آج کے اُردو ادب میں پڑھنے کے لیے بہت کچھ ہے


آرٹس کونسل کراچی کے زیر اہتمام نویں عالمی اُردو کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں خطبہ استقبالیہ ادا کرنے کے لیے مجھ سے کہا گیا، اس موقع پر جو گفتگو میں نے کی اُس کا دوسرا حصہ حاضر ہے۔

آج کے عنوان کے تحت اس رنگ بدلتی دنیا سے ادب کی طرف آتے آتے میں دو ایک باتیں ادبی دنیا کے حوالے سے \"\"بھی کرنا چاہتا ہوں۔ یعنی زبان و ادب کی وہ صورت حال جو ادبی کتابوں کے متن کا حصّہ تو نہیں ہے لیکن ادب کے چاروں طرف حاشیہ قائم کیے ہوئے ہے، تعلق کی وہ شکل جو کتابوں کو اپنے پڑھنے والوں سے جوڑتی ہے اور ان کو احترام یا بے خبری یا نظر انداز کیے جانے کے رشتے کو اجاگر کرتی ہے۔ غزلیں اچھی بُری ہوسکتی ہیں، نظمیں اور افسانے بھی۔ لیکن اس سے پہلے ذرا دیر یہ بھی تو دیکھیے کہ وہ کس ماحول میں سامنے آرہی ہیں۔ ان کو تخلیق کرنے والی دنیا کیسی ہے۔ پاکستان میں سیاسی انتشار کے نشانات بہت واضح ہیں اور بے اندازہ۔ ظاہر ہے کہ ادب ان سے کیسے بچ سکتا ہے۔ یہ شکایت اکثر کی جاتی ہے کہ خرابی تعلیمی اداروں کے نصاب سے شروع ہوتی ہے جہاں طالب علموں کو زبان و ادب سے زندہ تعلق قائم رکھنے کا ہُنر سکھایا نہیں جاتا۔ جُزوی طور پر یہ بات بھی درست ہے لیکن اس عمر کے بعد کی کس منزل میں ادب سے کوئی ناتہ جوڑنے کا امکان باقی رہ جاتا ہے؟ کتاب پڑھنا یا زبان و ادب کے زندہ مظاہر میں شرکت ہمارے ہاں بتدریج کم ہوتی جارہی ہیں۔ کتابیں کم شائع ہوتی ہیں اور اس سے بھی کم فروخت ہوتی ہیں۔ پھر اس قسم کی تجارت یا کتابوں کے بارے میں اطلاع رسانی کے طریقے بھی فرسودہ ہیں۔ اشاعت کے بنیادی مسائل سے بلند نہیں ہونے پاتا کہ ہمارا ادب \"\"علم و فن، فکر و فلسفہ کے دیگر شعبوں کے ساتھ قدم ملا کر چل سکے۔ قومی شناخت کا بیانیہ پہلے ادب و فن کے ہاتھ میں تھا، اب میڈیا کے چنگل میں چلا گیا ہے۔ سرکاری ادارے کوئی تہذیبی خدمت سرانجام دینے کے بجائے ذاتی مفادات کی پاس داری اور نااہلوں کی پرورش کے گڑھ بن کر رہ گئے ہیں۔ اس بیان کو بہت وسیع بھی کیا جاسکتا ہے لیکن زبوں حالی کے الگ الگ شعبے کُھلتے چلے جائیں گے۔ ان موجودگی میں یہ کہنے کو جی چاہتا ہے کہ دو چار لوگ جو ادب کے نام سے جُڑے ہوئے ہیں، بس ان ہی کا دم غنیمت ہے، اسی کے نام سجدۂ شکر بجا لائیے۔

یہ عمومی باتیں تو بہت ہوگئیں۔ اب کچھ ذکر خصوصیت کے ساتھ ادبی معاملات کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اس کے حوالے سے سب سے پہلے میں آپ کو یہ اطلاع دینا چاہتا ہوں، شمیم حنفی صاحب، کہ اردو ادب زندہ ہے۔ پاکستان میں اردو زبان و ادب زندہ ہیں۔ نامساعد حالات کے باوجود، سرکاری اداروں کی ناکردہ کاری کے باوجود، ادیبوں کی زبوں حالی کے باوجود، عالمی مسائل و کساد بازاری کے باوجود، عرب موسم بہار کی ناکامی کے باوجود، فیدل کاسترو کی موت اور ٹرمپ کی آنے والی صدارت کے باوجود۔ یہ بات میں اس لیے زور دے کر کہہ رہا ہوں کہ ہمارے ہاں ادب کی موت کا اس زور و شور سے اعلان کیا جاتا رہا ہے گویا ذرا غیرت ہوتی تو اردو ادب کب کا مر \"\"گیا ہوتا۔ مگر ایسا ہوا نہیں۔ ایسا ہو بھی نہیں سکتا تھا۔ یہ نعرہ بلند کرنے والوں میں بڑا نام محمد حسن عسکری کا ہے جنھوں نے پہلے ادب میں جمود کی تشخیص کی، رفتہ رفتہ یہ کیفیت پڑھی۔ بالآخر انہوں نے ادب کی موت کا اعلان کر ڈالا۔ پھر اس کے بعد توبہ ہی بھلی۔ ادب کی موت پر اس قدر لکھا گیا کہ ادب کی زندگی پر نہ ہوا ہوگا۔ ادب کی موت کے بارے میں اتنی توقعات اور ایسی بحث صرف خواہش مرگ یا فرائیڈ کے الفاظ میں death wish نہیں ہے بلکہ خود ادب میں ایک بحرانی کیفیت کی نشان دہی کرتی ہے۔ اس بارے میں جو واحد شافی جواب مجھے اب تک ملا ہے، وہ عسکری صاحب کے پسندیدہ شاعر میلارمے سے ملا ہے۔ 1894ء میں میلارمے نے شاعری کے بارے میں آکسفرڈ میں خطبہ دیا، جس میں وہ انتباہ کرتا ہے کہ ادب کی مرکزی اہمیت کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ اس نے اعلان کیا:

Yes, literature exists and, if you like, alone, an exception from everything.

پوری فقرہ معنوی امکانات کا ایک سلسلہ سامنے لے آتا ہے۔ مگر میرے لیے اس کا پہلا ٹکڑا ہی بھرپور ہے۔ ادب کی زندگی کا اثبات۔ پورے وجود کی گواہی کے ساتھ۔

اس بات کو میں جان بوجھ کر بیچ میں لے آیا، اس لیے کہ ابھی ہفتے دس دن پہلے کا تو ذکر ہے کہ ایک ادبی تقریب میں ایک بڑے محترم عالم اور محقّق یہ فرما رہے تھے کہ اردو ادب کا کوئی حال نہیں ہے۔ اب کوئی بڑے ادیب نہیں ہیں اور کوئی شاعر بھی سامنے نہیں آیا۔ ان محترم عالم کی بات کو نظر انداز کرنا ممکن تھا اگر یہی بات بیسیوں بار دہرائی نہ گئی ہوتی اور ہر بار اس قدر تیّقن کے ساتھ نہ کہی جاتی۔ یہ تقریب فیض کے حوالے سے ہورہی تھی تو مجھے پوچھنا پڑا کہ آپ نے یہ کیسے طے کر لیا کہ فیض کے بعد کوئی اچھا شاعر سامنے نہیں آیا۔ جو اچھے شاعر ہیں، ان کو آپ نے پڑھا ہی کب ہے۔ میر تقی میر خدائے سخن تھے، ان کے انتقال کے بعد اردو شاعری ختم نہیں ہوگئی۔ میر کے بعد غالب آئے۔ غالب اردو کے سب سے بڑے شاعر مانے جاتے ہیں، ان کے مرنے سے اردو شاعری ختم نہیں ہوگئی۔ غالب کے بعد اقبال آئے۔ اقبال کے بعد راشد، فیض اور میرا جی آئے۔ کچھ عرصے کے بعد مجید امجد آئے۔ جو سب مختلف لحن اور الگ لب و لہجے کے شاعر ہیں۔ آج کے شاعر کو ایک نئی بدقسمتی کا سامنا ہے کہ اس کے وجود اور عدم کے بارے میں فیصد صادر کرنے کوسب تیار بیٹھے ہیں، ان کے شاعر سننے اور سُن کر سراہنے والے کم ہوتے جارہے ہیں۔ ماضی قریب میں تو ایسا نہیں تھا__ ماضی قریب سے میری مراد وہ زمانہ \"\"جب ظفر اقبال کی شاعری نے ان کی کالم نگاری کو اور ان کی کالم نگاری کو شاعری نے کاری زخم نہیں لگایا تھا۔ خیر، یہ تو دل لگی کی باتیں ہیں۔ لیکن اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ طرز بیان میں جیسا حیرت انگیز تنّوع ظفر اقبال کے ہاں ملتا ہے، وہ بیسویں صدی کے کسی اور شاعر میں شاید ہی مل سکے۔ اسالیب کی ایسی نیرنگی اپنی مثال آپ ہے۔ ظفر اقبال کے ساتھ سب سے بڑی مشکل ان کی اپنی پیدا کردہ ہے، یعنی ان کی رائے زنی اور بیان بازی۔ اس کے باوجود ان کی شاعری میں غزل اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ یہ شاعری غزل کی ساختی و صنفی خصوصیات کی امین نہیں بلکہ حال کی آئینہ دار بھی ہے کہ کلاسیکی مزاج کے باوجود غزل عصری تقاضوں سے کیسے نباہ کرتی ہے۔ اور یہ تقاضہ ماضی کا محض تسلسل نہیں، اس لیے کہ ماضی کے ساتھ سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ گزر جاتا ہے! ورنہ کیا بات ہے کہ انور شعور جیسے صاحب اسلوب شاعر کی موجودگی میں ایسے فیصلے صادر کیے جانے لگے ہیں۔ پتہ نہیں منھ بھر کر ایسی باتیں کرتے وقت لوگوں کو فہمیدہ ریاض کی شاعری کیوں یاد نہیں آتی۔ افتخار عارف کے لہجے کا بانکپن اور تمکنت ایک کلاسیکی وقار کے حامل ہیں۔ اس سے آگے چل کر نظم میں عذرا عباس اور افضال احمد سیّد نے الگ الگ طور پر امکانات اجاگر کیے ہیں۔ اسی طرح ابرار احمد اور غلام حسین ساجد نے جدّت سے آگے بڑھ کر ایک نئی اقلیمِ سخن نمایاں کی ہے۔ اور غزل کا بے حد انوکھا، رسیلا اور یکتا شاعر جس کا نام احمد مشتاق ہے، جو پاکستان سے دور رہتا ہے مگر جس کا نیا مجموعہ ابھی چھپ کر آیا ہے۔ یہ اس عہد کے بڑے شاعر ہیں، صحیح \"\"معنوں میں بڑے شاعر ہیں۔ لیکن میں تو چند ایسے شاعروں کو بھی خراج عقیدت پیش کرنا چاہتا ہوں جو اب عمر کے حوالے سے بالکل نوجوان تو نہیں ہیں مگر تازہ کار ہیں، ان کی کم از کم دو کتابیں آچکی ہیں اور ان کے اسلوب کے رنگ نکھر کر انفرادیت کا نقش قائم کر چکے ہیں۔ نقاد لوگ تو ان کا شمار نوجوانوں ہی میں کرتے ہوں گے مگر کیوں نہ ہم ان نوجوانوں کی اہمیت کا اقرار کرلیں۔ قمر رضا شہزاد کے کئی مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ شاہین عباس نے غزل کے ساتھ نظم بھی لکھی ہے۔ حمیدہ شاہین مسلسل اچھا لکھ رہی ہیں۔ عرفان ستار کا لہجہ کلاسیک سے قریب ہے۔ اکبر معصوم کو مصرعہ تراشنے کا غیرمعمولی سلیقہ آتا ہے۔ میرے شہر میں کئی نام ہیں، جن میں مجھے سب سے پہلے اجمل سراج کا نام یاد آتا ہے۔ اور وہاں سلسلہ ختم تو نہیں ہو جاتا۔ اس کے بعد کاشف حسین غائر ہے جو دوسرے مجموعے کی تیاری کررہا ہے۔ خالد معین سلیقے سے شعر کہتے آئے ہیں۔ تھوڑا سا اور کُریدا جائے تو مزید نام سامنے آئیں گے اور ان کے الگ الگ اشعار بھی ذہن میں محفوظ رہ جائیں گے۔

اسی بارے میں: ۔  ہم سب کی مچان پر بیٹھے وجاہت مسعود

اب رہی یہ بات کہ اس دور میں اچھے شاعر بھی ہیں اور بُرے بھی۔ تو یہ شاعری کی عام رسم ہے۔ میر اور سودا کے دور میں بھی ایسا تھا اور غالب و ذوق کے دور میں بھی، لیکن یاد کیجیے کہ غالب نے کس قدر درد بھرے لہجے میں زمانے کی ناقدری کا گلہ کیا تھا__

مباشِ منکر غالب کہ در زمانۂ تُست

تو کیا ہم شاعری سے ہم محض اس لیے انکار کرتے رہیں گے کہ وہ اس زمانے میں سامنے آرہی ہے۔ یہ بے اعتباری شاعری کے بارے میں ہے، یا اپنے بارے میں یا پھر اس زمانے کے بارے میں؟

یہ بات غزل کی شاعری کے بارے میں کہی گئی ہے، لیکن یہ ادراک بھی ضروری ہے کہ قیام پاکستان کے بعد سے\"\" نظم میں مسلسل نئے امکانات سامنے آتے رہے ہیں۔ میں احترام کے ساتھ منیر نیازی اور عزیز حامد مدنی کا نام لینا چاہوں گا جو مختلف مزاج کے شاعر تھے مگر اپنی اپنی جگہ منفرد۔ ان کے عرصۂ شاعری کے دوران نئے تجربات میں ایک شدت آئی اور نثری نظم کا رواج ہوا۔ اس انداز نے اردو شاعری کو بالکل مختلف نہج سے روشناس کرایا۔ اس شاعری کو ہمارے نقادوں نے تو کسی نہ کسی حد تک قبول کر لیا ہے لیکن شاید ادبی درس گاہوں میں قبولیت کی گھڑی نہیں آئی اس لیے شاعری کے اس اسلوب کی تحسین اس طرح عام نہیں ہونے پائی جس کی وہ متقاضی تھی۔

شاعری کے بعد ہمارے ہاں جس صنف کا زیادہ رواج رہا ہے، وہ افسانہ ہے۔ بے انتہا مقبولیت کے باوجود اس صنف کو شاید اردو ادب کا مرد بیمار یا شخص بیمار کہا جاسکتا ہے۔ ابھی کچھ عرصے پہلے تک، ہر تھوڑے دنوں کے بعد افسانہ نگاروں کی ایک نئی کھیپ سامنے آتی تھی۔ نئی فصل کے پھولوں کی طرح اپنی بہار دکھاتی تھی۔ نئے نام تو اب بھی سامنے آئے ہیں مگر کم کم۔ اور اتنے تواتر کے ساتھ بھی نہیں ۔بلکہ اس معاملے میں ہندوستان کی صورت حال بہتر ہے۔ شمیم حنفی صاحب، آپ کے ہاں تو اس وقت افسانہ نگاروں کی کہکشاں اُتری ہوئی ہے۔ ذکیہ مشہدی کے بارے میں پہلے میرا خیال تھا کہ وہ آج کل کے لکھنے والوں میں ایک بہتر نام ہیں، ان کے منتخب \"\"افسانوں کا جو مجموعہ دلّی سے چھپا ہے، اس کو پڑھ کر احساس ہوا کہ وہ صرف اس دور کے نہیں بلکہ اردو کے اہم تر افسانہ نگاروں میں سے ایک ہیں۔ خالد جاوید بہت ہی نئے ڈھنگ سے کہانی لکھتے ہیں۔ صدیق عالم کے افسانے بہت منفرد ہیں۔ سید محمد اشرف نے حالیہ برسوں میں افسانے اگر لکھے ہیں تو میں نے نہیں پڑھے مگر ان کا ناول آخری سواریاں بہت عمدہ ہے اور پڑھنے کے بعد بھی ایک تکلیف دہ امیج چھوڑ جاتا ہے__ معزول بہادر شاہ ظفر کے جلاوطن کرکے ایک پنجرے نما کٹہرے میں دلّی سے رنگون بھیجا جارہا ہے اور چند بچّے اس دل دوز منظر کو چھپ کر دیکھ رہے ہیں۔

 ہمارے یہاں کے لکھنے والوں میں حمید شاہد کا شمار اب سینئر لکھنے والوں میں ہونے لگا ہے۔ انھوں نے تنقید اور افسانہ دونوں پر توجّہ دی ہے۔ نئے لوگوں میں سے علی اکبر ناطق نے ابتدائی افسانوں سے دھاک بٹھا دی تھی۔ اس کے بعد انھوں نے شاعری اور ناول دونوں میدانوں میں کام کیا۔ مجھ ایسے پڑھنے والوں نے علی اکبر ناطق سے بہت توقعّات وابستہ کر رکھی ہیں۔

اچھے افسانے لکھے ضرور گئے ہیں مگر کم۔ اس وجہ سے افسانے میں پہلے کی سی گہما گہمی نظر نہیں آئے گی۔ یہ کیفیت افسانے کے برخلاف ناول میں نظر آتی ہے۔ حالاں کہ پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ اردو میں اچھے ناول کم ہیں، انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ پھر کسی نے کہا، اب ہاتھ کی انگلیوں پر۔ لیکن اب انگلیوں پر گنتی کا زمانہ گزر گیا۔ ناول کا چلن عام تو نہیں ہوا، لیکن بہتر ضرور ہوا ہے۔

عالمی سطح پر ناول کی صنف کو جو غیرمعمولی اہمیت حاصل ہے اسے دیکھتے ہوئے ہماری صورت حال افسوس\"\" ناک ہے۔ لیکن ادھر شاید کچھ افاقہ ہونے کی توقع بندھ رہی ہے۔ ابھی رفاقت حیات کا ناول ’’میر واہ کی راتیں‘‘ سامنے آیا ہے جو ایک چھوٹے شہر میں ایک نوجوان کی بے دلی اور بے کیفی کو احاطۂ تحریر میں لاتا ہے۔ پچھلے دنوں سیّد کاشف رضا نے نئے ناول کا باب حلقے میں پڑھ کر سنایا۔ محمد عاطف علیم کا ’’مشک پوری کی ملکہ‘‘ اپنے طرز کا غیرمعمولی ناول ہے۔ اختر رضا سلیمی نے ناول میں ایک علیحدہ منطقہ دریافت کیا ہے۔ ان سے ذرا پیچھے جاکر دیکھیں تو مرزا اطہر بیگ نے تکنیک کے نئے تجربے سے نئی معنویت خلق کی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ جو لوگ ناول کی کمی کا گلہ کرکے چُپ ہو جاتے ہیں وہ ابھی تک مرزا اطہر بیگ کی ناول نگاری تک پہنچنے سے رہ گئے۔

اسی سے بھی پیچھے جائیں تو ایک نہیں دو غیرمعمولی ناول نگار موجود ہیں جن کی کتابوں سے واقفیت کا دائرہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اکرام اللہ کا غیرمعمولی ناول فحاشی کے الزام میں پابندی کا شکار ہوا اور اب تک چلا آرہا ہے۔ حالاں کہ ہم نے ایسی باتوں پر بُرا ماننا کب کا چھوڑ دیا۔ اکرام اللہ نے بڑے تواتر کے ساتھ طویل افسانے لکھے ہیں اور اس معاشرے میں بڑھتی ہوئی منافرت اور عصبیت کی بڑی چُبھتی ہوئی تصویر کھینچی ہے۔ \"\"موضوعات کی برجستگی اور بیانیے پر مہارت کے باوصف ان کی تحریریں بے حد غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہیں مگر افسوس کہ ان کے پڑھنے والے زیادہ نہیں۔ اسی طرح حسن منظر کا نیا ناول ابھی چھپ کر آیا ہے۔ وہ انوکھے افسانہ نگار ہیں جن کے افسانوں کے پس منظر تیزی سے بدلتے رہتے ہیں، آج یہاں کل وہاں۔ یہ بوقلمونی ان کا خاص وصف ہے اور وہ دل کو چھو لینے والی کہانی لکھنا خوب جانتے ہیں۔ پچھلے دنوں انھوں نے ایک سے زیادہ اچھے افسانے لکھے لیکن میں یہاں ان کے ناولوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ ’’دھنی بخش کے بیٹے‘‘ دیہی و قصباتی سندھ کے پس منظر میں لکھا جانے والا سب سے زیادہ تفصیلی اور پُر ثروت بیانیہ ہے۔ وبائی بیماری میں مبتلا شہر کا نقشہ جو انھوں نے ایک مختصر سے ناول میں کھینچا ہے، اپنے آپ میں ڈھلا ڈھلایا ہے اور حیران کر دیتا ہے۔ یہی ناول اگر یورپ کی کسی زبان میں لکھا جاتا یا انگریزی میں ترجمہ ہو جائے تو اس کی تعریف کرتے ہوئے نقادوں کی زبان نہ سوکھے۔ لیکن ان ناولوں پر ایک آدھ محاکمہ یا ایک آدھ تجزیہ ہی ملتا ہے، اس کے آگے خاموشی۔

اسی بارے میں: ۔  ٹمبکٹو، نیٹکو اور خیال تارڑ !

ایک طرف تو اردو ناول ان تمام تر اضافوں کے باوجود قارئین کے وسیع تر حلقے سے محروم ہوگیا ہے تو دوسری\"\" طرف پاکستان کا نام ناول سے نئے طور پر جُڑ گیا ہے۔ میں اپنی بات کی وضاحت کردوں__ انگریزی ناول کے ساتھ۔ دنیا بھر میں عوام پڑھنے والوں کے ذہن میں پاکستان کا نام لیتے ہی یہ ناول ضرور ذہن میں آئیں گے۔ ایک آدھ اتفاقی کتاب نہیں، اب ان ناولوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اور مقدار کے ساتھ معیار بھی۔ بین الاقوامی ناشرین بھی توجہ کی نظر ڈالنے لگے ہیں اور ایک تجزیہ نگار نے اس فراوانی کے ساتھ انگریزی کا لفظ Boom استعمال کر ڈالا جو ناشرین نے ایک زمانے میں لاطینی امریکا میں ایک نئے اور طاقت ور بیانیے کی باز آفرینی کے لیے استعمال کیا تھا۔ اب بھلا کہاں مارکیز، یوسا اور فوینتیس کے دور کا ناول اور کہاں ہمارے یہ نئے لوگ۔ میں ان کے ساتھ گھر کی مرغی دال برابر قسم کا سلوک تو نہیں کرنا چاہتا، ان سب کی اپنی اہمیت ہے اور خدا کرے یہ اس سے زیادہ کامیابی کی منزلیں طے کریں لیکن ان لکھنے والوں سے زیادہ ان کے بارے میں اس احساسِ دریافت کے ساتھ بات کرتے ہیں گویا گونگے کو زبان مل گئی ہو اور کولمبس نے افق پر وہ نیلی لکیر دیکھ لی ہو جسے وہ امریکا سمجھ بیٹھا تھا۔ تجربے کے جس منطقے کی طرف انگریزی کے ان نئے لکھنے والوں نے قلم بڑھایا ہے، وہ پہلے سے چند لوگوں کے قدموں کے نشانات موجود ہیں۔ آپ اپنے کو راہنسن کروسو سمجھتے ہیں تو ان کو مقامی باشندہ کہہ لیجیے۔ ان لکھنے والوں میں محمد حنیف، بلال تنویر اور مشرف علی فاروقی خاص طور پر اردو کے رواں منظر سے گہری واقفیت رکھتے ہیں، لیکن ندیم اسلم اور کاملہ شمسی نے خاص طور پر انتظار حسین کے بارے میں رائے زنی کی ہے جو ارتباط اور موانست کا سراغ دیتی ہے۔ کاش ان مصنفوں کی یہ حقیقت شناس خصوصیت کسی طرح سے ان کے پڑھنے والوں میں بھی سرایت کر جائے۔

جس طرح سمندر کے ساحل پر پانی میں پائوں ڈبونے سے قدموں کے نیچے سے ریت کے سرکنے کا احساس ہوتا ہے، کچھ ویسی ہی کیفیت افسانے کے ساتھ اردو تنقید کی بھی ہے جس میں معنی خیز اور دور رس تبدیلیاں نظر آرہی ہے۔ رجحانات کا مکمل دائرہ اس وقت ممکن نہیں ہے اور شاید ضروری بھی نہیں، لیکن دو ایک اہم تر تبدیلیوں کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ پاکستان میں تنقید کا منظر جس طرح تبدیل ہوا ہے اس کو گرفت میں لانے کے لیے شاید اردو میں تنقید کے سرآغاز کی طرف جانا ہوگا یعنی مولانا حالی کا مقدمۂ شعروشاعری۔ اس کتاب کی اولیت کے سبھی قائل ہیں اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ فارسی اور عربی میں اس وقت تک ایسی کتاب لکھی نہیں گئی تھی۔ اس کی اوّلیت کے تمام تر احترام کے باوجود بعض مقامات محل نظر ہیں۔ جب مولانا حالی زہرعشق والے نواب مرزا شوق\"\" کی شاعری کو سراہتے بھی ہیں اور ساتھ ہی اس کو ام مورل قرار دے دیتے ہیں__ غور کیجیے کہ اعتراض کا لفظ بھی ولایت سے آیا ہے__ تو وہ مرزا غالب کے شاگرد کم اور ملکہ وکٹوریہ کے ہم عصر زیادہ معلوم ہوتے ہیں۔ دانستہ یا نادانستہ انھوں نے وکٹوریائی اخلاقیات کو سخن فہمی پر ترجیح دے دی۔ اسی دور میں آزاد کی آب حیات ہمارے لیے اردو کی ان اہم تر کتابوں میں سے ایک مانی جاتی ہے جن کے توسط سے ہم نے کلاسیکی زمانے کو جانا پہچانا۔ درست، مگر  اسی قدر جتنا اس کتاب نے چاہا۔ اس کتاب میں اردو کے سیکڑوں شاعر جیتے جاگتے زندہ نمونوں کی طرح نظر آتے ہیں۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ ان تمام تر شاعروں میں ایک بھی عورت نظر نہیں آتی۔ کیا ہماری پوری شعری روایت مردوں پر مشتمل تھی۔ اگر ایسا ہوتا تو شاید فاطمہ حسن ایسی روایت میں پیدا ہونے سے انکار ہی کر دیتیں۔ عورتیں غائب ہیں اور سارے شاعر مسلمان ہیں۔ گویا ہندوئوں نے اس زبان میں شعر نہیں کہا۔ یا جن لوگوں کی شاعری سے انکار ممکن نہیں__ جیسے تلسی، میرا، سور، کبیر__ تو مذہب کے ساتھ ان کی زبان بھی الگ کر دی۔ لیکن میرا مقصد بزرگوں کی خطائیں گنوانا نہیں ہے۔ میں اس دور کے تنقیدی premise کے بارے میں سوال اٹھانا چاہتا ہوں، اور وہ بھی اس حوالے سے کہ یہ کام ہمارے دور کے بڑے فعال اور بیدار مغز نقاد نے کیا ہے۔ میری مراد ناصر عباس نیّر سے ہے جنھوں نے  post-colanial theory یا مابعد نوآبادیاتی مطالعات کا اطلاق اردو زبان و ادب پر کرنے کے ذریعے سے فہم و ادراک کا ایک نیا راستہ دکھا دیا ہے جس سے ہماری روایت کے خدوخال بھی بہتر نظر آتے ہیں اور دانشِ عصر حاضر میں برپا تبدیلیوں کا سراغ بھی ملتا ہے۔

ممکن ہے یہاں ہر کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ مابعد نوآبادیاتی طرز فکر بھی تو مغرب سے آیا ہے۔ یہ بات \"\"دُرست ہے اور فکر و احساس کے معاملات میں مختلف تواریخ اور مکاتیب فکر کا ایک دوسرے پر انحصار یا inter-dependency کی مرہونِ منّت ہے۔ لیکن اگر تھیوری کے بنیادی مباحث مغرب سے آئے ہیں تو ان کا اطلاق مکمل طور پر ہماری صورت حال کے مطابق ہے۔ اس امر پر اصرار اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ تنقید کے ایوانوں میں پہلے بھی نت نئی تھیوریز کا غلغلہ اٹھا ہے۔ لیکن یہ زیادہ دیر تک اپنا بھرم قائم نہ رکھ سکیں۔ ایک بہت محترم نقاد نے ایک اہم موضوع پر کتاب لکھی اور اسے خاصی شہرت حاصل ہوئی۔ نقاد کے ایک عقیدت مند نے اس کتاب کا انگریزی میں ترجمہ کرنے کا بیڑا اٹھایا تو اندازہ ہوا کہ اصل متن انگریزی میں پہلے سے موجود تھا  جس سے فاضل نقاد نے محض اخذ و استفادہ کیا۔ اسی طرح ایک اور مشہور نقاد کے بارے میں علم ہوا کہ ان کے مضامین میں انگریزی نقادوں کے نام اور ان کے حوالے سے نظریاتی بحث سب مانگے کا اجالا ہے۔ اب ایسی دیدہ دلیری کا امکان کم ہو گیا ہے کہ نئے نقاد پر یہ حقیقت آشکار ہو چکی ہے کہ نظریاتی اور حوالے کافی نہیں جب تک ان سے اپنے ادب کے بارے میں انکشاف انگیز بصیرت حاصل نہ ہوسکے۔ اردو تنقید بڑا لمبا چکّر کاٹ کر گھر کے دروازے پر واپس آگئی ہے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “آج کے اُردو ادب میں پڑھنے کے لیے بہت کچھ ہے

  • 27-12-2016 at 9:21 am
    Permalink

    I entirely agree. There has been an amazing burst of creative activity in in Urdu in Pakistan in the recent two decades. I only hope and pray it finds its audience.

  • 27-12-2016 at 5:51 pm
    Permalink

    ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آصف فرخی صاحب کا مطالعہ صرف پاکستان اور ہندوستان کے ادیبوں تک محدود ہے ۔ پاکستان کے ساحل سے پرے یورپ ابرطانیہ اور امریکا میں اردو لکھنے والوں کو اس طرح سے نظر انداز کر دیا ہے جیے کوئی دودھ سےمکھی کو نکال دے ایسے جیسے اردو ادب میں ان کی کوئی دین نہیں ہے۔ برطانیہ کے اردو کے چند ادیبوں کے نام پیش خدمت ہیں جو بڑی باقاعدگی اور تن دہی سے اردو ادب کی خدمت کر تے رہے ہیں۔ قیصر تمکین، جتندر بلو، ش، صغیر ادیب ، مقصود الہای شیخھ۔ صفیہ صدیقی، محسنہ جیلانی شاہدہ احمد، پرون لاشاری، حمیدہ معین رضوی، بانو ارشد، نجمہ عثمان، ساقی فاروقی۔ اکبر حیردابادی ۔ صدیقہ شبنم، مصطفی شہاب، سوہن راہی، خالد یوسف۔ عطیہ خان۔ طلعت سلیم ان میں شامل ہیں۔ آصف فرخی صاحب نے ان سب کو اس انداز سے نظر انداز کردیا ہے کہ جیسے ان کا کوئی وجود ہی نہیں۔ آصف جیلانی ۔

Comments are closed.