دریائے گلگت میں شارک کا شکار!


waqar ahmad malik

پندرہ سال ادھر کی بات ہے اور گلگت کی بات ہے۔ سلک روٹ فیسٹیول کے سلسلے میں ایک ماہ کا قیام تھا۔ فیصلہ ہوا کہ کھانا پکانا خود ہی کیا جائے۔ ہماری رہائش گلگت بلتستان اسمبلی میں تھی جہاں سامنے دریائے گلگت بہتا تھا۔ امور خانہ داری کے لیے ضروری سامان خرید لیا گیا۔ جس دن ہم نے کھانا پکانے کی ابتدا کرنی تھی اس دن سبزیوں وغیرہ کی خریداری کے لیے ایک ٹیم کی تشکیل دی گئی۔ میں خریداری ٹیم کا ممبر تو نہیں تھا لیکن ساتھ ہو لیا۔ خریداری ٹیم میں ایک صاحب کو بطور خاص لیڈر چنا گیا جو بحث و تکرار سے قیمت کم کرانے کا ہنر جانتے تھے۔
ہم ائیر پورٹ روڈ کے بازار پہنچے اور پارک ہوٹل کے پاس ایک سبزی کی دکان پر گئے ۔ ٹیم نے باہم اتفاق سے سودا سلف کی ابتدا کا آغاز ٹماٹروں کی خریداری سے کیا۔ میں تو خیر ویسے ہی آوارہ گردی کی خاطر ساتھ گیا تھا۔ بلکہ لگے ہاتھوں بتاتا چلوں کہ گلگت میرا عشق ہے۔ میرا شہر تمنا ہے ۔ چاند نگر ہے اور بقول تارڑ صاحب گلگت ایک جزیرہ ہے۔ اور اس شہر کے ایک ایک پتھر، دیوار، مٹی، دکانیں اور دکانوں پر لگے بورڈز ، سڑک پر پڑے خالی جوس کے ڈبے اور اڑتے شاپنگ بیگز، اسکی سنہری دھوپ، دریائے گلگت کا موسم کی تبدیلی کے زیر اثر رنگ بدلتا دریائے گلگت جوکبھی سلیٹی کبھی فیروزی تو کبھی نیلگوں ، اس کی سڑکیں ، اس کے چہرے ۔۔۔ غرض اسکی ہر چیز سے ایسا عشق ہے کہ گلگت کے عشق میں فنا ہو جانا بھی کیا گھاٹے کا سودا ہے؟

waqar-3
میں ہر سال صرف اتنے دن ہی زندہ ہوتا ہوں جتنے دن گلگت میں ہوتا ہوں۔ آج ایک میچیور اور سنجیدہ آ دمی ہوں لیکن اب بھی پڑی بنگلہ عبور کر کہ جیسے ہی گلگت کے نواح آتے ہیں میں اس ’میچیورٹی‘ کو چند گندی گالیوں کے ساتھ ٹھڈے مارتا ہوں اور خوشی سے میرے حلق سے چیخیں نکلتیں ہیں۔ میں موٹر سائیکل کو لہرا لہرا کر چلاتا ہوں ۔
مجھ سے پوچھیے میں اس دنیا میں کیوں آیا تھا؟
میں بتاؤں گا کہ میں اس دنیا میں اس لیے آیا تھا کہ ریویریا ہوٹل کے گرم پانی سے غسل کر نے کے بعد اس کے لان میں بیٹھ کر ناشتہ کروں اور سگریٹ پیوں ۔
کوئی لمبا چوڑا فلسفہ نہیں ہے۔
اوہ میں کہیں اور نہیں نکل گیا؟ میں کہہ رہا تھا کہ سودا سلف کی خریداری کا آغاز ٹماٹروں کی خریداری سے کیا گیا۔
ٹماٹروں کی ایک دھڑی کی قیمت پوچھی گئی جو پچاس روپے بتائی گئی۔
قیمت میں کمی کروانے کی شہرت رکھنے والے صاحب تو آگ بگولا ہو گئے۔ بحث شروع کر دی۔
انہوں نے پچاس روپے قیمت کو ایک ذلت قرار دیا اوراس قیمت کو مہمان کی عزت پر حرف کہ دیا۔ غضب خدا کا صرف پانچ کلو ٹماٹر کے پچاس روپے۔
اب آپ جانتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں لفظ مہمان ، مقامیوں کے لیے کتنی بڑی کمزوری ہے۔ مہمان کہہ کر آپ ان کی جان لے لیں۔ دکاندار نے لفظ مہمان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور کہا کہ اب جو مرضی آپ خود قیمت ادا کریں میں نہیں کہوں گا۔ آخر میری والی پارٹی نے ہی ٹماٹروں کی قیمت تیس روپے فی دھڑی رکھی
جس پر میزبان دکاندار نے کوئی اعتراض نہ کیا صرف اتنا کہا ، کتنی مقدار لیں گے؟
میری پارٹی کے ایک ممبر نے کہا ، ایک پاؤ مناسب رہیں گے۔۔۔۔۔۔
یہ وہ حساس لمحہ تھا جب میں گلگت میں نہیں تھا۔ میں دکاندار کے پاس دھرے ایک گھڑے کے اوپر رکھی ایک پیالی میں ۔۔بس ایک پانی تھا۔ خدا قسم میں انسان نہیں تھا۔ میں تو اس دنیا کو جانتا بھی نہیں تھا ۔ یہ کون ہیں ؟ یہ سب کیا ہے؟ یہ پہاڑ کیا ہیں ؟ اور میرے ساتھ لٹکے یہ دو بازو کیا ہیں؟ میں کہاں سے آیا ہوں ؟ مجھے کہاں جانا ہے؟ قرار دادِ مقاصد کیا ہے؟ اشوکا کے کتبے کیا ہیں؟ اور میں اس ڈھانچے کی ہئیت میں کیوں ہوں؟ میں سبزیوں میں پڑا ایک گونگلو کیوں نہیں ہوں؟ قدرت کا کیا جاتا جو مجھے ایک گونگلو بنا دیتی؟ زیادہ نہیں کم از کم آ ج کے دن۔۔۔
ان سوالوں کو فوری جواب تو نہ سوجھا البتہ ایک غیر شعوری حرکت یہ ہوئی کہ میں تھوڑ ا دائیں طرف سرک کر ڈرائی فروٹ کی ریڑھی پر چلغوزوں کی قیمت پوچھنے لگ گیا جیسے میں چیخ چیخ کر اہلیان گلگت کو بتانا چاہ رہا ہوں کہ میرا اس سودا سلف کے لیے نکلی مہم جو ٹیم اور اس کے مہم جو لیڈر سے کوئی تعلق نہیں۔۔
دیکھو دیکھو میری رنگت دیکھو ۔۔کیا میں تھوڑا تھوڑا گلگتی نہیں ہوں۔
میں شینا نہیں بولتا لیکن اردو بھی تو مشکل سے بول رہا ہوں اور میرے ہر جملے میں ’’شوا ء شواء‘‘ بھی تو نکل رہا ہے۔
خیر ٹیم اپنی قیمت کم کرانے کی صلاحیتوں کے ساتھ آگے نکل گئی اور میں واپس رہائش گاہ آ گیا۔
آپ کیا سمجھتے ہیں برا دن ، کیا دن گیارہ بجے ختم ہو جاتا ہے ۔ نہیں برا دن رات بارہ بجے تک برے واقعات سے آپ کی جھولی بھرتا رہتا ہے۔
شام کو مجھے معلوم ہوا اور معلوم بھی کیسے ہوا کہ خود آصف اور خٹک نے آکر بتایا کہ انہوں نے دوپہر کو مچھلی پکڑنے والی ڈوری، کانٹا وغیرہ خریدے ہیں اور دریائے گلگت سے مچھلی پکڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مجھے کوئی خاص دلچسپی پیدا نہ ہوئی ۔
دریائے گلگت کا بہاؤ اس قدر تیز اور گرمیوں میں سِلٹ کی مقدار اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ مچھلی کے ہاتھ آنے کہ امکانات کیا ہونے ہیں۔
ہاں مجھے دلچسپی ہوتی اگر وہ کہتے ہیں کہ مچھلی پکڑنے، کارگاہ نالے پر جانا ہے۔
رات نو بجے میں کمرے میں لیٹا تھا جب آصف آیا اور کہا کہ دریا پر چلو میں اور خٹک وہاں مچھلیاں پکڑ رہے ہیں ۔
میں نے پوچھا کتنی پکڑ لی ہیں۔ آصف نے اس سوال کو طنز یا گستاخی سمجھا اور غصے سے کہا ابھی ایک گھنٹہ تو ہوا ہے کوئی نہ کوئی آ جائے گی۔
میں جانا نہ چاہتا تھا لیکن آصف کی ضد کی وجہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔آسمان پر بادل تھے ۔ خاموش تھے اور ہلکی پھوار نما بارش سے اپنے ہونے کا یقین دلاتے تھے۔
دینیور سے اوپر کے بادل عین راکا پوشی کے اوپر چمکتے تھے اور جب چمکتے تھے تو راکا پوشی کی برفیں مقابلتا زیادہ چمکتیں تھیں۔
آصف مجھ سے پہلے خٹک کے پاس پہنچ چکا تھا۔ میں چنار باغ میں سگریٹ سلگائے آہستہ آہستہ اس پل کی طرف جا رہا تھا جہاں دو سائے نظر آتے تھے۔
آصف کھڑا تھا اور خٹک کھیس کی بکل مارے ایک پتھر پر بیٹھا تھا ۔

waqar-1
کنڈی کی ڈور خٹک کے ہاتھ میں تھی اور اس اعزاز کی وجہ سے خٹک کم بولتا تھا۔
میں پاس پہنچا تو خٹک نے ایک اچٹتی نگاہ مجھ پر ڈالی اور پھر دریائے گلگت کی تیز رفتار موجوں کی جانب دیکھنے لگ گیا۔
اگر مچھلی موجوں پر ارتکاز کرنے سے ہاتھ لگتی تو اس دن خٹک ایک ٹرک بھر مچھلیاں ضرور پکڑ لیتا۔ لیکن مچھلیاں ان روحانی ہتھیاروں کو کم ہی لفٹ کراتیں ہیں
تھوڑی دیر گزری یہی کوئی لگ بھگ پانچ منٹ سمجھ لیں کہ مچھلیاں پکڑنے کے فن میں ماہر و یکتا ہونے کے احساس تفاخر سے چور میرے پٹھان دوست خٹک نے مجھے زہر آلود نظروں سے دیکھا اور کہا۔۔
’’مچھلی خاک آئے گی ، یہ سگریٹ لگا کر کھڑا ہے‘‘
میں نے کہا میرے ماہی گیر اول تو مجھے آئے پانچ منٹ ہوئے ہیں اور آپ کو اس شغل میں ایک گھنٹہ اور۔۔
دوم یہ کہ میرے سگریٹ سے آپ کی مچھلیوں کو اپنی ناک کنڈی میں پھنسانے میں کیا تعامل ہو رہا ہے۔۔
’’بحث کرتا جائے گا ، سگریٹ کی لو کا عکس پانی میں پڑتا ہے مچھلی ڈر کر بھاگ جاتی ہے ، آصف اس کو کہو یہ سگریٹ پھینکے ورنہ میں جا رہا ہوں پھر میں دیکھتا ہوں تم کتنی مچھلیا ں پکڑتے ہو‘‘
آصف نے میری طرف دیکھا۔ میں نے خٹک پر احسان کرتے ہوئے سگریٹ کو پھینک دیا جس کی چنگاری ویسے بھی اب فلٹر جلانے کو تھی ۔
میں نے آصف کو کہا، اب اسے کہو مچھلیوں کو سندیسہ بھیجے کہ وہ عفریت جس سے تم ڈر رہیں تھیں ختم ہو گئی ہے ، اب بغیر کسی جھجھک کے نتھ میں کنڈی ڈال لیں اور پھر خٹک ان کی نتھ اتارتا پھرے۔
خٹک ایک دم پتھر سے اٹھا اور چیخ کر کہا ، آواز سے مچھلیاں ڈرتیں ہیں اگر تم لوگو ں نے بکواس کرنی ہے تو واپس چلتے ہیں ، مچھلی پکڑنا کوئی کھیل نہیں ہے اور نہ ہی ہم لطف اندوز ہونے آئے ہیں
’پھر ہم کیا کرنے آئے ہیں‘ میرے دل میں آواز آئی لیکن خٹک کی پٹھانیت کے خوف سے یہ آواز دل میں ہی رہی۔
میں پاس ہی ایک پتھر پر بیٹھ گیا اور راکا پوشی پر بجلی کی چمک اور برفوں کی لشک کا انتظار کرنے لگا۔
ابھی پھر تھوڑی ہی دیر گزری ہو گی کہ خٹک برہم ہو کر اٹھا اور کہا ہم ایک مچھلی بھی نہیں پکڑ سکتے ۔۔

خٹک نے فیصلہ سنا دیا۔
میں اور آصف چپ تھے اور’’ باتوں پر لگے پچھلے کرفیو‘‘ کے زیر اثر تھے۔ پھر اچانک احساس ہوا کہ خٹک کی آواز کے ساتھ ہی یہ کرفیو اٹھ گیا ہے۔
ہم نے ڈرتے ڈرتے اپنے ماہی گیر سے پوچھا، کہ اس فیصلہ سازی کی وجہ کیا بنی؟
خٹک نے ترش لہجے میں میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، اس نے سفید کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔۔سفید کپڑوں کی لشک دریا میں پڑتی ہے ۔ مچھلیاں دور بھاگ جاتیں ہیں۔
میں خاموش رہا۔
۔۔ میں سوچ رہا تھا کہ کیا جاتا قدرت کا، جو آج کے دن کے لیے مجھے گونگلو بنا دیتی ۔
میں خاموشی سے اٹھ کر چنار باغ کے ایک بینچ پر جا کر بیٹھ گیا۔
خٹک کو کچھ نہیں کہا کہ مباداآج نفس پر پڑنے والے لگاتار جوتے ، میرے لیے اسباب ولایت بننے جا رہے ہوں۔

waqar-2
قریب کوئی پندرہ منٹ کا وقت گزرا ہو گا جب میں نے دریائے گلگت کے کنارے ایک پٹھانی اور ایک پنجابی چیخ سنی۔ میں بھاگا بھاگا گیا۔
کیا دیکھتا ہوں کے رات کے اندھیرے میں دو سائے ایک ڈوری کو کھینچ رہے ہیں ۔ دو کڑیل جوان اپنا پورا زور لگا رہے ہیں۔ اور اس قدر زور لگا رہے ہیں کہ قریب قریب زمین پر لیٹا چاہتے ہیں۔ خٹک زور سے چیخا ۔۔ادھر آؤ ۔۔زور لگاؤ ساتھ ملکر ۔۔نکل جائے گا ، ہاتھ سے نکل جائے گا۔ میں نے ڈوری ہاتھ میں لیتے وقت صرف اتنا پوچھا،
خٹک ، کیا نکل جائے گا؟
مچھ (بہت بڑی مچھلی) ایک بہت بڑا مچھ ہے ، نکل جائے ۔۔گا ۔
خٹک کی سانس اکھڑ رہی تھی ۔
مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی ، گلگت ایک دریا ہی ہے ، ایسی کیا عفریت یہاں تیر رہی تھی جس نے خٹک کی کنڈی کو آ کر منہ مارا ہے
میں نے کہا خٹک کوئی حرکت نہیں ہے، اگر کوئی مچھ ہوتا تو یا ہمیں اندر لے جاتا یا ہم اسے باہر لے آتے بھلا ڈوری ایک جگہ کیسے رکی ہوئی ہے
خٹک نے اکھڑتی سانس کے ساتھ کہاں ، تمھیں کیا پتہ مچھلی کا، چپ رہو زور لگاؤ۔
آصف ایک سا زور نہیں لگ رہا۔ میں ایک دو تین گنوں گا اور تین پہ یا علی کہہ کر اکٹھا زور لگانا ہے۔
خٹک کی آواز آئی ۔۔ایک ۔۔۔دو ۔۔۔تین
ہم سب نے مل کرنعرہ مارا۔۔یاعلی۔۔
اور ہم تینوں زور سے پیچھے ریت پر گرے۔ پتھروں سے بچت ہو گئی لیکن ریت نتھنوں میں گھسی ہوئی تھی ۔
مچھ کو دیکھنے میں سب سے پہلے اٹھا اور خٹک کے ہاتھ سے ڈوری لی ۔ ڈوری بالکل آزاد تھی ۔ کچھ لمحوں میں ہی ڈوری کا سرا میرے ہاتھ میں تھا۔
میں نے خٹک کو کہا۔۔میرے ماہی گیر اس کے سرے پر تو کنڈی ہی نہیں ہے۔۔
بس یہی وہ منحوس گھڑی تھی جب میرا ، آصف اور خٹک سے اختلاف شروع ہوا اور جس کی عمر لگ بھگ پندرہ سال ہے۔
آصف اور خٹک کی آج بھی یہی رائے ہے کہ بہت بڑا مچھ انکی کنڈی کو نگل گیا تھا۔
اور میری آج بھی یہی رائے ہے ڈوری کہیں دو بڑے پتھروں کے درمیان پھنسی تھی دریا ئے گلگت کی تہہ انہی بڑے پتھروں پر مشتمل ہے!
مالک ہی جانتا ہے سچ کیا ہے؟


Comments

FB Login Required - comments

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 64 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik