’قائد اعظم اسلام سے دور اور قتل عام کے ذمہ دار ہیں، مجھے قیادت دو‘ مولانا مودودی


\"\"

زاہد چوہدری 1922 میں امرتسر میں پیدا ہوئے۔ 1944 میں لاہور سے نوائے وقت جاری ہوا تو اس کے رپورٹر کے طور پر صحافت شروع کی۔ اس کے بعد سول اینڈ ملٹری گزٹ، پاکستان ٹائمز اور نیشنل نیوز کے لئے کام کیا۔ ان کی کئی جلدوں پر مشتمل ’پاکستان کی سیاسی تاریخ‘ میں مضبوط عصری حوالوں کی بنیاد پر تاریخ کو قلمبند کیا گیا ہے۔ بارہ جلدوں پر مشتمل یہ سیٹ پاکستان کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے اہم کتاب ہے۔ زاہد چوہدری کا انتقال 1985 میں ہوا۔

مندرجہ ذیل اقتباس ان کی کتاب کی گیارہویں جلد کے صفحہ نمبر 176 پر موجود مضمون سے لیا گیا ہے۔ زاہد چوہدری کی زبان سے ہم اختلاف رکھتے ہیں کیونکہ ہماری رائے میں وہ اردو کے اسلوب کے لحاظ سے نہایت شائستہ نہیں ہے مگر غالباً یہ اسلوب ان کے تین چار دہائیوں تک انگریزی صحافت کا عادی ہونے کی وجہ سے ان کی اردو میں در آیا ہے۔ آئیے زاہد چوہدری کی کتاب سے اقتباس پڑھتے ہیں۔


مودودی کا مطالبہ کہ چونکہ قائد اعظم اسلام سے بہت دور ہیں اور تقسیم کے دوران مسلمانوں کے قتل عام کے ذمہ دار ہیں اس لئے ان کو قیادت سے ہٹا کر اسے قائد بنا دیا جائے۔

\"\"

جماعت اسلامی کے امیر ابوالاعلی مودودی کو بھی پاکستان کے ان 80 فیصد ان پڑھ غریب عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ وہ انہیں نسلی مسلمان کہتا تھا اور انہیں چڑیا گھر کے جانوروں سے اونچا درجہ نہیں دیتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ جو موٹر پر آیا ہے وہ موٹر پر چلے، جو پیدل آیا ہے وہ پیدل چلے اور جو لنگڑا آیا ہے وہ لنگڑا کر ہی چلے۔

تاہم جولائی 1948 میں جب کہ قائد اعظم محمد علی جناح کوئٹہ ککے نزدیک زیارت کے مقام پر ایک چھوٹے سے ریسٹ ہاؤس میں بستر مرگ پر پڑے ہوئے تھے، ابو الاعلی مودودی پاکستان کی قیادت عظمیٰ کا خواب دیکھ رہا تھا اور اس نے اپنی اس تمنا کا اظہار اپنے ماہنامے ترجمان القرآن کے جولائی 1948 کے شمارے میں کر بھی دیا۔ اس نے لکھا کہ ”اسی حل کو مسلمانوں نے قبول کیا (یعنی پاکستان کو) اور اپنی ساری قومی قوت، اپنے تمام ذرائع اور اپنے جملہ معاملات اس قیادت کے حوالے کر دیے جو ان کے قومی مسئلہ کو اس طرح حل کرنا چاہتی تھی۔ دس برس کے بعد آج اس کا پورا کارنامہ ہمارے سامنے ہے اور ہم دیکھ چکے ہیں کہ اس نے کس طرح، کس صورت میں ہمارے مسئلہ کو حل کیا۔

جو کچھ ہو چکا، وہ تو انمٹ ہے اب اسے بدلا نہیں جا سکتا۔ (اگر بدلا جا سکتا تو مودودی اس کو پھر اکھنڈ بھارت کر دیتا)۔ اس پر اس حیثیت سے بحث بیکار ہے اور یہ کیا جاتا تو کیا ہوتا۔ البتہ اس حیثیت سے اس پر بحث کرنا ضروری ہے کہ جو مسائل اب ہمیں درپیش ہیں کیا ان کے حل کے لئے بھی وہی قیادت موزوں ہے جو اس سے پہلے ہمارے قومی مسئلہ کو اس طرح حل کر چکی ہے؟ کیا اس کا اب تک کا کارنامہ یہی سفارش کرتا ہے کہ اب جو بڑے بڑے اور نازک مسائل ہمارے سر پر آ پڑے ہیں جن کا بیشتر حصہ خود اسی قیادت کی کارفرمائیوں کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے، انہیں حل کرنے کے لئے ہم اس پر اعتماد کریں“۔

\"\"نوائے وقت نے مودودی کے اس مضمون پر اپنے ادارتی تبصرے میں اس لئے خوشی کا اظہار کیا کہ ”حضرت مولانا نے 10 سال کے عرصے میں پہلی مرتبہ دل کی بات کھل کر کہی اور صاف لفظوں میں مسلمانوں سے کہا کہ محمد علی جناح کی جگہ مجھے قائد اعظم مانو۔ اب صرف اتنا کرم فرمائیں کہ مسلمانوں کو یہ بتا دیں کہ آپ کا ٹھوس سیاسی پروگرام کیا ہے؟ اب یہ پروگرام مسلمانوں کے حق میں بہتر ہو گا تو مسلمان قائد اعظم کو چھوڑ کر آپ کو اپنا لیڈر مان لیں گے۔ اپنا پروگرام نہ بنانا اور محض نعروں ہی سے مسلمانوں کا دل بہلانا یا قائد اعظم کو ’احمق‘، ’غلط کار‘ اور ’دین میں ہلکا‘ ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہنا ہرگز آپ کے شایان شان نہیں۔ قائد اعظم کو مسلمان آزما چکے ہیں اور ان کا ریکارڈ قوم کے سامنے ہے۔ آپ کو ابھی قوم نے آزمانا ہے۔ جب تک آپ مسلمانوں کو اپنا ٹھوس پروگرام نہیں بتائیں گے آپ قائد اعظم کو ہزار گالیاں دیجیے مسلمان آپ کے دست مبارک پر بیعت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے“۔

نوائے وقت نے اپنے اس اداریے میں ملا مودودی کے اس مضمون کا یہ اقتباس نہیں دیا تھا کہ تحریک پاکستان کے ”اجزا ترکیبی میں مومن اور کھلے کھلے ملحد سب شامل تھے بلکہ دین میں جو جتنا ہلکا تھا وہ اتنا ہی اوپر آیا۔ اس میں اخلاق کی سرے سے کوئی پوچھ نہ تھی۔ عام کارکنوں سے لے کر بڑے بڑے ذمہ دار لیڈروں تک میں انتہائی ناقابل اعتماد سیر کے لوگ موجود تھے۔ بلکہ تحریک کا قدم جتنا آگے بڑھا اس قسم کے عناصر کا تناسب بڑھتا ہی چلا گیا۔ اسلام کو اتباع کے لئے نہیں بلکہ صرف عوام میں مذہبی جوش پیدا کرنے کے لئے فریق جنگ بنایا گیا تھا۔ کبھی ایک دن کے لئے بھی اس کو یہ حیثیت نہیں دی گئی کہ وہ حکم دے اور یہ اسے مانیں اور کوئی قدم اٹھاتے وقت اس سے استصواب کریں“۔

مودودی کی اس تحریر میں ”اسلام کے اتباع“، ”اسلام کے حکم“ اور ”اسلام سے استصواب“ کے جو الفاظ استعمال کیے گئے تھے ان کا مطلب صرف یہ تھا کہ چونکہ تحریک پاکستان ابو الاعلی مودودی کے زیر قیادت نہیں تھی، چونکہ اس تحریک میں اس سے حکم نہیں لیا گیا تھا اور چونکہ اس سے کوئی استصواب نہیں کیا گیا تھا اس لئے یہ غیر اسلامی تھی۔ اور محمد علی جناح محض اس لئے قائد اعظم بنا تھا کہ وہ ”دین میں ہلکا“ تھا، ”اخلاق سے عاری“ تھا، اور اس کی سیرت ناقابل اعتماد تھی۔

\"\"

ابو الاعلی مودودی نے اپنے ماہنامے کے جون 1948 کے شمارے میں بھی قائد اعظم جناح پر اسی قسم کا حملہ کر کے بین السطور میں اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ قیادت عظمیٰ میرے سپرد کر دی جائے۔ اس نے لکھا تھا کہ ”دس سال سے مسلمانوں کی قیادت عظمیٰ جس لائحہ عمل پر چل رہی ہے وہ سلطان عبدالحمید خان کی سیاست سے ملتا جلتا تھا۔ جس طرح وہ 33 سال تک محض دول یورپ کی باہمی رقابت سے فائدہ اٹھا کر جیتے رہے اور اس دوران میں خود ٹرکی کی کوئی طاقت انہوں نے نہ بنائی جس کے بل بوتے پر وہ جی سکتا، اسی طرح اس قیادت کا بھی سارا سیاسی کھیل بس انگریز اور کانگریس کی کشمکش سے فائدہ اٹھانے تک محدود تھا۔ پورے دس سال میں اس نے خود اپنی قوم کی اخلاقی، مادی اور تنظیمی طاقت بنانے اور اس کے اندر قابل اعتماد سیرت پیدا کرنے کی کوشش نہ کی جس کی بنا پر وہ اپنے کسی مطالبے کو خود اپنی قوت سے منوا سکتی۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ جونہی انگریز اور کانگریس کی باہمی کشمکش ختم ہوئی، اس قیادت عظمیٰ نے اپنے آپ کو ایسی حالت میں پایا جیسے اس کے پاؤں تلے زمین نہ ہو۔ اب وہ مجبور ہو گئی کہ جو کچھ بھی، جن شرائط پر بھی طے ہوا اسے غنیمت سمجھ کر قبول کر لے۔ بنگال و پنجاب کی تقسیم اسے بے چون و چراں ماننی پڑی، سرحدوں کے تعین جیسے نازک مسئلے کو اس نے صرف ایک شخص کے فیصلے پر چھوڑ دیا۔ انتقال اختیار کے لئے جو وقت اور جو طریقہ تجویز کر دیا گیا اسے بھی بلا تامل اس نے مان لیا۔ حالانکہ یہ تینوں امور صریح طور پر مسلمانوں کے حق میں مہلک تھے۔ انہی کی وجہ سے ایک کروڑ مسلمانوں پر تباہی نازل ہوئی اور انہی کی وجہ سے پاکستان کی عمارت روز اول ہی سے متزلزل بنیادوں پر اٹھی“۔

زاہد چوہدری صاحب نے اس سے آگے اس باب میں ان بیانات کی بنیاد پر جو نتیجہ اخذ کیا ہے، وہ ہمارے لئے نقل کرنا ممکن نہیں ہے۔ دلچسپی رکھنے والے حضرات خود اس کتاب کا مطالعہ کریں تو مناسب ہے۔


نوائے وقت نے کیوں کہا تھا کہ سید مودودی محمد علی جناح کی جگہ لینا چاہتے تھے؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 664 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

12 thoughts on “’قائد اعظم اسلام سے دور اور قتل عام کے ذمہ دار ہیں، مجھے قیادت دو‘ مولانا مودودی

  • 25-12-2016 at 11:18 pm
    Permalink

    جماعت اسلامی کے اراکین بڑے فخر سے بتاتے ھیں که جناح صاحب ںے مولانا کو ریڈیو پاکستان پر دینی پروگرام کی باقاعدہ دعوت دی تھی کیا یہ کافی نهیں ثابت کرنے کو کہ جناح اسلامی نظام کیلئے مولانا مودودی کی رہنمائ چاھتے تھے ………… جبکہ حقیقت فقط اتنی کے اس وقت ریڈیو پاکستان کا سربراہ گورنر جنرل ھوتا تھا ریڈیو پاکستان کے پروگرامز کےلئے فنکاروں کو گورنر جنرل کے پرنٹ شدہ انویٹیشن کارڈ بھیجے جاتے تھے جناح کے فرشتوں کو بھی معلوم ںہ ھوتا تھا کہ آج انکی دعوت پر استاد بڑے غلام علی خان ںے ” یاد پیا کی آئے ” ٹھمری سنائی تھی یا کسی مولانا ںے اپنی تصنیف ” پردہ ” سے اقتباسات پڑھ کر مستقبل کےلئے ” یوم حیا ” منانے کی منصوبہ بندی کی تھی

  • 26-12-2016 at 7:35 am
    Permalink

    I would urge humsub to show a hint of objectivity and also publish the ideas of Abdul Ghaffar Khan about Partition and Jinnah sb. I have never seen any secularist/liberal with daggers drawn against this secularist for his stance. It seems like the only reason Mawdudi sb is always the target is his association with religion.

  • 26-12-2016 at 2:15 pm
    Permalink

    قائد اعظم، مولانا مودودی اور تحریک پاکستان:۔۔
    کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے کہ دو قومی نظریہ کی شاندار، مدلل اور مؤثر حمایت کرنے، اسلامیان ھند کو بیدار کرنے نیز کانگریس اور متحدہ قومیت کے علمبرداروں کی مٹی پلید کرنے کے باوجود مولانا مودودی ؒ نے کھل کر قائد اعظم ؒ کی سیاسی حمایت کیوں نہیں کی کہ جماعت اسلامی کو آج تک پاکستان مخالف کا طعنہ برداشت کرنا پڑ رھا ھے؟؟ 65،71،کارگل، کشمیر، افغانستان اتنی لازوال قربانیاں مگر یہ گھسا پٹا طعنہ پھر بھی جماعت اسلامی کے ساتھ چمٹا دیا گیا ہے۔

    علامہ اقبال، شریف الدین پیرزادہ، فیض احمد فیض، میاں محمد شفیع، مولانا ظفر احمد انصاری، قمرالدین جیسے زعماء امت نے حتی کہ قائد اعظم رح نے خود بھی مولانا مودودی رح کے کام کو سراہا اور دو قومی نظریہ کے حق میں ديے گئے زبردست دلائل اور کانگریس اورکانگریسی ملاؤں کی چھترول کا خیر مقدم کیا۔۔

    تن تنہا اتنا مؤثر کام کرنے کے باوجود قائد اعظم ؒ کی حمایت نہ کرنے کی وجہ مسلم لیگ کی صفوں میں موجود وہ کرپٹ جاگیردار تھے جنہیں قائد اعظم رح خود “کھوٹے سکے” کہا کرتے تھے یا مولانا مودودی رح “سید” اور “سلسلہ مودودیہ” کے احساس برتری میں مبتلاء تھے؟؟؟

    تحریر لکھنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تاریخ سے نابلد ہر ان پڑھ، جاہل کٹا بھی جب چاھے منہ اٹھا کر ہانک دیتا ھے کہ جماعت اسلامی پاکستان کی مخالف تھی اور بیچاری جماعت اسلامی بھی 68 سال سے بیک فٹ پر کھڑی بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ھے۔۔۔

    قائد اعظم رح ایک عرصہ تک کانگریس کے رکن اور اہم رہنما رہے، پاکستان بننے سے چند سال پہلے تک کنفڈریشن سمیت مختلف آپشن بھی ڈسکس کرتے رہے جبکہ دوسری جانب مولانا رح نے مسلم لیگ کے طریقہ کار اور طرز عمل کی اوپن حمایت کرنے کے بجاۓ تنقید ضرور کی مگر مولانا ایک لمحہ کے لئےبھی نہ کبھی کانگریس کے ممبر رھے اور نہ ہی انہوں نے کبھی متحدہ قومیت کے وطنی تصور کو قبول کیا۔۔۔۔

    قرارداد پاکستان 1940 میں منظور ھوئی جسکا سیدھا صاف مطلب یہ ھے کہ 1935/45 کے دوران وہی شخص پاکستان مخالف ہو سکتا ہے جو یا تو انگریز کا وفادار ہو، یا کانگریس کا حصہ ہو یا پھر متحدہ قومیت کا حامی۔۔۔ کیا ان تین باتوں میں کوئی ایک بات بھی ایمانداری سے مولانا مودودی رح سے منسوب کی جا سکتی ہے؟؟؟

    جہاں تک قائد اعظم رح کی وفات کے بعد اقتدار پر قبضے کی بات ہے تو یہ زاہد چوھدری نامی غیر معروف شخص کی طوائفانہ ذہنیت کی غلیظ اختراع ہے۔۔ ایسے لوگوں کو جب تعصب اور حسد کا ہیضہ ہو جا تو غلاظت کی قے کر کی ہی رھتے ہیں۔۔

    فاتر العقل، منحنی دماغ افراد کی بات نہیں کرتا مگر وہ شخص جسے اللہ نے عقل سلیم سے نوازا ہو وہ مولانا کی کسی بھی تصنیف کی چند سطریں پڑھ کر ہی اندازہ کر لیتا ہے کہ مولانا مودودی ؒ کی فکر، فلسفے اور جدوجہد میں سطحی، غیر سنجیدہ اور لا یعنی گفتگو کی کوئی گنجائیش نہیں۔۔ پھر یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ مولانا مودودی رح کے سیاسی فلسفے کا بنیادی نقطہ عوام، جمہوریت اور انتخابات ہیں۔

  • 26-12-2016 at 2:20 pm
    Permalink

    دو قومی نظریے کے متعلق مولانا کے کچھ ارشادات آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔ کوشش کروں گا کہ آج ہی پیش کر دوں۔

  • 26-12-2016 at 2:30 pm
    Permalink

    سر آپ بالکل اپنی کوششیں جاری رکھیں، کیونکہ آپ کے متعلق یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی ہے کہ آپ سیکولر امریکا اور بھارت کی خدمت میں آپ کے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی ذہن سازی کا کام کرنے والے تمام ہی افراد کو نشانہ ہدف بنائے ہوئے ہیں اور اس کی جگہ پر چا نک یا کو اپنے محس مبلغ اور کارہا دانش ور سمجھتے ہیں، اس بات سے یہ تو واضح ہورہا ہے کہ آپ کے ہیرو کون لوگ ہے اور پاکستان کو آپ کیا بنانا چاہتے ہیں وہ بھی غیر کی چاکری کرکے

  • 26-12-2016 at 2:33 pm
    Permalink

    ویسے آپ مانگ گئے ہیں نہ برصغیر کی تقسیم کسی نظرئیے کے تحت ہوئی تھی، وہ دو قومی نظریہ جسے حرف عام میں نظریہ پاکستان کہا جاتا ہے۔ چلیں دیر آئید درست آید، بغض مولانا مودودیؒ میں ہی سہی اپنی راہ تو بدلی

  • 26-12-2016 at 2:33 pm
    Permalink

    ویسے آپ مان گئے ہیں نہ برصغیر کی تقسیم کسی نظرئیے کے تحت ہوئی تھی، وہ دو قومی نظریہ جسے حرف عام میں نظریہ پاکستان کہا جاتا ہے۔ چلیں دیر آئید درست آید، بغض مولانا مودودیؒ میں ہی سہی اپنی راہ تو بدلی

  • 26-12-2016 at 2:41 pm
    Permalink

    یہ راز اگر کسی کو سمجھ میں نہیں آیا تو وہ مولانا ابوالکلام آزاد تھے یا مولانا حسین احمد مدنی تھے جو زندگی بھر ہندوئوں اور کانگریس کی زلف کے اسیر رہے۔ علامہ مشرقی یا مولانا مودودی کا معاملہ یکسر مختلف ہے کیونکہ یہ دونوں حضرات قیام پاکستان کے مخالف نہیں تھے بلکہ مسلم لیگ کے بوجوہ مخالف تھے۔ جماعت اسلامی نے نہ تحریک پاکستان کی مخالفت کی اور نہ حمایت۔ ان کا خیال تھا کہ مسلم لیگ اسلامی ریاست کا خواب دکھا رہی ہے لیکن یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔ بہرحال میرا سوال صرف اتنا سا ہے کہ تاریخ میں سر سید، اقبال اور جناح کا کیا مقام ہے اور ان کے مقابلے میں مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا حسین احمد مدنی کہاں کھڑے ہیں؟ میں جب عالمی سطح کے مورخین کی کتابوں میں جھانکتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا مدنی کہیں نظر ہی نہیں آتے جبکہ اقبال و جناح عالمی سطح کے مفکرین و قائدین کی صف اول میں کھڑے نظر آتے ہیں۔
    منزلیں حوصلوں سے ملتی ہیں …صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود

  • 26-12-2016 at 4:00 pm
    Permalink

    اللہ کا شکر ہے کہ ابھی تک عدنان خان کاکڑ صرف ایک سکہ بند کمیونسٹ اور کمینیونزم کی شکست کے بعد رنگ بدل کر سیکولر، لبرل اور روشن خیال کی پرچار کر رہے ہیں کی( ہم سب) ویب کے ناعب مدیر ہیں۔ ورنہ یہ کہیں انگریز کے چھانسے میں آ کر بی بی سی کے نمایدے بن کر،ملالا کی ڈائری لکھ کر زیرو سے ہیرو بنانے میں ملالہ، یا عبداللہ کاکڑ کی طرح پٹھان ذلمے بن کر پاکستان کے خلاف ٹرینیگ لینے افغانستان نہ چلے گئے ہوتے۔ اسلام اور پاکستان کو اپنی کم تکلیف پہنچانے کی موجودہ پوزیشن پر وہ پاکستان میں اسلامی نظام کی دائی اور اس کے موجد سید مودودی کی کردار کشی کرتے رپتے ہیں۔ ۔ ۔ تقاریر کی کسی تحریر کو سیاق سناق سے ہٹا کر اور نامعلوم زاہد چودھری جو چالیس سال تک انگریزی کی صاحفت جو ہمیشہ مسلمانوں کی مخالف رہی ہے کو کاکڑ صاحب کی طرح مودودی پر طنز کرتے رہتے ہیں

  • 26-12-2016 at 4:03 pm
    Permalink

    سوال: جیسا کہ آپ کو معلوم ہے صوبہ سرحد میں اس سوال پر ریفرنڈم ہو رہا ہے کہ اس صوبہ کے لوگ تقسیم ہند کے بعد اپنے صوبے کو ہندوستان کے ساتھ شامل کرانا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ۔ وہ لوگ جو جماعت اسلامی پر اعتماد رکھتے ہیں، ہم سے دریافت کرتے ہیں کہ ان کو اس استصواب میں رائے دینی چاہیے اور کس طرف سے رائے دینی چاہیے؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس استصواب میں بھی ہماری پالیسی اسی طرح غیر جانبدارانہ ہونی چاہیے جیسے مجالس قانون ساز کے سابق انتخابات میں رہی ہے ورنہ ہم پاکستان کے حق میں اگر ووٹ دیں گے تو یہ ووٹ آپ سے آپ اس نظام حکومت کے حق میں بھی شمار ہوگا جس پر پاکستان قائم ہو رہا ہے۔

    جواب: استصواب رائے کا معاملہ مجالس قانون ساز کے انتخابات کے معاملے سے اصولاً مختلف ہے۔ استصواب رائے صرف اس امر سے متعلق ہے کہ تم کس ملک سے وابستہ رہنا چاہتے ہو۔ ہندوستان سے یا پاکستان سے؟ اس معاملے میں رائے دینا بالکل جائز ہے اور اس میں شرعی قباحت نہیں ہے۔لہٰذا جن جن علاقوں میں استصواب رائے کیا جا رہا ہے وہاں کے ارکان جماعت اسلامی کو اجازت ہے کہ اس میں رائے دیں۔

    رہا یہ سوال کہ کس چیز کے حق میں رائے دیں تو اس معاملے میں جماعت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں عائد کی جاسکتی، کیونکہ جماعت اپنے ارکان کو صرف ان امور میں پابند کرتی ہے جو تحریک اسلامی کے اصول اور مقصد سے تعلق رکھتے ہیں، اور یہ معاملہ نہ اصولی ہے نہ مقصدی۔ اس لیے ارکان جماعت کواختیار ہے کہ وہ اپنی صوابدید کے مطابق جو رائے چاہیں دے دیں۔ البتہ شخصی حیثیت سے میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر میں خود صوبہ سرحد کا رہنے والا ہوتا تو استصواب رائے میں میرا ووٹ پاکستان کے حق میں پڑتا۔ اس لیے کہ جب ہندوستان کی تقسیم ہندو اور مسلم قومیت کی بنیاد پر ہو رہی ہے تو لامحالہ ہر اس علاقے کو جہاں مسلمان قوم کی اکثریت ہو اس تقسیم میں مسلم قومیت ہی کے علاقے کے ساتھ شامل ہونا چاہیے۔

    پاکستان کے حق میں ووٹ دینا لازماً اس نظام حکومت کے حق میں ووٹ دینے کا ہم معنی نہیں جو آئندہ یہاں قائم ہونے والا ہے۔ وہ نظام اگر فی الواقعی اسلامی ہوا جیسا کہ وعدہ کیا جاتا رہا ہے تو ہم دل و جان سے اس کے حامی ہوں گے اور اگر وہ غیراسلامی نظام ہوا تو ہم اسے تبدیل کرکے اسلامی اصولوں پر ڈھالنے کی جدوجہد اسی طرح کرتے رہیں گے جس طرح موجودہ نظام میں کررہے ہیں۔

    (سہ روزہ ’’کوثر‘‘ مورخہ 5 جولائی 1947ء)

  • Pingback: نوائے وقت نے کیوں کہا تھا کہ سید مودودی قائداعظم کی جگہ لینا چاہتے ہیں؟ - ہم سب

  • 26-12-2016 at 4:50 pm
    Permalink

    کیا فرماتے ہیں میرے پیارے سیکولرکاکڑ صا حب اوپر کی تحریر جو ابو انصار علی نے پوسٹ کی ہے، پڑھ کر۔ ۔ ۔ اس تحریر کو بھی سیاق سباق سے علیحدہ کر کے کوئی نیا فتنہ کھڑ دو۔ کیونکہ اس کام میں آپ نے پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے
    میر افسر امان

Comments are closed.