بے تاج بادشاہ ۔۔ ادریس آزاد


\"\"

وہ گھر سے ورک شاپ تک آتے آتے ہزاروں باتیں سوچا کرتا۔ ”اس مرتبہ اگر لاکھ دو لاکھ کا پرائز بانڈ نکل آئے یا ٹی وی لائیسنس کی قرعہ اندازی میں پہلا انعام ۔۔۔ یا پھر کہیں کوئی تھیلا پڑا ہو ا مل جائے ۔۔۔ نیلے اور سبز نوٹوں کا تھیلا۔“ وہ سائیکل چلاتے ہوئے دائیں بائیں سڑک کے کنارے نظر ڈالتا۔ اس کی نگاہیں زمین پر نوٹوں کے بنڈل تلاشتیں۔ لیکن وہاں بنڈل نہ ہوتے۔ وہ پھر سوچنے لگتا:۔ ”اگر کبھی لاٹری لگ جائے اور اکٹھے پیسے مل جائیں تو کسی نہ کسی طرح ”پینو“ اور ”شمو“ کے ہاتھ پیلے کردوں۔ دونوں بڑی بہنوں کی ڈولیاں ایک بار اٹھ گئیں تو بس پھر۔۔۔۔“ اس سے آگے اس کی سوچ ۴۷ کرولا کی طرح جھٹکے کھانے لگتی۔ اس کے چہرے پر حیا آلود مسکراہٹ غلبہ پالیتی۔ وہ سوچتا:۔ ”پھر۔۔۔ پھر تو نمبر لگ جائے گا اپنا بھی۔“ وہ ٹھنڈی سانس چھوڑتا اور تیز تیز پیڈل مارنے لگتا۔ ”کہاں اپنے نصیب ؟۔۔۔ نہ پینو اور شمو کی ڈولی اٹھے گی اور نہ ہی اپنے ماتھے پر سہر ا سجے گا۔“ وہ ایک لمحے کے لیے یہ بھی سوچتا:۔ ”ایسا نہیں ہوسکتا کہ کسی بہانے پینو اور شمو سے پہلے ہی گھر کی بہو لے آﺅں؟ ۔۔ ہائے! ایسا کہاں ہوسکتاہے!۔۔ اماں اور ابے کو اللہ جانے کیسی جلدی تھی کہ پینو اور شمو کو مجھ سے پہلے پیدا کردیا۔“

یہاں اس کی سوچوں کی سوئی نہ رکتی۔ وہ سوچے چلا جاتا۔ بوڑھا باپ جو اونچا سنتا تھا اور جس کی عینک میں بارہ نمبر کے شیشے فٹ تھے، دن بھر ٹو ٹی ہوئی کھاٹ پر پڑا بے مقصد بولتا رہتا تھا۔ شوکت کا خیال باپ کی طر ف چلا جاتا۔ ”ابا بھی مشین کی طرح لگا رہا۔۔۔ آنکھوں اور کانوں نے تو جانا ہی تھا۔ اس کا بھی تو ایک ہی کام تھا کام پہ جانا اور کام سے آنا ۔۔۔ درمیان صرف رات کے چند گھنٹے تھے اور وہ بھی کام ہی کرتا رہتا تھا۔“ اس کی تیوری بگڑ جاتی۔ وہ ناک بھوں چڑھاتا اور خالی خولی خلا ہی میں باپ پر غصہ اتارنے لگتا اور بوڑھی ماں، وہ بھی تو بستر سے لگ گئی تھی۔ کبھی چند دن کے لیے اٹھتی چلتی پھرتی اور پھر گر جاتی۔ سانس کا مرض تھا۔ کھانسی کا دورہ پڑتا تو کھانستے کھانستے الٹی کردیتی۔ آنکھوں سے پانی، ناک سے پانی، چہرہ زرد اور کم زور ی اتنی کہ اٹھ کر چلنا بھی محال۔ ماں کے بارے میں وہ ایسا ویسا نہیں سوچتا تھا۔ اسے تصور میں بھی لاج آجاتی۔ وہ خود سے کہتا:۔ ”نہیں نہیں!۔۔۔ اماں کا کیا قصور! وہ تو بے چاری عورت ذات ہے ۔۔۔ بے زبان!“

اس کا باپ تھا بھی بہت سخت گیر۔ جوانی میں خاصا منہ زور اور ہتھ چھٹ رہا تھا۔ اس نے ہر الٹا سیدھا کام کیا تھا۔ شوکی دوسری قسم کا انسان تھا۔ لڑنے بھڑنے میں تو باپ ہی پر گیا تھا لیکن باپ کی طرح عیاش نہیں تھا۔ جوا کھیلتا، نہ بارہ چنگی پر جاتا۔ نہ لڑکوں کا شوقین تھا نہ لڑکیوں کا شیدائی۔ اور نہ ہی میلوں ٹھیلوں پر پیسے ضائع کرتا۔ رمضان کے رمضان پوری نمازیں پڑھتا اور ہر جمعے کو باقاعدگی سے روزہ رکھتا تھا۔ اس پر تو بس ایک ہی دھن سوار تھی۔ جلدی جلدی بڑی بہنوں کے ہاتھ پیلے ہوں اور پھر اس کا بھی بیاہ ہوجائے۔ اس کے ساتھ کے، ”سارے“ شادی شدہ ہوگئے تھے۔ اب وہ اپنی عمر کا بتیسواں سال گزار رہا تھا۔ پینو ساڑھے تینتیس کی اور شموں پینتیس کی تھی۔ اس کے باپ نے بس یہی تین بچے پیدا نہیں کیے تھے، بل کہ یہی تین زندہ بچے تھے۔۔۔ گیارہ میں سے پہلے، کئی سال لگا تار حیدر خان کے ہاں مردہ اولاد ہوتی رہی تھی، شوکی کبھی کبھی چڑچڑا ہوجاتا۔ جب ورک شاپ کے دوسرے مستری، ہیلپر، ڈرائیور وغیرہ اپنی شادیوں کا ذکر کرتے تو شوکی کے دماغ پر خشکی چڑھ جاتی۔ وہ تیوری پر بل ڈال کر کہتا:۔ ”طیفے ! کالو! جیدے! روڈو! ۔۔۔۔ ۔سن لو! میرا بلڈ پریشر ہائی ہو گیا ہے۔ اب کوئی ایسی ویسی حرکت نہ کرنا کہ میرا میٹر شارٹ ہوجائے۔۔۔ تم جانتے ہو! جب کلچ کیبل ہارڈ ہوجائے تو کلچ کام چھوڑ دیتا ہے۔ بس! یوں سمجھ لو میرا کلچ کام چھوڑ گیا ہے۔ گئیر لگاو گے تو گراریاں ٹوٹ جائیں گی۔۔۔ یہ سب چابیاں، پانے اور گوٹیاں، ٹول بکسے میں ڈالو۔“

وہ غصیلی آواز میں شاگردوں پر حکم چلانا شروع کردیتا ۔شاگردوں کی تو اس سے جان جاتی تھی ۔ صحیح موڈ میں ہوتا تو اس کے ساتھ ہنس بھی لیتے، کھیل بھی لیتے لیکن اس کا پارہ ہائی دیکھتے توکان لپیٹ کر کونوں کھدروں میں چھپتے پھر تے ۔۔۔ بہت مارتا تھا۔ ساری مارکیٹ کے استاد یہی کہتے ۔۔۔ شوکی مستری شاگردوں کو بہت مارتا ہے۔ وہ فین بیلٹ سے مارتا تھا۔ نیل پڑجاتے تھے بے چاروں کے۔ ساتھ کے ساتھ سسکیاں اور ڈسکورے بھی لیتے جاتے اور ساتھ کے ساتھ کام میں بھی ہاتھ چلاتے رہتے۔ طیفا، کالو، جیدا، روڈو، مجیدا، رزاق، خانی ۔۔۔۔ یہ سب استاد شوکی کے شاگرد تھے۔ استاد شوکت کے کام کی شہرت دور دور تک تھی۔ اس نے اپنی دُکان کے بورڈ پر موٹے حروف میں ”بریک اسپیشلسٹ“ کے الفاظ لکھوا رکھے تھے۔ اس کی بل بک پر بھی ”استاد شوکت خان بریک اسپیشلسٹ“ لکھا ہوا تھا۔ کسی بھی گاڑی کی مشکل سے مشکل بریک ایڈجسٹ کرنا صرف استاد کا کام تھا۔ ورک شاپ کی زبان میں اسے بریک بنانا کہا جاتا تھا۔ وہ بڑے فخر سے سینے پر ہاتھ مار کر کہا کرتا:۔ ”میں آنکھوں پر پٹی باندھ کر بریک بناتا ہوں، کمپیوٹر کی مت نہ مار دے تو میرا نام بدل دینا۔“ کام چور مستریوں سے بڑی خار کھا تا تھا۔ ”یہ کام چور ہیں بہن کے تخم! ایک پرزہ نکالتے ہیں، گاہک سے کہتے ہیں جاو نیا لے آﺅ۔۔۔ ارے تم مستری میرے الف ب کے ہو!۔۔۔ مستری ہو تو خراب پرزے کو مرمت کرو اور دوبارہ فٹ کرو۔“

گالیاں تو اس کی زبان پر یوں رہتی تھیں جیسے ون سی کے انجن میں پسٹن کی پھٹ پھٹ وہ خود اکثر کہتا تھا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک سانس میں ایک سو ایک پھکڑ نکالنے کی صلاحیت عطا فرمائی ہے۔“ لیکن تھا پھر بھی ہر دل عزیز، مارکیٹ کے تمام استاد شاگرد اس کی دل سے عزت کرتے تھے۔ وہ اس کے ساتھ مخول مذاق بھی کرتے رہتے۔ صبح دُکان پر جلدی آجاتا اور رات گئے تک کام کرتا رہتا، شاہانہ مزاج کا مالک تھا۔ کرتا رہتا تو کرتا رہتا ۔۔۔ ۔نہ کرنا چاہتا تو اچھلے بھلے گاہک کو جواب دے دیتا۔ ”میرے پاس ٹیم نہیں ہے۔۔۔ میں ایک شادی میں جارہا ہوں۔“ سفید جھوٹ بول جاتا۔ گاہک کو بھی پتا ہوتا ۔۔۔۔ ”یہ جھوٹ بول رہا ہے۔“ لیکن وہ ڈھٹائی سے انکار کردیتا۔ بریک اسپیشلسٹ ہونے کے ناتے سے گاڑی کی ٹرائے لینا اس کے فرائض میں شامل تھا۔ بریک چیک کرنے کے لیے وہ گاڑی کو دو تین میل اوپر اور دو تین میل نیچے دوڑاتا۔ جگہ جگہ بریکیں مارکر چیک کرتا اور پھر آکر شاگردوں کو حکم دے دیتا کہ یہ کر دو یا وہ کر دو۔

اسی بارے میں: ۔  واجدہ تبسم کا متنازع افسانہ ۔۔۔ اُترن

گرمیوں کے دُپہر میں تووہ کسی صورت کام کو ہاتھ نہ لگا تا تھا۔ ورک شاپ کے اندر جاکر سو جاتا۔ دُکان خاصی لمبی تھی اور ٹھنڈی بھی۔ تمام شاگرد دُکان سے نکل آتے اور برآمدے میں چوکڑی بنا کر بیٹھ جاتے۔ لڈو کھیلتے بوتلیں لگا کر ۔۔۔ مٹھائی لگا کر ۔۔۔ یا ایک دوسرے کو چوچیاں مارتے۔ گرمیوں کے دُپہر میں تارکول سے بنا جی ٹی روڈ تپ کر انگارہ ہوجاتا۔ جیسے لوہا پگھل کر سڑک پر بچھ گیا ہو ۔۔۔ اسی طرح کے ایک دُپہر۔۔ شوکت خان بریک اسپیشلسٹ کی دُکان کے سامنے ایک پجارو آکر رکی ۔۔۔ پجارو، پجارو کمپنی کی نہیں تھی۔ بل کہ ڈائی ہڈ سو کمپنی کی جہازی سائز پجارو تھی۔ عجیب و غریب بناوٹ، لمبی چوڑی جسامت اور غالباً بالکل نیا ماڈل ۔۔۔ کھڑکیوں پر کالے شیشے شعلہ بار دھوپ کے خلاف پہرا دے رہے تھے۔ گاڑی میں اعلی قسم کا اے سی چل رہاتھا۔ شوکی کے شاگردوں نے گاڑی کی طرف دیکھا تو انھوں نے کھیلنا بند کردیا اور حیرت سے پجارو کو تکنے لگے۔ یہ سڑک جی ٹی روڈ تھی، جس کے دونوں اطراف میں مستریوں، کاری گروں، ڈنٹروں، پینٹروں اور باڈی میکروں کی دُکانیں تھیں۔ بس، ٹرک، ویگن، ٹیکسی، یہ سب یہاں علاج معالجے کی غرض سے آتی تھیں۔ یہ کھلے گریبان والوں کی مارکیٹ تھی۔ یہاں کسی کی گردن میں کوئی طوق نہیں تھا۔ ہر کوئی اپنے آپ کو نہلے پہ دہلا سمجھتا تھا۔ پجارو کی چمک دمک اور اس میں بیٹھے ہوئے لوگوں کی ہیت استاد شوکی کے شاگردوں کو چونکانے کے لیے کافی تھی۔ یہ کسی بہت بڑے رئیس، امیر، وزیر، صنعت کار، خان، ملک، بٹ، چودھری یا پھر کسی بہت اونچے درجے کے بیورو کریٹ کی گاڑی تھی۔ فرنٹ سیٹ پر باوردی ڈرائیور کے ساتھ اعلی قسم کے سوٹ میں ملبوس ایک خوب رو نوجوان بیٹھا تھا لیکن اصل وی آئی پی ہستی پچھلی سیٹ پر موجود تھی۔ اس کے بیٹھنے کا انداز بتاتا تھا کہ وہ یقینا کسی ریاست کا فرماں روا ہے۔ اس نے شلوار قمیص پہن رکھی تھی اور اس کے سر پر انتہائی قیمتی کپڑے کی کلف لگی پگڑی بندھی تھی۔ یہ پگڑی انتہائی نفیس اور شان دار تھی، جس کا اونچا شملہ بتیس لاکھ کی پجارو کی چھت کو مسلسل چوم رہا تھا۔ اس سے پچھلی شیٹ گارڈز کے لیے تھی۔ یہاں تین عدد مسلح باوردی گارڈ مستعد بیٹھے استاد شوکی کی دُکان کی جانب گھور رہے تھے۔ ڈرائیور نے گاڑی دُکان کے سامنے کھڑی کی اور ونڈ اسکرین کے اندر ہی سے شوکی کے ایک شاگرد کو انگلی کے اشارے سے اپنی طرف آنے کے لیے کہا۔ یہ رزاق تھا ۔۔۔ کھیل چھوڑ کر وہ باہر کی طرف لپکا برآمدے سے نکلتے ہی جون کی تیز لو کا ایک تھپیڑا رزاق کے چہرے سے ٹکرایا۔ اسے یوں لگا جیسے جہنم کے فرشتے نے اسے تھپڑ مار دیا ہو۔ رزاق ڈرائیور سائیڈ کی کھڑکی کے پاس جا ٹھیرا۔
”استاد کو بلاو، چھوٹے!۔۔۔ جلدی کرو۔۔۔ خان صاحب کو جلدی ہے ۔۔ بریک گڑبڑ کررہی ہے۔۔۔ اور ہمیں دور جانا ہے ۔۔۔۔ شاباش! استاد کو بلاﺅ!“
رزاق کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ وہ کیا کرے۔ اسے معلوم تھا کہ اس گرمی میں شوکی استاد گاڑی کو ہاتھ بھی نہیں لگائے گا۔
شوکی استاد تو ویسے بھی گہری نیند سویا ہوا تھا، دُکان کے اندر۔ ”خس“ کے ٹھنڈے ائیر کولر کی نم آلود ہوا، اسے حوروں کی لوریوں سے زیادہ پسند تھی۔ کولر کی باڈی زنگ آلود تھی۔ پہیے ناکارہ تھے اور ”خس“ کی گھاس پر مٹی جم چکی تھی۔ اینٹوں کے چھوٹے چھوٹے ستونوں پر رکھا ہوا شوکی استاد کا یہ ائیر کولر جنت الفردوس کی کھڑکی سے کم نہیں تھا ۔۔۔۔۔ ہوا کے ساتھ پان کی باریک باریک بوندیں پھوار بن کر مسلسل شوکی کے منہ پر پڑتی رہتیں۔ ”استاد اس وقت کام نہیں کرتا، صاحب جی!“
رزاق نے ہمت کرکے جواب دیا۔ ڈرائیور کی تیوری پر بل پڑ گئے۔ وہ بغیر کچھ کہے کھڑکی سے باہر نکل آیا۔ دھوپ نے بانھیں پھیلا کر اس کا استقبال کیا۔ اسے استاد کے کام نہ کرنے کی وجہ سمجھ میں آئی، لیکن اس کی مجبوری شوکی استاد کی نیند سے کہیں زیادہ اہم تھی۔ اس کے گریبان کے بٹن بند تھے اور رسی کا دوسرا سرا پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے خان صاحب کے ہاتھ میں تھا۔ ڈرائیور کے باہر آتے ہی کلاشنکوف بردار گارڈ بھی باہر آگئے۔ وہ پچھلی طرف کا دروازہ کھول کر اترے تھے۔ ڈرائیور، دُکان کی طرف بڑھا۔ راستے میں شوکی کے شاگرد برآمدے کی چھت کے نیچے چوکڑی بنائے، گویا استاد کا پہرہ دے رہے تھے۔
”صاحب جی ! ہمارے استاد کو مت جگائیں ورنہ وہ ہمیں مارے گا۔“
شوکی کے سب سے کم عمر شاگرد ”روڈو“ نے ڈرائیور سے التجا کی۔ روڈو ”فین بیلٹ“ سے بہت ڈرتا تھا۔ آٹھ نو سال کا معصوم بچہ تھا۔ یہ سوچ کر ڈر گیا، اگر استاد کی نیند میں خلل ڈالا گیا تو سب کو پھینٹی لازمی طور پر لگے گی۔ ڈرائیور کو اور زیادہ غصہ آگیا۔ وہ شوکی کے شاگردوں کو ایک طرف دھکیلتا دُکان میں گھس گیا۔ ڈرائیور کے پیچھے پیچھے تین میں سے ایک گارڈ بھی کلاشنکوف سمیت شوکی استاد کی دُکان میں گھس گیا۔ باقی دو گارڈز چلچلاتی ہوئی دھوپ میں پجارو کے دائیں بائیں مستعد کھڑے تھے۔ گاڑی میں صرف ”بڑے صاحب“ یا ”خان صاحب“ ہی اکیلے براجمان تھے۔ ڈرائیور نے سوئے ہوئے ”استاد شوکی“ کو کندھے سے پکڑ کر ہلایا:۔
”استاد جی!۔۔ مستری صاحب!۔۔۔ بھائی صاحب!“
شوکی کی آنکھ کھل گئی۔ طیفا، کالو اور جیدا سامنے تھے۔ ان کے رنگ فق اور چہرے پر خوف کی پرچھائیاں صاف نظر آتی تھیں۔ مجیدا، رزاق اور خانی کان دبائے، سرجھکائے ایک طرف کھڑے تھے، اور چھوٹا ”روڈو“ جس کا اصل نام اعجاز تھا، مارے ڈر کے تھر تھر کانپ رہا تھا۔
”مستری صاحب ! خان آف بندیال باہر گاڑی میں بیٹھے ہیں۔ گھنٹا ہوگیا ہے ہم نے بہت اہم میٹنگ میں پہنچنا ہے، زرا دو قدم چل کر بریک کو ایک نظر دیکھ لو۔ پیڈل پہ پیڈل مار رہا ہوں، انچ پانچ پیڈلوں کے بعد جا کر کہیں تھوڑی سی بریک لگتی ہے۔ خان صاحب! پہلے ہی آگ بگولا ہوئے بیٹھے ہیں، جلدی کرو! بس اب دیر نہ کرو ورنہ ہم ملازموں کی شامت آجائے گی۔“
شوکی نے نیند سے بیدار ہوکر حالات کو سمجھنے میں دیر نہ لگائی اور دیر لگتی بھی کیسے، اس کے سامنے ایک عدد ہٹا کٹا کلا شنکوف بردار بظاہر خاموش کھڑا تھا لیکن لگتا تھا کہ شوکی کے انکار پر اسے دھمکی بھی دینا پڑی تو دریغ نہیں کرے گا۔ شوکی سرخ انگارہ آنکھیں مل رہا تھا۔ وہ اور سرخ ہوگئیں۔ سر کے بال اٹھ اٹھ کر ایک دوسرے سے الجھ رہے تھے۔ یہ ایک مستری کا سر تھا ۔۔ بال ہی بال۔ اگر کسی ’مہذب“ انسان کا ہوتا تو گنجا ہوتا۔ شوکی کے چہرے پر خشونت پھیل گئی۔ اسے جگانے والے نے اچھا نہیں کیا تھا۔ لیکن شوکی منہ سے کچھ نہ بولا۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھا۔ چار پائی چر چرائی، گارڈ اور ڈرائیور کے چہرے پر اطمینان کی جھلک نظر آئی۔ شوکی کے جسم پر جہنمیوں والا لباس تھا۔ میلا کچیلا ڈیزل، تیل، انجن آئیل، گرد، مٹی، گریس ہر قسم کی ”نامیاتی کیمیا“ کا تجربہ شوکی کے لباس پر ہوتا رہتا تھا۔ شوکی کے گندے کپڑے جو تجریدی آرٹ کا منفرد نمونہ تھے، ملی جلی بدبووں کے ترجمان تھے۔ وہ اٹھا۔ اس نے بوجھل اور ناراض نظروں سے شاگردوں کی طرف دیکھا۔ ایک زور دار انگڑائی لی اور منہ ہی منہ میں بڑبڑاتا ہوا دُکان سے نکل آیا۔

اسی بارے میں: ۔  نظم میں جدت اور قدامت کا قضیہ

نہ جانے اڑوسیوں پڑوسیوں کو کس نے صوت احوال سے آگاہ کیا۔ وہ بھی اس وحشت کی گرمی میں اپنی اپنی دُکانوں سے سر نکالے شوکی کی کارروائی دیکھ رہے تھے۔ شوکی دُکان سے نکل کر برآمدے میں رک گیا۔ آسمان سے شعلے برس رہے تھے۔ وہ یعنی۔۔۔ استاد شوکت کس طرح اتنی سخت دھوپ میں کام کو ہاتھ لگاتا ۔۔۔اس نے شہنشاہ اکبر کے سے انداز میں ہاتھ پر ہاتھ مارا آواز آئی ”تاڑ“ غلام حاضر یہ جیدا تھا۔ مزاج شاہاں سے واقف پرستان کے غلام ”جن“ کی طرح ٹھنڈے پانی کا گلاس ہاتھ میں لیے شوکی نے ”غرر، غرر“ کی ناپسنددیدہ آوازیں نکالتے ہوئے کلیاں اور غرارے کیے۔ دوسرا”جن“ پا ن کی گلوری لیے موجود تھا۔ شوکی نے شان بے نیازی سے گلوری منہ میں ڈالی اور ایک مرتبہ پھر بڑے عارفانہ انداز میں ڈرائیور، مسلح گارڈ، گاڑی اور گاڑی میں بیٹھے ”فرعون“ کو ناک بھوں چڑھا کر دیکھا ۔۔۔۔ زیر لب کہا ۔۔۔ ”منحوس! ۔۔۔ بہن کا تخم ۔۔۔“ اور نہ جانے کیا کیا۔ شاید ایک سو ایک۔
”استاد جی! ۔۔۔ تم تو بہت وقت برباد کر رہے ہو۔ اتنی دیر میں تو ہم چنیوٹ کراس کرچکے ہوتے ۔۔۔ تم یہ نوابوں والی حرکتیں بعد میں کرلینا۔ وہ دیکھو! خان صاحب بے چینی اور غصے سے پہلو پہ پہلو بدل رہے ہیں۔ باہر گرمی ہے ورنہ وہ باہر آکر تمھاری مزاج پرسی کرتے۔ زرا جلدی کرو“۔
”تمھارے خان صاحب کو باہر تو نکلنا ہی پڑے گا۔ ”ٹرائی“ لیے بغیر تو بریک کا نقص پکڑنا ممکن ہی نہیں۔ انھیں زرا ”اے سی“ سے باہر نکالو تاکہ انھیں پتا چلے باہر کتنا خوش گوار موسم ہے۔“
شوکی نے زہر خند لہجے میں ڈرائیور کو مطلع کیا اور ساتھ ہی بڑے اکھڑ انداز میں پجارو کی جانب قدم بڑھا دیے۔ اب شوکی کے قدم اٹھ چکے تھے۔ اب وہ دھوپ کے سمندر میں اتر چکا تھا۔ اب زبان سے نکلے ہوئے لفظ کی طرح اس کی واپسی ممکن نہیں تھی۔ وہ جارحانہ موڈ میں پجارو کی پچھلی کھڑکی تک پہنچ گیا ۔۔ اس نے وہی کھڑکی جس کے ساتھ ”خان صاحب“ تشریف فرما تھے۔ بڑے عارفانہ انداز میں کھولی اور ہاتھ سے ”خان صاحب“ کو باہر نکلنے کا اشارہ کیا۔
”صاحب جی! بریک کی ٹرائی لینی ہے۔ آپ دُکان میں بیٹھیں، میں چار پیڈل مار کر ابھی آتا ہوں۔“
شوکی نے یہ سب کچھ اتنی جلدی اور بے باکی سے کر دیا کہ ڈرائیور اور گارڈ بغلوں میں منہ چھپانے کے سوا کچھ اور نہ کرسکے۔۔ ”خان آف بندیال“ کو شاید زندگی میں پہلی بار ایسے آدمی سے واسطہ پڑا۔ بریک ٹھیک کروانا ان کی مجبوری تھی، بصورت دیگر حادثے کا خطرہ یقینی تھا، اور پجارو کی ٹرائی لینا ”خان آف ورک شاپ شوکت خان بریک اسپیشلسٹ“ کا استادی حق تھا۔ ”خان آف بندیال“ دو تین لمحوں میں تین چار قسم کے منہ بسورے اور بادل نخواستہ کھڑکی سے باہر آگئے۔ ”اے سی“ سے نکل کر تار کول کی اس سڑک کے کنارے دھوپ کے جہنم میں اللہ اللہ۔
اگلے لمحے ”شوکی“ نے ڈرائیونگ سیٹ کی کھڑکی کھولی، سیٹ سنبھالی ۔۔۔۔۔۔ اور کھٹا ک ۔۔۔ کھڑکی بند ۔۔۔ اس نے کھڑکی نہیں بند کی بل کہ خان آف بندیال، اس کے مسلح گارڈ اور ڈرائیور کے منہ پر زور دار تھپڑ رسید کردیا۔ ریورس گئیر لگایا۔ ٹائروں نے بری طرح چیخ کر احتجاج کیا۔ گاڑی نے ”یو ٹرن“ لیا ۔۔ اور یہ جا ۔۔۔ وہ جا۔
کھلے آسمان تلے، آگ کی بارش میں خان آف بندیال اور اس کے پالتو کھڑے کے کھڑے رہ گئے۔
شوکت خان سیدھا گھر گیا۔ اپنے گھر ۔۔۔ خان آف بندیال کی گاڑی کے انجن سے ایک پرانے ڈبے میں ”موبل آئیل“ نکالا۔۔۔ گھر کے الیکڑک واٹر پمپ کی خشک رگوں میں موبل آئیل ڈالا۔
”شمو! لے۔۔۔۔ میں نے اس میں تیل ڈال دیا ہے۔۔۔ اب یہ زیادہ شور نہیں مچائے گی۔“
پینو نے آلو کے پراٹھے اور پلیٹ میں کریلے کا سالن لا کر شوکی کے سامنے رکھ دیا۔ شمو بھاگی بھاگی گئی اور لسی کا کٹورا بھرلائی۔
مدت بعد دُپہر کے وقت گھر آیا تھا۔۔۔ ڈٹ کر کھایا۔۔ لمبی ڈکار لی ۔۔ اور بائیں ہاتھ سے مونچھیں صاف کرتا ہوا نکل آیا۔ ٹرائے مکمل ہوچکی تھی ۔۔۔۔ گاڑی دُکان پر پہنچی ۔۔۔ صاحب لوگ بے چینی سے شوکی کی واپسی کا انتظار کررہے تھے۔ ان کے چہروں پہ بوریت، غصہ اور بے بسی کی تحریریں نقش تھیں۔ شوکی انتہائی بے نیازی کے ساتھ ڈرائیونگ سیٹ سے اترا ۔۔۔ کھٹاک سےکھڑکی بند ۔۔۔ بے پروائی سے چلتا ہوا دُکان میں آیا۔
”طیفے، رزاقو، مجیدے۔۔۔ اس کی آئیل سیل بدل دو ۔۔۔ زیادہ دیر مت لگانا۔ صاحب کو بڑی جلدی ہے۔۔۔ بس! دو نٹ کھولو اور”سیل“ فِٹ کردو۔ شاباش!“


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔