مشرق کی بیٹی اور ہماری ماں


\"\"

بے نظیر بھٹو سے پوچھا

”آپ کی زندگی کا بڑا المیہ کیا ہے“

کہنے لگیں

”مرد میری زندگی کا المیہ ہیں۔ والد کو پھانسی چڑھا دیا گیا۔ بھائی مارے گئے۔ شوہر کی عمر جیل میں گذر گئی“

پھر اس میں کیا شبہ کہ عمر بھر مردوں کے اس معاشرے سے ایسا مقابلہ کرتے گذری، جس کے کسی پہلو سے پہلوتہی کرنا تاریخ کے لیے ممکن نہیں۔

آپ کو پتہ ہے ؟

سترہ اگست انیس سو اٹھاسی کو جنرل ضیاالحق اپنے غیر سیاسی و غیر جمہوری عزائم سمیت طیارے حادثے کا شکار ہوگئے۔ غلام اسحق خان نے منصب صدارت سنبھالا اور فوج کی کمان مرزا اسلم بیگ کے ہاتھ آئی۔ حالات کے دباؤ کے تحت طاقت کے مراکز جماعتی انتخابات کروانے پر مجبور تھے۔ مگر یہ انتخابات عجیب تھے۔ کروائیں تو آفت، نہ کروائیں تو قیامت۔ ایک ہڈی ہے کہ اگلی جاتی ہے نہ نگلی جاتی ہے۔ ایک بے کس و بے سہارا بے نظیر بھٹو نے غیر جمہوری طاقتوں کو مشکل میں ڈال رکھا تھا۔ بے نظیر بھٹو امید سے تھیں۔ بہادروں نے ایک طرف سیاسی جماعتوں کے تنکے جوڑ جوڑ کر بے نظیر کے مقابلے میں قبل از وقت اتحاد کھڑا کردیا دوسری طرف انٹیلی جنس اداروں کے ذریعے محترمہ کی ڈیلیوری کی تاریخ معلوم کروالی۔ ڈاکٹروں نے بے نظیر بھٹو کو سترہ نومبر کی تاریخ دی تھی۔ ملک کی باوقار طاقت نے مشاورت سے الیکشن کے لیے سولہ نومبر کی تاریخ دے دی۔ مگر وہ جانتے نہیں تھے کہ کالی بلیاں صرف وہم کے پرستاروں کا ہی رستہ کاٹ سکتی ہیں۔ بازو پہ جنہیں بھروسہ ہو وہ ستاروں کی چال بھی خطا کردیتی ہیں۔ محترمہ ایک روز لیاری کے دورے پہ تھیں۔ پتہ چلا وہاں کے ایک غیر معروف ہسپتال میں کسی کی عیادت کو چلی گئی ہیں۔ وقت گذرتا گیا محترمہ لوٹ کر نہ آئیں۔ کچھ گھنٹوں بعد خبر آئی کہ محترمہ نے متعین تاریخ سے دو ماہ قبل یعنی اکیس ستمبرکو ڈیلیوری کروالی ہے۔ آج شام ڈیلیوری ہوئی اور صبح تڑکے محترمہ نے سیاسی جدوجہد کا آغاز کردیا۔ اس درد کو اور اس کرب کو میں لکھ سکتا ہوں، مگر اس کا مفہوم تو کوئی ماں ہی بتاسکتی ہے۔ ایک جہد مسلسل، ایک عزم مسلسل، ایک صبر مسلسل۔ ستم گروں سب ستم ہارگئے اور بے نظیر بھٹو مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بن گئیں۔

\"\"

کمسنی میں ہی اذیتیں محترمہ کا نصیب ٹھہریں۔ جس دوران والد جیل میں تھے اور ہر گذرتا دن پھندے کو گلے کے قریب تر کررہا تھا، وہ پڑھیے تو روح بری طرح سے چھلنی ہوجاتی ہے۔ پھر پھانسی کے لمحوں کو بیان کرنے کی تاب ایک بیٹی کیسے لاسکتی ہے۔ والد سے آخری ملاقات کے ہنگام رعونت شعار سالار کے کماں بدست لشکریوں سے کہا تھا، خدارا کچھ دیر میرے اور بابا کے بیچ سے یہ سلاخیں اٹھا دیجیے، میں آخری بار بابا کے گلے لگنا چاہتا ہوں۔ سالار کا حکم یہ تھا کہ سلاخوں کا پردہ نہیں اٹھنا چاہیے۔ نازوں میں پلی بے نظیر کے اشک آہ و زاری کرتے رہے، مگر لشکریوں نے بازو سے پکڑ کر بے نظیر کو باہر نکال دیا۔ باپ کی ایک آواز اس نے سنی ’’بیٹا کوئی بات نہیں، رو مت‘‘۔ ذولفقار علی بھٹو آخر کو سیاست دان تھے، ان کی پھانسی ٹل نہیں سکتی تھی۔ اطمیان کی قبا اوڑھے وہ کوئے یار سے نکلے اور سوئے دار چل پڑے۔ زخم ابھی ہرا ہے اور بہادر سلطان کی فوج نصرت بھٹو جیسی ماں کو بالوں سے پکڑ کر سڑکوں پہ گھسیٹ رہی ہے۔ ابھی عمر ہی کیا تھی جو جلاوطنی کا دکھ بچی کے نصیب میں آگیا۔ کارکن قلعے کاٹ رہے ہیں۔ کوڑے ہیں اور زندان ہیں۔ حالات کا جبر اپنی انتہا پہ ہے، مگر انسانیت کا کامل ظرف سمٹ کر ایک لڑکی میں سما گیا ہے۔ دیا جل رہا ہے اور ہوا چل رہی ہے۔ عقل محو حیرت ہے کہ ایام کی ان اعصاب شکن گردشوں میں محترمہ نے اپنی عورت کو مرنے نہیں دیا۔

ان کے ماتھے پہ مردانہ کرختگیاں جگہ نہیں پاسکیں۔ ان کے لب ورخسار اپنی حسین قبا کتر کر نوحہ گری پہ نہیں اترے۔ ان کے بالوں نے بکھر کے ماتم نہیں کیا۔ ان کی روشن ستارہ آنکھوں نے اشکوں کی سلامی گوارا نہیں کی۔ ان کے لہجے سے نسوانی ٹھہراؤ نہیں روٹھا۔ ان کی بدن بولی نے نسوانی انداز و ادا پہ سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کے پہناوے میں احتجاج کے رنگ نہیں بھرے۔ ان کے لفظوں کو شکایت اور بول کو خود ترحمی کی آلودگیوں نے پراگندہ نہیں کیا۔ ان سے بڑھ کر بھی کوئی مصروف ہوا ہے ؟ مگر اپنے بچے نوکروں کو نہیں سونپے۔ اپنے خاص مہمانوں کے لئے چائے خود بنا کر پیش کرنے کی روایت قائم رکھی۔ وہ سرتا پا ایک عورت ہی رہی۔ وہ جنرل ضیا تو نہیں تھیں کہ طاقتور فوج کا سالار ہوکر بھی اپنی جنس کو منہ دکھانے کے لائق نہ چھوڑے۔ اس جنگ کی تو خوبصورتی ہی یہی ہے کہ ایک مکمل عورت کے عزم و استقلال نے ایک مکمل مرد کی بے تابیوں کو تمغوں پہ لگی دھول چاٹنے پہ مجبور کیا۔ خود تیغ ہلال کی طرح عیش نیام سے گذر گئیں۔ اس خوبصورتی سے گذریں کہ دوپٹے پہ دو سلوٹیں تک بھی نمودار نہ ہونے دیں۔ ایک ادا ہے، پر اسے بھی مردانگی کیوں کہیے۔ نسوانیت کا سینہ سدا چوڑا رہے کہ کوئی خاتون تھی جس نے پاکستان میں در بدر بھٹکتی موت کو دبئی سے کہلوا بھیجا تھا

’’تم وہیں رکو، میں خود آتی ہوں‘‘\"\"

اٹھارہ اکتوبر دوہزار سات کو وہ ائیر پورٹ پہ اتریں تو استقبال کو جہاں خلق خدا امڈ کر آئی، وہاں موت بھی آئی۔ کارساز پہ موقع پاکر موت روبرو آگئی۔ مگر موت کی اپنی ہی سانسیں اکھڑ گئیں۔ حواس باختگی میں نقصان اپنے گرد وپیش کا کر گئی۔ ہر آنکھ میں تشویش تھی۔ ہر خیال میں اندیشے تھے۔ وسوسے سر اٹھائے چل رہے تھے۔ اطمینان تھا تو بس ایک عورت کی نگاہ ناز میں تھا۔ ستائیس دسمبر کی شام اسی اطمینان کی ردا اوڑھ کر وہ لیاقت باغ میں گاڑی کی چھت سے نمودار ہوئیں۔ ٹھیک اسی جانب سینہ رکھا کہ جہاں موت سہمی سہمی منڈلا رہی تھی۔ بانہیں پھیلا کر موت کو اعتماد بخشا، اذن ہوتے ہی وہ محترمہ پہ جان وتن فدا ہوگئی۔ سینے سے لگا کر عمر بھر کے لئے موت پہ ایک احسان کر دیا۔ مقتل کی جانب اٹھتے قدموں کے دو ہی تو دھج ہیں، جن کی شان اب تک سلامت ہے۔ ایک وہ دھج جو تختہ دار پہ باپ کا تھا ایک یہ دھج جو قتل گاہ میں بیٹی کا تھا۔

ہم بھی آج فیض کی شاعری کرتے۔ مگر فیض بھی ہوتے تو لفظ ڈھونڈتے رہ جاتے۔ یہ باتیں رہ یار کو قدم قدم یادگار بنانے سے آگے کی کوئی باتیں ہیں۔ یہ جان پہ رکھے کسی قرض کی ادائیگی سے بھی ادھر کا کوئی قصہ ہے۔ وہ قصہ جو سمٹ جائے تو کسی عاشق کا دل ہے، پھیل جائے تو زمانے بھر کو محیط ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔