میں نے جنید جمشید کو موسیقی سے تبلیغ کی طرف جاتے دیکھا


\"\"وہ اُس کی زندگی کا آخری اور میری زندگی کا پہلا میگزین کوَر شوٹ تھا۔ سولہ حج بیت گئے ہوں گے اِس بات کو۔

ہل پارک کے قریب فیشن فوٹو گرافر ٹَپو جویری کے حویلی نما گھر میں داخل ہوتے ہی سامنے صندلی لکڑی کا بہت پرانا دروازہ تھا۔ منقش دروازے کے پیچھے برہنہ بازوؤں والے لباس میں دو مشہور ماڈلز– سعدیہ امام اور (شاید) زینب قیوم — پہلے سے موجود تھیں۔
ٹی وی ٹائمز میگزین کے نئے اور با کمال ایڈیٹر طاہر ندیم نے کور شوٹ کے لیے جنید جمشید کو راضی کر لیا تھا۔ جب کہ جنید جمشید اُن دِنوں اللہ کو راضی کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ جنید آئے اور صندلی دروازے سے اندر چلے گئے۔ شوٹ شروع ہو گیا۔ میں ٹی وی ٹائمز کا اسسٹنٹ ایڈیٹر تھا۔ مجھ سمیت کسی کو بھی اندر جانے کی اجازت نہ تھی۔ طاہر ندیم جتنے عمدہ استاد تھے اُتنے سخت مزاج انسان بھی ۔ سب کے سامنے ذلیل کر دیا کرتے تھے۔ مجھے جرنلسٹ ’میس کوم‘ کی ڈگری نے نہیں، طاہر ندیم نے بنایا۔
اُس روز بند دروازے کے پیچھے کیا شوٹ ہوا اُس کی ہلکی سی جھلک بھی نہ دیکھ پائے۔ یہ معما ایک ہفتے بعد
\"\"
فوٹو پرنٹس آنے پر حل ہوا: ”لِیڈ نگ مین کی بانھوں میں جھولتی دو لِیڈ نگ لیڈیز۔ “

ہم باہر کھڑے کھانے پینے اور میک اَپ کا انتظام سنبھالنے میں مصروف رہے۔ کچھ دیر بعد، جنید جمشید باہر نکلے اور مجھے سامنے کھڑا دیکھ کر یہ ذمہ داری سونپی کہ باہر گاڑی میں شعیب منصور صاحب بیٹھے ہیں اُنھیں اندر لے آئیے۔
گھر کے باہر والی دیوار کے ساتھ ایک درخت تھا جس کے سائے میں (شاید) کتھئی رنگ کی ایک گاڑی کھڑی تھی۔ تمام شیشے اور دروازے بند تھے۔ شعیب منصور نے خود کو گاڑی کے اندر بند کیا ہوا تھا۔ مجھے کچھ ایسا ہی گمان ہوا۔ میں ہمت کر کے قریب گیا اور ادب سے سلام کیا۔ انہوں نے آہستہ سے شیشہ نیچے کیا۔\"\"
”سر، جنید صاحب آپ کو یاد کر رہے ہیں،“ میرے منہ سے مختصر الفاظ ادا ہوئے۔
”شکریہ۔“ شعیب منصور یہ کہہ کر مسکرائے اور خاموش ہو گئے۔
میں بھی مسکرا کر خاموش ہو گیا۔ چند لمحوں بعد اُنھوں نے اپنی روایتی انکساری اور باریک آواز میں مجھے سمجھانے کی کوشش کی۔
”میں ٹھیک ہوں۔“
”سَر– لیکن ۔۔۔“
”آئے ایم فائن ۔ میں اُن کا انتظار کر لوں گا۔“
”گاڑی میں–؟ آپ اندر آجاتے، شوٹ ابھی شروع ہوئی ہے۔“ میں نے اُن کی انکساری کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ایک جملہ زیادہ کہ دیا۔
”نہیں، میں ٹھیک ہوں۔ میں گاڑی میں اُن کا انتظار کر لوں گا۔“
میں نے کھانے یینے کی پیش کش کی لیکن اُنھوں نے وہ بھی رَد کر دی۔ میں اپنی جگہ کھڑا کچھ سوچ رہا تھا جب کہ وہ میرے جانے کا انتظار کررہے تھے۔ یہ شیعب منصور سے میری پہلی ملاقات تھی جب کہ شعیب منصور کی جنید جمشید سے غالباً آخری ملاقاتوں میں سے ایک تھی۔ شوبز انڈسٹری میں خبر گرم تھی کہ جنید جمشید مذہب \"\"کی طرف راغب ہو رہا ہے اور کسی وقت بھی موسیقی چھوڑنے کا اعلان کر سکتا ہے۔ موسیقی چھوڑنے میں حائل ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ جنید نے پیپسی کولا کمپنی سے چند ماہ پہلے غالباً دو کروڑ روپے کا کانٹریکٹ سائن کیا تھا، جس کو ختم کرنا آسان نہ تھا۔ شاید یہی وجہ سے ہے کہ ایک بڑے مذہبی بزنس مین نے رقم واپس کرنے میں جنید کی مدد کی اور بدلے میں ڈیزائنر ملبوسات کا برانڈ JJ لانچ کیا اور جنید کو پارٹنربنالیا۔
شعیب منصور نے آہستہ سے شیشہ چڑھانا شروع کیا۔ میں نے ادب سے رخصت لی اور جاتے جاتے اُن کے تاثرات کو پڑھنے کی کوشش کی: چہرہ بجھا ہوا تھا۔ آنکھیں اُداس تھیں، لب مسکرا رہے تھے۔ ایک غم تھا جسے وہ چھپا رہے تھے۔
قاصد اندر گیا اور آقا کو شعیب صاحب کا جواب پڑھ کر سنا دیا۔ ناکام لوٹنے پر ایڈیٹر صاحب مجھ پر برس پڑے۔ تب جنید نے ایڈیٹر کو سمجھایا کہ شعیب صاحب اندر نہیں آئیں گے۔ وہ درویش آدمی ہیں، اِسی طرح میرا انتظار کرتے ہیں۔
شوٹ کے دوران میں نے دیکھا جنید جمشید نے ظہر، عصر اور مغرب کی نمازوں کا وقفہ لیا اور وضو کر کے فرض پڑھے۔ وہ دو کشتیوں میں سوار دو منزلوں کا تنہا مسافر تھا۔ ٹپو جویری سمیت پوری ٹیم نے جنید کے اِس نئے رجحان پر کوئی بات نہیں کی۔ نماز کے بعد جنید پھر موڈ میں آتا اور شوٹ شروع ہو جاتا۔
تقریباً پانچ چھہ گھنٹے گزرگئے لیکن شعیب منصور باہر گاڑی میں بیٹھے جنید کا انتظار کر تے رہے۔ وہ، جنید سے کس قدر محبت کر تے تھے، اُس کا اندازہ اُس دِن ہوا۔ لیکن یہ دوستی، ”دشمنی“ میں کس طرح تبدیل ہوتی ہے اِس کا اندازہ ہونا ابھی باقی تھا۔
ئائن الیون کا سانحہ ہوا۔ ہم سب شاہ راہ فیصل پر واقع اپنے دفتر میں موجود تھے۔ ایک کونے میں رکھا وہ ٹی وی سیٹ آج بھی یاد ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کی تاریخ بدل گئی۔ چند ماہ بعد ٹی وی ٹائمز بند ہو گیا اور قریب سال ڈیڑھ کے اندر جنید نے موسیقی اور شیعب منصور کو چھوڑ دیا۔ تب ”ففٹی ففٹی“ اور ”ایلفا، براوو چارلی“ کے ڈائریکڑ نے مزاحمتی فلم ”خدا کے لیے“ بنانے کا اعلان کیا۔ اب میں پرنٹ میڈیا چھوڑ کر الیکٹرونک میڈیا میں قدم \"\"جما چکا تھا اور جیو نیوز میں بطور شو بز رپورٹر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا تھا۔ سن 2005ء تھا غالباً اور میں جنید جمشید اور شعیب منصور کے درمیان ایک بار پھر کھڑا تھا۔

سورج غروب ہو چکا تھا۔ رپورٹنگ سے فارغ ہو کر جیو نیوز کے دفتر پہنچا اور خبر فائل کرنے بیٹھ گیا۔ نہیں جانتا تھا کہ میری جیب میں محنت سے کمائی ہوئی جو خبر تھی اُس سے کئی گناہ بڑی خبر مفت میں میری پلیٹ میں ڈال دی جائے گی۔ انگلیاں کی بورڈ پر نگاہیں کمپیوٹر اسکرین پر تھیں۔ نو بجنے میں دو گھتٹے باقی تھے۔ ہر رپورٹر کی طرح میری بھی کوشش تھی کہ میری خبر مرکزی بلیٹن میں شامل ہو جائے۔ اچانک کانوں میں ایڈیٹر نیوز ناصر بیگ چغتائی کی بھاری آواز گونجی۔
”ارے جمالوی، اِدھر آؤ۔“ میں جملہ مکمل کیے بغیر ہی اُٹھ گیا۔ وہ جولائی یا اگست کا مہینا ہوگا اور سن 2005ء۔ اُس روزانگریزی کے ایک بڑے اخبارغالباً ڈان کے بیک پیج پرخبر شائع ہوئی تھی کہ جنید جمشید، شعیب منصور کی فلم میں کام کرنے پر راضی ہو گئے ہیں اور ڈائریکٹر کی خواہش کے مطابق، ڈارھی کٹوانے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔

ناصر صاحب نے مجھے بتایا کہ جنید جمشید کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔ ”خبر کنفرم کرو۔ اُس کا Beeper کراؤ اگلے بلیٹن میں۔“

ہر رپورٹر کو ٹیلے فون کی ایک چلتی پھرتی ڈائریکٹری ہونا چاہیے۔ لیکن جو لوگ جنید کو جانتے تھے، وہ جانتے تھے کہ اُس سے موبائل فون کے ذریعے رابطہ کرنا کتنا مشکل تھا۔ میری ڈائریکٹری میں جنید کے چھ موبائل نمبرز درج تھے۔ میں نے اپنی ڈیسک پر لگے آفس کے ٹیلے فون سے پہلا نمبر ملایا۔ بوتیک میں کسی نے اُٹھایا اور کہا کہ وہ نہیں ہیں۔ دوسرا نمبر ملایا کارخانے میں کسی نےاُٹھایا اور کہا کہ نہیں ہیں۔ پانچواں یا چھٹا نمبر ملایا تو میجنر نے اُٹھایا اور دَس منٹ بعد فون کر نے کا کہا۔

دس منٹ بعد جنید جمشید سے بات ہوئی تو وہ شدید پریشانی میں بولتے چلے گئے۔

\"\"

”میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔ (اخبار کی) خبر غلط ہے۔ میں داڑھی کٹوانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ شعیب منصور نے مجھ سے داڑھی کٹوانے کا نہیں، خط چھوٹا کروانے کا کہا تھا۔ میں نے منع کر دیا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا۔“

میں سنتا رہا پھر اُن کو مشورہ دیا کہ ”آپ اپنا ورژن آن ایئر آکر واضح کریں تاکہ خبرکی تردید ہو جائے۔“

وہ تنک کر بولے کہ ”نہیں بھائی۔ مجھے آن ایئر کچھ نہیں کہا۔ اِس بارے میں کوئی بات ہی نہیں کرنی۔ میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں۔ مجھے اور میری فیملی کو دھمکیاں ملنا شروع ہو گئی ہیں۔ آپ اِس معاملہ کو بالکل ڈسکس نہ کریں۔ چھوڑ دیں اِس معاملے کو، پلیز!“

جب کوئی غیر مسلم، مسلمان ہوتا ہے یا کوئی مسلمان نیا نیا مولوی بنتا ہے تو لوگ مذاق اُڑاتے ہیں، پھر شک کرتے ہیں، پھر نظر رکھتے ہیں کہ سالا صراطِ مستقیم پرچل رہا ہے یا نہیں، بھٹک تو نہیں گیا؟ بھٹکنے والوں کے لیے ان کے یہاں معافی نہیں ۔ ۔ ۔ رحمٰن فارس نے کہا ہے:

گو نکالا گیا وہاں سے مگر\"\"
مَیں بڑی آن بان سے نکلا
جس کو پاتال میں کِیا تھا دفن
ساتویں آسمان سے نکلا

شعیب منصور نے بھی شاید کچھ ایسا ہی سوچا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ وہ واقعی چاہتے تھے کہ جنید کا مذہنی جنون جتنا جلد مکمن ہو، ختم ہو جائے۔ حالاں کہ جنید کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھا۔ اُس کو بچپن سے جوانی تک یہ اجازت نہ تھی کہ وہ لڑکیوں سے بات چیت کرسکے۔ شعیب منصور کا محسوس ہوا کہ شاید یہ جنید کا وقتی جنون ہے۔ فلم ”خدا کے لیے“ کی ریلیز کے بعد شعیب منصور نے انگریزی کے ایک معتبر بلاگ کو انٹرویو میں اُنھوں نے کہا:

“One morning I was going through a newspaper when I saw my friend Junaid Jamshed’s interview in it. After looking at his new attire in the photograph, published with the article, I could not stop myself from reading it. The more I read the sadder I felt. He had announced that he was quitting music after being convinced that it was ‘Haram’. It really shook me badly. I have never believed that God could hate the two most beautiful things he has given to mankind—music and painting. I felt that a confused man like Junaid had no right to confuse thousands of his youthful followers. I had given him sixteen years of my life as a true friend and had played my role in his professional life to the best of my abilities. How could he throw away our sixteen years just like that without even consulting me? I feel that it was my duty to rectify the damage he has done to the already suffering society under the influence of fundamentalists.” – Chowk.com, 2007

شعیب منصور کی بات کسی حد تک صحیح بھی تھی۔ جنید نے ایک سے زیادہ مرتبہ داڑھی منڈھوائی اور پھر رکھی۔ اُس نے نجی محفلوں میں گانا جاری رکھا۔ خاص کر بلال مقصود کے گھر موسیقی کی نشستوں میں۔ شعیب منصور نے اِس عمل کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا:\"\"

“Just because you’ve discovered religion doesn’t mean you can just lock up your previous life,” Mansoor wrote in the Director’s Note for the film. “There are going to be cracks in the wall. One hears of things. People might say it’s hypocritical to sing in private circles. It’s going to happen. If he does do that, one can’t hold it against him. He hasn’t changed that much.” – http://www.caravanmagazine.in/repor…

جنیدکے قریبی دوستوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ فلم کرنے اور داڑھی کٹوانے پر راضی ہوگیا تھا۔ شاید ڈان کی خبر غلط نہیں تھی۔ اور شاید مبینہ دھمکیوں کے بعد وہ ڈر گیاتھا۔ مجھ سے ٹیلے فون پر جنید نے جو کچھ کہا اُس میں بھی جھوٹی خبر کا غصہ نہیں تھا۔ صرف خوف اور التجا تھی، معاملے کو دبانے کی۔\"\"

ناصر بیگ چغتائی نے مجھے ایک بار پھر کوشش کرنے کو کہا۔ میں اپنی ڈیسک پر آکر بیٹھ گیا اور جنید کے چھ ٹیلے فون نمبرز کے نیچے خود سے ساتواں نمبر لکھا اور اُسے ملانے کی ناکام کوششیں کرتا رہا ۔ ۔ ۔

٭٭٭
”خدا کے لیے“ جیو فلمز کی سب سے پہلی اور شاید سب سے بڑی پیش کش تھی۔ فلم 20 جولائی، 2007ء کو ریلیز ہورہی تھی۔ جیو کے پورے دفتر، بل کہ جنگ گروپ کی تمام بلڈنگز میں ”خدا کے لیے“ کے پروموز اور گانے گونج رہے ہوتے تھے۔ بطور شو بز رپورٹر مجھے فلم کی کچھ جھلکیاں دیکھنے کا موقع ملا تو میں نے اعتراض اُٹھایا کہ اِس میں تین زبانیں استعمال ہوئی ہیں لیکن subtitles کہیں نہیں ہیں۔ فلم ڈیپارٹ منٹ کے ایک اعلیٰ افسر (ڈاکٹر زکریا) سمیت سب نے مجھ سے اتفاق کیا لیکن یہ جواز پیش کیا کہ کیوں کہ ریلیز میں وقت بہت کم رہ گیا ہے، لہذا فلم بغیر subtitles ہی کے ریلیز کی جائے گی۔ میں نے بحث کرنے کی کوشش کی، لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔

نوکری کرنے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انسان بزدل ہو جاتا ہے۔ وہ اِس غیر یقینی زندگی کو یقینی بنانے\"\" کے چکر میں ہمیشہ ”safe“ کھیلتا ہے۔ مالکان اگر کوئی غلطی کر بیٹھیں تو نشان دہی کرنے کے بجائے صرفِ نظر کر تا ہے، مالکان رائے پوچھیں تو غلطی کو اچھائی سے بدل کر تعریفیں بیان کر تا ہے۔ ایسا ہی فلم ”خدا کے لیے“ کے ساتھ ہونے جارہا تھا ۔ اور جس کا عینی شاہد میں اور میرا کیمرا مین ”تاج“ تھے۔

19 جولائی 2007ء کو کیپری سینما میں فلم کا پریمئر ہوا۔ میری ڈیوٹی ریڈ کارپیٹ پر تھی۔ یہاں شو بز انڈسٹری کی تقریباً تمام ہی شخصیات تھیں۔ یہیں پہلی مرتبہ میری ملاقات فواد خان سے ہوئی۔ اُس وقت مجھے نہیں پتا تھا کہ ہم مسقتبل میں ساتھ کام کر رہے ہوں گے۔ بلکہ اُس روز فواد کا موڈ خاصہ خراب تھا اور اُس نے میری سیدھے سوالوں کا ٹیرھا جواب دیا۔

فلم اسکریننگ کے بعد، میر ابراہیم، عمران اسلم، اظہر عباس اور دیگر شخصیات دمکتے چہروں کے ساتھ باہر نکلے۔ اُنھی میں شعیب منصور بھی تھے۔ جیو اور جنگ گروپ کے رپورٹرز کی ایک فوج تعینات تھی۔ وہ سب اداکاروں کے تاثرات جاننے کے لیے میدان میں کود پڑے۔ مجھے غالباً میرا ابراہیم یا اظہر عباس نے یہ ذمہ داری دی کہ آپ شعیب منصور کا انٹرویو کریں گے۔

میں نے شعیب صاحب سے مصافحہ کیا اور درخواست کی کہ میڈیا انکلوژر میں میرے ساتھ چل کر کچھ گفت گو فرمائیں۔ انھوں نے روایتی انکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا:

”نہیں۔ مجھے کچھ نہیں کہنا۔“

مجھے وہ دِن یاد آگیا جب وہ خود کو گاڑی میں لاک کیے بیٹھے تھے اور اپنی ضد پر قائم تھے۔

”سر، میری نوکری کا سوال ہے، خدا کے لیے۔ ۔ ۔ “ میں نے التجا کی۔

”نہیں۔ مجھے کچھ نہیں کہنا۔ مجھے جو کچھ کہنا تھا اپنی فلم میں کہ دیا“۔

انھوں نے پریشانی اور مسکراہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو طویل جملے ادا کیے۔

میں نے پھر کوشش کی، انھوں نے پھر انکار کر دیا۔ دائیں بائیں دنیاوی ستاروں کا اتنا رش اور اتنا شور تھا کہ \"\"مزید بحث کرنا ممکن نہ تھا۔ مجھے پتا نہیں کیا سوجھی، میں نے شعیب منصور کو بازو سے پکڑا اور کھینچتا ہوا میڈیا انکلوژر تک لے گیا۔ اب سوچتا ہوں تو ہنسی بھی آتی ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے۔ بہرحال، اِس بار میں نے ہار نہیں مانی۔ سوال پوچھے، جواب ملے۔ آخر میں اُن کا شکریہ ادا کیا اور زحمت کی معذرت بھی۔ یہ انٹرویو سارا سارا دِن جیو کی اسکرین پر چلتا رہا۔

٭٭٭
اگلے روز یعنی 20 جولائی 2007ء کو فلم عوام کے لیے ریلیز ہورہی تھی۔ اُس وقت کراچی کا سب سے بڑا تھیٹر ”پرنس سینما“ تھا جس میں چودہ سو نشستیں لگی تھی۔ فرسٹ ڈے فرسٹ شو کے لیے میری ڈیوٹی پرنس سینما پر لگی۔ ہم دو بجے سے کچھ پہلے سینما پہنچ گئے۔ کئی دہائیوں سے ویران سینما گھروں کی طرف لوگ ہجرت کے پرندوں کی طرح واپس لوٹ رہے تھے۔ لیاری کے سائیکل سوار، رکشے والے، ڈیفنس کی آنٹیاں، برگر بچے ۔ ۔ ۔ سمجھیں پورا پاکستان پرنس سیمنا جمع ہونا شروع ہو گیا۔ میں نے کیمرا مین ”تاج“ کے ساتھ مل کر لوگوں کے تاثرات رِکارڈ کرنا شروع کیے۔ عورتیں، بچے، بوڑھے، جوان، ان پڑھ، پڑھے لکھے، کلین شیو، داڑھیوں والے، صحت مند اور اپاہج لوگوں نے تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ کوئی کہتا کہ میں کئی سال سے اِس فلم کا انتظار کررہا تھا۔ تو کوئی کہتا کہ شعیب منصور کی اِس فلم سے سینما دوبارہ زندہ ہو جائے گا وغیرہ۔ اور حقیقت بھی یہی تھی کہ لوگ وہ فلم صرف شعیب منصور کی وجہ سے دیکھنے آئے تھے اور کئی سال سے ریلیز کا انتظار کررہے تھے۔

بالاخر، فلم شروع ہو گئی۔ ہم باہر انتظار کرنے لگے۔ میں نے کیمرے سے ٹیپ نکلوائی اور ڈرائیور کو کہا وہ فوراً دفتر میں دے آئے تاکہ خبرنامے میں شامل ہو جائے۔ فلم بینوں کے تاثرات ہیڈ لائنز میں شامل ہوگئے۔

پونے تین گھنٹے بعد فلم ختم ہوئی تو لوگوں کے چیخنے کی آوازیں آنے لگیں۔ ہم نے کیمرا رول پر ڈال دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کا طوفان پچھلے دروازے سے باہر لگا۔ تین گھنٹے پہلے فلم کےمداح، مشتعل ہجوم میں تبدیل ہوگئے اور شدید نعرے بازی کرتے ہوئے ہماری طرف دوڑے:

”شعیب منصور مردہ باد!
”مولانا طاہری (رشید ناز) زندہ باد!
مولانا ولی (نصیر الدین شاہ) مردہ باد!
جیو چینل مردہ باد!“

مجھے اور کیمرا مین کو ہلنے تک کا موقع نہیں ملا۔ ایک مکرانی، جس نے چند گھنٹوں پہلے ہمیں انٹرویو دیا تھا \"\"اور شعیب منصور کے لیے تعریفی کلمات کہے تھے، چلانے لگا:

”اڑے کہاں ہے وہ جیو والا– اڑے اب پوچھو تم ہم سے کیا پوچھ رہا تھا؟!“

”یہ فلم یہودی ایجنڈے پر بنائی ہے۔ آدھی اردو میں، آدھی انگلش میں تاکہ تم مذہب کے خلاف باتیں کرو اور ہمیں سمجھ میں نہ آئیں!!“

جن جن لوگوں نے پہلے ہمیں انٹرویو دیے تھے اُن میں تقریباً آدھی تعداد نے دوبارہ اور زبردستی انٹرویو دیا۔ گالیاں دیں۔ مجھ کو اور کیمرا مین کو دھکیلتے ہوئے باہر ایم اے جناح روڈ کے بیچ میں لے آئے۔ شدید نعرے بازی جاری تھی۔ گالیاں، گھونسے، دھکے ۔ ۔ ۔

ٹریفک پولیس نے آکر ہمیں وہاں سے نکالا۔ ہم جان بچا کر بھاگے۔ اِس دوران اسائنمنٹ ڈیسک سے فون آگیا۔

”ہاں بھئی، کیسا رہا ریسپانس؟“

میں نے ”زمینی حقائق“ بتائے تو اُنھیں یقین نہیں آیا۔ ہم گاڑی میں بیٹھ بھی نہ پائے تھے کہ مجھے میر ابراہیم کا فون آیا۔

”کون لوگ تھے؟ شلوار قمیص میں تھے؟“

میں نے کہا، ”نہیں۔ سب نہیں تھے۔“

”جماعت اسلامی والے ہوں گے۔ انھوں نے آج فلم کے خلاف مظاہرہ کرنا تھا۔“ میرابراہیم نے یقین سے کہا۔

اُنھیں کیسے سمجھاتا کہ:

شجرہ دیکھا گیا تو پتھّر بھی
پھول کے خاندان سے نکلا

میں نے کہا کہ عام لوگ تھے۔ وہی لوگ تھے جن کے تعریفی کلمات ہماری ہیڈ لائنز میں چل رہے ہیں۔\"\"

میرؔ نے ہمیں فوراً دفتر پہنچنے کے لیے کہا۔

راستے بھر یہ سوچتا رہا کہ فلم میکر کو اشاروں اور استعاروں میں بات کرنی چاہیے ناکہ ڈائریکٹ اٹیک کرنا چاہیے۔ وہ لوگ جو پیسا خرچ کر کے، ٹکٹ خرید کر آتے ہیں ، آپ کے دوست ہوتے ہیں۔ اُنھیں آپ دشمن کیوں بناتے ہیں؟

ہم دفتر پہنچے، کیمرے کی فوٹیج دکھائی ۔ بلوہ دیکھ کر مجھ سے کہا گیا کہ آپ کو صدر جانے کے لیے کس نے کہا تھا۔ آپ سی ویو والے سینما جاتے ۔ بل کہ ابھی جائیں اور لوگوں کے ساؤنڈ بائیٹ لے کر آئیں۔

میر ابراہیم اور دیگر افسران بولتے رہے اور میں سوچتا رہا کہ خود کو ”عوامی چینل“ کہنے والا جیو، آج عوام کے ری ایکشن کو جھٹلا رہا ہے۔ مجھے کبھی بھی نوکری کرنی نہیں آئی۔ میں نے سی ویو جانے سے معذرت کر لی۔

جیو نیوز کا دفتر چھٹی منزل پر واقع ہے۔ دروازہ کھول کر باہر کھلی فضا میں آکر کھڑا ہوگیا۔ سگریٹ سلگایا اور آئے آئے چندریگر روڈ پر دوڑتے ٹریفک کو دیکھنے لگا۔

فوراً ہی نظر سامنے لگے بِل بورڈ پر پڑی جس پرایک بہت بڑا پوسٹر چپکا تھا، بل کہ چیخ رہا تھا:

”خدا کے لیے“


Comments

FB Login Required - comments

فرحان جمالوی

فرحان جمالوی ایک صحافی، ایوارڈ یافتہ افسانہ نگار اور کراچی فلم اسکول کے بانی ہیں۔ ان سے farhan.jamalvy@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

farhan-jamalvi has 3 posts and counting.See all posts by farhan-jamalvi