بانو قدسیہ کا حاصل گھاٹ، ایک دانش کدہ (منیر احمد فردوس)۔



(ایک مطالعاتی جائزہ)\"\"

منیر احمد فردوس

محترمہ بانو قدسیہ ادبی نظامِ شمسی کا ایک ایسا درخشاں ستارہ ہیں جن کی روشنی سے پوری ادبی کائنات جگمگا رہی ہے۔ بلاشک و شبہ انھوں نے اردو ادب کو ایسی گہر افشاں تصانیف دی ہیں کہ جن کی بدولت ہمارے ادب کو جو عزت اور وقار ملا ہے، اس نے اردو ادب کو عالمی سطح پر منوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

حال ہی میں ان کی ایک تخلیق حاصل گھاٹ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ جس کا نام بھی ان کی اپنی ہی اختراع ہے۔ حاصل گھاٹ جب پڑھا تو مبہوت ہونے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ اپنے شہرہ آفاق ناول راجا گدھ کے ذریعے میرے حواس پر چھا جانے والی محترمہ بانو قدسیہ کی جب ”حاصل گھاٹ“ جیسی انوکھی تخلیق پڑھی، توجیسے وہ میری روح ہی میں اُتر گئیں۔ حاصل گھاٹ ایک تخلیق نہیں ہے، نور کا ایک ایسا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے، جس کی اجلی موجیں قاری کی بنجر روح کے ساحل سے ٹکرا کر اسے سیراب کرتی رہتی ہیں۔ حاصل گھاٹ کو ناول تو نہیں کہا جا سکتا مگر اپنے اندر وہ یک پہلوتخلیق نہیں، بل کہ ایک شش جہت تخلیق ہے۔ وہ بیک وقت تاریخ کی کتاب ہے۔سوشیالوجی کی دنیا ہے۔ اسلامک ہسٹری ہے۔ محبت کی کہانی ہے۔ ایک افسانہ ہے۔ افکار نامہ ہے اور ساتھ ساتھ فکرو دانش کا ایک قعرِ دریا بھی ہے۔ ”حاصل گھاٹ“ اپنے ہر پہلو سے قوس و قزح کے رنگ بکھیرتی تخلیق ہے۔

بانو قدسیہ نے انتہائی مدلل انداز میں انسان کے باطن سے نکلنے والے دو راستے کھوجے ہیں۔ ایک فلاح کا اور دوسرا ترقی کا راستہ۔ ترقی کے راستے کو انھوں نے جسم کی بناوٹ اور خوب صورتی سے منسوب کیا ہے، جب کہ فلاح کا راستہ ان کے نزدیک روحانیت کا سفر قرار پاتا ہے۔ انھوں نے نہ صرف یہ راستے کھوجے ہیں بل کہ دونوں راستوں پر قاری کو لے کر گھومی بھی ہیں۔ ان کے ایک ایک گوشے سے رُوشناس کرایا ہے اور ان راستوں میں لگے تمام سگنلز سے بخوبی آگاہ کیا ہے۔ پھر وہ ان راستوں کی انتہا تک لے کر گئی ہیں اور ان راستوں سے وجود میں آنے والی منازل کا منظر بھی دکھایا ہے اور پھر قاری کو زیرو پوائنٹ پر واپس لا کر فیصلہ اسی پر چھوڑ دیا ہے کہ اب وہ ان دونوں میں سے کون سا راستہ اختیار کرتا ہے۔

انھوں نے اپنی بے پناہ قوتِ متخیلہ کو بروئے کار لاتے ہوئے جس دل چسپ انداز میں مغربی اور مشرقی معاشرے کا تقابلی جائزہ پیش کیا ہے، اس سے اردو ادب اور معاشرے کے ارتقا کے لیے ان کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ داخلی اور خارجی کیفیات کا بہاو اتنا تیز اور پر زور ہے کہ ایک ہی وقت میں ان گنت کائناتیں دریافت ہو تی چلی جاتی ہیں۔ ترقی پسند مغربی معاشرے کے بظاہر نظر نہ آنے والے تاریک پہلووں کو جس طرح انھوں نے معتدل رہ کر اجاگر کیا ہے، وہ قاری کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ وہ دونوں متضاد معاشروں کو ساتھ ساتھ لے کر انتہائی چابک دستی سے چلتی ہیں۔ ان کا مشاہدہ اتنا جان دار ہے کہ جب وہ مغربی سماج کی بات کرتی ہیں، تو یوں لگتا ہے جیسے وہ اُسی ماحول کی باسی ہیں اور جب یہاں کی با ت کرتی ہیں تو پھر اسی مٹی کا خمیر محسوس ہوتی ہیں۔ انھوں نے یہ بات ثابت کی ہے کہ مغربی معاشرہ انتظامی حوالے سے تو بہتر ہو سکتا ہے مگر اقدار کے معاملے میں وہ یتیم دکھائی دیتا ہے۔ وہاں زندگی جی تو جا سکتی ہے مگر اوڑھی نہیں جا سکتی۔ جب کہ یہاں کی زندگی روح میں اتاری جا سکتی ہے، یہاں کی اخلاقی اقدار کا میٹھا پانی اب بھی پیا جا سکتا ہے۔ قاری یہ بات جان کر حیران رہ جاتا ہے، کہ مغرب کے لوگ تبدیلی کے فطری قانون سے تو واقف ہیں اور اسی قانون پر زندگی بھی گزار رہے ہیں مگر سب کو ساتھ لے کر چلنے کے خوب صورت فطری اصول سے انھوں نے آنکھیں موند رکھی ہیں۔ جو چیز ترقی کےلئے سود مند ثابت ہو، اسے چھین لو کے فارمولے پر عمل پیرا مغربی قوم کو ”حاصل گھاٹ“ کے ذریعے جانچنے کے بعد شعور کا یہ سر سبز پودا ذہن کی زمین پر خود بخود اُگ آتا ہے، کہ مغربی معاشرے میں جلتے ترقی کے برقی قمقمے دراصل چھوٹے ملکوں ہی سے چرائے گئے ہیں۔ ان کے قیمتی وسائل ہتھیا کر صلے کے طور پر ان ملکوں میں طبقاتی، اقتصادی، معاشرتی، لسانی، بد انتظامی اور مذہبی جھگڑوں کے زہریلے سانپ چھوڑ کر ان کی نفسیات و حسیات کو جس انداز میں ڈسا جا رہا ہے،اس سے ہر ترقی پذیر ملک میں احساسِ کم تری کا عفریت دندناتا پھرتا ہے۔ فلاح کے خواہاں ہمارے لوگ جب مغربی ترقی کی اس چندھیا دینے والی روشنی سے مرعوب ہو کر اپنے معاشرے کو دیکھتے ہیں، تو انھیں عیوب کے ان گنت درندے ہر طرف گھومتے نظر آتے ہیں اور وہ ان سے بچنے کے لیے فلاح کے راستے کو خیر باد کہ کر ترقی کے راستے پر چل کرمغربی معاشرے میں پنا ہ لینے نکل پڑتے ہیں۔ وہاں پہنچ کروہ چہرے سے اپنی پہچان کھرچ دیتے ہیں اور سمجھنے لگتے ہیں کہ اب ہم بھی مغربی معاشرے کی صف میں ان کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کے جیسے ہی بن گئے ہیں، مگر اس زعم میں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کوئی بھی جان ور اگرشیر کی کھال پہن لے تو وہ شیر نہیں بن جاتا۔ اپنے معاشرے کو چھوڑتے ہی ایک جرم کا پودا ان کی روح میں اُگ آتا ہے اور اندر ہی اندر وہ پلنے بڑھنے لگتا ہے۔ انھیں اس پودے کا تب احساس ہوتا ہے جب وہ ایک تن آور درخت بن جاتا ہے۔ ایک عمر ترقی کے راستے پر چلتے چلتے جب وہ یقین کی اس دھوپ میں جھلسنے لگتے ہیں، کہ اس غیر معاشرے میں ہماری کوئی جگہ نہیں ہے تو پھر انھیں اپنے معاشرے، اپنے لوگوں اور اپنی ہی روایات کی ضرورت شدت سے محسوس ہونے لگتی ہے؛ اور فطرت کا یہ قانون بھی سمجھ میں آنے لگتا ہے کہ دنیا گول ہے، سفر جہاں سے شروع کیا جائے وہیں پر ختم ہوتا ہے۔ بانو قدسیہ نے یہ فلسفہ جس تمثیلی انداز میں سمجھایا ہے، اس سے قاری ان کی اعلیٰ ذہنی اپروچ اور بلند تخلیقی سطح پر چپ چاپ ایمان لے آتا ہے۔

حاصل گھاٹ کو بنیادی طور پر ناول تو نہیں کہا جا سکتا، مگر بلند پایہ تخلیق ضرور ہے، اورمیرے نزدیک ”حاصل گھاٹ“ کے ذریعے انھوں نے ایک تجربہ کرنے کی کوشش کی ہے، جسے میں ایک کام یاب تجربہ قرار دیتا ہوں۔ تجزیاتی بنیادوں پر یہ تجربہ حقیقت میں فکر و دانش کا ایک ایسا سمندر ہے جسے گہر افشانی کے اصول پر وجود دیا گیا ہے۔

”حاصل گھاٹ“ کے ذریعے بانو قدسیہ نے انسان کے ذہن میں بند ایسے دروازے منکشف کیے ہیں، جنھیں انسان کبھی بھی نہیں کھوج پایا تھا، اور قاری پر ہر دروازے سے فکر و معانی کی ایک نئی کائنات آشکار ہونے لگتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے محبت کی ایک ایسی کہانی بھی بیان کی ہے، جس کے سحر میں گرفتار ہو کر قاری اپنی ذات سے ناآشنا ہو جاتا ہے۔ انھوں نے اپنے کرداروں سے ایسے ایسے مکالمے کہلوائے ہیں کہ ذہن کی ان گنت بند پرتیں خود بخود کھلتی چلی جاتی ہیں، اور قاری ان مکالموں کی معنویت کے لالہ زاروں میں گھومتا رہتا ہے۔

بانو قدسیہ کے خوب صورت اسلوب سے تو سارا جہاں واقف ہے۔ ان کا مخصوص اور اجلا اندازِ بیان یہاں بھی وہی سحر بکھیرتا نظرآتا ہے، جو عام طور پر ان سے منسوب ہے اور ان کی منفرد پہچان ہے۔ ”حاصل گھاٹ“ میں بھی ان کا ایسا ہی جادو بھرا اندازِ بیان سطر سطر میں سانس لیتا نظر آتا ہے، اور اسلوب پر ان کی گرفت اتنی مضبوط اور چست ہے کہ قاری پتھر کا ہو کے رہ جاتا ہے۔ شروع سے آخر تک ایک نور کی بارش ہے جو تھمنے میں نہیں آتی۔

ویسے تو بانو قدسیہ کی ہر تصنیف کے ساتھ جڑا ان کا نام ہی کافی ہے، مگر میری نظر میں ”حاصل گھاٹ“ ہر ادب دوست اور ادیب کی لائبریری کا حصہ ضرورہونی چاہیے، ورنہ ان کی لائبریری کو ادھورے پن کی دیمک چاٹتی رہے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔