\’\’ہم سب\’\’ کے سب کہاں سے آئے!


\"\"معلوم نہیں کہر میں  بلوچستان کی خاکستری پہاڑیاں اونٹ کے کوہان جیسی کیوں دکھائی دیتی ہیں؟

ظفر اللہ خان نے اس پر کئی دفعہ سوچا لیکن ہر دفعہ سر جھٹک کر کسی اور کام میں مشغول ہو گئے۔ شام کا وقت تھا جب ظفراللہ خان گھر سے نکلے تھے۔ اس دن پورا دن کہر چھائی رہی۔ گھر سے نکلتے ہوئے انہوں نے ایک گھر سےتندور کے دھوئیں کو اٹھتے دیکھا تھا جو کچھ بلند ہوتے ہی کہر میں گم ہو جاتا تھا۔

 کیا یہ منظر مجھے وحدت الوجود کا سبق دے رہا ہے؟ ظفر اللہ خان نے سوچا لیکن سر جھٹک کر تحائف کی بوری کمر پر لادی اور چل دیے۔

  پھر ایک خوبصورت منظر دکھائی دیتا ہے۔ ایک خشک پہاڑ کی چوٹی پر دوذی روح ہیں، ایک بزرگ رحیم سورج ہے جو پہاڑ کے پیچھے چھپ رہاہے جبکہ دوسرا ظفراللہ خان ہے جو پہاڑ کے عقب سے ابھی طلوع ہوا ہے۔پہاڑ کی چوٹی پر دونوں اپنے مخالف سمتوں کے سفر سے واقف ہیں۔ظفراللہ خان کو معلوم ہے کہ بلوچستان میں رحیم سورج غروب ہو رہا ہے  لیکن  جانتا ہے کہ اندھیرے کے بعد ایک شاندار پاکیزہ  سحر بلوچستان کے مقدر میں لکھی جا چکی ہے۔ رحیم سورج واقف ہے کہ ظفر اللہ خان جس پرماں کی چادر سے آتی گوبر کی خوشبو ہزار جنتیں وا کرتی ہے  بڑے مقصد کے لیے لمبے سفر پر ہے۔\"\"

ظفراللہ خان پہاڑ کی چوٹی پر کچھ دیر سستانے کے لیے رکا ہے۔ اس کی کمر سے  بندھی چادر کی بوری بہت وزنی ہے۔ اس میں پاکستانی بچوں کےلیے تحائف ہیں۔وہ یہ تحفے پورے پاکستان میں تقسیم کرنے کے لیے نکل کھڑا ہوا ہے۔راستے میں پنجگور تربت ہوشاب سے وہ آنکھیں بند کر کے گزرا ہے ۔ وہ نہیں چاہتا کہ وہا ں کی ننگی غربت اس کے پاؤں روک دے۔ وہ کہیں بلندی  پر جانا چاہتا ہے جہاں سے وہ زیادہ موثر ہو ۔  پورے پاکستان کو یہ تحفے دینے کے لیے اس نے ماں کی گوبر خوشبو۔۔ دیتی چادر کی قربانی دی ہے۔ وہ بچوں میں کسی تقسیم کا قائل نہیں ہے ۔ وہ یکساں محبت کو یوں تقسیم کرناچاہتا ہے کہ حاصل نتیجہ میں \’ضربی اثرات \’نکلیں۔

پہاڑ سے اتر کر وہ ایک بڑے سانتا کلاز  وجاہت مسعود کے در پر جا پہنچا ہے ۔

وجاہت مسعود نہ جانے کونسی صدی میں\’ ہو ہو ہو \’کرتے قطب شمالی سے اترے تھے۔ ایک روایت  یہ بھی سنتےہیں کہ گرین لینڈ سے تشریف لائے تھے۔  شنید ہے کہ روس ان کے خوابوں کا اولین مرکز تھا۔روس کے بچوں کے سامنے وہ گھوڑا بن جاتے تھے اور روسی بچے قلقاریاں مارتے اس گھوڑے پر سوار رہتے خوش رہتے۔پھر نہ جانے کب وجاہت مسعود کو احساس ہوا کہ روس ساری دنیا نہیں ہے۔ انہوں نے روسی بچوں کو بھاری دل سے \"\"چھوڑا  اور پشت پر تحفے لادے وسطی ایشائی ریاستوں سے ہوتے ہوئے شہر لاہور کو اپنا مسکن بنایا۔ اتنے لمبے سفر نے ان پر حقیقتوں کے کئی دروازے کھولے۔ روس آج بھی ان کے لیے میٹھی یاد کی حیثیت رکھتا ہے لیکن سفر نے انہیں فقیر بنا دیا۔ وہ کسی مذہب فرقے ذات پات  سے بلند ہو کر تمام بچوں کو تحائف دینا چاہتے ہیں۔ بچوں میں ان کے مقبول تحائف میں بردباری، تحمل اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے  کی روایت زیادہ شہرت رکھتے ہیں۔

ایک دن شام سمے لاہور کی ایک گلی سے گزرتے ہوئے ایک بچہ بھاگتے بھاگتے آیا اور وجاہت مسعود کو کہا ،  چاچا تمھیں بابا شیو گر بلاتے ہیں یہ سامنے ان کی سمادھ ہیں جس میں وہ تارک الدنیا ہو کر زندہ بیٹھ گئے ہیں ۔ بولتے نہیں ہیں آج اچانک انہوں نے بس یہ کہا ہے کہ گلی میں ایک شخص گزر رہا ہے جس کی متفکر جبیں پر پریشان زلفیں سایہ کرتی ہیں اس کو بلاؤ۔ وجاہت مسعود اند ر  گئے اندر تاریکی تھی۔ خوفزدہ ہو گئے ۔ اچانک ایک کونے سے آواز آئی ۔ \’\’جن قدموں سے آیا ہے انہی قدموں سے پلٹ جا۔ بلانے کا مقصد یہ تھا کہ دودھ رنگ والا عدنان خان کاکڑ۔۔ اسی شہر میں رہتا ہے اس کو ڈھونڈ ۔ وہ کایاں ہے۔ تھکتا نہیں ہے ۔ اس کی مدد کے بغیر تو نہیں چل سکے گا۔ تھک جائے گا۔ چل انہی قدموں سے پلٹ جا\’\’

یوں وجاہت مسعود نے باباشیو گر کی بات کو مانتے ہوئے عدنان خان کاکڑ کی تلاش شروع کر دی۔ انہیں زیادہ تگ و دو نہیں کرنی پڑی کہ باباشیو گر نے ملاقات کے سبب پہلے سے ہی تراش رکھے تھے۔ یوں وجاہت مسعود نے باقاعدہ ایک مرکز کی بنیاد رکھی۔ اس مرکز کا نام اپنی سوچ اور فلسفے کے مطاق \’ہم سب\’ رکھا۔\"\"

ہم سب  کے اس مرکز میں ایک مزدور ہر ہفتے آتا ہے۔ چہرے پر خوبصورت داڑھی اور مسکراتی آنکھیں لیے اس مزدور کا نام حسنین جمال ہے۔ ہفتہ بھر مشقت کے بعد انسانوں کے مابین محبت کے واقعات اور ان چیزوں کی فہرست لاتا ہے جن کو عام طور پر بے وقعت سمجھ کر فراموش کر دیا جاتا ہے ۔ انسانوں کے مابین مساوات ان کے مقبول ترین تحائف میں ایک ہے۔ اگر سانتا کلاز کا کوئی خاتون ورژن ہوتا تو وہ حسنین جمال ہوتا/ہوتی۔ حسنین جمال وہ ماں ہے جو فقط دکھاوا کرنے کے لیے بھی غصہ نہیں کر سکتی ۔ عموما ایسی ماؤں کے بچے بگڑ جاتے ہیں لیکن حسنین جمال کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ جس زمین پر تحائف اکھٹے کرنے کے لیے مشقت کرتا ہے وہاں کدال کی ہر ضرب سے محبت کے سوا کچھ برآمد نہیں ہوتا۔ایسے میں حسنین جمال کیا کرے ۔وہ  محبت  کی ڈلیوں کو  پوٹلی  میں  باندھتا ہے اور وجاہت مسعود کے قدموں میں ڈھیر کر دیتا ہے۔

 عاصم بخشی کھم میں گھومتے تھے۔انہوں  نےسارا کھم گھوم لیا ۔ کوئی جھیل کوئی میدان ایسا نہ تھا جہاں عاصم بخشی کے بے چین قدم نہ گئے ہوں۔ لیکن عاصم بخشی عظیم تبت کا ایک ایک کونا دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کے پاس ہر وقت بانسری رہتی۔وہ تبت کی سیکڑوں جھیلوں کے کنارے بانسری بجا چکے تھے۔ مشاہدہ اچھا تھا اس لیے دیکھ پائے کہ ان کی  بجائی ایک ہی دھن پر مختلف جھیلوں کا رد عمل مختلف تھا۔عاصم بخشی شوخ رنگوں کے عاشق تھے۔ چاہےخود نہ بھی شوخ رنگ پہنیں لیکن تبت کے میدانوں میں شادیوں کی ہر تقریب میں جا پہنچتے ۔ انہیں ہمیشہ سے تبت کے رنگ برنگے پہناووں نے اپنی جانب کھینچا۔ عاصم بخشی ایک تماشا بین تھے۔ گھوڑے پر \"\"بیٹھے دلہے کا  زمین پر کھڑی سمٹی دلہن کی جانب سہارے کے لیے ہاتھ بڑھانے کا منظر ہو یا تبت کی چراگاہوں میں کسی جانور کے تھنوں سے چمٹابھوک مٹاتا گول مٹول کسی  تبتی بچے کا نظارہ ہو۔وہ تماش بین تھے۔جنازوں کے منظر انہیں حیران کرتے اور مہاجر پرندوں کو سفر کرتے  دیکھ کر وہ ہوش کھو بیٹھتے۔ ایسے ہی چلتے چلتے ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں ہندو یاتریوں کا مجمع تھا، معلوم ہوا جھیل مانسرور ہے۔ ایک یاتری نے بتایا کہ یہ وہ واحد جھیل ہے جو پہلے برہما کے ذہن میں بنی ۔ ذہن میں مکمل تصویر بنانے کے بعد برہما نے اس کو زمین پر اتارا۔ کچھ عرصہ مانسرور کے پوتر پانیوں کو پینے کے بعد عاصم بخشی یاتریوں کے ساتھ ساتھ ہی ایک دریا کے متوازی چل پڑے۔راستے میں کسی کم علم و گستاخ یاتری نے کہا کہ یہاں تبت ختم ہو تا ہے اور اترائیوں میں ہما چل پردیش ہے۔ عاصم بخشی کی عادت تھی کہ وہ کسی کوجھوٹا نہیں کہہ سکتے تھے  لیکن اس اطلاع دینے والے کو انہوں نے فی الفورجھوٹا قرار دے دیا ۔ غضب خدا کا۔۔ دنیا تبت ہے اور تبت دنیا ہے۔ بھلا تبت سے باہر کچھ ہوا بھی تو تبت ہی ہو گا ۔۔یہ کون ہے جو اجنبی سے نام لیتا ہے۔ نام بھی ایسے بے وزن اور روکھے کہ جن سر زمینوں کے نام ایسے ہوں گے وہ زمینیں کیسی ہوں گی۔ یاتری جد اہو گئے لیکن عاصم بخشی دریا کے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ \"\"کئی جھیلیں آئیں کئی آبشاریں دیکھیں۔ ہر جگہ پانی پیا۔ حیران ہوئے کہ تبت کے باہر بھی پانیوں کا ذائقہ ایک جیسا تھا۔ اس انکشاف کے بعد طبیعت سے ایک بوجھ اتر گیا۔ راز پا گئے کہ ظاہر ی تنوع کے کہیں پس پردہ یکسانیت ہے۔ اس راز کے ساتھ ہی پاؤں کی جانب سے ایک زنجیر ٹوٹنے کی آواز آئی۔ دیکھا تو تعصب کی زنجیر سے پاؤں کو آزاد پایا۔ اب سفر تیز ہو گیا۔ اب ان کے لیے سکردو کو تبت یا تبت کو سکردو کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔چند دن کی مسافت طے کی ہو گی، راستے میں آنے والی آبادیوں سے سنا کہ جن پانیوں کے ساتھ وہ مسلسل سفر کر رہے ہیں ان پانیوں کا نام  شیر دریا ہے۔ یہاں سے اتر کی جانب کچھ آبادیاں ہیں جواس کو اباسین کہتی ہیں۔ اور اس سے بھی نیچے جائیں تو ان پانیوں کو دریائے سندھ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ راستے میں مختلف خانقاہوں میں قیام کرتے ہوئے ایک دن تھاکوٹ پہنچے۔ وہاں  ان کی ملاقات فرنود عالم سے ہوئی۔

فرنود عالم ایک صوفی منش درویش تھے جو جذب کی کیفیت میں بھی  اپنے مقصد حیات\’\’ایک پپی ادھر ایک پپی ادھر \’\’  کو نہیں بھولتے تھے۔ کسی زمانے میں سیدو شریف کے قریب مرغزار میں ایک غار ہو کرتی تھی۔ فرنود عالم کو غار کے اندھیروں سے انسیت تھی۔ یہ ایک عجیب بات ہے لیکن کیا کیجئے ایک انسان کے رگ و ریشے میں محبت ہی محبت ہو تو وہ ہر پہلے  تجربے کو ہی دل دے بیٹھتا ہے۔چرواہے غار کے پاس سے گزرتے تو کہتے  دادا باہر روشنی ہے پھول ہیں پانی بہتے ہیں۔ فرنود عالم کہتے یہ اندھیرے مجھے ریشمی سرمئی چادر لگتے ہیں ،  ان کی خوبصورتیوں کو تو دیکھ لوں۔ ایک دن ایک نہایت خوش رنگ پرندہ غار کے دہانے پر آ کر بیٹھ گیا۔ فرنود عالم  اس کے حسن میں گم ہو چکا تھا۔ پرندہ پھرکاری مار کر غار سے کچھ دور ہوا ۔ فرنود نے بھی مینڈک کی سی چھلانگ لگائی اور اس کے پیچھے ہو لیا ۔ پھر ایک لمبی داستان ہے ۔ فرنود عالم نے روشنی دیکھی۔ بہتے پانیوں پر رقص کرتی کرنیں دیکھیں۔  دو تبدیلیاں فوری طور پر ہوئیں۔ ایک فرنود جو اب تک مینڈک کی طرح چھلانگیں مار کر سفر طے کرتا تھا اٹھ کھڑا ہوا اور باقاعدہ دو ٹانگوں پر لمبے لمبے ڈگ بھرنے لگا۔ دوسرا فرنود عالم نے آنکھیں جھپکنا بند کر دیں کہ لمحے کے ہزارویں حصے میں بھی اندھیرا کیوں ہو۔ غار نے بڑے بھائی کی طرح  بڑا پیچھا\"\" کیا۔ فرنود عالم کا مذاق بھی اڑایا۔ فرنود عالم کو ناتجربہ کار بھی کہا ۔فرنود عالم کو دوسروں کے ذریعے یہ سمجھانے کی بھی کوشش کی کہ سب فریب نظر ہے واپس آ جاؤ۔ مینڈک کی طرح پھدکنا کس قدر فطری ہےیہ تم کس بے شرمی کے ساتھ دوٹانگوں پر چلتے ہو۔ فرنود  عالم  چلتا رہا ۔ خوازہ خیلہ سے بشام آتے ہوئے عجب مست کیفیت میں تھا کہ ایک راہرو ملا۔ راہرو نے پوچھا کیا چاہتے ہو ؟   فرنود عالم نے کہا محبت کے تحائف تقسیم کرنا چاہتا ہوں ۔لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ مینڈک کی طرح پھدکنے سے ایک ثانئے کے لیے یہ غلط فہمی ضرور ہوتی ہے کہ سر آسمان سے نہ ٹکرا جائے لیکن سفر طے نہیں ہوتا ، ۔۔۔اوراور۔۔اندھیرا کچھ نہیں ہے ۔ روشنی کی ناموجودگی کا نام اندھیرا ہے ۔ اندھیرے میں حسن کی تلاش بے معنی ہے۔ راہرو نے کہا طالب تیری طلب سچی ہے لیکن اس کے لیے دور ایک بستی لاہور نام کی ہے ۔ وہاں ایک درویش کا ڈیرہ ہے ۔ اس کے دروازے کے ماتھے پر \’ہم سب \’  لکھا ہوا ہو گا۔ یہ جو تو تحائف تقسیم کرنا چاہتا ہے یہ اس اندھیر نگری میں  تومٹی برابر ہیں۔ ان کی قدردرویش کرے گا ۔ اور درویش کے در پر روشنی کے پجاریوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے ۔ تو وہاں جا کر تحائف تقسیم کر۔ فرنود عالم کو سفر کے دوران بستی بشام کی شام اچھی لگی ۔ یہا ں اس نے ایک غضب ناک دریا دیکھا۔ جس کو مقامی دریائے سندھ کہہ رہے تھے۔فرنود عالم تھاکوٹ کے پل پر کھڑا تھا جب نیچے دریائے سندھ سے ایک   باریش انسان اوپر چڑھتا دکھائی دیا۔                                                                                            (جاری ہے)


’ہم سب‘ کے سب کہاں سے آئے (حصہ دوم)۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 118 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

5 thoughts on “\’\’ہم سب\’\’ کے سب کہاں سے آئے!

Comments are closed.