دل \’ہم سب\’ سے انصاف طلب ہے


\"\"دل جو کبھی صاحب اولاد سے انصاف طلب ہوتا ہے آج \’ہم سب\’ سے انصاف طلب ہے. کیا فرماتے ہیں برادر محترم وجاہت مسعود بیچ اس مسئلے میں؟

ایک تحریر شائع ہوئی. عنوان ہے : قائد اعظم اسلام سے دور اور قتل عام کے ذمہ دار ہیں، مجھے قیادت دو. سید مودودی.

جن لوگوں نے سید مودودی جیسی نجیب شخصیت کی تحریروں کا مطالعہ کر رکھا ہے وہ. جانتے ہیں یہ سید کا اسلوب گفتگو نہیں ہے. میں نے حیرت سے مضمون کھولا تو معلوم ہوا زاہد چودھری صاحب کی کتاب کا حوالہ ہے . حوالہ کا متن. پڑھا تو ایسی بات کہیں نہیں ہے.

سید صاحب کی ایک تحریر ہے جس میں انہوں نے حالات پر عمومی تبصرہ کیا ہے اس تبصرے کی خود ہی ایک شرح بیان کی گئی اور پھر اس شرح کی. بنیاد پر مضمون کی سرخی نکال دی گئی. دنیائے دانش و فکر میں اور حتی کہ صحافت میں بھی آپ کسی کی بات کی شرح تو اپنے فہم کے. مطابق کر سکتے ہیں لیکن آپ اپنا فہم یوں کسی کا بیان بنا کر پیش نہیں کر سکتے جیسا کہ یہاں کیا گیا.

ہمیں اختلاف کرنا چاہیے کہ اختلاف ہی زندگی کا حسن ہے لیکن خدا لگتی کہیے سید مودودی جیسے نفیس نجیب اور صاحب علم سے ایسی بات منسوب کرنا کہاں کا انصاف ہے.

عزیز ترین دوست سے یہ دل انصاف طلب ہے..

برادر عزیز آصف محمود، اس درویش کی تحریر اس موضوع پر روز نامہ جنگ میں اور پھر ہم سب پر شائع ہوئی تھی۔ لنک پیش خدمت ہے۔ کسی کی توہین یا دل آزاری ہرگز صحافت کا منصب نہیں۔ اس سے بہرصورت اجتناب کرنا چاہیے – مدیر


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “دل \’ہم سب\’ سے انصاف طلب ہے

  • 26-12-2016 at 2:21 pm
    Permalink

    قائد اعظم، مولانا مودودی اور تحریک پاکستان:۔۔
    کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے کہ دو قومی نظریہ کی شاندار، مدلل اور مؤثر حمایت کرنے، اسلامیان ھند کو بیدار کرنے نیز کانگریس اور متحدہ قومیت کے علمبرداروں کی مٹی پلید کرنے کے باوجود مولانا مودودی ؒ نے کھل کر قائد اعظم ؒ کی سیاسی حمایت کیوں نہیں کی کہ جماعت اسلامی کو آج تک پاکستان مخالف کا طعنہ برداشت کرنا پڑ رھا ھے؟؟ 65،71،کارگل، کشمیر، افغانستان اتنی لازوال قربانیاں مگر یہ گھسا پٹا طعنہ پھر بھی جماعت اسلامی کے ساتھ چمٹا دیا گیا ہے۔

    علامہ اقبال، شریف الدین پیرزادہ، فیض احمد فیض، میاں محمد شفیع، مولانا ظفر احمد انصاری، قمرالدین جیسے زعماء امت نے حتی کہ قائد اعظم رح نے خود بھی مولانا مودودی رح کے کام کو سراہا اور دو قومی نظریہ کے حق میں ديے گئے زبردست دلائل اور کانگریس اورکانگریسی ملاؤں کی چھترول کا خیر مقدم کیا۔۔

    تن تنہا اتنا مؤثر کام کرنے کے باوجود قائد اعظم ؒ کی حمایت نہ کرنے کی وجہ مسلم لیگ کی صفوں میں موجود وہ کرپٹ جاگیردار تھے جنہیں قائد اعظم رح خود “کھوٹے سکے” کہا کرتے تھے یا مولانا مودودی رح “سید” اور “سلسلہ مودودیہ” کے احساس برتری میں مبتلاء تھے؟؟؟

    تحریر لکھنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تاریخ سے نابلد ہر ان پڑھ، جاہل کٹا بھی جب چاھے منہ اٹھا کر ہانک دیتا ھے کہ جماعت اسلامی پاکستان کی مخالف تھی اور بیچاری جماعت اسلامی بھی 68 سال سے بیک فٹ پر کھڑی بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ھے۔۔۔

    قائد اعظم رح ایک عرصہ تک کانگریس کے رکن اور اہم رہنما رہے، پاکستان بننے سے چند سال پہلے تک کنفڈریشن سمیت مختلف آپشن بھی ڈسکس کرتے رہے جبکہ دوسری جانب مولانا رح نے مسلم لیگ کے طریقہ کار اور طرز عمل کی اوپن حمایت کرنے کے بجاۓ تنقید ضرور کی مگر مولانا ایک لمحہ کے لئےبھی نہ کبھی کانگریس کے ممبر رھے اور نہ ہی انہوں نے کبھی متحدہ قومیت کے وطنی تصور کو قبول کیا۔۔۔۔

    قرارداد پاکستان 1940 میں منظور ھوئی جسکا سیدھا صاف مطلب یہ ھے کہ 1935/45 کے دوران وہی شخص پاکستان مخالف ہو سکتا ہے جو یا تو انگریز کا وفادار ہو، یا کانگریس کا حصہ ہو یا پھر متحدہ قومیت کا حامی۔۔۔ کیا ان تین باتوں میں کوئی ایک بات بھی ایمانداری سے مولانا مودودی رح سے منسوب کی جا سکتی ہے؟؟؟

    جہاں تک قائد اعظم رح کی وفات کے بعد اقتدار پر قبضے کی بات ہے تو یہ زاہد چوھدری نامی غیر معروف شخص کی طوائفانہ ذہنیت کی غلیظ اختراع ہے۔۔ ایسے لوگوں کو جب تعصب اور حسد کا ہیضہ ہو جا تو غلاظت کی قے کر کی ہی رھتے ہیں۔۔

    فاتر العقل، منحنی دماغ افراد کی بات نہیں کرتا مگر وہ شخص جسے اللہ نے عقل سلیم سے نوازا ہو وہ مولانا کی کسی بھی تصنیف کی چند سطریں پڑھ کر ہی اندازہ کر لیتا ہے کہ مولانا مودودی ؒ کی فکر، فلسفے اور جدوجہد میں سطحی، غیر سنجیدہ اور لا یعنی گفتگو کی کوئی گنجائیش نہیں۔۔ پھر یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ مولانا مودودی رح کے سیاسی فلسفے کا بنیادی نقطہ عوام، جمہوریت اور انتخابات ہیں۔

Comments are closed.