ٹیگور : نوبل انعام اور مہاتما گاندھی سے اختلافات کی وجوہات


\"\"

ٹیگور میری پسندیدہ ترین شخصیت ہے۔ میں بنیادی طور پر نثر کا آدمی ہوں، شاعری میں ایسا ذوق نہیں پایا کہ کسی بھی شاعر کے اشعار یا کسی ادیب کے ادب پاروں پر کوئی رائے دے سکوں۔ میری فیلڈ بھی چونکہ سوشل سائنس ہے اس لئے سوشل سائنس کے لوگوں سے ہی ذہنی و نفسیاتی طور پر تعلق ہے۔ ٹیگور کو میں اس کے سوشل سائنس سے متعلق آئیڈیاز کی وجہ سے پسند کرتا ہوں، مدت سے خواہش تھی کہ ٹیگور کے تصورات کو اردو دان طبقہ کے سامنے پیش کروں۔ آیئے ٹیگور کو اس کے خیالات کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔ اس مضمون کے لئے بنیادی طور پر امرتیا سین کی کتاب ”Argumentative India“ سے مدد لی گئی ہے۔

ٹیگور سات مئی 1861 کو کلکتہ میں پیدا ہوا۔ اسی شہر میں سات اگست 1941 میں وفات پائی۔ 1913 میں ادب کا نوبل انعام ملا۔ دلچسپ بات یہ کہ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے مترجمین خاص طور پر Ezra Pound، Yeats، اور دوسرے لوگوں نے اس کے ترجمے کے ساتھ ویسا ہی حشر کیا جیسا مغرب میں رومی کے کلام کے تراجم کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ Yeats نے، جو ٹیگور کا سب سے بڑا مترجم تھا اور جس نے اسے مغرب میں مقبول کیا، خود ٹیگور کے اپنے تراجم کو جو ٹیگور نے اپنے کلام کے کیے تھے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ ”ٹیگور کو انگریزی نہیں آتی، یہاں تک کہ کوئی بھی انڈین انگریزی نہیں جانتا ” ۔ اسی لئے ٹیگور کے نقاد کہتے ہیں کہ Yeats نے جس طرح اسے مغرب کے سامنے پیش کیا اس کی تحریریں اور آئیڈیاز بہت حد تک اس سے مطابقت نہیں رکھتے۔

ٹیگور کی مغرب میں مقبولیت کی ایک وجہ اس کی شکل و شباہت بھی ہے۔ اس کی شخصیت مسحور کر دینے والی تھی۔ صحت مند جسم، بڑی داڑھی اور مونچھ، غیر مغربی مگر سادہ لباس، مسحور کر دینے والی آنکھیں اور خاص طور پر جب وہ بولتا تھا اور حاضرین پر ایک نظر ڈالتا تھا تو اہل مغرب اس کی رومانویت میں کھو جاتے تھے۔ اس کی دانائی اور کلام میں جادو تھا۔ ادب میں پہلی جاپانی نوبل انعام یافتہ شخصیت Yasunari Kawabata نے لکھا ہے کہ جب وہ سکول میں تھا تو ٹیگور اپنی شکل و شباہت کے اعتبار سے اسے دانا درویش لگتا تھا۔ ”اس کے کندھوں تک پھیلے ہوئے سفید بال جو اس کے گالوں کو چھوتے تھے، پھر داڑھی میں جا اکٹھے ہوتے وہ کوئی عہد قدیم کا مشرقی دیوتا لگتا تھا ”۔ مشہور انگریزی شاعرہ Frances Cornford اس کے بارے میں لکھتی ہیں ”میں ٹیگور میں ایک طاقتور اور مہربان یسوع مسیح کو دیکھ سکتی ہوں، ٹیگور کو دیکھنے سے پہلے یسوع مسیح کو ایسے تصور کرنا میرے لئے ناممکن تھا ”

اسی لئے ٹیگور کے ناقدین کے نزدیک اس کے ادب میں نوبل انعام کے حصول میں ان دو عوامل کا بھی خاص کردار ہے : اس کے کلام کے سنسرڈ اور مغربی مزاج کے تراجم، اور اس کی شکل و شباہت۔

ٹیگور ایک کھاتے پیتے ہندو گھرانے میں پیدا ہوا۔ ادب کے تمام میدان جیسے شاعری، ناول نگاری، ڈرامہ نگاری، مضمون نگاری، نغموں کی کمپوزیشن اورمصوری اس کی دلچسپی کے میدان تھے ۔ اس کی شخصیت پر تین ثقافتوں کا خاص طور پر اثر ہے : ہندو، مسلم اور برطانوی۔ وہ عربی فارسی سنسکرت اور قدیم ہندو لٹریچر پر مہارت رکھتا تھا۔ اس کی شخصیت مذاہب کے تعصبات سے ماورا تھی۔ وہ دو ممالک بھارت اور بنگلہ دیش کا قومی شاعر ہے اور دونوں ممالک ٹیگور کی شخصیت اور نظریات کو اپنی شناخت قرار دیتے ہیں۔

گاندھی اور ٹیگور

وہ گاندھی کا مداح بھی تھا اور نقاد بھی۔ گاندھی کے لئے مہاتما (عظیم روح ) کا خطاب اسی نے ہی مشہور کیا تھا۔ گاندھی کی تعریف میں وہ لکھتا ہے ”گاندھی بطور ایک سیاست دان، منتظم، لیڈر اور اخلاقی مصلح۔ ، عظیم ہے۔ ان سب خصوصیات سے زیادہ وہ ایک بہترین انسان ہے۔ ” گاندھی سے اس کا اختلاف بھی زوروں پر تھا۔ اختلاف کی وجوہات کو زیر بحث لا کر ہم ٹیگور کے خیالات کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ دونوں کے درمیان اختلاف درج ذیل امور پر تھا۔

1۔ بت پرستی: ٹیگور بت پرستی کو روحانی ارتقاء میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ بت۔ فرد اور حقیقت مطلقہ (Absolute reality) کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ جبکہ گاندھی کا خیال تھا کہ عام لوگ حقیقت مطلقہ کے براہ راست تصور کے چونکہ قابل نہیں ہوتے اس لئے بتوں یا مورتیوں سے وہ اس سلسلے میں مدد حاصل کرتے ہیں۔ ٹیگور کہتا تھا کہ بت پرستی دراصل لوگوں کو کم عقل بچہ سمجھنے کے مترادف ہے۔ اس کا تصور خدا رومی کے تصور خدا سے ملتا جلتا ہے۔ وہ خدا سے براہ راست (بغیر کسی بت یا دیوی دیوتا ) تعلق کی بات کرتا تھا، ایسا تعلق جس میں مسرت ہو اور کسی طرح کا بھی خوف نہ ہو۔

2۔ دوسری سب سے اہم چیز نیشنلزم کا وہ تصور ہے جس کا گاندھی دفاع کرتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ نیشنلزم سے انٹرنیشنل ازم یعنی قومیت سے انسانیت کا سفر ایسے ہی ہے جیسے جنگیں لڑ کر کوئی امن قائم کرنے کا سوچے۔ جنگوں سے مزید جنگیں ہوتی ہیں۔ اور قومیت کے تصورات انسانیت کو نہیں بلکہ مزید قومیت کو ہی مستحکم کرتے ہیں۔ دلچسپ ترین بات یہ بھی کہ ٹیگور ہندو مسلم سیاسی تنازعات کا بڑا سبب کانگریس کے تصور قومیت کو ہی سمجھتا تھا۔ اس کے نزدیک قومیت نفرت پیدا کرتی ہے جبکہ انسانیت یا انٹرنیشنل ازم تنوع پسندی اور بھائی چارہ پیدا کرتی ہے۔

وہ ہندو مسلم فرقہ وارانہ تنازعات سے بہت دکھی تھا اور کہتا تھا کہ قومیت کے یہ تصورات ان تنازعات کو وسیع کر دیں گے۔ اسی سبب سے وہ گاندھی پر ہر فورم میں تصور قومیت کے حوالے سے تنقید کرتا تھا۔ چندر بوس کے تصورات کا شروع میں وہ اس حد تک حامی تھا کہ اس میں نفرت پرست قومیت پرستی نہیں۔ مگر بعد میں وہ چندر بوس کا حامی نہیں رہا تھا کہ بقول اس کے، بوس کے اندر بھی دوسری اقوام کے خلاف نفرت پک رہی ہے۔ خاص طور پر چندر بوس جب جاپان گیا تاکہ برطانویوں کے خلاف جاپانی فوج کی مدد حاصل کی جائے تو اس نے کہا تھا کہ ایک استعمار کو ہٹانے کے لئے دوسرے استعمار کی مدد، کہ دوسرا پہلے سے زیادہ جابر ہے، کسی طرح سے دانشمندی نہیں۔ یوں اس نے کھل کر چندر بوس کی مخالفت کی مگر جب بوس جاپان پہنچا، اس سے پہلے ٹیگور ہندوستان میں وفات پا چکا تھا۔

3۔ عقل دوستی اور آزادی: ٹیگور کے نزدیک سب سے زیادہ اہمیت انسانی زندگی میں فرد کی شخصی آزادی اور دلیل پسندی کی ہے۔ انسان کو حق حاصل ہے کہ وہ جو طرز زندگی اپنی عقل و فہم سے اپنے لئے پسند کرے (Reason to value) اسے مکمل آزادی سے جی سکے۔ وہ فرد سماج سیاست معیشت اور ثقافت کو اسی تناظر میں دیکھتا ہے۔ وہ جامد روایت پسندی (Traditionalism) کو پسند نہیں کرتا جس سے مراد ماضی کا قیدی بن کر رہنا ہو۔ اس سلسلے میں ”کارتر بھوت (لیڈر کا بھوت )“ میں وہ ایک کہانی لکھتا ہے

“ ایک خیالی زمین کا ذکر ہے کہ جب ان کا راہنما فوت ہونے لگتا ہے، اس کے پیروکار اس سے التجا کرتے ہیں کہ برائے مہربانی، مرنے کے بعد بھی ہماری راہنمائی جاری رکھئے گا۔ وہ ان کی بات مان جاتا ہے۔ مگر مرنے کے بعد اس کے پیروکار اپنی روزمرہ زندگی میں اسے رسم و رواج اور پابندیوں کی نذر کر دیتے ہیں۔ وہ اپنے اردگرد کی بدلتی ہوئی دنیا سے غافل ہو جاتے ہیں اور تبدیلی کو بہتر رسپانس نہیں کرتے۔ آخر کار جب حالات انہیں مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ خود کو بدلیں ورنہ وہ مٹ جائیں گے تو وہ اس لیڈر سے التجا کرتے ہیں کہ برائے مہربانی اب انہیں وہ ان رسم و رواج اور پابندیوں سے آزاد کر دے۔ وہ لیڈر ان سے مخاطب ہوتا ہے کہ میں تو مر گیا ہوں مگر صرف تمہارے ذہنوں میں زندہ ہوں، اس لئے بہتر ہے کہ اپنے ذہنوں کے بند قفل کھولو اور مجھ سے آزادی طلب کرنے کی تمہیں کوئی ضرورت نہیں ”

گاندھی سے اس کا اختلاف بھی اسی سبب تھا کہ گاندھی عقل دوست نہ تھا۔ ایک دلچسپ واقعہ دونوں کی نفسیات کو خوب نمایاں کرتا ہے۔ ایک مرتنہ مہاتما نے ٹیگور کے سکول شانتی نکیتن کا دورہ کیا وہاں ایک خاتون نے گاندھی سے آٹو گراف لیا۔ آٹو گراف میں گاندھی نے لکھا : جلد بازی میں کوئی وعدہ نہیں کرنا چاہیے، مگر جب آپ ایک بار وعدہ کر لیں تو اس پر قائم رہیں چاہے جان ہی کیوں نہ چلی جائے ”۔ ٹیگور نے جب یہ دیکھا تو اس نے احتجاج کیا اور اسی بک پر آٹو گراف دیتے ہوئے اپنی ایک بنگالی نظم لکھی کہ وعدوں کی زنجیروں میں ہمیشہ قید نہیں رہنا چاہیے۔ نظم کے بعد اس نے انگلش میں اس انداز سے لکھا کہ گاندھی بھی دیکھ سکے اور پڑھ سکے ”اس وعدے کی قید سے نکل جاؤ جو غلط ثابت ہو ”

وہ گاندھی کی ماضی پرستی اور روایت پرستی کا بہت زیادہ نقاد تھا۔ اس سلسلے میں تین مثالیں دلچسپ ہیں۔

پہلی مثال گاندھی جی کے چرخے سے متعلق ہے۔ گاندھی جی کی خواہش تھی کہ ہر شخص روزانہ تیس منٹ چرخہ کاتے، اس سے اس شخص کے اندر اپنی ذات کا شعور پیدا ہو گا، اور وہ اس قابل ہو سکے گا کہ غریب لوگوں کی زندگی میں مشکلات کو محسوس کر سکے۔ دوسرا اس کا فائدہ بقول مہاتما معاشی ہے ؛ اس سے دیہی ترقی آئے گی اور انڈیا اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے گا۔ ٹیگور کے نزدیک یہ دونوں خیالات احمقانہ تھے۔ وہ اپنی ذات کے شعور و ادراک میں عقل کو فوقیت دیتا تھا وہ لکھتا ہے ”چرخے سے سوچنے کی ترغیب پیدا نہیں ہوتی۔ آپ ایک بار چرخے کو گھماتے ہو اور آخر تک گھماتے جاتے ہو، اس میں نہ قوت فیصلہ کا استعمال ہے اور نہ ہی سٹیمنا ”۔ دوسرا معاشی اعتبار سے بھی چرخے کا کوئی فائدہ نہیں، نہ اس سے دیہی ترقی ممکن ہے اور نہ ہی اس کی اتنی مارکیٹ ہے کہ چرخہ کاتنے والا ایک بہترین آمدن کما سکے۔

دوسری مثال ازدواجی زندگی سے متعلق ہے۔ گاندھی جنسی زندگی کو اخلاقی و روحانی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھتا تھا مگر ٹیگور جنسی زندگی میں ڈسپلن کا قائل تھا۔ اس نے اپنی رومانوی زندگی کے خوب لطف اٹھائے، اس کے اپنی محبوباؤں سے خطوط بنگالی و انگریزی ادب کا خزانہ ہے۔ گاندھی جنسی زندگی کی فنا کا حامی تھا تو ٹیگور مانعیت حمل اور فمیلی پلاننگ قسم کی پالیسیوں کا حامی تھا۔

تیسری مثال سائنسی تصورات سے متعلق ہے۔ گاندھی زلزلہ کو انسانوں کے گناہوں کا سبب سمجھتا تھا خاص طور پر بہار میں زلزلہ کی آفت کا سبب اس نے اچھوتوں کے گناہ قرار دیے تھے۔ اس پر ٹیگور پرزور انداز میں گاندھی پر تنقید کرتا ہے اور اس کے خیالات کو غیر سائنسی اور غیر حقیقی سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک حقیقت وہی ہے جسے جدید سائنس بیان کرتی ہے کہ زلزلہ ایک قدرتی عمل ہے اور اس کا انسانوں کے گناہوں سے کوئی تعلق نہیں۔

ٹیگور اور آئن سٹائن کی ملاقات کا تذکرہ بھی نہایت دلچسپ ہے۔ اس ملاقات کے دوران آئن سٹائن ٹیگور سے پوچھتا ہے کہ اگر کوئی انسان اس دنیا میں نہ رہے تو کیا Apollo Belvedere کا مسجمہ خوبصورت رہے گا؟ ٹیگور نے کہا، نہیں، خوبصورتی Relevant ہے۔ ۔ آئن سٹائن آگے بڑھتا ہے ؛ میں خوبصورتی سے متعلق آپ کے خیال سے متفق ہوں، یہ بتائیے کہ کیا سچائی بھی Relevant ہے؟ ٹیگور نے جواب دیا : کیوں نہیں، سچائی کا شعور محض انسانوں سے ہے۔

(جاری ہے۔ )


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں – معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 135 posts and counting.See all posts by zeeshan