باچا خان یونی ورسٹی پر حملہ، سکیورٹی کی ذمہ داری کس کی؟


Fazle Rabbi Rahi

تحریر: فضل ربی راہی۔۔۔ 

خیبر پختون خوا حکومت کے ’’بزرجمہروں‘‘ کی طرف سے ایک نیا شگوفہ پھوٹ پڑا ہے۔ باچا خان یونی ورسٹی چارسدہ کے سانحہ کے بعد صوبائی حکومت نے دہشت گردوں کے حملہ کے حوالے سے ایک انکوائری کمیٹی قائم کی تھی جس میں شامل بزرجمہروں نے سرجوڑ کر اس حملہ کی وجوہات پر غور و خوض کیا، حملے کے ہر پہلو کا بہ غور جائزہ لیا گیا اور بہت سوچ بچار کے بعد کمیٹی کے اراکین اس نتیجہ پر پہنچے کہ باچا خان یونی ورسٹی کی سکیورٹی کی ذمہ داری وائس چانسلر اور سکیورٹی انچارج کی تھی اور ان ہی کی غفلت اور لاپرواہی سے دہشت گردوں کو یونی ورسٹی کے اندر گھس کر طالب علموں اور اساتذہ پر حملہ کرنے کا موقع ملا۔

ایسے موقعوں پر شاید یہی کہا جاتا ہے کہ ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے۔ ہماری قسمت میں ایسے ہی حکمران لکھے گئے ہیں جنھیں یا تو اپنی پارٹی کے چیئرمین کے بے ثمر دھرنوں میں ناچ گانے سے فرصت نہیں اور یا انھیں یہ ہوش تک نہیں رہتا کہ پاک چین راہ داری کا وہ منصوبہ جسے خیبر پختون خوا سے گزرنا ہے اور جس میں وفاقی حکومت خاموشی لیکن تندہی سے اپنے صوبے کے لیے ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں تراش رہی ہے، اس میں وہ بھی اپنے صوبے کے مفادات کے تحفظ کو بروقت یقینی بنا دیتے۔ ہمیں تو ایسے صوبائی حکمران ملے ہیں جن میں اتنی بھی صلاحیت نہیں کہ وہ اپنا سالانہ ترقیاتی بجٹ استعمال کرنے کے لیے منصوبہ بندی کریں اور صوبے میں عوامی ترقی اور خوشحالی کے لیے اسے استعمال میں لائیں۔ ایسے حکمرانوں سے ہم کسی بھلائی کی کیا توقع رکھ سکتے ہیں جو آرمی پبلک اسکول پر وحشیانہ حملہ کے بعد اعلان کریں کہ ہر اسکول کو اپنی حفاظت کے لیے خود ہی بندوبست کرنا ہوگا۔ دوسرے معنوں میں وہ اپنی ناکامی کا واشگاف اعلان کرتے ہیں کہ وہ اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کو امن اور تحفظ فراہم نہیں کرسکتے۔ اب ان کی سلامتی اسکول کے گیٹ پر کھڑے ایک غیر تربیت یافتہ چوکیدار سے مشروط ہے جس کے ہاتھ میں کوئی درہ وال پستول ہوگا یا کوئی اور ازکارِ رفتہ اسلحہ جسے محفوظ طریقے سے چلانے کی اسے کوئی مناسب تربیت بھی فراہم نہیں کی گئی ہوگی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں کا کام بچوں کو تعلیم و تربیت سے بہرہ ور کرنا ہے یا ان کے اساتذہ کو پستول یا کلاشنکوف پکڑوانا ہے کہ ان بچوں کو پڑھانا بھی ان کی ذمہ داری ہے اور ان کو دہشت گردوں سے تحفظ فراہم کرنا بھی ان کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔ کیا وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا پرویز خٹک سے یہ پوچھنے کی جسارت کی جاسکتی ہے کہ منتخب عوامی حکومتوں کی کیا ذمہ داریاں ہوتی ہیں اور ریاست کی چھتری تلے عوام کو کون سے حقوق حاصل ہوتے ہیں؟ کوئی حکومت، کوئی ریاست اگر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اس کے نتائج کیا ہوتے ہیں؟ یہ جاننے کے لیے کسی سقراط یا بقراط کی ضرورت نہیں۔ اجتماعی تباہی و بربادی ایسی حکومتوں اور ریاستوں کے در پر دستک دینی لگتی ہے اور اس کے بھیانک تنائج خانہ جنگی اور انارکی کی صورت میں برآمد ہوتے ہیں۔

خیبر پختون خوا کی حکومت نے اگر باچا خان یونی ورسٹی چارسدہ پر دہشت گردوں کے حملہ کی ذمہ داری وائس چانسلر پر عائد کی ہے اور اس کا سبب ناقص سکیورٹی انتظامات قرار دئیے ہیں تو اعلیٰ صوبائی حکام سے یہ بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ افغانستان سے آنے والے دہشت گرد جب پاک افغان سرحد پار کر رہے تھے تو اس وقت متعلقہ سکیورٹی ادارے کیا کر رہے تھے؟ سکیورٹی تھریٹ جاری کردی گئی تھی لیکن صوبائی حکومت نے باچا خان یونی ورسٹی میں منعقدہ پروگرام کے سلسلہ میں فول پروف سکیورٹی کیوں فراہم نہیں کی؟ اس لاپروائی کے ذمہ دار کون ہیں؟ اس جنگ میں اب تک 70 ہزار سے زائد معصوم شہری اپنی قیمتی جانوں سے محروم ہوچکے ہیں، پانچ ہزار سکیورٹی اہل کار کام آئے ہیں، یہ کس کی لاپرواہی ہے؟

          خیبر پختون خوا حکومت کی قائم کردہ انکوائری کمیٹی نے باچا خان یونی ورسٹی کے وائس چانسلر سمیت یونی ورسٹی کے کئی دوسرے افراد کو اپنے عہدوں سے برخواست کرنے کی سفارش کی ہے لیکن صوبائی حکومت کے ان بزرجمہروں کو یہ علم نہیں کہ تعلیمی اداروں کا منصب طلباء کی تعلیم و تربیت ہے، ان کی ذہنی نشوونما ہے۔ ان میں موجود اساتذہ کا کام یہ نہیں کہ وہ اسلحہ بند ہوکر دہشت گردوں کا مقابلہ کر یں۔ یہ کام ریاست کا ہے اور اس مقصد کے لیے سکیورٹی ادارے موجود ہیں۔ اگر آپ عوام کو امن و سلامتی فراہم نہیں کرسکتے تو اپنی ناکامی کا اقرار کرکے مستعفی ہوجائیں۔ اپنی ناکامیوں اور نا اہلیوں کا ملبہ قابل صد احترام اساتذہ پر نہ ڈالیں۔ باچا خان یونی ورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فضل رحیم نے ممتاز صحافی اور اینکر کامران خان کے استفسار پر صوبائی حکومت کی قائم کردہ انکوائری کمیٹی کے فیصلہ پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’باچا خان یونی ورسٹی پر حملہ سے قبل مجھے انتظامیہ کی طرف سے کوئی سکیورٹی الرٹ نہیں ملا تھا اور نہ انفرادی طور پر مجھے کہیں سے کوئی دھمکی دی گئی تھی لیکن مجھے یہ لگ رہا ہے کہ کسی کو اس بات پر افسوس ہو رہا ہے کہ میں اس واقعہ میں کیوں نہیں مرا، ورنہ میں اگر دس منٹ پہلے یونی ورسٹی پہنچ جاتا تو شاید اس وقت اپنا موقف بیان کرنے کے لیے زندہ نہ ہوتا‘‘۔

 


Comments

FB Login Required - comments