بے نظیر بھٹو کا قاتل کون؟


\"\"محترمہ کے قتل پر میں نے جو کالم لکھا تھااس کا عنوان تھا \”دو قتل، ایک کہانی\”۔ کیونکہ اس وقت اس قتل کو رفیق الحریری کے قتل سے مماثلت دی جا رہی تھی۔ لیکن پڑوسی ملک کے وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل کا ذکر کسی نے نہیں کیا تھا۔ راجیو گاندھی کو بھی جلسے کے دوران بم دھماکے سے مارا گیا تھا۔ راجیو گاندھی کے قاتل بھی ایک انتہا پسند تنظیم سے تعلق رکھتے تھے، جن کا گاندھی خاندان پر بڑا پرانا قرض تھا۔ راجیو گاندھی کے قاتلوں کو سات سال سے زیادہ عرصے کے بعد کٹہرے میں لایا جانا ممکن ہو سکا۔ اس قتل کو فنانس کرنے والے سیاستدان سونیا گاندھی حکومت میں بھی شامل رہے۔ نہ جانے سونیا گاندھی نے کتنے کڑوے گھونٹ پی کر اپنے شوہر کے قتل کے فنانسرز کوحکومت میں شامل کیا ہو گا۔ سچ کہتے ہیں کہ سیاست میں ازلی دشمن یا ازلی دوست کوئی نہیں ہوتا۔ لیکن پھر ایک وقت آیا کہ راجیو کے قاتلوں پر بند عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔ اور ایک سولہ سالہ لڑکی سمیت آٹھ سے زائد لوگوں کو سزائے موت دی گئی۔ اس سب کے باوجود حکومت اپوزیشن یا میڈیا کی جانب سے کسی نے بھی سونیا گاندھی یا اس کے خاندان کو قتل کا ذمے دار نہیں ٹھہرایا۔

بی بی کا قتل اب صرف ایک قتل نہیں بلکہ کئی کہانیوں کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ تفتیش کا آغاز گھر سے ہونا چاہئیے تھا لیکن اسے یو این او کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ بات بھی درست ہے کہ اس وقت حالات ایسے تھے اگر حکومت خود یہ ذمے داری لیتی تو کہا جاتا کہ سیاسی انتقام کی آڑ میں لوگوں کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ لیکن یہ بات سوچ سے باہر کہ اگر اتنی بڑی رقم ادا کرنا تھی تو صرف فیکٹ فاینڈنگ کا کیوں کہا تھا۔ قاتلوں کو تلاش \"\"کرنے یا ان کی واضح نشاندہی کرنے کی درخواست کیوں نہیں کی گئی۔ اس سے یہ فائدہ ہوتا کہ یو این رپورٹ میں جن اداروں اور افراد کی جانب ڈھکے چھپے اشارہ کیا گیا ہے، وہ واضح طور پر بے نقاب ہو جاتے۔ دوسرا فائدہ یہ ہوتا کہ ان کے خلاف بلا کسی حیل و حجت کے فوری کارروائی ہو سکتی تھی اور کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع بھی نہ ملتا۔ اور تیسرا فائدہ پی پی کی حکومت کو یہ ہوتاکہ آج یہ بحث نہ ہو رہی ہوتی کہ بی بی کا قاتل کون ہے اور کہاں ہے۔

ایک نئی فیکٹ فائینڈنگ ٹیم نے کام شروع کیا تھا۔ ندیم اعجاز اور سعود عزیز کے نام سامنے آئے تھے۔ لیکن یہ تو چھوٹے مہرے تھے شطرنج کی اس بساط پر بادشاہ اور وزیر تک پہنچنا بہت ضروری تھا۔ اس کیس کے ماضی کو بھی فراموش نہ کیا جائے۔ کیا کراچی میں جو بم بلاسٹ ہوا وہ پولیس اسکواڈ موبائل میں فٹ تھا؟ خالد شہنشاہ جس کو دوبئی سے بلایا گیا تھا جو انڈر ورلڈ کو بخوبی جانتا تھا، اس کے قتل کے پیچھے کیا کہانی ہے؟ اس کا قتل اتنا پوشیدہ اور گمنام کیوں رہ گیا؟ بے نظیر بھٹو نے جن لوگوں کے ناموں کی نشاندہی کی تھی ان سے تحقیق میں کیا رکاوٹ تھی؟ محترمہ کے قتل سے ایک رات قبل جو قیدی جیلوں سے آزاد کیے گئے تھے جن کا سودا کیا گیا تھا، جو بعد میں محترمہ کے قتل میں شامل رہے، ان سب کا براہ راست ذمے دار کون تھا؟ اگر آج بے نظیر کے قاتلوں کا سراغ مل جاتا ہے تو کیا ان کو سزا دلوائی جا سکے گی؟ اتنی مضبوط اور طاقتور تو امریکہ کی حکومت اور عوام بھی نہ تھی کہ جان ایف کینیڈی کے قاتلوں کی نشاندہی کر پاتی۔ کینیڈی کا قتل بھی بی بی کے قتل کی طرح ایسی سازش تھی جس میں ایک سے زیادہ قاتل ملوث تھے ۔ اس دن، اس وقت، اس جگہ آٹھ اطراف سے آٹھ مختلف جگہوں سے فائرنگ کی گئی تھی۔ اگر ایک کرائے کے قاتل کا نشانہ چوک جاتا تو دوسرا قاتل کامیاب ہو

\"\"

جاتا، دوسرا چوک جاتا تو تیسرا کامیاب ہو جاتا۔ قتل کے فوری بعد پکڑے جانے والے قاتل کو ایک اور کرائے کے قاتل نے دو دن بعد گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ جان ایف کینیڈی کو ہسپتال لے کر گئے تو آپریشن تھیٹر میں پوسٹ مارٹم کر نے سے روک دیا گیا تھا۔

 بےنظیر بھٹو کا قاتل بھی ایک نہ تھا ۔ اس دن بھی اگر ایک کا نشانہ خطا ہو جاتا تو دوسرے سے بچ نکلنا ممکن نہ ہوتا۔ یہ قتل بہت مہارت سے ترتیب دیا گیا تھا۔ بہرحال بے نظیربھٹو کے قتل کی سازش ملک سے باہر تیار کی گئی ہو یا ملک کے اندر، فنانسر پاکستانی ہو یا غیر ملکی، سگا ہو یا سوتیلا، ان کا لہو پکار رہا ہے ہم سب کے کانوں تک یہ پکار پہنچ رہی ہے اس پکار کا جواب کون دے گا؟ یا ہم اس کو باز گشت بننے دیں گے؟ راجیو گاندھی کے قاتل برسوں بعد پکڑے جا سکتے ہیں ۔ سترہ سالہ لڑکی کو میڈیا کے واویلے کے باوجود سزا دی جا سکتی ہے تو پاکستان اپنی لیڈر کے قاتلوں کو کیفر کردار تک کیوں نہیں پہنچا سکتا؟ ہم ایک زرداری سب پر بھاری اس وقت تسلیم کر لیں گے جب بی بی کے قاتل پکڑے جائیں گے۔ یہ ذمے داری بلاول پر بھی عائد ہوتی ہے کہ اپنی والدہ کے قاتلوں کا سراغ لگائیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔