پاکستان میں دہشت گردی کے آغاز کا سہرا کمیونسٹوں کے سر ہے مذہبیوں کے نہیں


Idrees_Azadہمارے سکولوں میں آج کل ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی اقدامات اور سیلف ڈیفنس کے تربیتی پروگرامز چل رہے ہیں۔ آج میری بیٹی نے آکر بتایا کہ اچانک سائرن بج جاتاہے اور ہم سب کو دوڑ کر کسی محفوظ مقام یا پناہ گاہ میں جا کر چھپنا ہوتاہے۔ سائرن دو قسم کا ہوتاہے۔

۔۱۔ اگر سائرن ذرا سا بج کر بند ہوجائے تو مطلب دہشت گرد سکول کے اندر گھُس آئے ہیں۔ اس لیے فوری طوری پر اُسی کلاس کے دروازے بند کرکے، دروازوں کے آگے بہت سارے بنچ اور ڈیسکس رکھنے ہوتے ہیں۔ تاکہ وہ درازہ نہ توڑ سکیں۔

۔۲۔ اگر سائرن لمبا بجے تو اس کا مطلب ہوتاہے دہشت گرد ابھی سکول میں داخل نہیں ہوئے اور اِس لیے ہم دوڑ کر ان مقامات پر پناہ لے سکتے ہیں جو ایسے کسی حادثہ کے لیے سکولوں میں مقرر کیے جارہے ہیں۔

ہمارے بچوں کے لیے سکول اتنے غیر محفوظ ہوجائینگے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔چونکہ سکولوں اور یونیورسٹیوں پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو بھی طالبان کہا جاتاہے اس لیے ایک سرسری سا تاثر یہ بھی مل رہا ہے کہ دینی مدارس والے سرکاری مدارس والوں کو مار رہے ہیں۔ اس پر مستزاد تبلیغی جماعت کی تعلیمی اداروں میں جانے پر پابندی ہے۔

دہشت گردی کا شکار، بلاشبہ پاکستان سب سے زیادہ ہے لیکن یہ سب تسلیم کرتے ہیں کہ دہشت گردی دور حاضر کا عالمگیر مسئلہ ہے۔ یہ لفظ ’’دہشت گرد‘‘ اگرچہ فی زمانہ مذہبی شدت پسندوں بالخصوص مسلمان شدت پسندوں کے لیے استعمال ہونا شروع ہوگیا ہے لیکن اگر ہم اس لفظ کی تاریخی حیثیت پر غور کریں تو سب سے پہلے پاکستان میں یہ لفظ کمیونسٹ دہشت گردوں کے لیے استعمال ہوا تھا۔

جب ذوالفقار علی بھٹو کو شہید کردیا گیا تو ان کے بیٹے نے باپ کا بدلہ لینے کے لیے ‘الذوالفقار’ نامی ایک تنظیم بنائی۔ یہ اعلانیہ طور پر ایک دہشت گرد تنظیم تھی۔ اس تنظیم نے پاکستان کا ایک طیارہ بھی اغوا کرلیا تھا جس کی وجہ سے پوری دنیا میں دہشت کی ایک لہر پھیل گئی تھی۔ میں جاوید نعمانی سے ذاتی طور پر مل چکاہوں، جو الذوالفقار کے کارکن تھے اور جنہوں نے جیل میں ایک کتاب ’’جو مجھ پر گزری‘‘ کے نام سے لکھی۔ جاوید نعمانی کی باتیں مجھے یاد ہیں۔ میرا یہ خیال ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے آغاز کا سہرا الذولفقار کے سر ہے نہ کہ مذہبی تنظیموں کے سر۔

موجودہ دہشت گردی جو سکولوں اور یونیورسٹیوں کو ٹارگٹ کررہی ہے اس کے بارے میں ایک عام سا تاثر یہ ہے کہ یہ ’’برے طالبان‘‘ کررہے ہیں اور ان کے مقابلے میں دوسری طرز کے طالبان جو ’’اچھے طالبان‘‘ ہیں وہ افغانستان میں مزاحمت کررہے ہیں۔ اور یہ کہ یہاں جو برے طالبان ہیں یہ معمولی لوگ ہیں اور وزیرستان میں چھپے رہتے ہیں اور پاکستان میں خود کش حملے کرنے والے یہی برے طالبان ہیں۔ مجھے اس سٹیٹمنٹ سے شدید اختلاف ہے۔ میری رائے میں یہ خودکش جو یہاں ہمارے تعلیمی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں کسی نہایت منظم اور تربیت یافتہ فوج یا اس کی ایجنسی کا حصہ ہیں۔ بلاشبہ یہ فوج دشمن کی ہوسکتی ہے یعنی ہندوستان یا امریکہ کی لیکن یہ کہنا کہ یہ اپنے سہارے پر آپ چلنے والے چند پاگل نوجوان ہیں بالکل غلط ہے۔ نہ ہی اِن کارروائیوں کے لیے کسی مذہبی فرقے کو تنقید کا نشانہ بنانا عقلمندی ہے۔

چند باتیں غور کرنے کی ہیں،

اگر کوئی حالات کے عقوبت خانے سے تنگ آکر خود کو نہیں ماررہا بلکہ اس کا مقصد کچھ اور ہے۔ وہ کوئی جنگ لڑرہاہے تو پھر ہم اس کی خودکشی کو اصولاً خودکشی کہہ ہی نہیں سکتے۔ مثلاً بچپن میں اماں بتاتی تھیں کہ پیسنٹھ کی جنگ میں ہمارے سپاہی اپنے سینوں پر بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے۔ اسی طرح اسلامی تاریخ میں بے شمار واقعات ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت قعقاع بن عمروؓ ایک مرتبہ کسی جنگ میں زرہ اور قمیص وغیرہ اتار کر، تلوار لہراتے اور یلغار کرتے ہوئے۔۔۔۔۔۔ دشمن کی صفوں میں گھس گئے۔ کچھ صحابہؓ نے حضرت عمرؓ سے شکایت کی کہ یہ خودکشی کے مترادف ہے،انہیں منع کیا جائے! تو حضرت عمرؓ نے جواب دیا، ’’تم لوگوں کے لیے خودکشی کے مترادف ہے، قعقاع کے لیے نہیں‘‘۔ دلّی پر انگریز کے آخری حملے میں جنرل بخت خان بھی ایسے ہی صفوں کو چیرتاہوا دشمن کی صفوں میں داخل ہوا اور جام ِ شہادت نوش کیا۔ سلطان ٹیپو کی تو ہم سب مثالیں دیتے ہیں۔ غرض خود کو قتل کرنے کی کئی شکلیں ہوسکتی ہیں جن میں یہ دیکھنا لازمی ہے کہ آیا خود کو قتل کرنے والا اِس دنیا کے عقوبت خانے سے تنگ تھا یا کسی اور مقصد کے تحت وہ اپنی جان لے رہا تھا۔اگر تو وہ اِس دنیا کے عقوبت خانے سے تنگ تھا پھر اُس نے خودکشی کی اور اگر وہ کسی اور مقصد کے لیے اپنی جان دے رہا تھا پھر اس کا خود کو قتل کرنا تعریف کی رُو سے خوکشی نہیں کہلائے گا، جنگ کہلائے گا۔

خودکشی اور چیز ہے ، خودکُش حملہ آور بالکل اور طرح کا قتل کرتے ہیں اپنا۔ وہ کسی اچھے یا برے مقصد کے لیے مرتے ہیں۔ ان کا مرنا خودکشی کے زمرے میں نہیں آتا۔ ہاں چونکہ وہ خود کو ساتھ ہی مار بھی دیتے ہیں تو اس لیے انہیں خودکش حملہ آور کہہ دیا جاتاہے۔ یعنی وہ جو ایسا حملہ کرے جس میں خود بھی مارے جاتے ہیں۔

ہم ہر دہشت گردی کے بعد شہیدوں کے نام کی موم بتیاں جلاتے ہیں یا حکومت کو کوستے ہیں لیکن ہم یہ نہیں دیکھتے کہ جو لوگ اپنی جان ہتھیلیوں پر لے کر آئے وہ اگر روبوٹس یا زومبیز نہیں ہیں تو پھر کون ہیں؟ اور اُن کا مطالبہ کیا ہے؟ خودکش حملہ کرنے سے ان کا کون سا مقصد پورا ہوتاہے۔ وہ کس تحریک کے نمائندہ ہیں؟ وہ کیوں اس حد تک چلے گئے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔ یہ اور اس طرح کے بہت سے سوالات ہیں، جن کے جوابات حاصل کیے بغیر ہم جو بھی بات کرینگے وہ یک طرفہ ہوگی۔ کیونکہ یہ زیادہ تر وہ لوگ نہیں ہوتے جو خودکشی کررہے ہوں یعنی دنیاوی زندگی سے تنگ آکر خود کو ماررہے ہوں۔

خودکشی کرنے والوں کو ماہرین ِ نفسیات بیمار یا مریض یا شیزوفرینک کہہ سکتے ہیں لیکن خود کش حملہ کرنے والوں کو نہیں۔ کیونکہ خودکش حملہ آوریا تو انتقام لے رہے ہوتے ہیں یا پھر کسی فرضی اعلٰی مقصد کے لیے جان دے رہے ہوتے ہیں۔ یہ دونوں صورتیں وہ ہیں جو انہیں عام خودکشی کرنے والے سے منفرد بنادیتی ہیں۔ لیکن ایک بات دونوں میں مشترک ہے کہ دونوں نے جان دی ۔ اس بحث کے بعد ہم آسانی کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ فی زمانہ ہم جس دہشت گردی کا شکار ہیں وہ بغیر کسی ’’بڑے‘‘ کی آشیر واد کے ممکن ہی نہیں۔ یہ بڑوں کی جنگ ہے جس میں ہمارے بچے مارے جارہے ہیں۔ کبھی کبھی تو مجھے (طنزاً) لگتاہے کہ دنیا بھر کی افواج نے ایکا کرلیا ہے، اِس ایک بات پر کہ ہم جب پہلے لڑتے تھے تو دونوں طرف سے فوجی مارے جاتے تھے اور ’’ملکوں کی عوامیں‘‘ مزے سے سوتی تھیں۔ کیوں نہ اِن عواموں کو مارنا شروع کردیا جائے۔ تاکہ دنیا میں صرف فوجیں ہی فوجیں بچ جائیں۔ کیونکہ 1945سے اب تک ہرطرح کی جنگوں میں جس قدر عوام مارے گئے اتنے فوجی نہیں مارے گئے۔ بلکہ فوجی عوام سے بیسیوں گنا کم تعداد میں مارے گئے۔ پوری کی پوری افغان روس جنگ میں ہم نے عوام میں سے لوگ تیار کرکے بھیجے اور مروائے ، خود ہمارے اپنے فوجی بھی اِس جنگ میں شریک نہیں ہوئے۔ ہوئے بھی تو آٹےمیں نمک کے برابر۔

اب سوچنا یہ ہے کہ اِس مسئلے کا حل کیا ہے؟

کیا دیوبندی فرقے کا خاتمہ کردیا جائے تو دہشت گردی ختم ہوسکتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو شیوسینا کے دہشت گردوں کو کون ختم کریگا؟

کیا وزیرستان (شمالی و جنوبی) میں اتنی طویل، بڑی اور بڑے خرچے والی کارروائیوں کے باوجود بھی دہشت گردوں کی چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کو ختم نہیں کیا جاسکا؟

کیوں؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک اور بنّوں کے لوگ جانتے ہیں کہ جتنی بریگیڈز اوربٹالینز، اِس پار سے اُدھر کو (علاقہ غیر) بھیجی گئی ہیں اتنی افواج تو پسینٹھ کی جنگ میں انڈیا کی بارڈرز پر نہیں بھیجی گئی تھیں؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم وزیرستان کے ہر پتھر پر ایک فوجی بٹھا دیں اور پھر ہمارے شہروں میں ہمارے سکولوں پر حملہ کرنے والے دہشت گرد اُسی وزیرستان میں بیٹھ کر تیاری کریں اور منصوبہ بنائیں؟

لے دے کے جو نتیجہ میں نے پہلے نکالا وہی نکلتاہے۔ یعنی یہ کہ یہ کسی بڑے دشمن کے تربیت یافتہ ایجنٹس ہیں جو افغانستان،ازبکستان ، تاجکستان یا کیوبا وغیرہ میں کہیں تیارکیے جاتے ہیں۔ ان کے مقاصد میں بظاہر ایک ہی بڑا مقصد نظر آتاہے کہ پاکستان کبھی سٹیبل نہ ہوسکے۔ آپ غور کریں تو ہمیشہ ایسا ہی ہوا ہے۔

عزیز ابن الحسن صاحب نے تبصرہ کیا ہے کہ اسٹیفن هکس نے پوسٹ ماڈرن ازم پر اپنی بہترین کتاب میں تفصیلاً لکھا هے که “دنیا میں 19ویں صدی کے آخر سے دہشت گردی کو ایک نیک مقصد کے طور پر بائیں بازو والوں نے اختیار کیا تھا اور دنیا بھر کی انقلابی قوتیں ہمیشه انکی تحسین کرتی رہی ہیں”۔


Comments

FB Login Required - comments

5 thoughts on “پاکستان میں دہشت گردی کے آغاز کا سہرا کمیونسٹوں کے سر ہے مذہبیوں کے نہیں

  • 05-02-2016 at 3:20 pm
    Permalink

    مضمون مطالعے کی شدید کمی اور جذبات کے وفور پر مبنی ہے. پورے مضمون میں کمیونسٹوں کا تو سرے ذکر ہی غائب ہے. لے دے کے الذولفقار کا کچھ تذکرہ ہے، سو اسے کمیونسٹ قرار دینا ایسا ہی ہے جیسے لشکر طیبہ کو حنفی کہنا.. ہم نے تو یہی سنا تھا کہ جنرل بخت خان شکست کھا کر نیپال کی ترائی کی جانب نکل گیا اور مفقود الخبر ہو گیا. اماں محترمہ تو سادہ لوح اور سرکاری پراپیگنڈے کی شکار رہیں جو مضمون نگار کو بتاتی رہیں کہ ” کہ پیسنٹھ کی جنگ میں ہمارے سپاہی اپنے سینوں پر بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے”، مگر محترم خود ذرا کسی ریٹایرڈ فوجی سے ہی پوچھ لیتے تو پتا چل جاتا کہ سینے سے بم باندھ کر ٹینک کے نیچے لیٹ جانے سے ٹینک کا کچھ نہیں بگڑتا. یہی حال باقی مثالوں کا ہے. نجانے مضمون نگار نے عسکری امور میں اس قدر درک کہاں سے بہم پہنچایا کہ دہشت گردی کے اسباب و عوامل کے بارے میں واضح تحقیقی نتائج کو نظر انداز کر کے کیوبا، تاجکستان وغیرہ سے اس کے ڈانڈے ملاتے رہے. استوائی گنی، وانو واٹو اور ایکواڈور خدا خبر کیسے نظر انداز ہو گئے؟

    • 08-02-2016 at 7:14 pm
      Permalink

      لگتا ہے فیض صاحب، مضمون نگار کے بارے میں ہی بطور حفظ ما تقدم فرما گئے تھے ؏
      وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
      وہ بات ان کو بہت ناگوار گذری ہے

  • 08-02-2016 at 12:54 am
    Permalink

    “لے دے کے جو نتیجہ میں نے پہلے نکالا وہی نکلتاہے۔ یعنی یہ کہ یہ کسی بڑے دشمن کے تربیت یافتہ ایجنٹس ہیں جو افغانستان،ازبکستان ، تاجکستان یا کیوبا وغیرہ میں کہیں تیارکیے جاتے ہیں۔ ان کے مقاصد میں بظاہر ایک ہی بڑا مقصد نظر آتاہے کہ پاکستان کبھی سٹیبل نہ ہوسکے۔ آپ غور کریں تو ہمیشہ ایسا ہی ہوا ہے”

    فاضل مضمون نگار نے بڑی خوبصورتی سے اپنا تھیسس بیان کیا ہے بلکہ ناقابل تردید شواہد بھی فراہم کیے ہیں جن پر کسی بھی الباکستانی کو آنکھیں بند کر کے ایمان لاتے ہوئے کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہ ہوگی ۔۔۔۔۔۔ اللہ کرے زورقلم اور زیادہ

  • 10-02-2016 at 1:55 pm
    Permalink

    Editors, if this is the standard of writers, what are you people doing here?

  • 11-02-2016 at 10:02 am
    Permalink

    میں وحید ایاز کے تبصرے سو فیصد متفق ہوں

Comments are closed.