مہاراجا پٹیالہ کے دربار میں کیا ہوتا تھا؟


 1891 میں پیدا ہونے والے مہاراجا بھوپندر سنگھ آف پٹیالہ نے 1938 ء میں وفات پائی تو اس کی پانچ بیویاں ، 88 اولادیں اور 350 سے زیادہ داشتائیں تھیں۔ بھوپندر سنگھ مہاراجہ اعلیٰ سنگھ کی نسل میں سے تھا۔ اس خاندان کے سربراہ نے تاریخی ہیروں اور دیگر نایاب جواہرات پر مشتمل خزانہ چھوڑا تھا۔ اس نے ایک بڑی ریاست قائم کی تھی اور اپنی اولاد کو اقتدار دے گیا تھا۔

مہاراجہ بھوپندر سنگھ بہت قابل انسان تھا۔ اس کے وزیر اور افسر نہایت لائق افراد تھے۔ ہندوستان کے ہر علاقے کا لائق ترین شخص چن کر اس کا وزیر بنایا گیا تھا۔ اس کے وزیر ساری زندگی اس کے وفادار رہے۔ آزاد ہندوستان کا سفیر برائے چین، مصر اور فرانس سردار کے ایم پانیکر اس کا بااعتماد وزیر خارجہ تھا۔ ایک سابق بھارتی وزیراعلیٰ کرنل رگھبیر سنگھ بھی پٹیالہ کا وزیر داخلہ رہ چکا تھا۔ نواب لیاقت حیات خان کئی سال پٹیالہ کا وزیراعظم رہا۔ قانون کا وزیر الٰہ آباد کا ممتاز وکیل ایم اے رائنا تھا۔ دیوان جرمنی داس زراعت، صنعت اور جنگلات کا وزیر ہونے کے علاوہ مہاراجا کی صحت کے امور کا انچارج تھا۔ بھوپندر سنگھ نے ریاست کا انتظام چلانے میں اپنی مدد کے لیے نہایت لائق افراد کو منتخب کیا تھا۔

مہاراجا بھوپندر سنگھ کا باپ مہاراجہ سر راجندر سنگھ سی سی ایس آئی شراب نوشی کے ہاتھوں صرف 28 سال کی عمر میں مر گیا تھا۔ مہاراجا کے مشیر اس امر کا خا ص خیال رکھتے تھے کہ وہ اپنے باپ دادا کی طرح شراب کا عادی نہ ہو جائے۔ اسے ایک انگریز ٹیوٹر نے بچپن سے تعلیم و تربیت دی تھی۔ اس کے علاوہ اسے ہندو اور سکھ ٹیوٹر بھی تعلیم و تربیت دیا کرتے تھے۔ 18سال کی عمر میں وہ بہت سی خوبیوں کا مالک بن چکا تھا۔

جب وہ بالغ ہوا تو اس کے درباریوں نے اسے عورت اور شراب کے مزے سے آشنا کروانا چاہا۔ تاہم مہاراجا ان تمام ترغیبات سے بچا رہا۔ چونکہ مہاراجا کے بگڑنے ہی میں درباریوں کا مفاد تھا اس لیے جلد ہی مہاراجا ان کی سازشوں کا شکار ہو گیا۔

درباری ولن اسے نوجوان عورتوں کے ذریعے بھٹکانے کی کوشش کرتے رہے۔ وہ نوجوان تھا اس لیے ایسی ترغیبات سے زیادہ عرصہ نہ بچ سکا۔ ان عورتوں کو ہندوستان کے مختلف علاقوں سے لایا جاتا تھا۔ وہ بہت کم عمر اور نہایت حسین ہوا کرتی تھیں۔ جب وہ مرا تو اس کے حرم میں تقریباً 322 عورتیں تھیں۔ ان میں سے صرف دس مہارانیاں تسلیم کی گئی تھیں، تقریباً پچاس کو رانی کہا جاتا جبکہ باقی سب کنیزیں تھیں۔ وہ سب مہاراجا کے اشارے کی منتظر رہتی تھیں۔ وہ دن یا رات کے کسی بھی لمحے ان کے ساتھ قربت اختیار کر سکتا تھا۔

چھوٹی چھوٹی بچیوں کو محل میں لایا جاتا اور انہیں پالا پوسا جاتا یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جاتیں۔ انہیں مہاراجا کی پسند کے مطابق تربیت دی جاتی تھی۔ محل میں شروع شروع میں ان لڑکیوں کا بہت خیال رکھا جاتا تھا۔ انہیں صرف مہاراجا کو سگریٹ اور شراب پیش کرنے یا دوسری خدمات ادا کرنے کا کہا جاتا تھا۔ مہارانیاں ان کو آغوش میں لیتی اور چومتی تھیں۔ پہلے وہ لڑکیاں محض کنیزیں ہوتی تھیں لیکن مہاراجا کو پسند آنے پر ان کا رتبہ بڑھتا جاتا یہاں تک کہ وہ اعلیٰ ترین رتبے پر پہنچ کر مہارانی کہلاتیں۔ جب مہاراجا کسی عورت کو مہارانی منتخب کر لیتا تو حکومت ہندوستان کو اس امر کی اطلاع دیتا اور حکومت اس عورت کو مہارانی تسلیم کر لیتی۔ اس کے بطن سے جنم لینے والے لڑکے کو مہاراجا کا جائز بیٹا تصور کیا جاتا اور اسے شہزادے کے حقوق دیے جاتے تھے۔

اسی بارے میں: ۔  کچھ سویلین سیلوٹوں کی مذمت میں

 مہارانیوں اور داشتاؤں میں اور بھی فرق تھے۔ مہارانیوں کو دوپہر اور رات کا کھانا اور چائے سونے کے برتنوں میں پیش کیے جاتے تھے۔ رانیوں کو چاندی کے برتنوں میں کھانا پیش کیا جاتا تھا۔ ان کو پچاس اقسام کے کھانے پیش کیے جاتے تھے۔ اعلیٰ تر رتبے کی آرزو مند دیگر عورتوں کو پیتل کے برتنوں میں کھانا پیش کیا جاتا تھا۔ ان کو بیس اقسام کے کھانے پیش کیے جاتے تھے۔ خود مہاراجا کو ہیرے جڑے سونے کے برتنوں میں کھانا پیش کیا جاتا تھا۔ اسے 150 سے زیادہ اقسام کے کھانے پیش کیے جاتے تھے۔

مہاراجا ، مہارانیوں اور شہزادوں یا شہزادیوں کی سالگرہ پر عظیم الشان تقریبات برپاکی جاتیں۔ دو سو پچھتر یا تین سو مہمانوں کے لیے میز لگائی جاتیں۔ مردوں میں صرف مہاراجا، اس کے بیٹے، داماد اور چند خاص مدعوئین ہوتے جبکہ عورتوں میں صرف مہارانیاں اور محل کی چند منتخب عورتیں ہوتیں۔ ان تقریبات میں اطالوی، فرانسیسی اور انگریز بیرے اور خانساماں ہوتے تھے اور کھانے اور شرابیں نہایت مزیدار ہوتے۔ پکوانوں کو بڑی بڑی پلیٹوں میں لا کر اوپر تلے رکھ دیا جاتا۔ یہ ڈھیر کھانے والوں کے منہ تک پہنچ جاتا تھا۔ بعض اوقات دس سے بیس پلیٹوں تک کی قطاریں بن جاتی تھیں۔ کھانے کے بعد موسیقی کی محفل ہوتی، جس میں مختلف ریاستوں سے بلوائی گئیں رقاصائیں مہاراجا، مہارانیوں اور مہمانوں کا جی بہلاتیں۔ ایسی تقریبات صبح سویرے انجام کو پہنچتیں۔ اس وقت تک سب لوگ نشے میں دھت ہو چکے ہوتے تھے۔ یہ سلسلہ کئی سال جاری رہا۔ محل میں ایسی عورتیں بھی تھیں جنہیں یورپ، نیپال اور قبرص سے لایا گیا تھا۔ محل کی عورتوں نے ایسا لباس اور ہیرے جواہرات پہنے ہوتے تھے کہ دنیا میں ان کی مثال ملنا ناممکن تھی۔ تقریب کے اختتام پر مہاراجا عورتوں میں سے چند ایک کو منتخب کر لیتا اور انہیں لے کر اپنے محل میں چلا جاتا۔ یہ عورتیں مہاراجا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بہت سی ترکیبیں استعمال کرتی تھیں۔ مہاراجا کے دل میں ان سب کے لیے نرم گوشہ تھا۔ وہ روزانہ اپنے معائنے کے لیے آنے والے ڈاکٹروں کو اپنی بیماریوں کے بارے میں بتاتی تھی۔

یہ عورتیں بعض اوقات مہاراجا کی محبت اور فرقت میں خودکشی کرنے کی دھمکی دیتیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان میں سے  چند ایک نے کمرے کی چھت سے رسی باندھ کر اس کے ذریعے خودکشی کی کوشش بھی تھی۔ جب کوئی عورت تنہائی کا شکوہ کرتی تو مہاراجا خوفزدہ ہو جاتا۔ عموماً وہ اس سے ملتا اور ہر ممکن طریقے سے اسے دلاسا دینے کی کوشش کرتا۔ مہاراجا کے حرم میں ایسی بدنصیب عورتیں بھی تھیں جنہیں زندگی میں ایک مرتبہ بھی مہاراجا سے ہم آغوش ہونے کا موقع نہیں ملا تھا۔ مہاراجا کو اپنی ساری مہارانیوں، رانیوں اور دیگر عورتوں سے محبت تھی اور وہ سب کے ساتھ برابر کا محبت بھرا سلوک روا رکھنے کی کوشش کرتا تھا۔ عورتیں بھی جواباً اسے اپنا واحد مرد مانتی تھیں۔

اسی بارے میں: ۔  جنرل ضیا، میرا بچپن اور وردی

وہ جب بھی یورپ جاتا کم از کم ایک درجن عورتوں کواپنے ساتھ لے کر جاتا تھا۔ ہندوستان سے باہر ان مہارانی، رانی اور کنیز والی تفریق ختم ہو جاتی۔ ان کے کھانوں، کپڑوں اور رہائش میں کوئی فرق نہ رہتا۔ موتی باغ محل کا پروٹوکول پیرس اور لندن میں ایک طرف رکھ دیا جاتا تھا۔

مہارانیاں اور دوسری عورتیں موتی باغ کہلانے والے بڑے محل کے عقب میں واقع مختلف محلات میں رہتی تھیں۔ موتی باغ محل مہاراجا کی رہائش گاہ تھا۔ باہر سے کسی شخص کا محل کے ان اندرونی حصوں میں داخل ہونا انتہائی مشکل تھا۔ اگر کوئی شخص موتی باغ محل میں داخل ہونا چاہتا تو پہلے اسے تقریباً آدھا میل لمبا باغ عبور کرنا پڑتا، پھراسے بے شمار کمروں اور متعدد ہال کمروں سے گزرنا پڑتا۔ محل میں ہر بیس قدم کے فاصلے پر فوجی گارڈ موجود ہوتے۔ ان سب مراحل سے گزرنے کے بعد وہ شخص ایک چھوٹے گیٹ تک پہنچتا، جہاں سے داخلی محلات میں پہنچا جا سکتا تھا۔ اندرونی محل میں مہاراجا سے ملنے کے لیے آنے والوں کو شفاف اور قیمتی ریشمی لباس میں ملبوس اور ہیرے جواہرات سے لدی پھندی نہایت حسین و جمیل عورتیں مہاراجا کے خصوصی احکامات کی تعمیل میں مسکراہٹوں سے نوازتیں اور شراب پیش کرتیں۔ پنجابی لباس میں ملبوس چند عورتیں مہمانوں کو سگریٹ پیش کرتیں جبکہ ساڑھی میں ملبوس چند دیگر عورتیں شراب اور پھل پیش کرتیں۔ پٹیالہ کے دربار کی شان و شوکت کے سامنے الف لیلوی شان و شوکت ماند تھی۔

مہاراجا اپنی عورتوں سے حسد نہیں کرتا تھا اور اپنے مہمانوں کو ان سے گھلنے ملنے کی اجازت دے دیتا تھا۔ تاہم وہ گھٹیا پن اور بدتمیزی کو ذرا بھی برداشت نہیں کرتا تھا۔ مہاراجا کے پیروں میں درجنوں عورتیں پڑی رہتی تھیں۔ چند عورتیں اس کی ٹانگیں دبا رہی ہوتیں اور چند عورتیں پیغامات ادھر سے ادھر پہنچا رہی ہوتیں۔ مہاراجا کی پسندیدہ عورت اس کی دیوی ہوتی اور سب کی نگاہیں اس پر جمی ہوتیں۔ عموماً وہ مہاراجا کے گھٹنے کے پاس بیٹھی ہوتی۔ اس نے نہایت خوبصورت سرخ رنگ کا شفاف لباس پہنا ہوتا، ناک میں سونے کا کوکا، گلے میں موتیوں کا ہار اور کلائیوں میں ہیروں کے کنگن ڈالے ہوتے۔ حرم کی عیاشانہ زندگی اور ہمسایہ ریاستوں اور ہندوستان کے وائسرائے کے ساتھ چپقلشوں کی وجہ سے مہاراجا کو ہائی بلڈ پریشر کا عارضہ لاحق ہو گیا۔ فرانس کے مشہور ڈاکٹروں پروفیسر ابرامی اور ڈاکٹر آندرے سے لچوٹز نے ریڑھ کی ہڈی میں انجکشن لگا کر بلڈ پریشر کو گھٹانے کا نیا طریقہ دریافت کیا تھا۔ مہاراجا نے انہیں فرانس سے پٹیالہ بلوا لیا۔ مہاراجا علاج کے لیے یورپ بھی گیا لیکن بلڈ پریشر کنٹرول نہ ہو سکا، جس کا خاص سبب یہ تھا کہ اس نے ڈاکٹروں کی ہدایت کے برعکس عورتوں اور شراب کو نہیں چھوڑا۔ مہاراجہ صرف 47 برس کی عمر میں چل بسا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “مہاراجا پٹیالہ کے دربار میں کیا ہوتا تھا؟

  • 27-12-2016 at 9:13 am
    Permalink

    I suspect the last picture is that of Maharani Gayatri Devi of Gwalior and has nothing to do with Patiala. Gayatri Devi was brilliant woman of many accomplishments besides her beauty.

Comments are closed.