نیب کی پلی بارگین یا کرپشن کی ڈرائی کلیننگ



\"\" ہماری نو عمری کی یاد داشتوں میں ایک واقعہ ایسا بھی ہے جو بھلائے نہیں بھولتا۔ وہ واقعہ مزید شدت سے اُس وقت بہت ستاتا ہے جب وطن عزیز میں کرپشن کا کھوکھلا ڈھول پیٹا جاتا ہے۔
’’ہمارے پڑوس میں قاسم صاحب رہا کرتے تھے جو کسی سرکاری محکمے کے بڑے افسر تھے۔ محلے کا ہر فرد اُنھیں احتراماً سر قاسم کہہ کر مخاطب کیا کرتا تھا۔ محلے میں موصوف اور اُن کی فیملی کو عزت واحترام کا مقام حاصل تھا۔ کیونکہ وہ ایک شریف النفس، بردبار اور سادگی پسند شخصیت کے حامل سمجھے جاتے تھے۔ ایک دن نصف شب کو گلی میں شور شرابے کے باعث ہماری آنکھ کھل گئی، باہر نکل کر دیکھا تو گلی میں نصف شب کو دن کا سا سماں تھا۔ ایک جم غفیر تھا جو ہماری گلی میں اُمڈ پڑا تھا، ہجوم کو چیرتے ہوئے جب ہم قاسم صاحب کے نزدیک پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ قاسم صاحب کے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگی ہوئی تھی اور پولیس کے دو جوانوں نے انھیں اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا تھا۔ باقی پولیس والوں نے ان کے گھر سے رقم، صندوق اور زیورات کی برآمدگی کی تھی۔ محکمے میں بدعنوانی، غبن اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزام میں قاسم صاحب کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ کچھ دنوں تک محلے میں اس واقعہ کو لے کر چرچا رہا۔ پھر قاسم صاحب اور اُن کی فیملی محلے والوں کی نظر میں قابل نفرت ہو گئی، محلے کی قابل احترام فیملی کا محلے والوں نے جینا دوبھر کر دیا تھا۔ اکثر چھوٹی چھوٹی جھڑپوں اور باتوں ہی باتوں میں اُن کی فیملی کو طعنے دیئے جانے لگے۔ اُن کے گھر کے قریب جاکر منچلے لڑکے بلند آواز میں نعرہ لگاتے \”گلی گلی میں شور ہے۔ ۔ سر قاسم چور ہے\”۔ ہماری نو عمری کے دور میں کرپشن کو گھناؤنا اور قابل نفرت جرم تصور کیا جاتا تھا۔ آخرکار کرپشن کی پاداش میں قاسم صاحب کی فیملی کو محلہ چھوڑنا پڑا \”۔
زمانے نے کروٹ بدلی تو موجودہ دور میں بد عنوان شخص کو قابل عزت سمجھا جانے لگا۔ ہر جانب سے کرپشن کی گونج جب بھی ہماری سماعت سے ٹکراتی ہے تو مذکورہ بالا واقعہ سے جڑے قاسم صاحب ہمیں ضرور یاد آتے ہیں اور ہم سوچتے ہیں کہ کاش موصوف موجودہ دور میں ہوتے تو قابل عزت سمجھے جاتے، بس انھیں ڈرائی کلیننگ کے ایک پروسس سے گزرنا پڑتا۔ 1999 میں قائم ہونے والے اس ڈرائی کلین شاپ کا نام \”نیب\”ہے۔ اس شاپ نے 2016 میں مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں، وجہ یہ ہے کہ انھوں نے گھناؤنے اور شرمناک جرم \”کرپشن \”کے داغ کو دودھ کی مانند دھونے کی ایک مشین ایجادکی ہے۔ جس کا نام \”پلی بارگین\”رکھا ہے۔ اس مشین کی خوبی یہ ہے کہ آپ جتنی چاہیں کرپشن کرلیں بس نیب کی ڈرائی کلین شاپ پر چلے جائیں بہت ہی قلیل رقم کے عوض وہ آپ کو پلی بارگین نامی مشین سے گزار کر اُجلا کر دیں گے تاکہ آپ مزید کرپشن کے لئے تازہ دم ہو جائیں۔ اِسی سال سندھ حکومت کے 70 افسران نے نیب کے سامنے کرپشن جیسے گھناؤنے جرم کا اعتراف کیا تھا اور ان 70 افسران نے صرف اور صرف 21 کروڑ 34 لاکھ روپے کا نذرانہ دے کر نیب کی شاپ سے گھناؤنے جرم کو دھلوا لیا، پھر تازہ دم ہوکر کرپشن کا بول بالا اور عوام کے خون پسینے کی کمائی کو تہہ و بالا کرنے کے لئے اپنے اپنے عہدوں پر فائز بھی ہو گئے۔
وطن عزیز کے پسماندہ صوبہ بلوچستان کے سابق خزانے کے امین مشتاق رئیسانی جنہیں شعوری دہلیز پر قدم نہ رکھنے کی قسم کھانے والی عوام نے چنا تھا۔
رواں برس مورخہ 6 مئی کو دُنیا اُس وقت انگشت بدنداں رہ گئی جب اس خزانے کے محافظ کے گھر سے کرنسی نوٹوں سے بھرے بیگ، کروڑوں روپے کا سونا، پرائز بانڈ، سیونگ سرٹیفیکٹ رکھنے کی شہ سُرخیاں میڈیا کے ذریعے اُن کی چشم و سماعت سے ٹکرائیں۔ بعد میں موصوف سے کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں ایک درجن سے زائد بنگلے اور گاڑیاں بھی نیب نے قبضے میں لینے کی تشہیر کی۔ اندازے کے مطابق رقوم کا تخمینہ 40 ارب روپے تھا لیکن نیب کی شاپ سے رجوع کرنے اور پلی بارگین مشین سے گزرنے کے بعد انھوں نے صرف دو ارب روپے میں کرپشن جیسے بدنما داغ کو دھلوا کر صاف وشفاف کرا لیا۔ اس سے قبل سولہ برسوں میں نیب کی ڈرائی کلین شاپ سے 287 افراد نے کرپشن کے داغ کو انتہائی سستے داموں دھلوایا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ قاسم صاحب آج بھی زندہ ہیں کہ نہیں، یا آج بھی اُن کے اہل وعیال کرپشن کے طوق کو سینے پر لٹکائے معاشرے کے لئے قابل نفرت بنے ہوئے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

One thought on “نیب کی پلی بارگین یا کرپشن کی ڈرائی کلیننگ

  • 28/12/2016 at 3:49 pm
    Permalink

    Two clarifications. No one can continue government job after plea bargain neither can participate in elections for 10 years and there are other restrictions too. Moreover, the amount of plea bargain can never be less than the amount embezzled by one.

Comments are closed.