قائداعظم یونیورسٹی کی اونچی دیواریں


\"\"مارچ 2012 میں ایم-فل ریاضی کی ڈگری مکمل کرنےکے بعد شاید باقاعدہ طور پر آج میں چار سال بعد قائداعظم یونیورسٹی جا رہی تھی۔ میرے ہمراہ میری کولیگ اور بہت اچھی دوست بھی تھیں۔ باب القائد عبور کرتے ہی کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کی اختتامی حدود میں اونچی دیواریں دکھائی دینے لگیں، چار برس میں ہونے والی یہ پہلی تبدیلی تھی جسے یونیورسٹی کی حدود میں داخل ہوتے ہی میں نے محسوس کیا، دیوار سنٹرل لائبریری تک بڑھا دی گئی تھی۔ لائبریری کے ساتھ شعبہ ریاضی کی عمارت دکھائی دیتی تھی۔

چار برسوں میں شعبہ ریاضی کی عمارت میں کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ گندھارا آرٹ سے مزین بیسمنٹ ہمشیہ کی طرح آج بھی میری دلچسپی کا باعث تھی۔ عمارت کی وہی بے رنگ کھردری دیواریں، اور اپنی دھن میں مگن لوگ۔۔۔ راہداریوں سے گزرتے ہوئے کمرہ نمبر 29 پر نظر جا ٹھہری، جہاں وقت کے گزرنے کا احساس تھم جایا کرتا تھا، گھنٹوں ریسرچ کا کام کرنا، ڈاکٹر قیصر مشتاق کی سیر حاصل گفتگو سننا، اُن سےسیکھنا، کانفرنس اور سیمینار کی گہما گہمی ، دیواروں پر نصب ڈاکٹر صاحب کی کچھ یاد گار تصاویر، اور لکڑی کے شیلف پر قرینے سے رکھیں آکسفورڈ اور ایم آئی ٹی یونیورسٹی کی اعزازی شیلڈز، سب منظر خود کو دہراتے چلے گئے۔ شاید یہی وہ یادیں تھیں جو مجھے ڈاکٹریٹ میں داخلے کے لیے انھی راستوں پر دوبارہ لے آئیں تھیں۔

کمرہ نمبر 29 کے حالات ڈاکٹر قیصرمشتاق کی ریٹائرمنٹ کے بعد یکسر بدل چُکے تھے، کمرے کی موجودہ حالت \"\"ڈاکٹر قیصر کے کسی بھی طالب علم کے لئے خاصی افسردگی کا باعث تھی۔

فی لوقت مجھے اپنے یونیورسٹی آنے کے مقصد پر توجہ دینی تھی،لہذا میں آگے بڑھی، ٹاپ فلور پر ڈاکٹر تصور حیات کمرہ اور اُس میں موجود ریسرچر، مجھے ہمشیہ کسی مشین کی طرح لگا کرتے تھے، جنہیں کمرے سے باہر سانس لینے کے لئے بھی شاید اجازت طلب کرنا پڑتی تھی، اور کچھ شرارتی لوگ اس کمرے کو پیپر فیکٹری کا نام بھی دیتے تھے۔

وہیں پاس میں ڈیپارٹمنٹ کا ایڈمنسٹریشن روم تھا۔ جہاں پہنچ کر میں نے چئرمین صاحب کے پی اے سے ڈاکٹریٹ میں داخلے کی شرائط پتا کیں، اور یہ جان کر حیرت ہوئی کہ باقی یونیورسٹی سے الگ شعبہ ریاضی والوں کےداخلے کے اصولوں کی اپنی الگ ڈیڑھ انچ کی مسجد بن چُکی ہے، نوکری پیشہ افراد کو ناصرف اپنے ادارے سے این- او- سی لینا ہو گا بلکہ شروعات میں ہی دو سال کی سٹٹڈی لیو بھی لینا ہو گی، صرف اُسی وقت داخلہ قبول کیا جائےگا۔

سٹٹڈی لیو کی شرط ڈیپارٹمنٹ کی خود ساختہ اور یونیورسٹی ویب سائیٹ پر پی ایچ ڈی میں داخلہ کی مروجہ شرائط کے منافی تھی۔ یہ شرط دراصل چند پروفیسرز کے آپسی اختلافات کی مرحون منت ہے۔ افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ریاضی جیسے ہمہ جہت مضمون کی \’پیور\’ اور \’ایپلاڈ\’ کی اصطلاح میں غیر منصفانہ تقسیم ڈیپارٹمنٹ میں فرقہ واریت کا روپ دھار چُکی ہے۔\"\"

چئرمین صاحب سے ہم نے گزارش کی کہ ہمیں تین سال سے پہلے یہ لیو نہیں مل سکتی، کوئی گنجائش نکالیں، داخلے کی وہی شرائط رکھیں جو باقی یونیورسٹی میں قابل عمل ہے جو پچھلے دو سال سے پہلے تک تھی۔ لیکن یہاں گزارش بے سود ثابت ہوئی، چئرمین صاحب حل نکالنے کی بجائے شادی کے مشورے دیتے نظر آئے۔

گویا میرے جیسے بہت سے نوکری پیشہ لوگ جو کسی نہ کسی وجہ سے سسٹڈی لیو نہیں لے سکتے اُنکو قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ ریاضی میں داخلے سے محروم کر دیا گیا ہے۔

بوجھل دل اور مایوسی سے واپسی کے سفر پر میں سوچ رہی تھی کہ کیا قائداعظم یونیورسٹی، جو کہ حالیہ سروے کے مطابق دنیابھر کی پہلی 700 اور ایشیاء کی پہلی 130 یونیورسٹیز میں اپنی جگہ بنائے ہوئے ہے، جس نے ملک کے باقی جامعات کے لئے بھی بہترین پروفیسرز مہیا کیے، وہ چند پروفیسرز کی آپسی خلش اور سیاست کی نذر ہو جائے گی؟ اور کیا ایک بار پھر کوئی پوچھنے والا نہیں ہو گا؟

دیواریں شاید قائداعظم یونیورسٹی اور اس کے طالب علموں کے درمیان بھی حائل ہو چُکی ہیں۔۔۔۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “قائداعظم یونیورسٹی کی اونچی دیواریں

  • 27-12-2016 at 9:17 am
    Permalink

    I hope you will not give up the fight.

Comments are closed.