لال بھبھوکا اسرائیل


\"\"

لاڈلا ہونا کوئی بری بات نہیں۔ بری بات یہ ہے کہ لاڈ لاڈ میں بچہ اتنا بگاڑ دیا جائے کہ وہ والدین سمیت ہر کسی سے بدتمیزی کو ایک معمول سمجھنے لگے۔ ایسا تب ہوتا ہے جب باپ سرزنش کرنے لگے تو بچے کے آگے ماں کھڑی ہوجائے اور ماں ڈانٹنے لگے تو بچہ باپ کو گود میں اٹھا لے۔ چنانچہ ایک دن بچہ سر پہ موتنا شروع کردیتا ہے اور اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
اگر عالمی برادری کو ایک بڑا کنبہ سمجھ لیا جائے تو جس بچے نے سب سے زیادہ ناک میں دم کر رکھا ہے وہ اسرائیل ہے۔ پہلے تو ماں (برطانیہ) نے تربیت کے تمام بنیادی اصولوں کو بالائے طاق رکھا۔ بعدازاں سوتیلے باپ (امریکا)نے اگلی پچھلی تمام کسر نکال دی اور بچے (اسرائیل) کو عملاً باپ کا درجہ دے دیا۔ اور پھر پھوپھی جان (کانگریس) نے تو چاہت دکھانے میں سب کو مات کر کے یہ محاورہ بھی غلط ثابت کردیا کہ ’’ماں سے زیادہ چاہے پھاپھا کٹنی کہلائے‘‘۔ ۔ ۔

اقوامِ متحدہ کے ویسے تو ایک سو ترانوے ممالک رکن ہیں۔ لیکن اب تک جس ممبر کی حرکتوں کے خلاف جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل اور اقوامِ متحدہ کے پانچ ذیلی اداروں میں سب سے زیادہ قرار دادیں پیش ہوئی ہیں وہ اسرائیل ہے۔ مئی 1948 میں اسرائیل کی پیدائش سے اب تک کوئی برس ایسا نہیں گذرا جب اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسرائیل کی کسی حرکت کی مذمت میں کوئی قرار داد منظور نہ ہوئی ہو۔

2003 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل وجود میں آئی تب سے اب تک اس کونسل نے انسانی حقوق کی پامالی کے ضمن میں جس ملک کی سب سے زیادہ مذمت کی وہ اسرائیل ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سب سے اہم ادارے یعنی سلامتی کونسل میں آج تک فلسطین اسرائیل تنازعے پر 226 قرار دادیں پیش کی جا چکی ہیں۔ زیادہ تر کو امریکا نے ویٹو کردیا۔ لیکن سلامتی کونسل بہت سی اہم قرار دادیں اس لیے منظور کر پائی کیونکہ امریکا نے رائے شماری سے غیر حاضر رہنے کا فیصلہ کیا۔

اسرائیل کے خلاف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے جو قرار دادیں متفقہ طور پر منظور کیں ان میں سب سے اہم 1967 کی جنگ کے بعد کی قرار داد نمبر242 ہے۔ اس میں مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل مقبوضہ علاقے خالی کرکے پانچ جون1967 کی سرحدوں تک واپس چلا جائے اور ہمسائیہ ممالک سے اپنے تنازعات پرامن طریقے پر نمٹائے۔

آج تک سلامتی کونسل میں لگ بھگ تین درجن قرار دادیں اس لیے منظور ہو سکیں کیونکہ امریکا نے ان کی مخالفت نہیں کی۔ مثلاً صدر لنڈن بی جانسن کے دور میں سلامتی کونسل اسرائیل عرب تنازعے کے تناظر میں سات، نکسن کے دور میں پندرہ، فورڈ کے دور میں دو، کارٹر کے دور میں چودہ، ریگن کے دور میں اکیس، بش سینئر کے دور میں نو، کلنٹن کے دور میں تین اور بش جونئیر کے دور میں چھ قرار دادیں منظور کرنے میں کامیاب ہو پائی۔

ایک تاثر یہ ہے کہ اوبامہ کے آٹھ سالہ دور میں اسرائیل امریکا تعلقات میں مسلسل کشیدگی رہی اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو سے اوبامہ کی کبھی نہیں بنی۔ ہو سکتا ہے یہ تاثر درست ہو مگر اوبامہ پہلے امریکی صدر ہیں جنھوںنے سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف 23دسمبر 2016 سے قبل ایک بھی قرار داد منظور نہیں ہونے دی۔ مگر جاتے جاتے اوبامہ کا پیمانہِ صبر بھی لبریز ہو گیا اور چاردن پہلے پندرہ رکنی سلامتی کونسل نے امریکی غیرحاضری کے طفیل صفر کے مقابلے میں چودہ ووٹوں سے ایک ایسی قرار داد منظور کرنے میں کامیابی حاصل کر لی جس پر فوری طور سے تو شاید عمل نہ ہو پائے لیکن مستقبل کی خودمختار اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں یہ قرار داد ایک اہم قانونی و اخلاقی سنگِ میل ضرور بنے گی۔

اس قرار داد میں کھل کے کہا گیا ہے کہ1967 کی جنگ کے نتیجے میں اسرائیل کے قبضے میں آنے والے فلسطینی علاقے اور مشرقی بیت المقدس میں اسرائیل نے جو یہودی بستیاں تعمیر کی ہیں وہ غیر قانونی ہیں اور یہ بستیاں اسرائیل اور فلسطین کے مابین دو ریاستی حل کی راہ میں ایک سنگین رکاوٹ ہیں۔ لہٰذا مزید تعمیراتی کام فوری طور پر روکا جائے اور ان بستیوں کو ختم کیا جائے۔ 2011 میں ایسی ہی قرارداد امریکا نے یہ کہہ کر ویٹو کر دی تھی کہ بستیوں کے مستقبل کا معاملہ اسرائیلی و فلسطینی مذاکرات کاروں کو دو طرفہ طور پر طے کرنا چاہیے۔ تاہم چار برس بعد اس قرار داد کو امریکا نے آسانی سے منظور ہونے دیا۔

اسرائیل اس وقت صدمے سے دوچار ہے۔ اسے قطعاً امید نہیں تھی کہ اوبامہ جاتے جاتے ’’اپنے دوست‘‘ کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیں گے۔ یہ قرار داد دراصل مصر نے تیار کی تھی مگر نو منتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی درخواست پر مصر کے فوجی حکمران جنرل عبد الفتح السیسی نے یہ قرار داد پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ البتہ سلامتی کونسل کے دیگر غیر مستقل ارکان سینیگال، نیوزی لینڈ، یوکرین، ملائشیا اور وینزویلا نے اس قرار داد کو اچک لیا اور جمعہ کے اجلاس میں پیش کر دیا۔ امریکا نے ویٹو کے بجائے خاموش رہنے کا فیصلہ کیا۔ یوں دیگر چار مستقل ارکان برطانیہ، فرانس، روس اور چین کی حمایت سے منظوری کا کارنامہ ممکن ہوگیا۔ اور تو اور مصر نے بھی غیر حاضر رہنے کے بجائے قرار داد کے حق میں ووٹ ڈالا۔

اسرائیل نے سلامتی کونسل کے چودہ ارکان کے سفیروں کو تل ابیب کے دفترِ خارجہ میں طلب کر کے باضابطہ احتجاج کیا۔ سنییگال اور یوکرین کے وزرائے خارجہ کے مجوزہ اسرائیلی دورے منسوخ کر دیے گئے۔ پہلی بار امریکی سفیر ڈین شپیرو کو نیتن یاہو کے دفتر میں طلب کر کے احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا۔ اقوامِ متحدہ کے پانچ ذیلی اداروں سے تعاون اور مالی معاونت معطل کر دی گئی۔ فلسطینی اتھارٹی سے سویلین معاملات پر تعاون روک دیا گیا۔ نیتن یاہو نے الفاظ چبائے بغیر کہا کہ اس ڈرامے کے پیچھے اوبامہ اور امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کا ہاتھ ہے۔

نامزد امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ٹویٹر ردِ عمل میں کہا کہ 20 جنوری (عہدہِ صدارت سنبھالنے کی تاریخ) کے بعد اقوامِ متحدہ کے ساتھ معاملات میں تبدیلی آئے گی۔ طاقتور امریکن اسرائیل پبلک افئرز کمیٹی، ورلڈ جوئش کانگریس، متعدد ڈیمو کریٹ اور ری بپبلیکن ارکانِ کانگریس اوبامہ پر شدید طیش میں ہیں۔ مگر منہ سے جھاگ نکالنے کے سوا جاتے صدر کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔

1974 میں جب ’’ دہشت گرد ’’ یاسر عرفات نے پہلی بار اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے روم پر بطور مہمان مقرریہ کہا تھا کہ ’’میرے ایک ہاتھ میں بندوق اور دوسرے میں شاخِ زیتون ہے۔ اس شاخ کو گرنے مت دیجیے‘‘۔ تب سے آج تک بے شمار رکاوٹوں کے باوجود فلسطینیوں نے اپنی شناخت تسلیم کروانے کے سفر میں حسبِ توقع پیش رفت نہ ہونے کے باوجود بھی زبردست کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے 193 میں سے 126 ارکان فلسطینی اتھارٹی تسلیم کر چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی دستاویزات میں اب فلسطینی اتھارٹی کو اسٹیٹ آف فلسطین لکھا جاتا ہے۔ فلسطینی ریاست کو قانوناً اپنی زمینی و فضائی حدود پر اختیار ہے۔ یہ ریاست تمام بین الاقوامی تنظیموں کی رکن بننے کی اہل ہے۔ یہ اسرائیل کو جرائم کی بین الاقوامی عدالت میں گھسیٹنے کی بھی مجاز ہے۔

معاملات سست رفتار سہی مگر درست سمت میں جا رہے ہیں اور قوی امکان ہے کہ ہم اپنی زندگی میں ہی ایک آزاد اور خود مختار فلسطین دیکھ لیں گے۔ وقت سے لڑنے والوں کو کبھی کامیابی حاصل نہیں ہوتی اور وقت فلسطینیوں کے ساتھ ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔