بے نظیر اور ایک محب وطن دانشور


\"\"

لیاقت باغ کے بھرے ہوئے جلسے میں بے نظیر کی تقریر جاری تھی۔ سب کی نگاہیں ٹیلی ویژن کی سکرین پر جمی ہوئی تھیں۔ اتنے بڑے ہجوم کو دانشور اور اس کے اہل خانہ غور سے دیکھ رہے تھے اور ان لوگوں کی عقل پر حیران ہو رہے تھے جو کہ ان غدار لیڈروں کے دیوانے تھے۔ دانشور نے سوچا کہ بھٹو خاندان کی ہماری اقدار اور ہمارے مذہب سے دشمنی تو سب پر واضح تھی ہی، لیکن بے نظیر تو سیکیورٹی رسک تھی۔ اور سونے پر سہاگہ زرداری تھا جو کہ پاکستان کیا، ساری دنیا کا کرپٹ ترین انسان تھا۔

ان حقائق کو دیکھتے ہوئے بھلا یہ کون لوگ تھے جو بھٹو کے اتنے زیادہ دیوانے تھے کہ بے نظیر کی پاکستان آمد پر کراچی میں ہونے والے اتنے بڑے دھماکے کے باوجود بھی اپنی جان خطرے میں ڈال کر اب پنڈی کے پنڈال میں آن پہنچے تھے۔

دانشور کے خاندان کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا جو کہ سنہ اسی کی دہائی میں جماعت کی رنگا رنگی دیکھ کر نواز شریف کو ہی پاکستان کا واحد قابل اعتماد لیڈر جاننے لگا تھا۔ بھٹو اور پیپلز پارٹی قابل نفرت تھے۔ ان سے دانشور کا پہلا تعارف اس وقت ہوا تھا جب وہ بہت کم عمر تھا پڑوس کے ایک گھر میں اس سے اس کے سیاسی رجحان کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ ایک سرخ، کالے اور ہرے رنگ کے کپڑے کو استری کرتے ہوئے ہمسایوں کے بچوں نے اس سے سوال کیا تھا کہ وہ بھٹو کو ووٹ دے رہا ہے یا نو ستاروں کو۔ دانشور کے لیے یہ دونوں الفاظ نامانوس تھے۔ اس کی الجھن کو دیکھتے ہوئے ہمسایوں نے وضاحت کی کہ وہ بھٹو کو ووٹ دے رہے ہیں، اور دانشور کے خاندان والے نو ستاروں کے حامی تھے۔

”میں نو ستاروں کو ووٹ دوں گا“۔ کم عمر دانشور نے قطعیت سے فیصلہ سنایا جو کہ زندگی کی کئی دہائیوں تک اس کے ساتھ رہا۔

\"\"

پھر جنرل ضیا کا دور آیا۔ دانشور اس وقت تک ہر صبح روزنانہ نوائے وقت پڑھنے کا عادی ہو چکا تھا اور افغان جہاد میں جنرل ضیا کی کارکردگی سے بے حد متاثر تھا جو کہ پاکستان کو بچانے کی خاطر سوویت یونین جیسی سپر پاور سے ٹکر گیا تھا۔ پھر ایم آر ڈی کی تحریک چلی۔ دانشور نہایت خوش تھا کہ پاکستان کی سالمیت کا ضامن، جنرل ضیا ان فسادیوں سے خوب نمٹ رہا تھا۔ پھر بے نظیر کی واپسی ہوئی۔ لاہور کا مشہور جلسہ تو دانشور نے ملاحظہ کرنا مناسب نہ جانا، لیکن اوکاڑہ کے جلسے میں بے نظیر کا خطاب سنا۔ گو کہ ووٹ نواز شریف کا ہی تھا، لیکن اتنا رونق میلہ گھر کے پاس ہی لگ رہا تھا، تو کزنوں کے ساتھ وہاں جانا ضروری تھا۔ دانشور کو تقریر میں کمال کی منافقت، اور جلسے میں کمال کا مزا محسوس ہوئے۔

پھر عالم اسلام کا ایک تاریک دن طلوع ہوا۔ جنرل ضیا کا طیارہ ہوا میں پھٹ گیا۔ دانشور نے اس کی پی ٹی وی کی لائیو کوریج دیکھی اور بعد میں جنازے پر اظہر لودھی صاحب کی دلگداز تقریر سنی۔ بے نظیر کی حکومت آئی اور دانشور کو یقین ہوا کہ آصف علی زرداری سے زیادہ کرپٹ شخص روئے زمین پر نہیں ہے۔

پھر دانشور ملک سے باہر چلا گیا اور اس وقت لوٹا جب بے نظیر کی کرپٹ حکومت کے بعد نواز شریف کی پہلی حکومت کا بستر بھی گول کیا جا چکا تھا۔ فاروق لغاری کے ہاتھوں بے نظیر کی کرپٹ حکومت کی بساط لپٹے دیکھی اور اپنے محبوب لیڈر نواز شریف کو دو تہائی اکثریت سے برسر اقتدار آتے دیکھا اور ان کے امیر المومنین بننے کا معاملہ بھی دیکھا۔ اسی اثنا میں افغانستان میں بدامنی ختم کرنے کے لیے طالبان کو ابھرتے بھی دیکھا۔ اور پھر کارگل کی جنگ کے بعد نواز شریف کی رخصتی بھی دیکھی۔

نائن الیون کے بعد کی دنیا کے رنگ بھی دیکھے اور عالمی دہشت گردی بھی دیکھی۔ پاکستان میں خودکش دھماکوں کی گونج میں دہشت گردی کی دوسری لہر بھی دیکھی اور قوم کو کٹتے پھٹتے بھی دیکھا۔

\"\"

ایسے میں بے نظیر کا لیاقت باغ کا جلسہ ختم ہوا اور بے نظیر کی گاڑی رخصتی کے لیے گامزن ہوئی۔ ایک دھماکہ ہوا۔ ایک شخص پستول تانے گولی چلاتا نظر آیا۔ بے نظیر گاڑی کے اندر گر گئیں اور ٹی وی نے ان کے ہسپتال لے جانے کی خبر دی۔

دانشور اور اس کے اہل خانہ کی متفقہ رائے تھی کہ یہ سب پیپلز پارٹی کا ڈرامہ ہے جو کہ وہ ووٹ لینے کے لیے کر رہی ہے۔ ابھی کچھ دیر میں خبر آ جائے گی کہ ایسے ہی پٹاخے پھوٹے تھے اور بے نظیر ہسپتال سے ایکٹنگ کرتی ہوئی برآمد ہو گی۔

لیکن ہسپتال سے ایک تابوت برآمد ہوا۔ دانشور پر بھی ویسے ہی سکتہ طاری ہوا جیسا کہ پورے ملک پر ہوا تھا۔ پہلی مرتبہ دانشور نے اپنے تعصبات سے ہٹ کر بھٹو خاندان کے بارے میں سوچا۔ اور پھر جلتے ہوئے سندھ میں واقع گڑھی خدا بخش سے ”پاکستان کھپے“ کا نعرہ بلند ہوا۔ دانشور پاکستان پیپلز پارٹی سے محبت کرنے لگا اور ”دنیا کے کرپٹ ترین انسان“ آصف علی زرداری میں اسے ایک محب وطن لیڈر نظر آنے لگا۔

دانشور کو تب احساس ہوا کہ وہ ساری زندگی ویلن کو ہیرو سمجھتا رہا تھا اور ہیرو کو ویلن۔ تب تک دانشور دنیا کے چند گورے کالے ملک بھی گھوم چکا تھا، اور برادر مسلم ممالک میں پاکستانیوں کی عزت افزائی کا بھی شاہد تھا۔ وہ فلسفے کی دنیا کا ابتدائی تعارف بھی حاصل کر چکا تھا، اور اس نے مختلف مذاہب کی تاریخ کا کچھ مطالعہ بھی کر لیا تھا۔ اسے انسانی جان کی حرمت کا علم بھی ہو چکا تھا، اور وہ یہ بھی جان چکا تھا کہ خونی انقلاب ہمیشہ ملک کو تباہ کرتے ہیں، اور آہستگی سے آنے والی تبدیلی ہی ملک کو ترقی یافتہ اور عظیم بناتی ہے۔

اس نے پھر بھٹو خاندان کی پاکستان کے لیے پالیسیوں کو بھی معتدل ہو کر دیکھا اور اس کے مخالفین کی پالیسیوں کو بھی۔ پاکستان میں دہشت گردی کی لہر کے مقابلے میں حکومت کی بے بسی بھی دیکھی اور اسے احساس ہوا کہ بے نظیر پاکستان کے لیے کتنی اہم تھیں۔ خود کو عقل کل سمجھنے والا دانشور اپنی جس فہم پر نازاں رہا تھا، اب اسے وہ نری جہالت نظر آ رہی تھی۔ وقت بھی کیا کیا کچھ سکھا دیتا ہے۔

\"\"پاکستان آنے سے پہلے ہی دوستوں کی طرف سے جان کے خطرے کی انٹیلی جنس اطلاعات ملنے، پرویز مشرف کی طرف سے بے نظیر کو غیر ملکی سیکیورٹی ٹیم نہ لائے جانے دینا، اور پھر کارساز کے بم دھماکے میں موت کو بہت قریب سے دیکھنے کے باوجود بے نظیر نے پنڈی میں جلسہ کر لیا۔ اب بس یہی افسوس رہ گیا ہے کہ زندگی میں اس لیڈر کی قدر نہیں کی جس نے جانتے بوجھتے ہوئے بھی خود کو پاکستان پر قربان کر دیا۔

کاش ہم مخالف نظریات رکھنے والے پاکستانیوں کو وطن اور دین کا دشمن سمجھنے کی بجائے ان کو اپنے جیسا انسان سمجھنے لگیں۔

کاش بلاول بھی بھٹو خاندان کی روایت پر چلتا رہے اور کارکنوں اور غریبوں سے تعلق بنا کر رکھے۔ عظیم پیپلز پارٹی کا اس طرح سے سکڑ کر ایک چھوٹی سی صوبائی پارٹی بن جانا ملک کے لیے ایک اچھا شگون نہیں ہے۔ آصف علی زرداری کی ڈرائینگ روم سیاست کے برعکس، بلاول کو ایک عوامی قیادت فراہم کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔ پھر ہی ہمیں ایک عوامی مقبولیت کی حامل سیاسی پارٹی ملے گی۔ یاد رکھنا چاہیے کہ عوام ڈرائینگ روم میں نہیں رہتے ہیں۔ ڈرائنگ روم میں صرف جوڑ توڑ کرنے والے ہی رہتے ہیں۔

سلام ہے بے نظیر پر جس نے پاکستان کو لاحق خطرے کو جانتے ہوئے اس پر برضا و خوشی اپنی جان قربان کی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 667 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “بے نظیر اور ایک محب وطن دانشور

  • 27-12-2016 at 1:13 pm
    Permalink

    So for you, we should not consider people with opposing view turncoats. That’s a great advice but only if you yourself could take heed of it. In this article, you suddenly changed one hero to villain and villain to hero. There is no middle ground for you. It is also very obvious from the way you wrote about Mawdudi sb recently how you approach opposing views. So please spare us these lectures.

Comments are closed.