ہم کب تک گیارہ اگست کی تقریر کے گرد گھومیں گے؟


\"\"پچیس دسمبر کرسمس کا مبارک دن تھا لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ اقلیت خواہ کسی مذہبی طبقہ سے ہو اس کے لیے عید کیا کوئی بھی تہوار مسرت کا باعث کیسے بن سکتا ہے اگر وہ معاشی پسماندگی اور سیاسی و سماجی جبر کا شکار ہو۔ یہاں اس دن کا تذکرہ اس لیے کہ اس دن قائد اعظم کی پیدائش اس کی اہمیت کو اہل پاکستان کے لیے اور بھی بڑھا دیتی ہے۔ دن کو ئی بھی ہو اگر اس کا تعلق کسی بھی حوالے سے پاکستان کے وجود میں آنے سے ہو تو اپنے ساتھ یہ بحث ضرور لائے گا کہ قائد پاکستان کیسا چاہتے تھے۔ وہ مذہبی ریاست کے خواہاں تھے یا ایک سیکولر ریاست کے۔ ہر بار زیر بحث گیارہ آگست کی تقریر ہوتی ہے، کالم لکھے جاتے ہیں، ٹی وی شوز ہوتے ہیں اور قائد پاکستان کیسا چاہتے تھے، ثابت کیا جاتا ہے۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی یہی کچھ ہوا۔

یہ صورت حال اس بات کا ثبوت دیتی ہے کہ ہم آج بھی اس بات کا تعین نہیں کر پائے کہ پاکستان کے سیاسی و معاشی فلسفہ کی بنیاد کیا ہوگی۔ ہم تذبذب کا شکار ہیں کہ ہمیں ریاست کی بنیاد سیکولر اقدار پہ رکھنی ہے یا تھیوکریٹک اقدار پہ اور ایسے میں ریاست ستر سال کی ہونے کو ہے لیکن شناخت نہیں جانتی۔ ہر بار دائیں اور بائیں بازو کے اہل قلم کی جانب سے گیارہ آگست کی تقریر میں سے شناخت جاننے کی سعی کی جاتی ہے لیکن تقریر بھی وہ کہ جو اپنی اصلی حالت میں دستیاب نہیں اور شک جس کے پہلو میں پلتا ہے۔ ایسے میں خاکسار بحثیت طالب علم سوال کرتا ہے کہ اگر گیارہ آگست کی تقریر من و عن موجود ہوتی اور قائد سیکولرازم کو پاکستان کی بنیاد قرار دیتے تو کیا دائیں بازو کے اصحاب اسے تسلیم کرتے؟ اور اگر تھیوکریسی کو پاکستان کی بنیاد قرار دے رہے ہوتے تو بائیں بازو کا رد عمل کیا ہوتا؟ کیا پاکستان کو ایک مذہبی ریاست تسلیم کر کے سیکولر  پاکستان کے خواب کی پرورش چھوڑ دی جاتی؟ نہیں میری دانست میں ہر گز ایسا نہ ہوتا۔ نظریاتی کشمکش طرفین میں موجود رہتی۔

اسی بارے میں: ۔  آسکر اٹھائیں گے، بندوق نہیں

یہاں گیارہ آگست کی تقریر کو زیر بحث لانے کا مقصد پاکستان کی سمت کا تعین کرنا معلوم نہیں پڑتا بلکہ قائد کی زات کو سیکولر یا مذہبی ثابت کرنا نظر آتا ہے۔  میں یہ سوال اٹھانے کا حق محفوظ سمجھتا ہوں کہ ہم ـ سیاسی فلسفہ کیا ہو؟ـ کے جواب کے لیے گیارہ آگست کی تقریر کے گرد کیوں گھومنے لگتے ہیں؟ ہماری تمام تر توانائیوں کا مرکز یہ تقریر کیوں کر بن جاتی ہے؟ یہ مان لینے میں کیا برائی ہے کہ ہمارا ملک بھی اس ارتقا پذیر کائنات کا ایک ادنیٰ سا سیارہ ہے اور اس ارتقا کا حصہ ہے، اس کے بھی حالات بدل چکے ہیں اور تیزی سے بدل رہے ہیں اور مسائل کے حل کے لیے بدلتی سوچ اور فکر کا تقاضہ کرتے ہیں۔

خاکسار کے مطابق تو حالات یہ بتاتے ہیں کہ نیم مذہبی، نیم سیکولر سیاسی سوچ نے ہمیں جمود کا شکار کر کے دیا ہے کیوں کہ ارتقا کے عمل میں قدرت موزوں ترین کا انتخاب کرتی ہے اور موزوں کی تعریف دستیاب حالات کے ساتھ مطابقت سے ہے۔ قائد کی تقریر خواہ کچھ بھی ہو، کیا آج کے حالات اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ اقلیتوں پہ جبر روا رکھا جائے، ان کے لیے ترقی کے راستے محدود کیے جائیں۔ جب یہ حقیقت ہے کہ وطن عزیز میں مختلف عقائد اور فرقہ کے لوگ بستے ہیں، کسی ایک کی حکومت کسی دوسرے پہ جبر کا باعث بن سکتی ہے تو پھر یہ چند بنیادی حقائق سیاسی فکر کے تعین کے لیے ناکافی کیوں ہیں یا یہ مان لیا جائے کہ ھمارے یہاں وہ موزوں سوچ نہں پنپ سکتی جو آج کے حالات کے تقاضوں کے مطابق رہنمائی کرے  یا ایسا کرنے کےلیے درکار ہمت کی کمی ہے۔ اسی لیے گیارہ آگست کی تقریر کا حوالہ ضروری ہے اور جب تک پورا سچ سامنے نہ آجائے کہ قائد نے دراصل کیا کہا تھا تب تک بحث کی بھول بھولیوں میں گم رہا جائے۔ ایسے میں ڈر ہے کہ دیر کی صورت میں ارتقا کے عمل کے ہاتھوں غیر موزوں قرار نا دے دیئے جائیں۔ طالب علم اپنے جہل سے واقف ہے۔ اس لیے سوال چھوڑے جاتا ہے کہ قائد جو چاہتے تھے اگر آج کے حالات سے میل نہ کھائے تو کیا کِیا جائے؟

اسی بارے میں: ۔  مولانا مفتی محمودؒ کون تھے؟

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “ہم کب تک گیارہ اگست کی تقریر کے گرد گھومیں گے؟

  • 27-12-2016 at 9:25 am
    Permalink

    زندہ باد۔ ماضی سے نظر چھپانا اگر برا ہوتا ہے تو اتنا ہی برا ماضی پر نظر جمائے رکھنا بھی۔ آپکی نسل کو نہ صرف یہ سوال اٹھانے کا حق ہے بلکہ اسکا جواب اپنے طور پر ڈھونڈنے کا حق بھی اور ذمہ داری بھی۔

  • 27-12-2016 at 3:44 pm
    Permalink

    جی شکریہ۔۔ آپ نے بجا فرمایا

Comments are closed.