غدار، الیکشن اور جھرلو کی جادوگری


\"\" شکر ہے کہ ہمارے الیکشن پر دھاندلی کے الزامات لگ جاتے ہیں ورنہ پاکستان کے الیکشن کو ضرور کسی غدار کی نظر بد کھا گئی ہوتی۔

ویسے تو ہمارے الیکشنوں کے بڑے کمالات ہیں۔ یہاں مرے ہوئے لوگوں کے ساتھ ساتھ ہمارے غیر ملکی مہمان، پاکستانی شہریت نہ ہونے کے باوجود، بہت سے حلقوں میں ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ راولپنڈی میں مقیم افغان مہاجرین اپنے محسن جنرل ضیاالحق کے سوویت یونین اور افغانستان کو برباد کرنے کے احسان کا بدلہ جنرل صاحب کے بیٹوں کو ووٹ ڈال کر چکایا کرتے تھے۔ ابھی سنا ہے کہ ںادرا (NADRA) نے مہمانوں سے یہ حق کافی حد تک چھین لیا ہے۔ اس پر چودھری نثار صاحب ایک پریس کانفرنس میں کریڈٹ لیتے نظر آتے ہیں تو دوسری میں افسوس کرتے۔

باقی ملکوں کے عوام ووٹ ڈالنے میں دلچسپی ہی نہیں لیتے اور وہاں کی حکومتیں اپنے لوگوں کو محص ایک ووٹ ڈالنے پر راغب کرنے کے لئے طرح طرح کے حیلے بہانے کرتی ہیں۔ ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعے منت سماجت کرتی ہیں اور ساتھ ہی ووٹ نہ ڈالنے کی سزائیں بھی مقرر کرتی ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں صورت حال یکسر مختلف ہے۔ یہ ہمارے الیکشنوں کا جادو ہے کہ ایک ہی شخص کئی کئی پولنگ سٹیشنوں پر جا کر ووٹ ڈالتا ہے۔ یہ ہماری فرض شناسی اور الیکشن اتھارٹی کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔

ہمارے بڑوں کو لوگوں کے مسائل کا بھرپور احساس ہے۔ ہمارے وڈیرے سیاست دان جانتے ہیں کہ عام آدمی کے لئے یہ فیصلہ کرنا کہ ووٹ کس کو دینا ہے، کتنا مشکل کام ہے۔ سارے امیدوار ہی بے باک، نڈر، پاک دامن اور اعلی ظرف ہوتے ہیں۔ وہ جھکتے ہیں نہ کٹتے ہیں۔ وہ اپنے ذاتی مفاد کا سوچتے بھی نہیں صرف عوام اور ملک کی بھلائی کے لئے الیکشن لڑتے ہیں۔ ووٹر کو یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے کہ ان میں کس کا انتخاب کرے۔ بہت جگہوں پر وڈیروں نے عوام کا یہ مسئلہ حل کر دیا ہے۔ انہیں سوچنے کی ضرورت ہی نہیں کہ ووٹ کس کو دینا ہے۔ ووٹر نے صرف یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ ووٹ اسی کو جائے جس کا وڈیرے نے کہا ہے۔ وڈیروں سے سیکھ کر ہی کراچی کی مڈل کلاس پارٹی نے بھی یہ سہولت پچھلے 25 سال سے لوگوں کو دے رکھی ہے۔ لہذا عام ووٹر کو کراچی یا حیدرآباد میں بھی سوچنا نہیں پڑتا کہ ووٹ کس کو ڈالنا ہے۔ یہ ذمہ داری آپ کے علاقے کا سیکٹر انچارج ہی پوری کر دیتا ہے۔ تمام ووٹرز وڈیرے اور سیکٹر انچارج کی رائے (اور نصیحت) کا احترام کرتے ہیں۔ اسی میں دونوں (وڈیرے اور سیکٹر انچارج) کی بھلائی ہے۔\"\"

اسی بارے میں: ۔  ”ایگزیکٹ لی، بول نہیں بولے گا“

ہمارے الیکشنوں کا یکتا ہونا صرف اوپر بیان کی گئی خصوصیات پر منحصر نہیں ہے۔ ہماری عوام خوش قسمت ہے کہ محب وطن ادارے ہر حال میں الیکشن نتائج کو ملکی مفاد کے ماتحت رکھنے کے لئے ہمیشہ سے کامیاب کوششیں کرتے رہے ہیں اور غداروں کو الیکشن جیتنے سے باز رکھا ہے۔ یہ سبق ہم نے اپنے ملک کے پہلے جنرل الیکشن سے سیکھا۔ اس وقت یعنی 1970 میں سب لوگوں کو تھوڑی دیر کے لئے کھلی چھٹی دے دی گئی تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بنگالی غدار الیکشن جیت کر دشمنوں کے ساتھ مل گئے۔ اور یوں مکار دشمن ہمارے پیارے ملک کے دو ٹکڑے کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ ہم نے سبق سیکھ لیا۔

الیکشن کے ناپسندیدہ نتائج کو بھگتنے سے بہتر ہے کہ الیکشن کے نتائج اپنی مرضی کے لائے جائیں۔ الیکشن کے دوران جو مرضی ہو جائے، ووٹ جس کو مرضی زیادہ ڈالے جائیں، پھر بھی الیکشن کے نتائج ملکی مفاد کے تحت ہی آنے ضروری ہیں۔ اس اہم مسئلے کا حل جھرلو سے نکالا جاتا ہے۔ جھرلو کے نتائج سو فیصد ہوتے ہیں اور اس کے فیل ہونے کے امکانات نہیں ہیں۔ باوردی بادشاہوں کے کرائے گئے ریفرنڈم اور کئی الیکشنوں کے نتائج جھرلو کی کامیابی کی ناقابل تردید مثالیں ہیں۔

جھرلو کی ایک کمال خوبی ہے کہ یہ استعمال ہو یا نہ ہو صرف اس کا امکان ہی سیاست دانوں کو راہ راست پر رکھتا ہے۔ سیاستدانوں کو اپنی کارکردگی جیسی فضول چیز پر محنت کرنے کی ضررت نہیں ہوتی۔ وہ اپنا سارا زور جھرلو پھیرنے والوں کے ساتھ حسن سلوک اور اچھے تعلقات پر لگاتے ہیں اور اپنا مقدر سنوارتے ہیں۔

ہمیں فخر ہے کہ انڈیا چاہے باقی حوالوں سے ہمارے برابر ہی کیوں نہ ہو مگر ان کے الیکشن جھرلو کی سہولت سے محروم ہیں۔ دراصل ان ناعاقبت اندیشوں نے شروع سے ہی کچھ فضول سے سسٹم بنا لئے تھے اور ان پر کافی سختی سے عمل بھی کرتے تھے۔ جس کی وجہ وہ اب جھرلو جیسی اہم سہولت کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

الیکشن میں پولنگ سٹیشن اہم ترین اکائی ہوتا ہے جہاں پر ووٹ ڈالے اور گنے جاتے ہیں۔ ساری دنیا میں ووٹ ڈالنے\"\" اور گننے کا کام تمام امیدواروں کے مقرر کردہ ایجنٹوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ووٹوں کی گنتی اس وقت فائنل ہوتی ہے جب وہاں پر موجود سارے پولنگ ایجنٹ مطمئن ہوں۔ گنتی کے بعد ایک لسٹ بنتی ہے۔ اور ہر امیدوار کے نام کے سامنے اس کے حاصل کردہ ووٹ لکھ دئے جاتے ہیں۔ اسی طرح اس لسٹ میں اس پولنگ سٹیشن پر ڈالے جانے والے ووٹوں کی کل تعداد اور ضائع شدہ ووٹوں کی تعداد بھی لکھ دی جاتی ہے۔ سارے پولنگ ایجنٹ اور الیکشن کرانے والے سرکاری عملے کے لوگ اس لسٹ پر دستخط کرتے ہیں۔ یہ ایک قانونی دستاویز بن جاتی ہے۔ پاکستان میں اسے Form-14 کہتے ہیں۔ اور اس کی کاپیاں وہاں پر موجود امیدواروں کے ایجنٹوں اور صحافیوں کو بھی دے دی جاتی ہیں۔ Form-14 کو بدلا نہیں جا سکتا کیونکہ یہ سب کے پاس موجود ہوتا ہے۔ حلقے کے فائنل نتائج تمام پولنگ سٹیشنوں پر تیار کردہ Form-14 پر دئے گئے اعدادوشمار کو جمع کر کے ہی بنائے جاتے ہیں۔ اگر Form-14 کا اطلاق من و عن کیا جائے تو جھرلو کے امکانات ختم ہو جاتے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  سعودی خواتین کونسل میں خواتین کہاں ہیں؟

پاکستان میں Form-14 کا اطلاق، قومی مفاد میں، ڈھیلا رکھا جاتا ہے۔ لہذا بہت کم پولنگ سٹیشنوں پر Form-14 مکمل کر کے پولنگ ایجنٹوں یا صحافیوں کو دیا جاتا ہے۔ لہذا حلقہ لیول پر فائنل نتائج کا اعلان کرنے والے جمع تفریق میں آزاد ہوتے ہیں۔ جھرلو کے امکان کو رد کرنا ناممکن ہوتا ہے۔

آج کل اسمبلی میں الیکشن کے متعلق قانون سازی کی خاطر ایک بل پیش کیا گیا ہے۔ ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ کوئی ایسا قانون پاس نہ کیا جائے جس سے جھرلو جیسی اہم سہولت متاثر ہو۔ اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو محب وطن اداروں کی الیکشن پر گرفت ڈھیلی ہو جائے گی۔ ایسے میں غدار سیاستدان بھی حکومت میں آ سکیں گے جو ہماری محب وطن ایجنسیوں کی حکم عدولی کرتے ہوئے ملکی مفاد کے خلاف دشمنوں سے ساز باز شروع کر دیں گے۔ جن کے ساتھ ہمیں جنگ کرنی چاہیئے کہیں ان کے ساتھ کاروبار نہ شروع ہو جائے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 135 posts and counting.See all posts by salim-malik