مسلک و مذہب کے نام پر سیاست اور سلیم صافی کے تضادات!


گزشتہ روز معروف تجزیہ نگار اور نجی ٹی وی چینل کے پروگرام \”جرگہ\” کے میزبان سلیم صافی صاحب کا ایک\"\"  کالم \”گڈ کالعدم و بیڈ کالعدم\” نظروں سے گزرا۔ علاوہ ازیں اسی موضوع پر انکا خصوصی پروگرام \”جرگہ\” بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں موصوف نے دفاع پاکستان کونسل کے راہنما مولانا فضل الرحمان خلیل کو مہمان کے طور پر مدعو کیا ہوا تھا اور اس موضوع پر تفصیلی گفتگو کی۔

سلیم صافی نے اپنے مذکورہ کالم اور پروگرام دونوں میں اس موقف کا اظہار کیا کہ ریاستی اداروں اور ملک کے اندر بعض لبرل قوتیں کالعدم جماعتوں کے بارے میں بھی دہرا معیار رکھتی ہیں۔ انکے بقول ملک کے اندر چند مخصوص کالعدم جماعتوں اور انکے سربراہان ہی کو ان قوتوں کی جانب سے آڑے ہاتھوں لیا جاتا ہے جبکہ دیگر کالعدم جماعتوں اور انکے راہنماوں کی سیاسی سرگرمیوں اور حکومتی شخصیات سے انکی ملاقاتوں پر اس طرح شور نہیں مچایا جاتا۔ صافی صاحب کے بقول وہ ملک عزیز پاکستان میں مسلک و مذہب کے نام پر سیاست پر مکمل پابندی عائد کرنے کے حامی ہیں اور اپنے اس موقف کا برملا کئی مرتبہ اظہار بھی کر چکے ہیں۔

اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ مذہب و مسلک کے نام پر سیاست اور مذہبی انتہاپسندی و فرقہ واریت نے پاکستانی \"\"معاشرے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے مگر صافی صاحب جو کہ خود زمانہ طالب علمی میں ملک کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت \”جماعت اسلامی\” کے طلباٰء ونگ \”اسلامی جمعیت طلباء پاکستان\” کے سرگرم و فعال رکن رہے اور افغان جہاد میں بھی باضابطہ حصہ لیا، کیا یہی سوچ اپنی ہم فکر مذہبی سیاسی جماعت کیلئے بھی رکھتے ہیں؟ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام سمیت تمام مذہبی سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کرنی چاہئے تاکہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم رہے اور نفرتوں پر مبنی اس سیاسیت کا ہمشیہ کیلئے خاتمہ ہو جائے؟ میں نہیں سمجھتا کہ صآفی صاحب ایسی کوئی سوچ و رائے رکتھے ہیں؟ اگر نہیں رکھتے تو پھر مسلک کے نام پر سیاست سے ان کی کیا مراد ہے؟ یہ بات ہر کسی کو معلوم ہے کہ جماعت اسلامی سلفیت اور دیوبندیت کی ملغوبہ فکر کی حامل اور جمعیت علماء اسلام (ف) دیوبندیت کے مسلک سے تعلق رکھنے والی ملک کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعتیں ہیں۔ اسی طرح جمعیت اہل حدیث و جماعتہ دعوہ (اہل حدیث)، ڈاکٹر طاہر القادری کی جماعت پاکستان عوامی تحریک و سنی اتحاد کونسل بریلوی مسلک کی نمائندہ جماعتیں ہیں۔ بالکل اسی طرح تحریک جعفریہ یا اسلامی تحریک پاکستان اور مجلس وحدت مسلمین اہل تشیع مسلمانوں کی نمائندہ مذہبی سیاسی جماعتیں ہیں۔

صافی صاحب مسلک کے نام پر اگر سیاست کے واقعی میں مخالف ہیں تو انکو مذکورہ تمام مذہبی جماعتوں پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرنا چاہئے وگرنہ وہی شکوہ جو انہوں نے \”گڈ کالعدم و بیڈ کالعدم\” کے ضمن میں ریاستی اداروں اور لبرل قوتوں سے کیا ہے، وہ ان پر بھی صادق آتا ہے۔ کیونکہ پاکستان کے اندر اس وقت کوئی ایسی مذہبی سیاسی جماعت نہیں جسکو آپ ملک کے اندر بسنے والے تمام مسلم مکاتب فکر کی نمائندہ و مشترکہ جماعت کہہ سکیں۔ بد قستمی سے ہر مذہبی جماعت نے نام کی حد تک \”اسلامی\” کا ٹائٹل استعمال کیا ہوا ہے مگر اس میں داخلے کیلئے مخصوص مکتب فکر سے تعلق ہونا ہی شرط ہے۔

صافی صاحب کو بخوبی معلوم ہے کہ جھنگ میں ہونے والے حالیہ ضمنی الیکشن میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر کالعدم اہلسنت والجماعت کے راہنما مولانا مسرور جھنگوی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے اور کامیابی کے بعد انہوں نے جمعیت علماء اسلام (ف) میں باضابطہ شمولیت کا اعلان کیا، جسے آپ سمیت آپ ہی کے ہم فکر بعض سیاسی تجزیہ نگاروں و اینکر پرسنز نے ملکی سیاست کیلئے نیک شگون قرار دیا کہ چلے اسی طرح شدت پسند لوگ قومی دھارے میں شامل ہو رہے ہیں۔ مولانا مسرور جھنگوی صاحب تو کالعدم جماعت سے تعلق ہونے کے باوجود اپنی ہم مسلک دینی سیاسی جماعت \”جمعیت علماء اسلام\” کی چھتری لینے میں کامیاب ہوئے مگر دیگر مسالک خاص کر اہل تشیع کہ جن کو اس ملک میں مذہب کے نام پر سب سے زیادہ شدت پسندی اور دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا محض توازن کی ظالمانہ پالیسی کے تحت عائد اپنی نمائندوں مذہبی جماعتوں پر پابندی کے بعد کس جماعت میں شمولیت اختیار کریں؟ کیونکہ انکو مسرور جھنگوی صاحب کی طرح اپنی ہم مسلک جے یو آئی یا جماعت اسلامی جیسی مذہبی جماعتیں تو مل نہیں سکتی، کہ جس میں شامل ہو کر وہ بھی آپ سے مین اسٹریم سیاسیت میں آنے کی داد لے سکیں کیونکہ آپکے بقول مسلک کے نام پر سیایست پر تو پابندی عائد ہونی چاہئے مگر کیا یہ پابندی جماعت اسلامی اور جے یو آئی پر بھی عائد ہونی چاہئے یا پھر آپ ان دو جماعتوں کو مسلکی نہیں بلکہ خالص اسلامی سیاست و انقلاب کے امین و علمبردار سمجھتے ہیں؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

تصور کاظمی کی دیگر تحریریں
تصور کاظمی کی دیگر تحریریں

4 thoughts on “مسلک و مذہب کے نام پر سیاست اور سلیم صافی کے تضادات!

  • 27-12-2016 at 12:45 pm
    Permalink

    مجھے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے کہ میں 1968 میں جب جماعت کے قریب آ رہا تھا تو میں اُس شخص سے سوال کیا جو مجھے جماعت کی طرف مائک کر رہا تھا، کیا ہم جماعت والے بریلوی ہیں۔ اُس نے کہا کہ نہیں ۔پھر میں نے اُس کہا کہ ہم دیوبندی ہیں اُس نے کہا کہ نہیں۔میں نے کہا پھر ہم کیا ہے؟ ۔ اُس نے جواب دیا ہم مسلمان ہیں۔ رسول(ص) ہمیں مسلمان چھوڑ کے گئے تھے۔ نہ بریلوی، نہ دیوبندی ، نہ اہل حدیث اور نہ ہی شعیہ ! برادرم لکھنے کو تو جو چاہے لکھ دیں کیونکہ لکھنے کی ہر شخص کو آزادی ہے۔ مگر پڑنھے والے بھی کچھ نی کچھ جانتے ہیں۔جماعت اسلامی لوگوں کو دین اسلام پر بلاتی ہے نہ مسلک پر۔ ۔ ۔ اس میں ہر کوئی شریک ہو سکتا ہے۔جماعت اسلامی سلفیت یا دیوبندیت کا ملغوبہ نہیں۔ اپنے علم میں اضافہ کر لیجییے۔جھنگ میں اگر مسرور دیوبندی الیکشن جیت کر جمعیت علمائے اسلام میں شریک ہو گئے تو۔ اس ملک کا شعیہ صدر زرداری ہو سکتا ہے۔فوج کا سپہ سالار موسیٰ صاحب ہو سکتا ہے۔ اور پوری سیای پارٹیوں میں اس مسلک کے لوگ شریک ہو سکتے ہیں تو آپ کو اگر سیکولر کا بخار ہے تو اسے اسی تک محدود رکھیں۔ اتنے آگے نہ پڑھیں کے آپ کے لکھے پر لوگ بلکل اعتبار چھوڑ دیں۔ جماعت اسلامی یا علمائے اسلام پر پابندی پر بات نہ کریں ہاں پاکستان کے آئین کے مطابق اسلام سے ہٹ کر ہر بات پر پابندی ہے۔ اگر کوئی قانون اسلام کے خلاف ہے تو کوئی بھی عدالت جا کر اس کو تبدیل کروا سکتا ہے۔ پھر کیا فرماتے ہیں آپ کے اپنے سیکولر کے بارے میں۔
    ممیر افسر امان
    کراچییر افسر امان

  • 27-12-2016 at 7:46 pm
    Permalink

    اچھی کاوش ہے تصور بھائی مگر بکے ہوئے ضمیروں کے آگے بات کرنا ایسا ہی ہے جیسے بھینس کے آگے بین بجانا

  • 28-12-2016 at 12:05 pm
    Permalink

    اور بے ضمیرلکھنے والوں اور اس پر تبصرہ کرنے والوں کے متعلق کیا خیال ہے؟
    میر افسر امان
    کراچی

  • 28-12-2016 at 1:49 pm
    Permalink

    کاظمی صاحب آپ کا کالم تضادات کا مجموعہ ہے آپ نے اپنے کالم میں سلیم صافی کے خلاف اپنی بھڑاس نکالی ہے۔ سلیم صافی نے اپنے کالم میں صرف اتنا لکھا تھا کہ تمام کلعدم تنظیموں کے ساتھ یکساں سلوک رکھنا چاہیے۔ پاکستان میں فرقہ ورانہ فسادات سے ہزاروں معصوم جانیں ضائع ہوئیں۔ ہمیں یہ صاف طور پر ماننا چاہیے کہ شیعہ سنی جھگڑے میں دونوں مسالک کی پر تشدد گروہوں نے ایک دوسرے کے مسالک کو مارا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے آپ جیسے لکھاری اپنی تحریروں میں توازن برقرار نہیں رکھ پاتے اور آپ کے اندر کا مسلکی تعصب کھل کر آپ کی تحریروں میں نظر آتاہے ختیٰ کہ سلیم صافی نے تمام کالعدم تنظیموں کے ساتھ یکساں سلوک کی بات کی تھی تو اس میں آپ کے مسلک کے خلاف بات نہیں تھی لیکن آپ دوسروں کو خوارجی تک کہہ دیں اور اگر ایک کالم نگار صرف مساوی سلوک کی بات کرے تو آپ کا قلم فوراً ٹرپ جاتا ہے۔

Comments are closed.