ٹرک آئی آرٹ یا فریب نظر کا فن


\"\"پچھلے دنوں، میں اور عندلیب رضوی چھٹیاں منانے تھائی لینڈ کے جزیرے فوکٹ گئے تو ٹِرک آئی (Trickeye) میوزیم جانا ہوا ۔ ٹِرک آئی میوزیمز کا آغاز 2010 میں جنوبی کوریا کے شہر سیول میں ہوا۔ اس میوزیم کی کامیابی کے بعد ایشیا میں اب اس طرح کے چار میوزیم بن چکے ہیں اور انہی میں سے ایک فوکٹ ٹِرک آئی (Trickyeye) میوزیم ہے۔

ٹریک آئی یا نظر کا دھوکہ، جس کو فرانسیسی میں Trompe-l\’ceil کہتے ہیں، ایک ایسی آرٹ تیکنیک ہے جو حقیقت پسندانہ تصویروں کا سہارا لے کر کچھ ایسا منظر پیش کرتی ہے کہ جیسے تصویر نہیں بلکہ دکھایا گیا منظر آپ کے چاروں اور ہو۔

کہتے ہیں کہ قدیم یونان میں دو مشہور پینٹروں زیوکسس (Zeuxis) اور پارہاسیس(Parrhasius) کے درمیان مقابلہ ہوا کہ کون حقیقت کے زیادہ قریب تصویریں بناتا ہے۔ زیوکسس، جو قریباً 464 قبل مسیح میں پیدا ہوا تھا، ایسی منظر کشی کرتا تھا کہ چڑیا بھی اس کی تصویر میں بنے انگور کھانے کےلئے نیچے آ جاتیں۔ اُس کو نیچا دکھانے کے لئے پارہاسیس نے زیوکسس کو اپنی منظر کشی پرکھنے کی دعوت دی۔ تصویر کچھ پھٹے پرانے پردوں کے پیچھے تھی اور زیوکسس کو تصویر دیکھنے کے لئے وہ پردہ ہٹانا تھا، جو اُس سے نہ ہو سکا کیونکہ وہ پردہ بھی پارہاسیس کی تصویر کا حصہ تھا۔

اس بات سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ آرٹ ناصرف خوبصورت ہے بلکہ حقیقت کے اس قدر قریب ہے کہ انسان اُس کا بذات خود ایک حصہ بن جاتا ہے۔ دنیا میں اس وقت کل چار مشہور ٹرک آئی میوزیمز ہیں جو جنوبی کوریا، سنگاپور، ہانگ کانگ اور تھائی لینڈ میں واقع ہیں۔

کیونکہ میرا جانا تھائی لینڈ کہ شہر فوکٹ کے میوزیم میں ہوا تو اس کے بارے میں کچھ بتاتا چلو یہ فوکٹ کے اولڈ فوکٹ ایریا میں ہے اور یہاں کی داخلہ فیس 500 تھائی بھات ہے۔جوکہ تقریباً1500 پاکستانی روپے بنتے ہیں۔

تو آیئے ، فریب نظر کے اس فن کے کچھ نمونے دیکھتے ہیں


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید شیراز علی کی دیگر تحریریں
سید شیراز علی کی دیگر تحریریں