جمہوریت کو بچانا ہے تو نوازشریف سے جواب لینا ہوگا، عمران خان


\"\"

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر ہمیں ملک میں جمہوریت کو بچانا ہے تو نواز شریف سے جواب لینا ہوگا۔

اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پاناما اہم کیس ہے، اس معاملے پر تمام اپوزیشن جماعتیں اکٹھی ہیں، بیرون ملک دولت پاکستان عوام کی ہے، اپوزیشن کا کام حکومت سے جواب لینا ہوتا ہے، جب بھی حکومت قانون توڑتی ہے تو اپوزیشن کو جواب لینا ہوتا ہے۔ پوری اپوزیشن متفق ہے کہ پاناما معاملے پر نواز شریف کو جواب دینا پڑے گا کیونکہ پاکستان میں جمہوریت کو بچانا ہے تو نوازشریف سے جواب لینا ہوگا، پاناما کے معاملے پر عوام میں جارہے ہیں، دیکھتے ہیں 27 دسمبر کو پیپلز پارٹی کیا اعلان کرتی ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ تحریک انصاف سڑکوں پر نہ آتی تو پاناما کیس ختم ہوجاتا، لوگوں میں تشویش ہے کہ پاناما کیس اتنا لمبا کیوں چلا کیونکہ پاکستان کا نظام صرف کمزوروں کو پکڑتا ہے، ہمارا المیہ ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ نواز شریف کو سزا نہیں ہوگی، پاناما کے معاملے پر وزیراعظم نے اسمبلی میں جھوٹ بولا لیکن انہیں پتہ تھا کہ سپریم کورٹ میں جھوٹ نہیں چلے گا، قطری شہزادے کا خط بھی جھوٹا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ کیس فوری طور پر سنا جائے۔

عمران خان نے کہا کہ نیب پاکستان میں کرپشن بڑھا رہی ہے، اگر نیب کامیاب ہوتا تو کرپشن نہ بڑھ رہی ہوتی، سوشل میڈیا پر پوچھا جارہا ہے کہ نیب بتائے کرپشن پر کتنا حصہ دینا ہوگا اور کتنا خود رکھیں، نواز شریف کے خلاف نیب میں 12 کیسز ہیں، اسحاق ڈار نے مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ وہ نوازشریف کے لیے منی لانڈرنگ کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ  اوگرا  اور نیپرا جیسے ادارے حکومت کے تابع ہوں گے تو حکومت اپنی من مانی کرے گی، ہم اس معاملے کے خلاف عدالت میں جائیں گے۔

جعلی خبر پر خواجہ آصف کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ وزیر دفاع کی جانب سے دھمکی آمیز ٹوئٹ نے بین الاقوامی برادری میں پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہودی لابی پہلے ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ہے، وزیردفاع ایک جھوٹی خبر پر اتنی بڑی دھمکی دینے سے پہلے تحقیق تو کرلیتے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔