کے چکر میں ہم قندھار کی بزازی سے آکرمیزان چوک کے تھڑے پر بادرنگ (کھیرے) بیچنے پر مجبور ہوا ہے‘۔ تو یارا! بات یوں ہے کہ اپنے وزیراعظم صاب کو بولو کہ اڈیالہ کی دھمکیاں تو مل ہی رہی ہیں۔ ایک بار اٹک کے مچھروں نے بھی سواگت کی تھی۔ اب اس حقیقی انقلاب میں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔

عرض کیا! ماما مگر یہ انقلاب ہے کیا چیز؟

بولے! یارا بات ایسی ہے کہ پرانے زمانے میں ایک تونگر سیٹھ تھا۔چونکہ نودولتیا تھا اس لئے نئے شوق بھی پال لئے۔ تازہ تازہ مصوری کے نادر نمونے جمع کرنے شروع کر دیئے۔ ایک بہت ہی نادر نمونے کا غوغا سناتو خریدنے کو اتاﺅلے ہوئے۔ یہ نودولتیا ذہن تخلیق کی بھی قیمت لگانا چاہتا ہے چاہے خدا کی تخلیق ہو یا انسان کی ہو۔ یہ رنگ، برش، کینوس چونکہ دکان پر خریدنے کو دستیاب اجناس ہیں اس لئے مصور کی تخلیق کو بھی برائے فروخت سمجھتا ہے۔ جانتا نہیں ہے کہ یہ رنگ، برش اور کینوس مصور کے آلات ہنر ہیں۔ یہ لفظ لکھنے والے کا خون دل ہے جسے جلا کر وہ تخلیق کے کرب سے گزرتا ہے۔ لفظ کی حرمت لکھنے والے پر فرض ہے مگر اب یہ مقدس کام بھی برائے فروخت ہے۔

عرض کیا! ماما فلسفہ میں گھس گئے ہو۔ واپس پلٹیں گے؟

بولے! او یارا ماڈرن اخلاقیات میں بولے تو سوری۔ کارروائی سے حذف کر دو اس کو۔ تو جی سیٹھ صاب نے بولی لگا کر پینٹنگ خرید لی۔ اب پینٹنگ کیا تھی تجریدی مصوری کا ایک شاہ کار تھا۔ یوں سمجھ لو پکاسو کا ”شاعر“ تھا۔ جیسے پکاسو کے شاعر میں شاعر نظر نہیں آتا ایسے ہی اس نمونے کی سمجھ سیٹھ کو بھی نہیں تھی۔ سیٹھ نے ایک بڑی ضیافت رکھی اور اس دور کے ، شیخ رشید،، طاہر اشرفی، ملک ریاض، رانا ثنا اللہ، اوریا مقبول، ساحر لودھی، طاہر القادری اور میرا ٹائپ سب لوگوں کو مدعو کیا کہ داد سمیٹ لیں۔ کھانے کے بعدپینٹنگ کی نقاب کشائی کی گئی۔ سب نے تالیاں بجائیں۔ دادی دی۔ سیٹھ صاب کے اعلیٰ ذوق کی تعریفیں فرمائیں اور ساغر و مینا کا دور شروع ہوا۔ سیٹھ کو پریشانی یہ لاحق تھی کہ اگر کسی نے پوچھ لیا کہ اس پینٹنگ میں ہے کیا تو جواب ندادر۔ شرکائے محفل جب ہلکے سے خمار آلود ہوئے تو سیٹھ ایک ایک کو خلوت زدہ کر کے پینٹنگ کے سامنے لاتا اور پوچھتا کہ اس میں آپ کو کیا نظر آتا ہے۔غالب گمان تھا کہ کسی کا تکا تو لگ ہی جائے گا۔تاکہ سیٹھ آئندہ کبھی آنے والے دانشوروں کو بتا سکے ’دیوار برلن کی یہ اینٹ‘ یا ’غلاف کعبہ کا فریم شدہ ٹکڑا‘ سیٹھ صاب کے مہمان خانہ میں کس برکت کے طفیل در آیا۔

ایک گوشت سے لہکتے واعظ خمری آگے آئے۔ داہنے ہاتھ میں سونے کی چین۔ الٹے ہاتھ کی تین انگلیوں میں موٹی موٹی انگوٹھیاں جس میں بڑے بڑے نگ جڑے تھے۔ فرمانے لگے۔ واہ! کیا خوبصورت بندرگاہ ہے۔ اور بندرگاہ کے ساتھ کیا پر شکوہ شہر آباد ہے۔ بندرگاہ کے کنارے پر انسان تو ایسے بنائے ہیں کہ بندہ انگشت بدنداں رہ جائے۔ان کے بعد ایک علامہ صاب تشریف لائے۔ جبہ و دستار میں فروکش۔ لہجہ و لحن کے دھنی۔حیران و پریشان پینٹنگ کو دیکھا کئے۔ کہنے لگے۔ آہ! کیا خالق پرست مصور ہے۔ دیکھو کیسا معبد تراشا ہے۔ اور یہ خالق کے بندے دیکھو جو غول کے غول معبد کی جانب گامزن ہیں۔ بھئی سیٹھ صاب! آپ کے ذوق تقویٰ کی داد بنتی ہے۔ ایک دانشور صاب آگے آئے جن کو تاریخ سے شغف تھا۔ منہ میں صندلی سگار۔ سیلقے سے ترشے بال اور اعلی کرتہ زیب تن کئے فرمانے لگے ( بلکہ اگر مدیر محترم کا قلم نہ چلے تو کہنے دیجئے کہ وعظنے لگے)۔ سیٹھ صاب! ایک تاریخ پوشیدہ ہے اس منظر میں جو کارخانہ قدرت کی عظمتوں کی گواہ ہے۔ غازیان ملت کے صدیوں کا درخشاں و تابندہ سفر ایک منظر میں مقید ہے۔یہ تصویر نہیں عظمتوں کی تاریخ ہے۔ ان کے بعد ایک شاعر صاب جو نئے نئے ملت شاہی میں براجمان ہوئے تھے آگے آئے۔فرمانے لگے۔ صاب! موجیں ہیں بے کراں سمندروں کی۔ قافلے ہیں رنگوں کے۔ افق سے ابلتے سورج شعلے ہیں۔ محبتوں کے پر پیچ نغمے ہیں۔

ان تائیدی قصیدوں کے بعد سیٹھ صاب نے جام کا ایک اور دور چلایا۔ اعلان فرمایا کہ رقص و سرور کی محفل سجائی جائے۔ محفل میںپائل کی چھن چھن اور طبلے کی دھن دھن ابھی ہلکی تھی کہ سیٹھ صاب کی نظر ایک آدمی پر پڑی جو پینٹنگ کو حیرت سے کبھی نیچے سے جھک کر دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کبھی ایڑیوں کے بل کھڑے ہو کر اوپر سے دیکھنے کی کوشش میں مصروف تھا۔سیٹھ صاب قریب آئے۔ مہمان اجنبی لگا۔ پوچھا کون ہو اور کہاں سے آئے ہو۔ مہمان نے ڈرتے ڈرتے کہا سیٹھ صاب جان کی امان درکار ہے۔ میں آپکے منشی اعظم کا رشتہ دار ہوں۔ اس شہر میں کام کی تلاش میں آیا ہوں۔ منشی اعظم کے ساتھ رہتا ہوں۔ آج انہوں نے ضیافت میں مدد کی خاطر بلایا تھا۔ سیٹھ صاب کے چہرے پر ناگواری کے اثرات واضح تھے۔ ترش لہجے میں پوچھا۔ کیا کام کرتے ہو؟ مہمان نے سہمی آواز میں جواب دیا۔ سیٹھ صاب مصور ہوں۔ سیٹھ کو پہلے تو حیرت کا جھٹکا لگا پھر مہمانوں پر ایک نظر ڈال کر مصور صاب کی گردن پر ہاتھ رکھا اور پینٹنگ کے مزید قریب لے جا کر پوچھا۔ بتاﺅ اس تصویر میں کیا کیا ہے؟ مہمان نے سہم کر کہا! سیٹھ صاب میں کافی دیر سے اس کو دیکھ رہا ہوں مگر مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ اس میں کیاہے۔ سیٹھ نے غضبناک ہو کر کہا۔ کیسے مصور ہو جو یہ تصویر تمہیں سمجھ نہیں آ رہی۔ مصور بولے۔ سیٹھ صاب جان کی امان پاﺅں تو کچھ عرض کروں؟ سیٹھ نے ہوں کا ہنکارا بھرا۔ مصور بولے سیٹھ صاب یہ پینٹنگ الٹی لٹکی ہے اسی لئے مجھے بھی سمجھ نہیں آ رہا کہ اس میںکیا ہے۔ سیٹھ نے ہش کا لمبا ہنکارا بھرا۔۔مصور کی گردن پر گرفت مضبوط کرتے ہوئے بولے۔ خاموشی سے واپس نکلو۔ کسی سے اس بات کا ذکر کیا تو گردن اڑا دوں گا۔

ماما قادر نے یہ لمبی داستان سنا کر آہستہ سے دیوار سے ٹیک لگائی اور سگریٹ سلگا لی۔ عرض کی ماما! آپ سے انقلاب کا پوچھا تھا یہ کیا سنا دیا ہے ؟

ماما بولے! او منڑا ایک تو تم بھی بات سمجھتا نہیں ہے۔ یہ انقلاب سیٹھ صاب کی الٹی لٹکی ہوئی پینٹنگ ہے۔ کسی کو کچھ پتہ متہ نہیں ہے کہ انقلاب کس چڑیا کا نام ہے۔ بس ہر کوئی انقلاب کو اپنے دوربین میں دیکھتا ہے۔ کبھی سبز انقلاب آنے کی نوید ہوتی ہے۔ کبھی ہلالی انقلاب کے قصے ہیں۔ کبھی سرخ انقلاب کے ڈونگرے ہیں۔ کبھی اسلامی انقلاب ہے اور کبھی طوفانی بولے تو سونامی انقلاب ہے۔ اب نئی سنو! وزیر اعظم صاب حقیقی انقلاب لانا چاہتے ہیں۔ او یارا دنیا میں انقلاب کی تاریخ تو سامنے ہے۔ کس انقلاب میں سرخاب میں کے پر لگے تھے؟ انقلاب آگے بڑھنے کا نام ہے۔ یہاں ہر کس و ناکس سماج کو پیچھے کھینچنے کو انقلاب سمجھتا ہے۔سماج اندر سے ٹھیک ہوتا ہے۔بہتر تبدیلی دھیرے دھیرے آتی ہے۔ قوم کی تعمیر کا تو مجھے نہیں پتہ لیکن انقلاب کے نعرے کھیل تماشا کے علاوہ اورکچھ نہیں ہیں۔چلو دو کپ دودھ پتی کا آڈر دو۔ میرا سارا علم ایک ہی دن میں ختم کر دیا تم نے منڑا….


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 83 posts and counting.See all posts by zafarullah

5 thoughts on “حقیقی انقلاب اور ماما قادر کی دودھ پتی

  • 05-02-2016 at 12:52 am
    Permalink

    شگفتہ انداز میں چنگے بھلے گولے برسا دئیے بھائی۔۔۔ نودولتئیے کی محفل کے حاضرین ۔۔ ہاہا۔ عطر جمع کردیا سوسائیٹی کا

  • 05-02-2016 at 10:43 am
    Permalink

    کیا خوب سمجھایا ہے ۔۔۔!! بہت ہی عمدہ طریقے سے

  • 05-02-2016 at 11:35 am
    Permalink

    کمال کا انداز بیاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خوب است

  • 05-02-2016 at 1:28 pm
    Permalink

    har gaam pe miljate hain hamdard hazaron
    shayad meri basti main adakar bhot hain
    …………………………………………………………………
    la jawab tehrer

  • 05-02-2016 at 9:29 pm
    Permalink

    اچھا لکھا ، پینٹنگ والا قصہ کمال ہے۔ واہ

Comments are closed.