گلزار…. فلم سے ادب تک (1)


Haider Qureshiحیدر قریشی(جرمنی)

گلزار کی شاعری پر بات کرنے سے پہلے میں ان کی شخصیت کے بعض ایسے پہلووں پر بات کرنا چاہوں گا جو مجھے دور سے لیکن صاف صاف دکھائی دئیے ہیں۔ممکن ہے یہ سچ مچ میں ایسے نہ ہوں لیکن مجھے گلزار ایسے ہی دکھائی دئیے ہیں تو ان کے بارے میں مجموعی تاثر بھی اس سارے پس منظر سے بنا ہے۔

گلزارکی شاعری اور شخصیت دونوں میں ایک انوکھی سی کشش ہے۔ہندوستانی فلم انڈسٹری کے ایک ممتازگیت کارجن کے گیتوں کی اپنی لفظیات اور اپنا ذائقہ ہے۔

”ہم نے دیکھی ہے ان آنکھوں کی مہکتی خوشبو“سے لے کر” سُریلی اکھیوں والے….“ تک گلزار کے گیت خود بول اٹھتے ہیں کہ ہم گلزار کی تخلیق ہیں۔ویسے تو گلزار کا شمار ان چند اہم گیت کاروں میں ہوتا ہے جن کے گیتوں میں ایک ادبی شان ہمیشہ سے موجود رہی ہے،تاہم گلزاراپنے نئے بلکہ جدید لب و لہجے کے باعث اپنے گیتوں کی الگ پہچان بھی قائم کرتے ہیں۔میں اپنے بچپن سے گلزار کے فلمی گیت سنتا آرہا ہوں۔میری شعری تربیت میں جہاں بہت سارے عوامل کا اپنا اپنا حصہ شامل ہے،ویسے ہی خوبصورت اور معیاری فلمی شاعری بھی میری شعری تربیت کا ایک سبب بنی ہے۔اور اس خوبصورت اور معیاری فلمی شاعری میں ساحر لدھیانوی کی شاعری ترقی پسند حوالے سے اور گلزار کی شاعری جدید حوالے سے میرے لیے ہمیشہ کشش کا باعث رہی ہے۔ویسے اور بھی بہت سارے پرانے فلمی شعراءکے گیتوں نے مجھے اپنے سحر میں گرفتار رکھا ہے۔گلزار کے انداز سے ملتی جلتی شاعری مجھے دو اور گیت کاروں کے ہاں بھی نمایاں طور پر دکھائی دی ہے۔کمال امروہوی اور جاں نثار اختر کے فلم شنکر حسین اور فلم رضیہ سلطان کے بعض گانے۔جاں نثار اخترہی کا فلم نیلا پربت کا شاہکار گیت۔یہ سب گلزار کے فلمی گیتوں سے ملتے جلتے لگتے ہیں۔بہر حال میںان فلمی شعراءسے جو کچھ بھی سیکھ سکا ہوں،اس کا برملا اقرارکرتے ہوئے مجھے خوشی ہورہی ہے اور ان سارے لوگوں میں ساحر لدھیانوی اور گلزار دو مختلف ذائقوں کے حوالے سے مجھے بہت زیادہ پسند رہے ہیں۔

گیت نگاری سے ہٹ کر فلم میکنگ کے مختلف شعبوں میں گلزار کی کار کردگی میں بھی ایک تخلیقی وفور دکھائی دیتا ہے۔”ہوتوتو“جیسی تجرباتی اور” چپکے چپکے“ جیسی پاپولر سماجی فلموں سے لے کر”آندھی“ اور” موسم“ جیسی شاہکار فلموں تک گلزار کے تخلیقی وفور کو بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔ ”آندھی“ اور” موسم“ کو تو بحیثیت فلم ڈائریکٹرگلزار کی پہچان قرار دیا جا سکتا ہے۔دونوں فلموں کے گیت اپنی اپنی جگہ خوبصورت ہیں،لیکن فلم” موسم “کے دو گیتوں نے تو ایک عرصہ تک مجھے اپنے سحرمیں گرفتار رکھا ہے۔

چاکلیٹی ہیروشمی کپورپر فلمایا گیاشوخ گیت ”لال چھڑی میدان کھڑی“ایک عمر کے نوجوانوں کے لحاظ سے،اُس عمر میں مجھے بھی اچھا لگتا رہا ہے۔لیکن جب گلزار کی فلم ”موسم“میں ”چھڑی رے چھڑی کیسی گلے میں پڑی“کو سنا اور دیکھا تو شمی کپور کی چھڑی بھول گئی۔

gulzar3چھڑی رے چھڑی کیسی گلے میں پڑی
پیروں کی بیڑی،کبھی لگے ہتھکڑی
سیدھے سیدھے راستوں کوتھوڑا سا موڑ دے دو
بے جوڑ روحوں کو ہلکا سا جوڑ دے دو
جوڑ دو نہ ٹوٹ جائے سانسوں کی لڑی
چھڑی رے چھڑی کیسی گلے میں پڑی

لگتا ہے سانسوں میں ٹوٹا ہے کانچ کوئی
چبھتی ہے سینے میں بھینی سی آنچ کوئی
آنچل سے باندھ لی ہے آگ کی لڑی
چھڑی رے چھڑی کیسی گلے میں پڑی

اس گیت کی لفظیات صرف گلزار جیسے شاعر سے ہی تخلیق کا روپ دھار سکتی تھی۔گیت کی پکچرائزیشن بجائے خود گلزارکا تخلیقی کمال ہے۔گیت کے آخر میں ہیرو ،ہیروئن چھڑی کو ایک دوسرے سے چھین رہے ہیں۔اسی چھینا جھپٹی میں ہیروئن چھڑی چھین کر دور پھینک دیتی ہے۔ہیرو چھڑی کو اُٹھانے کے لیے جھکتا ہے اور جب چھڑی کو اُٹھا کر سیدھا کھڑا ہوتا ہے تو اس کی جوانی کی عمر کے بیس سال گزر چکے ہوتے ہیں۔سیاہ بال سفید ی میں ڈھل رہے ہوتے ہیں۔یہاں گلزار فلیش بیک کی تیکنیک کو میکانکی انداز سے نہیں بلکہ واقعتاََایک باکمال تخلیق کار کے تخلیقی انداز سے بروئے کار لائے ہیں اور جوانی اور بڑھاپے کے دونوں زمانوں کو یکجا کر دیا ہے۔

اسی فلم میں گائی گئی ایک غزل،اپنی سچوئیشن کے پس منظرسے ایسے ابھرتی ہے کہ جیسے دل کو مٹھی میں لے لیتی ہے۔

رکے رکے سے قدم رک کے بار بار چلے
قرار لے کے تیرے در سے بے قرار چلے
صبح نہ آئی کئی بار نیند سے جاگے
تھی ایک رات کی یہ زندگی،گزار چلے

(گلزار کے شعری مجموعہ میں غزل کا یہ شعر یوں درج ہے:

سحر نہ آئی کئی بار نیند سے جاگے تھی رات رات کی یہ زندگی گزار چلے)

فلم موسم اور آندھی کے گیتوں کی تفصیل میں جانے لگوں تو شاید ایک الگ مضمون بن جائے ۔لیکن صرف ان دو گیتوں پر اکتفا کرتا ہوں۔گلزار کاایک شاندار کام مرزاغالب کی ٹی وی سیریل ہے۔غالب پر فلموں اور ڈراموںمیں تھوڑا بہت کام ہوتا رہا ہے۔لیکن گلزار کا کام پہلے سارے کام سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔یہ گلزار کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں غالب پر اس نوعیت کا کام کرنے کا موقعہ ملا اور غالب کی بھی خوش قسمتی ہے کہ ایک زمانے کے بعد انہیں گلزار جیسے تخلیق کار نے ایک ٹی وی سیریل میں متحرک کر دیا۔

گلزار کی شخصیت میں مجھے ہمیشہ ایک انوکھی کشش دکھائی دی ہے۔ان کا اپنا سراپامحبوبانہ ہے۔انہیں مینا کماری(مہ جبیں) سے محبت ہوئی لیکن ان سے شادی نہ ہو سکی ۔
ہم تو کتنوں کو مہ جبیں کہتے
آپ ہیں اس لیے نہیں کہتے

میرا خیال ہے کہ میناکماری کی محبت ہی گلزارکو راکھی تک لائی۔راکھی کو براہ راست دیکھا جائے تو ایک خوبصورت اور بھرپور ہیروئن ہیں۔بلیوں جیسی آنکھوں،بھرے ہوئے جسم اور گورے چٹے رنگ کے باعث وہ بلا شبہ خوبصورت ہیروئنوں میں شمار کی جا سکتی ہیں۔لیکن جب بندہ مینا کماری کی محبت کا اسیر ہو تو پھرمینا کماری جیسا’ مہاندرا‘ رکھنے کے باوجود مینا کماری کی ملاحت کے جادو کے سامنے سب کچھ ثانوی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔(بعض لوگ اسی لیے عشق ،محبت کو حماقت بھی کہتے ہیں) سو گلزار ،مینا کماری کے سحر سے کبھی نہیں نکل سکے۔میری معلومات کے مطابق مینا کماری نوبل انعام یافتہ بنگالی کے مشہورشاعر اور دانشوررابندر ناتھ ٹیگورکی پڑ نواسی تھیں۔ (اس کا ایک اشارہ وکی پیڈیا پرمینا کماری کے صفحہ پر ملتا ہے،جبکہ ٹیگور کے صفحہ پران کے پانچ بچوں کا ذکر ملنا مگر ان کے نام درج نہ کیے جانا،محققین کے لیے ایک نئی تحقیق کا موجب بن سکتا ہے)بہر حال مینا کماری کوشاعرانہ مزاج اپنے پڑ نانا سے ورثہ میں ملا تھا۔ انہوں نے تھوڑی بہت شاعری کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی شعری صلاحیتیں پالش نہ ہو سکیں۔شاید فلمی دنیا کی مصروفیات نے انہیں اس طرف زیادہ توجہ کرنے کی مہلت نہیں دی۔خود گلزار بھی اتنا وقت نہ نکال پائے کہ مینا کماری شاعرہ کے طور پر کوئی نمایاں کام کر جاتیں۔ہر بندے کے دل کے معاملات کی اپنی نوعیت ہوتی ہے۔مینا کماری اور راکھی دونوں کی اہمیت کے باوجود مجھے گلزار ان دونوں کے مقابلہ میں زیادہ خوبصورت لگے ہیں۔میں یہاں مرد اور عورت کی تفریق والی خوبصورتی کی بات نہیں کر رہا،بلکہ عمومی انسانی خوبصورتی کی بات کر رہا ہوں۔

اس وقت گلزار کی شاعری کی چھ کتابیں میرے پاس ہیں۔”رات پشمینے کی“(شاعری۔۲۰۰۲ئ۔مطبوعہ۔ پاکستان)،”پندرہ پانچ پچھتر“(نظمیں۔۰۱۰۲ئ۔انڈیا) ، ”تروینی“(۲۱۰۲ئ۔پاکستان)،”کچھ اور نظمیں“(۲۱۰۲ئ۔پاکستان)،’ ’گلزار ۔ نظمیں، غزلیں، گیت، تروینی“ (۴۱۰۲ء۔ پاکستان )،”پلوٹو“(نظمیں۔۴۱۰۲ئ۔مطبوعہ انڈیا)،
یہ ساری کتابیں گلزارصاحب نے بمبئی سے عنایت کی تھیں۔میں ان سب کو پڑھ چکا ہوں اور گلزار کی شاعری سے لبالب بھرا ہوا ہوں۔گلزار کی نظمیں ہوں،یا غزلیں،گیت ہوں یا تروینی کا تجربہ،سب میں گلزارکا مخصوص رنگ جھلکتا ہے۔

گلزار کی نظمیں اپنی مقدار کے لحاظ سے ان کی باقی ساری شاعری پر حاوی ہیں،اس لحاظ سے ان کی نظمیں باقی اصناف پر تھوڑی سی فوقیت رکھتی ہیں۔اس لیے میں ترتیب کے مطابق پہلے گلزار کی نظموں کا مطالعہ کرنا چاہوں گا۔گلزار کی نظموں میں موضوعاتی تنوع ہے۔محبت کا موضوع اپنے آپ میں بے حد وسیع ہے۔لیکن اس سے ہٹ کر بھی گلزار نے مقامی سے لے کر بین الاقوامی سیاست تک کیے جانے والے فریب کو بھی اپنا موضوع بنایا ہے اور اس کے نتیجہ میں ہونے والے فسادات سے لے کر عالمی خونریزی تک کتنے ہی مناظر دکھا کر انسانی المیوں کو اجاگر کیا ہے۔اپنی بہت ہی نجی دنیا سے لے کر فلمی دنیا اور ادبی دنیاتک کی کئی اہم شخصیات سے اپنے تعلقِ خاطرکو اپنی نظموں کے ذریعے بیان کیا ہے۔

اپنی دھرتی کے مختلف خوبصورت مناظر سے لے کر دنیا بھر میں جہاںجہاں کی سیاحت کی وہاں تک کے خوبصورت مقامات کی بھی اپنی نظموںمیں عمدگی کے ساتھ تصویر کشی کی ہے۔

روزانہ کے معمولاتِ زندگی سے لے کرزندگی کے فلسفیانہ افکارتک کو اپنا موضوع بنایا ہے۔کائناتی وسعتوں کو حیرت کے ساتھ دیکھتے ہیں مگراس کے کسی خالق کی ہستی ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔اس کے باوجود کہیں کہیں نظموں میں سجدہ کرتے یا سجدے سے سراُٹھاتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔اپنے ماضی کو اور جنم بھومی دینہ کو مسلسل یاد کرتے ہیں اور کرتے ہی رہتے ہیں۔یہ گلزارکی نظموں کے موضوعات کے حوالے سے انتہائی اختصار کے ساتھ میرامجموعی تاثر ہے۔
(جاری ہے )


Comments

FB Login Required - comments