بینظیر بھٹو کی جیل میں سالگرہ


\"\"

محترمہ بینظیر بھٹو کی خود نوشت  ’مشرق کی بیٹی‘ سے ایک صفحہ

بیگم نصرت بھٹو، کراچی سینٹرل جیل میں قید ہیں۔ بے نظیر بھٹو کو سکھر جیل میں محبوس کیا گیا ہے جہاں وہ 12 مارچ سے تھیں۔ ایسے میں 21 جون کو بینظیر بھٹو کی سالگرہ قریب آتی ہے تو بیگم نصرت بھٹو ان کو خط لکھتی ہیں۔

بیگم نصرت بھٹو
کراچی سنٹرل جیل
9 جون 1981

بنام مس بے نظیر بھٹو
سکھر سنٹرل جیل

میری دلاری بے بی!

جب تمہیں میرا یہ دوسرا خط ملے گا تو تمہارا یوم پیدائش نزدیک ہی ہو گا۔ میری یاد داشت ان دنوں کی یاد دلاتی ہے جب انگلستان میں جہاں تمہارے والد تعلیم حاصل کر رہے تھے، میری ڈاکٹر نے خوش خبری سنائی کہ میں امید سے ہوں۔ اوہ! ہم کس قدر جذباتی اور مسرور تھے۔ تم ہماری پہلی بچی ہمارا پیار تھیں۔ ہم نے یہ خوشی نہایت شاندار طریقے سے منائی۔ تب کراچی میں پنٹو کے ہسپتال میں تمہاری پیدائش کے بعد میں ساری رات سو نہ سکی کیونکہ میری خواہش تھی کہ تم میرے بازوؤں میں رہو اور میں تمہاری خوبصورت سنہری لٹیں، تمہارا گلابی چہرہ اور تمہاری لانبی انگلیوں والے ہاتھ تکتی رہوں۔ میرا دل تمہیں دیکھ کر بے قابو ہو جاتا تھا۔

جب تمہارے پاپا انگلستان سے آئے تو تم تین ماہ کی تھیں۔ وہ اپنے والدین کے سامنے شرم محسوس کرتے مگر جب ہم اکیلے ہوتے تو وہ تمہیں متواتر تکتے اور تکتے ہی رہتے۔ تب تمہارے چہرے اور ہاتھوں کو چھوتے اور ایسی پیاری بچی کی معجزانہ پیدائش پر تمہیں حیرت سے دیکھتے۔ وہ مجھے سے پوچھتے کہ اسے کیسے اٹھاؤں تو میں نے تمہیں اٹھایا اور انہیں پکڑایا۔ یہ کہتے ہوئے کہ اپنا ایک ہاتھ تمہارے سر کے نیچے رکھیں اور دوسرا ہاتھ جسم کے ارد گرد۔ وہ کہتے تم ہوبہو ان جیسی ہو۔ وہ کس قدر خوش نظر آتے تھے۔ وہ تمہیں اپنے بازوؤں میں سمیٹے کمرے میں چکر پر چکر لگاتے۔ میں مزید تفصیل بیان نہیں کر سکتی کیونکہ میری آنکھیں ان دنوں کی یاد میں اب بھیگ چکی ہیں۔

\"\"

مجھے وہ دن بھی یاد ہے جب تم نے دس ماہ کی عمر میں زمین پر پہلا قدم اٹھایا۔ مجھے وہ دن بھی یاد ہے جب کوئٹہ میں اپنے پہلے یوم پیدائش سے صرف ایک ہفتہ پہلے تم نے باشعور باتیں کیں۔ وہ دن بھی یاد ہے جب ساڑھے تین سال کی عمر میں تمہیں نرسری سکول میں داخلے کے لئے لے گئی۔ جب تمہارے لئے محب اور شفقت سے ننھے لباس سیتی اور ان کشیدہ کاری کرتی۔ روزانہ پنج گانہ نماز کے بعد تمہارے مستقبل، صحت اور طویل زندگی کی دعائیں مانگتی۔

آج بھی 21 جون ہے اور میں تمہیں پرمسرت یوم پیدائش کی مبارکباد دیتے ہوئے دعائیں مانگتی ہوں کہ خدا تمہیں اور بھی بہت سے یوم پیدائش نصیب رے۔ میں تمہیں کوئی چھوٹا سا تحفہ بھی نہیں بھیج سکتی اور جیل میں 90 دن تک مقید ہونے کی وجہ سے تمہیں چوم بھی نہیں سکتی۔ مجھے امید ہے میری پیاری بیٹی تم مناسب خوراک کھاتی ہو اور بہت سا پانی پیتی ہو۔ پھل اور سبزیاں کھانا مت بھولنا۔ میں تمہارے اچھے مستقبل کی دعاؤں کے ساتھ ختم کرتی ہوں۔

تمہاری محبت میں سرشار

تمہاری ممی


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 665 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar